بے اصل روايات

مصنف : وقار علي سواتي

سلسلہ : دین و دانش

شمارہ : اگست 2023

دين و دانش

دس بے اصل روایات

وقار علی سواتی

عوام میں بہت سی ایسی روایات مشہور ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، ذیل میں ایسی دس بے اصل روایات ملاحظہ فرمائیں:

▪*روایت 1⃣:* حضور اقدس ﷺ دین کی دعوت کے سلسلے میں ابو جہل کے دروازے پر سو بار تشریف لے گئے تھے۔

▪*روایت 2️⃣:* ایک بار حضور اقدس ﷺ نے سخت طوفانی رات میں ابو جہل کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ابو جہل نے اپنی بیوی سے کہا کہ ایسی طوفانی رات میں کوئی ضرورت مند ہی یہاں آسکتا ہے، اس لیے میں اس کی حاجت ضرور پوری کروں گا، چنانچہ جب ابو جہل نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ دروازے پر حضور اقدس ﷺ کھڑے ہیں، آنے کی وجہ پوچھی تو حضور اقدس ﷺ نے جواب میں فرمایا کہ: ایمان لے آؤ کامیاب ہوجاؤ گے۔ اس پر ابو جہل نے غصے میں آکر دروازہ بند کردیا۔

اس واقعہ کو لوگ مختلف انداز میں بیان کرتے ہیں کہ بعض لوگ اس کو یوں بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک بار ابو جہل نے اعلان کیا کہ جو بھی میرے پاس ضرورت لے کر آئے گا تو میں اس کی ضرورت ضرور پوری کروں گا۔ چنانچہ حضور اقدس ﷺ تشریف لے گئے اور ایمان لانے کی درخواست کی، جس پر ابو جہل کو غصہ آگیا۔

▪*روایت 3⃣:* عرش کو اُٹھانے والے فرشتے اللّٰہ تعالٰی کے راستے میں نکلنے والے شخص کے لیے تین دعائیں کرتے ہیں کہ: اے اللّٰہ! اس شخص کی مغفرت فرما۔ اس شخص کے گھر والوں کی مغفرت فرما۔ اس شخص کو اس کے گھر والوں کے ساتھ جنت میں جمع فرما۔

▪*روایت 4⃣:* طالبِ علم کے جس حصے پر استاد کی مار پڑتی ہے اُس پر جہنم کی آگ حرام ہوجاتی ہے۔

▪*روایت 5️⃣:* کپڑے کی تجارت سب سے اچھی تجارت ہے اور سلائی کا ہنر سب سے اچھا ہنر ہے۔

▪*روایت 6️⃣:* جو عورت اپنے خاوند کو اللّٰہ تعالٰی کے راستے میں روانہ کرتی ہے وہ اپنے خاوند سے پانچ سو سال پہلے جنت میں جائے گی۔

▪*روایت 7️⃣:* حضرت بلال رضی اللّٰہ عنہ نے ایک بار حضور اقدس ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللّٰہ کے رسول! اللّٰہ کا شکر ہے کہ اس نے ہدایت اپنے ہاتھ میں رکھی ہے، ورنہ تو اگر ہدایت آپ کے ہاتھ میں ہوتی تو نجانے میری باری کب آتی۔

▪*روایت 8️⃣:* جو شخص مسجد میں ہوا خارج کرتا ہے تو فرشتہ اس کو منہ میں لے کر مسجد سے باہر نکال دیتا ہے۔

▪*روایت 9️⃣:* قیامت کے دن اللّٰہ تعالٰی جلال اور غصے میں ہوں گے، اتنے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کو حساب کے لیے اللّٰہ تعالٰی کے سامنے پیش کیا جائے گا تو انھیں دیکھ کر اللّٰہ تعالٰی کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا اور لوگوں سے حساب کتاب لینے کا آغاز ہوجائے گا۔

▪*روایت 🔟:* بسم اللّٰہ پڑھ کر گھر میں جھاڑو لگانے پر بیت اللّٰہ میں جھاڑو لگانے کا اجر ملتا ہے۔

⬅️*تبصرہ:*

مذکورہ دس روایات بے اصل ہیں جن کا حضور اقدس ﷺ اور حضرات صحابہ کرام سے کوئی ثبوت نہیں ملتا، اس لیے ان کو بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

❄️*احادیث بیان کرنے میں شدید احتیاط کی ضرورت:*

احادیث کے معاملے میں بہت ہی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے، کیوں کہ کسی بات کی نسبت حضور اقدس حبیبِ خدا ﷺ کی طرف کرنا یا کسی بات کو حدیث کہہ کر بیان کرنا بہت ہی نازک معاملہ ہے، جس کے لیے شدید احتیاط کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ آجکل بہت سے لوگ احادیث کے معاملے میں کوئی احتیاط نہیں کرتے، بلکہ کہیں بھی حدیث کے نام سے کوئی بات مل گئی تو مستند ماہرین اہلِ علم سے اس کی تحقیق کیے بغیر ہی اس کو حدیث کا نام دے کر بیان کردیتے ہیں، جس کے نتیجے میں امت میں بہت سی منگھڑت روایات عام ہوجاتی ہیں۔ اور اس کا بڑا نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ ایسی بے اصل اور غیر ثابت روایت بیان کرکے حضور اقدس ﷺ پر جھوٹ باندھنے کا شدید گناہ اپنے سر لے لیا جاتا ہے۔

ذیل میں اس حوالے سے دو احادیث مبارکہ ذکر کی جاتی ہیں تاکہ اس گناہ کی سنگینی کا اندازہ لگایا جاسکے۔

1⃣صحیح بخاری میں ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جس شخص نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے۔‘‘

110- حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «...وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ».

2️⃣صحیح مسلم میں ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ: ’’مجھ پر جھوٹ نہ بولو، چنانچہ جو مجھ پر جھوٹ باندھتا ہے تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔‘‘

2- عَنْ رِبْعِىِّ بْنِ حِرَاشٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رضى الله عنه يَخْطُبُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لا تَكْذِبُوا عَلَىَّ فَإِنَّهُ مَنْ يَكْذِبْ عَلَىَّ يَلِجِ النَّارَ».

ان وعیدوں کے بعد کوئی بھی مسلمان منگھڑت اور بے بنیاد روایات پھیلانے کی جسارت نہیں کرسکتا اور نہ ہی بغیر تحقیق کیے حدیث بیان کرنے کی جرأت کرسکتا ہے۔

❄️*غیر ثابت روایات سے متعلق ایک غلط فہمی کا ازالہ:*

بندہ نے ایک روایت کے بارے میں ایک صاحب کو جواب دیتے ہوئے یہ کہا کہ یہ روایت ثابت نہیں، تو انھوں نے کہا کہ اس کا کوئی حوالہ دیجیے، تو بندہ نے ان سے عرض کیا کہ: حوالہ تو کسی روایت کے موجود ہونے کا دیا جاسکتا ہے، اب جو روایت احادیث اور سیرت کی کتب میں موجود ہی نہ ہو تو اس کا حوالہ کہاں سے پیش کیا جائے! ظاہر ہے کہ حوالہ تو کسی روایت کے موجود ہونے کا ہوتا ہے، روایت کے نہ ہونے کا تو کوئی حوالہ نہیں ہوتا۔ اس لیے ہمارے لیے یہی دلیل کافی ہے کہ یہ روایت موجود نہیں، باقی جو حضرات اس روایت کے ثابت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو اصولی طور پر حوالہ اور ثبوت انھی کے ذمے ہیں، اس لیے انھی سے حوالہ اور ثبوت طلب کرنا چاہیے، تعجب کی بات یہ ہے کہ جو حضرات کسی غیر ثابت روایت کو بیان کرتے ہیں اُن سے تو حوالہ اور ثبوت طلب نہیں کیا جاتا لیکن جو یہ کہے کہ یہ ثابت نہیں تو اُن سے حوالے اور ثبوت کا مطالبہ کیا جاتا ہے! کس قدر عجیب بات ہے یہ! ایسی روش اپنانے والے حضرات کو اپنی اس عادت کی اصلاح کرنی چاہیے اور انھی سے حوالہ اور ثبوت طلب کرنا چاہیے کہ جو کسی روایت کو بیان کرتے ہیں یا اس کے ثابت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

البتہ اگر حوالہ سے مراد یہ ہو کہ کسی محدث یا امام کا قول پیش کیا جائے جنھوں نے اس روایت کے بارے میں ثابت نہ ہونے یا بے اصل ہونے کا دعویٰ کیا ہو تو مزید اطمینان اور تسلی کے لیے یہ مطالبہ معقول اور درست ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن ہر روایت کے بارے میں کسی محدث اور امام کا قول ملنا بھی مشکل ہوتا ہے، کیوں کہ گزرتے زمانے کے ساتھ نئی نئی منگھڑت روایات ایجاد ہوتی رہتی ہیں، اس لیے اگر کوئی مستند عالم تحقیق کے بعد یہ دعویٰ کرے کہ یہ روایت یا واقعہ ثابت نہیں اور وہ اس کے عدمِ ثبوت پر کسی محدث یا امام کا قول پیش نہ کرسکے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ ان کا یہ دعویٰ غیر معتبر ہے کیوں کہ ممکن ہے کہ کسی امام یا محدث نے اس روایت کے بارے میں کوئی کلام ہی نہ کیا ہو، بلکہ یہ بعد کی ایجاد ہو، ایسی صورت میں بھی اس روایت کو ثابت ماننے والے حضرات کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس روایت کا معتبر حوالہ اور ثبوت پیش کریں، اور لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ انھی حضرات سے ثبوت اور حوالہ کا مطالبہ کریں۔ اور جب تحقیق کے بعد بھی اُس روایت کے بارے میں کوئی بھی ثبوت نہ ملے تو یہ اس روایت کے ثابت نہ ہونے کے لیے کافی ہے۔