احترام اوراختلاف

جواب : اختلاف کوئی بری چیز نہیں ہے اختلاف کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس سے خیالات کا تنوع اور وارئٹی سامنے آتی ہے جتنی وارئٹی ہو گی اتنا خیالات اور افکار پھیلیں گے اور تعلیمی سطح بلند ہو گی لیکن ان خیالات کو ایک دوسرے سے جھگڑنے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔ امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ میں کئی معاملات میں اختلاف ہے ۔
لیکن امام مسلم ؒ امام بخاری ؒ کا اتنا احترام کرتے تھے کہ انہوں نے امام بخاری سے کہا کہ آپ اجازت دیں کہ میں آپ کے پاؤں چوم لوں ۔لیکن امام مسلم نے خود اسی صحیح مسلم کے مقدمہ میں امام بخاری پر اتنے احترام کے باوجود تنقید کی ہے تو احترام اپنی جگہ اور اختلاف اپنی جگہ دونو ں ہو سکتے ہیں 

 

(ڈاکٹر محمود غازی)

جواب:بنیادی اختلاف ایک ہی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسی ہستیوں کو ماننا جو براہ راست اللہ تعالی سے رہنمائی پاتی ہوں اور خطا سے محفوظ ہوں اور دین میں اصل انحصار انھی پر ہو۔باقی دینی اختلافات بالعموم اسی فرع سے پھوٹے ہوئے ہیں۔ باقی رہا دور اول کا سیاسی جھگڑا تو اس کے دینی اور سیاسی اثرات بھی اہم ہیں لیکن اس معاملے میں امت کے بہت سے لوگ اہل تشیع کے ہمنوا ہیں۔

(مولانا طالب محسن)

جواب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اختلاف کرنا ایمان کے منافی ہے۔ البتہ اہل علم اس بات میں اختلاف کرتے ہیں کہ جو بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے پیش کی جارہی ہے وہ اپنی نسبت میں درست ہے یا نہیں۔

(مولانا طالب محسن)

جواب:بنیادی اختلاف ایک ہی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسی ہستیوں کو ماننا جو براہ راست اللہ تعالی سے رہنمائی پاتی ہوں اور خطا سے محفوظ ہوں اور دین میں اصل انحصار انھی پر ہو۔باقی دینی اختلافات بالعموم اسی فرع سے پھوٹے ہوئے ہیں۔ باقی رہا دور اول کا سیاسی جھگڑا تو اس کے دینی اور سیاسی اثرات بھی اہم ہیں لیکن اس معاملے میں امت کے بہت سے لوگ اہل تشیع کے ہمنوا ہیں۔

(مولانا طالب محسن)

جواب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اختلاف کرنا ایمان کے منافی ہے۔ البتہ اہل علم اس بات میں اختلاف کرتے ہیں کہ جو بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے پیش کی جارہی ہے وہ اپنی نسبت میں درست ہے یا نہیں۔

(مولانا طالب محسن)