اہل حدیث

جواب :ایک اعتبار سے تو ہر مسلمان اہل حدیث ہے۔ کیا ہم سب مسلمان جو ایک ارب بیس کروڑ کی تعداد میں دنیا میں بستے ہیں کیا ہم حدیث رسولﷺ پر عمل نہیں کرتے ؟سب حدیث پر عمل کرتے ہیں اس لئے ہم سب اس مفہوم میں اہل حدیث ہیں لیکن اہل حدیث کے نام سے جو حضرات برصغیر میں مشہورو معروف ہیں یہ اصل میں وہ حضرات ہیں جو مولانا شاہ اسماعیل شہید ؒ کے زمانے میں اور ان کے بعض فتاویٰ کی روشنی میں کچھ احادیث پر عمل کرنے لگے تھے ۔ ان حادیث پر عمل کرنے کی وجہ سے باقی لوگوں سے ان کا تھوڑا اختلاف پیدا ہوگیا تھا۔ یہ لوگ شروع میں تو کسی خاص نام سے مشہور نہ تھے لیکن جب سید احمد شہید ؒ کی سربراہی میں تحریک جہاد شروع ہوئی اور مولانا اسماعیل شہید اس میں شریک ہوئے تو وہ سارے کے سارے لوگ انگریزوں کی تحریروں میں وہابی کہلانے لگے۔ انگریزوں نے انکو وہابی کے نام سے مشہور کر دیا اور ایک طرح سے ان کا نک نام وہابی پڑ گیا۔ وہابی کے لفظ کو انگریزوں اور کچھ دوسرے لوگوں نے غلط معنوں میں استعمال کیا تو جب یہ لوگ وہابی کے نام سے مشہور ہوئے ان کو بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
انگریزوں نے ان کو بڑا persecute کیا اور اس persecution کے بہت قصے مشہور ہیں اور بڑے دردناک اور سبق آموز ہیں ۔جب یہ سلسلہ بہت آگے بڑھا تو کچھ لوگو ں نے یہ چاہا کہ ہم وہابی کے بجائے کسی اور نام سے جانے جائیں تو بہت اچھا ہوگا ۔تو انہوں نے یہ طے کیا کہ ہمارا نام اہل حدیث ہونا چاہیے انہوں نے اہل حدیث کے لفظ کو رواج دے دیا تو وہ اہل حدیث کے نام سے مشہور ہوگئے۔ اس میں وہ حضرات بھی شامل ہیں جو مولانا شاہ اسماعیل شہید ؒ کے فتاویٰ پر عمل کرتے تھے اور زیادہ تر وہ حضرات شامل ہیں جن کا سلسلہ تلمذحضرت میاں نذیر حسین محدث دہلوی سے ملتا ہے جو بعد میں حضرت میاں نذیر حسین محدث دہلویؒ کے ارشادات اور طریقہ کار پر چلتے تھے۔ میاں صاحب اتنے بڑے انسان تھے کہ وہ اپنے زمانے کے شیخ الکل کہلاتے تھے۔ یعنی سب کے استاد پورے ہندوستان کے استاد اور واقعی وہ علم حدیث میں شیخ الکل تھے۔ 

 

(ڈاکٹر محمود احمد غازی)

جواب۔ معتزلہ ، اشعریہ اور ماتریدیہ مختلف عقائد و نظریات رکھنے والے تین گروہ ہیں۔معتزلہ نے بنو امیہ کے عہدِ خلافت میں جنم لیااور خلافتِ عباسیہ میں عرصہ دراز تک یہ اسلامی فکر پر چھائے رہے۔ اِن کے نظریات اہلِ سنت سے مختلف تھے۔مثلاًخدا اِس سے پاک ہے کہ دنیا میں واقع ہونے والے حوادث اُس کی طرف منسوب کیے جائیں۔ وہ شبیہہ و نظیر سے یکسر پاک ہے۔ قیامت کے دن بھی اس کی رویت محال ہے۔ اللہ کی صفات اُس کی ذات سے غیر نہیں ہیں۔ قرآن مخلوق ہے۔ خدا بندوں کے افعال کا خالق نہیں ہے۔ گناہ کبیرہ کے مرتکب کی مغفرت بغیر توبہ کے نہیں ہو گی۔اِس کے علاوہ بھی وہ اپنے بعض مختلف نظریات کا اظہار کرتے تھے۔اشعریہ کا گروہ ابو الحسن علی بن اسمٰعیل الاشعری کا پیروکار تھا۔اِن کے عقاید اہلِ سنت کے عقاید کے قریب تر ہیں، بلکہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اہل سنت عقاید میں اشعری گروہ کے پیروکار ہیں۔اور یہ معتزلہ کے مقابل کا گروہ ہیں۔ماتریدیہ بھی اہل سنت ہی کے عقاید کے علمبردار ہیں ، البتہ یہ اشعریہ گروہ سے کسی قدر اختلاف رکھتے ہیں۔فقہی مسلک میں یہ امام ابو حنیفہ ؒکے پیرو کار ہیں۔جب کہ اشعریہ امام شافعیؒ کے پیرو کار ہیں۔ اہل ظاہر، داؤد ظاہری کے پیرو کار ہیں۔ اِس گروہ کے بڑے آدمیوں میں سے ابن حزم ہیں ۔ اِن میں اور اہلِ حدیث بہت حد تک مماثلت ہے۔ لیکن یہ ایک ہی گروہ نہیں ہیں۔ اب اہل حدیث تو موجود ہیں ، لیکن ظاہری نایاب ہو چکے ہیں۔ محدثین کے گروہ کو اہلِ حدیث کہا جاتا ہے اور احناف کو اہل الرائے کہا جاتا ہے۔

(محمد رفیع مفتی)