ہمیں مواخات کی ضروت ہے

مصنف : ڈاکٹر امجد ثاقب

سلسلہ : سچی کہانی

شمارہ : مارچ 2014

سچی کہانی
ہمیں مواخات کی ضرورت ہے 
امجد ثاقب

 

 

    بشریٰ نامی اس عورت کا تین مرلے کا اپنا گھر ہے۔ جہاں وہ اسکا میاں اور بچے‘ سب مل جل کر رہتے تھے۔خوش و خرم۔اس کا خاوند سبزی منڈی میں کام کرتا اور دس ٗ پندرہ ہزار ہر مہینہ کما لیتا۔ بچے سکول جاتے اور وہ گھر کا کام کاج سنبھالتی۔ اس کا کہنا تھا کہ ان کا شمار محلے کے خوشحال گھرانوں میں ہوتا تھا۔ پھر اچانک ایک روز اس کے میاں پہ فالج کا حملہ ہوا۔ فالج کے بعد اس کا نچلا دھڑ مکمل بے کار ہوگیا۔ نہ وہ چل پھر سکتا نہ اٹھ سکتا تھا۔ گھر میں جو کچھ تھا وہ علاج پہ لگ گیا۔ صرف دوکمروں کا مکان باقی رہ گیا۔ کوئی رشتہ دار ساتھ دینے کے قابل نہ تھا۔ وہ خود بھی پڑھی لکھی نہ تھی کہ کہیں نوکری کر سکتی۔ بہت سوچا ٗ بھاگ دوڑ بھی کی لیکن کوئی بات نہ بنی۔ کھانا ٗ پینا ٗ خاوند کی ادویات گھر کا بل، وہ کہاں جائے ٗ کس کے دَر پہ دستک دے۔ بے بسی اور محرومی نے اسے اک دشتِ بے کراں میں لاپھینکا۔ اسی کش مکش میں وہ اخوت کے پاس پہنچی۔ وہ دفتر میں بیٹھ کر ان لوگوں کو دیکھتی رہی جو وہاں قرضہ لینے آتے اور پھر اسے بھی راستہ نظر آگیا۔ پندرہ ہزار کا قرضہ ٗ جس میں سے آٹھ ہزار کی ریڑھی اور سات ہزار کی سبزی ٗ پھل اور ترازو۔ یہ سب کچھ اسے سبزی منڈی سے مل گیا۔ اب وہ ہر روز منڈی سے کچھ سبزی‘ کچھ پھل لاتی ہے انہیں ریڑھی پہ رکھتی ہے اور پھر اپنے خاوند کو ریڑھی پہ سوار کر کے اس ریڑھی کو گھر کے پاس واقع بازار میں لے جاتی ہے۔ باقی کام خاوند کرتا ہے۔ اس کا نچلا دھڑ معذور ہے تو کیا ہوا ٗ ہاتھ تو سلامت ہیں۔ وہ ریڑھی پہ بیٹھے بیٹھے سبزی اور پھل بیچتا ہے۔ سہ پہر تک ریڑھی خالی ہو جاتی ہے۔ بشریٰ واپس آکر ریڑھی دھکیلتی ہوئی گھر لے جاتی ہے۔ ہر روز پانچ سے سات سو روپے بچ جاتے ہیں۔ دو ٗ تین ماہ کے اندر ہی سارے معاملات بہتر ہو نے لگے۔ بچے پھر سے سکول پہنچ گئے۔ ادویات بھی مل گئیں۔ گھر کا خرچہ بھی نکلنے (بقیہ  ص    ۶۸   پر)
 لگا۔ وہ ہر روز جب معذور خاوند کو ریڑھی پر بٹھا کر باہر نکلتی ہے تو ایک نیا عزم اس کے ہمرکاب ہوتا ہے۔ اسے سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ اس نے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ اسے یقین ہے کہ ایک روز اس کے خاوند کا علاج بھی ہو جائے گا۔ ”اب مجھے راستہ مل گیا ہے۔“ اس کا اعتماد اور حوصلہ قابلِ تعریف تھا۔
زندگی کی حقیقت سے کشید کی ہوئی یہ کہانی۔ ایسی کہانیاں ہر گلی محلے میں بکھری پڑی ہیں۔ افسوس! ہم کہانیاں پڑھتے ہی نہیں۔ ہم جانتے ہی نہیں کہ کوئی کتنا مجبور ہے۔شاید وہ وقت بہت دور نہیں جب ہم سے پوچھا جائے گا کہ ہماراہمسایہ کس حال میں تھا۔ خوشحال بستیوں کے ساتھ جو کچی بستی تھی وہاں زندگی کیسے بسر ہو رہی تھی۔