شریفاں

مصنف : ڈاکٹر عبدالغنی فاروق

سلسلہ : مکافات عمل

شمارہ : جولائی 2006

            شریفاں بی بی …… کتنا اچھا نام تھا اس کا، لیکن کسی نے زنگی کا نام کافور رکھ دیا تھا کہ اس کے اطوار اور رویے میں شرافت کا دور دور تک گزر نہ تھا۔ جوان ہوئی تو اپنے آشنا کرامت مغل فقیر کے ساتھ بھاگ کر ہمارے گاؤں میں آگئی۔ وہ واجبی سی شکل و صورت کی مالک تھی، لیکن صحت مند اور چنچل تھی، مخاطب کو متاثر کرنے کا ڈھنگ جانتی تھی۔ غصہ اس کی نس نس میں بھرا ہوا تھا اور جب خدا نے اسے چھ بیٹے اور تین بیٹیاں عطا کر دیں تو اس کی بد اخلاقی میں غرور شامل ہوکر دو آتشہ ہو گیا اور اس کے پڑوس میں رہنے والے غلام محمد اور عبداللہ کا جینا حرام ہو گیا۔ یہ دونوں بھائی تھے، کرامت کے رشتہ دار بھی تھے، مسکین طبیعت کے شریف الطبع انسان تھے۔ بکریاں پال کر گزارہ کرتے تھے جبکہ کرامت نے تانگہ بنا رکھا تھا۔ اس زمانے میں تانگہ ایک معروف سواری تھی اور تانگے گھوڑے کا مالک آج کے ویگن مالک کی طرح آسودہ زندگی گزارتا تھا۔

            غلام محمد اور عبداللہ کی پہلی بد نصیبی تو یہ تھی کہ وہ غریب تھے اور دوسری کم بختی یہ کہ وہ شریفاں اور کرامت کے پڑوسی تھے۔ اس پر مستزاد یہ کہ انھوں نے بکریاں پال رکھی تھیں اور بکریوں کے حوالے سے یہ ضرب المثل وہاں بار بار صادق ہوتی ہوئی نظر آتی تھی کہ غم نہ داری بزبہ خر، یعنی اگر تجھے کوئی غم نہیں تو بکریاں پال لو …… چنانچہ جونہی کوئی بکری یا بکری کا بچہ شریفاں کے کھلے صحن میں داخل ہوتا، وہ بے تحاشا چیخنے لگتی اور بیٹوں کو باقاعدہ حکم دیتی اور وہ ڈنڈے سوٹے لے کر غلام محمد اور عبداللہ کے گھر پر حملہ آور ہوجاتے اور جوسامنے آتا، اسے دھن کر رکھ دیتے۔

            یہ آئے دن کا دردناک تماشا تھا جس کا وقتاً فوقتاً مظاہرہ ہوتا رہتا۔ یہ قیامِ پاکستان سے پہلے کا زمانہ ہے۔ گاؤں کی زمینوں کے مالک سکھ تھے، جبکہ مسلمان سارے کے سارے ان کے مزارع یا مزدور پیشہ لوگ تھے۔ سکھ اس قضیے میں اس لیے دخل نہ دیتے کہ جھگڑا دو مسلے خاندانوں کے درمیان تھا اور عام مسلمان مغلوں کی غنڈہ گردی سے خوفزدہ تھے، اس لیے اپنی اپنی نفسیاتی مجبوریوں کی وجہ سے کوئی بھی اس مسئلے میں دخل نہیں دیتا تھا، بلکہ یوں لگتا ہے کہ گاؤں والوں کے نزدیک یہ اذیت ناک ڈرامہ تفریح کا سبب بن گیا تھا…… یکایک گاؤں کی درمیانی گلی سے شور شرابے اور چیخ پکار کی صدائیں بلند ہوتیں تو لوگ سمجھ لیتے کہ کرامت مغل فقیر کے خاندان نے غلام محمد اور عبداللہ کے گھروں پر یلغار کر دی ہے۔

            بارہا ایسا ہوا کہ وہ انھیں مارتے ہوئے گاؤں کے باہر تک لے آتے اور جب تھک ہار جاتے تو دونوں بھائیوں کو ادھ موا حالت میں چھوڑ کر فاتحانہ قہقہے لگاتے ہوئے واپس لوٹ جاتے۔ کرامت اور اس کے بیٹے بڑے فخر سے کہتے تھے کہ ہم مغل ہیں اور دشمن کو معاف کرنے کے قائل نہیں ہیں۔ چنانچہ ان کے مزاج اور عمومی رویے پر تاتاریوں کی سفاکی اور بے رحمی غالب نظر آتی تھی۔ اس نوعیت کا ایک منظر تو خود میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ۱۹۴۷ء سے تھوڑا پہلے کی بات ہے، میری عمر یہی کوئی چار پانچ سال کے درمیان ہو گی۔ ہمارا گھر گاؤں کے شمالی جانب باہر کی طرف تھا ایک بار یہ شور بالکل ہمارے مکان کے دروازے پر آگیا۔ میں نے چھت پر چڑھ کر دیکھا، عبداللہ اور غلام محمد دونوں زمین پر چت گرے ہوئے تھے اور کرامت اور شریفاں کا سارا خاندان ڈنڈوں سے انھیں پیٹ رہا تھا۔ حتیٰ کہ میرے ہم عمر جعفر کے ہاتھ میں بھی چھوٹا سا ڈنڈا پکڑا ہوا تھا اور وہ بھی اس جہاد میں بڑے ہی جوش و خروش کا مظاہرہ کر رہا تھا۔

            تب آخر کار وہی ہوا جو ایسے حالات میں عموماً ہوا کرتا ہے۔ بلی نے عاجز آ کر شیر کا منہ نوچ لیا اور اس کی آنکھیں نکال دیں۔ یعنی ایک دن منہ اندھیرے جب کرامت رفع حاجت کے لیے گاؤں سے باہر ایک کھیت میں بیٹھا ہوا تھا، عبداللہ اور غلام محمد نے لاٹھیوں سے اس کا کچومر نکال دیا اور اس وقت تک اسے مارتے رہے جب تک اس کی موت کا انھیں یقین نہ ہو گیا۔ وہاں سے وہ سیدھے تھانے چلے گئے اور جا کر گرفتاری دے دی۔ پلٹ کر گاؤں آتے تو کرامت کے بیٹے ان کا قیمہ بنا دیتے۔

            شریفاں بیوہ ہو گئی۔ ا س کا شیر جیسا خاوند موت کے گھاٹ اتر گیا، لیکن اس کی کارروائیوں میں کوئی فرق واقع نہ ہوا۔ غلام محمد اور عبداللہ کو پہلے پھانسی کی سزا ہوئی جو اپیل کے بعد عمر قید میں بدل گئی۔    عبداللہ کی ابھی شادی نہیں ہوئی تھی، لیکن غلام محمد شادی شدہ تھا اور اس کی بیوی برکت بی بی اب مستقل طور پر مصیبتوں اور غموں کی تصویر بن کے رہ گئی، مسکراہٹ تو گویا اس کے لبوں سے رخصت ہی ہو گئی تھی …… لیکن شریفاں اسے مسلسل کچوکے دیتی رہتی اور اس کے بیٹے بھی اسے ذہنی و جسمانی اذیت پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے۔ نتیجتاًاس نے اپنے خاوند کا گھر چھوڑ دیا اور اپنی نو عمر بیٹی کے ساتھ گاؤں سے باہر ایک خالی جگہ پر ایک کٹیا میں رہنے لگی۔ شریفاں نے بغیر کسی تردد کے اس کے مکان پر قبضہ کر لیا اور اسے باقاعدہ اپنے گھر کا حصہ بنا لیا۔

            پاکستان بنا اور گاؤں کے سکھ ہندوستان چلے گئے تو قریب کے ایک گاؤں سے حسن نامی ایک بدمعاش جو باقاعدہ ڈاکو بھی تھا، ہمارے گاؤں میں آ کر بیٹھ گیا اور سکھوں کا سارا قیمتی سامان لوٹ کر لے گیا، ورنہ حالت یہ تھی کہ گاؤں کے کسی فرد نے سکھوں کے سامان کو ہاتھ تک نہ لگایا تھا۔ یہیں حسن کا تعارف شریفاں سے ہوا جو گہری دوستی میں بدل گیا اور اس کا بیشتر وقت حسن کے پاس ہی گزرنے لگا اور حالت یہ ہوئی کہ جب مہاجرین آگئے اور پولیس نے حسن کو گاؤں سے نکال دیا تو شریفاں حسن کے پاس اس کے گاؤں چلی گئی اور علانیہ اس کے گھر میں رہنے لگی، لیکن جب حسن نے اپنے ہی گاؤں کے ایک زمیندار کو دن دیہاڑے قتل کر دیا اور گرفتار ہو کر جیل چلا گیا تو شریفاں اپنے بیٹوں کے پاس واپس آگئی۔

            اسی زمانے میں(یعنی۵۲۔۱۹۵۳) ہمارے گاؤں میں قریبی قصبے سے ایک نوجوان نے آ کر کریانے کی ایک دکان کھول لی۔ اس کی بھی سب سے زیادہ دوستی شریفاں سے تھی اور شریفاں کی وساطت سے اس کا گہرا تعلق مہر چراغ کے گھر سے استوار ہوا اور اس مثلث کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ چند ماہ کے اندر ایک رات گاؤں کی سب سے خوب صورت اور جوان لڑکی، مہر چراغ کی بیٹی حلیمہ اپنے آشنا کے ساتھ فرار ہو گئی …… یہ سارا انتظام شریفاں ہی نے کیا تھا اور اس پورے علاقے میں اغوا کی اس پہلی واردات کا سہرا اسی کے سر بندھتا تھا۔

            اب شریفاں نے رہے سہے حجاب اتار دیے اور بدی اور بدکاری کے راستے پر سینہ تان کر چل پڑی۔ اس نے علاقے بھر کے بدقماش لوگوں سے دوستیاں لگا لیں، بلکہ اپنی ایک بیٹی کو بھی اپنے ڈھب پر چلانے میں کامیاب ہو گئی …… تب اس خاندان پر خدا کا غضب ٹوٹ کر برسا۔ نبی اکرم ؐ کی ایک حدیث ہے جس کا مفہوم یوں ہے کہ جس خاندان یا قوم میں بدکاری کا چلن عام ہو جاتا ہے وہاں جوان موتیں کثرت سے ہوتی ہیں …… چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک روز شریفاں کا بڑا بیٹا حنیف موت کی وادی میں اتر گیا۔ کتنا کڑیل جوان تھا وہ، چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد، کسرتی جسم، صوم و صلوٰۃ کا پابند، مسجد کے صحن میں کھڑے ہو کر اذان دیتا تو (کسی لاؤڈ سپیکر کے بغیر)تین فرلانگ دور ڈسکہ روڈ تک اس کی آواز سنائی دیتی۔ اپنے باپ کی طرح حنیف بھی تانگہ چلا کر گزارہ کرتا تھا۔ پانچ چھوٹے چھوٹے بچے تھے اس کے اور اس کی بیوی کریماں بڑی ہی خوش اخلاق خاتون تھی…… اس وقت تو کسی کو اس کی موت کا سبب معلوم نہیں ہوا تھا، لیکن لگتا ہے کہ اس کے دماغ کی رگ پھٹ گئی تھی۔ ماں کی سرگرمیاں اس کے لیے ناقابل برداشت ہو گئی تھیں۔

            چند ہی مہینے گزرے تھے کہ شریفاں کا دوسرا بیٹا صادق بھی اجل کا شکار ہو گیا۔ صادق بھی عیال دار تھا۔ اس کے تین بیٹے تھے۔ میاں بیوی دونوں خوب صورت اور صحت مند تھے، اس لیے بیٹے بھی وجیہہ و شکیل تھے۔ صادق مزدور پیشہ نوجوان تھا۔ جو کام ملتا کر لیتا۔ رات کو گاؤں میں چوکیداری کا فرض انجام دیتا تھا۔ اس کی موت بھی ناگہانی تھی…… شریفاں کی ساری کارستانیوں کے باوجود گاؤں کے سارے لوگ ان دونوں بھائیوں کی موت پر بہت غمزدہ اور ہراساں ہوئے۔

            اب باری آئی عنایت علی کی۔ یہ بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھا۔ ابھی کنوارا تھا کہ چند روز بخار میں مبتلا رہ کر چل بسا …… اور پھر ایک روز جعفر کو بلاوا آگیا۔ یہ بھائیوں سے سب سے چھوٹا تھا۔ میرا ہم عمر تھا، لیکن دوسرے بھائیوں کی طرح تعلیم سے بالکل بے بہرہ رہا …… اس کے حوالے سے ایک بات مجھے کبھی نہیں بھولتی، گرمیوں کا موسم تھا، چاندنی رات تھی اور ان کے مکان کی کھلی چھت پر ایک تقریب ہو رہی تھی۔ بیعت کی تقریب، مرید بننے کی تقریب …… دراصل دیہات ہی میں نہیں بلکہ شہروں میں بھی ایک عقیدہ ایمان کا حصہ بنا دیا گیا ہے کہ کسی نہ کسی ‘‘مرشد’’ کی بیعت فرضِ عین ہے اور جس کا کوئی مرشد نہیں اس کا نہ نکاح جائز ہے نہ اس کا جنازہ ہو سکتا ہے …… تو اس حوالے سے گاؤں کے ہر فرد بشر کے لیے کسی نہ کسی پیر کا مرید ہونا لازم تھا …… اور آج جعفر سائیں رونق علی سے ‘‘بیعت’’ ہورہا تھا۔

            سائیں رونق علی ایک ایسی چارپائی پر رونق افروز تھا جس پر سفید چادر بچھی ہوئی تھی۔ داڑھی ، مونچھوں اور سر کے بالوں سے مکمل بے نیاز …… البتہ سر کے درمیان سے تقریباً دس انچ لمبی بالوں کی ایک لٹ کانوں کے نیچے تک جھولتی جا رہی تھی۔ وہ تکیہ لگائے چارپائی پر نیم دراز تھا۔ اس کی ستار اس کے پہلو میں آرام کر رہی تھی جبکہ نیچے فرش پر بھنگ کا کونڈا اور ڈنڈا فروکش تھے۔ گاؤں کے پندرہ بیس افراد نہایت عقیدت و احترام سے سائیں کی چارپائی کے گرد بیٹھے ہوئے تھے اور میں بھی ایک مبصر کی حیثیت سے وہاں موجود تھا …… شریفاں بی بی ایک طرف ہاتھ باندھے بیٹھی ہوئی تھی …… اور اسے ہی سائیں رونق علی سے سب سے بڑھ کر عقیدت تھی۔

            سائیں رونق علی اچانک سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور ناقابل فہم انداز میں پنجابی کے اشلوک اور بھجن گانے لگا۔ اس کی آواز بار بار بلند اور کرخت ہو جاتی جس سے مجھ سمیت سارے حاضرین سہم سہم جاتے تھے…… اسی لے میں اس نے یکایک زور کا ایک نعرہ لگایا اور جعفر اس کے سامنے باقاعدہ سجدے میں گر گیا اور دیر تک اسی حالت میں پڑا رہا …… سائیں بد ستور اشلوک پڑھتا رہا حتیٰ کہ پانچ سات منٹ کے بعد جعفر نے سجدے سے سر اٹھا یا اور سائیں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا ‘‘شکر اے اج میں مسلمان ہو گیاں……’’ عنایت علی کی طرح جعفر بھی کنوارا دنیا سے چل دیا …… اس نے سائیں رونق علی کا مرید بننے کے سوا زندگی کا کچھ بھی نہیں دیکھا تھا۔

            یکے بعد دیگرے چار جوان بیٹوں کی موت سے بھی شریفاں کے اندر کا انسان بیدار نہ ہوا۔ اس نے اپنے حالات سے ذرا بھی عبرت حاصل نہ کی۔ اس نے اپنی دونوں بیوہ بہوؤں کو اتنا زچ کیا کہ وہ گاؤں چھوڑ کر چلی گئیں۔ کریماں کے بچے سیانے ہو گئے تھے وہ انھیں لے کر گوجرانوالہ چلی گئی، جبکہ فاطمہ نے قریبی قصبے سمبڑیال میں پناہ حاصل کر لی۔

            شریفاں کو نیکی اور اخلاقیات سے خدا واسطے کا بیر تھا۔ گاؤں کی اکلوتی مسجد کے سامنے مشرق کی جانب مغل خاندان کا چھوٹا سا قبرستان تھا جس میں ‘‘بابا کرمے شاہ’’ کی اکلوتی پختہ قبر بھی تھی۔ شریفاں کو اس قبر سے نہایت درجے کی عقیدت تھی۔ وہ علی الصبح آ کر قبر کے ارد گرد جھاڑو دیتی، اس کی چادر صاف کرتی اور قبر کے اوپر والے ابھرے ہوئے حصے کو اس طرح مٹھیوں سے دباتی جیسے کوئی زندہ لیٹے ہوئے بزرگ کو دباتا ہے۔ شام کو وہ بلا ناغہ چراغ جلاتی، قبر کی پائنتی کی جانب ماتھا ٹیکتی اور دوبارہ مٹھی چاپی کرتی تھی۔

            شریفاں مسجد کے نمازیوں سے خوش نہیں تھی۔ اکثر بڑ بڑاتی کہ نمازی ‘‘بابا’’ کی طرف پشت کرکے کھڑے ہوتے ہیں اور بے ادبی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ چنانچہ اسے مسجد سے اتنی ضد تھی کہ مسجد کی کھڑکی اور بیرونی دیوار کے عین سامنے وہ گوبر کے اوپلے تھوپ دیتی جن کی بدبو سے مسجد کی فضا متاثر رہتی۔

            ۱۹۸۰ء کے آغاز کی بات ہے، بارش کی وجہ سے زمین پر پھسلن تھی۔ شریفاں گھر سے بابا کرمے شاہ کی ‘‘خدمت’’ کے لیے نکلی کہ پھسل گئی اور اس کے کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ اس کی چیخ پکار سن کر لوگوں نے اسے اٹھایا، اس کے گھر پہنچایا۔ علاج معالجے کے باوجود وہ ٹھیک نہ ہوئی اور پانچ چھ سال تک چارپائی پرپڑی رہی۔ اس دوران میں اس کی حالت بڑی ہی قابل رحم تھی۔ کمر پر زخم ہو گئے اور ٹانگیں بد وضع ہو گئیں۔ اب وہ مزید بد مزاج ہو گئی، چڑ چڑے پن کا مظاہرہ کرتی جس کی وجہ سے اس کے دونوں بیٹے اور بہو اور ان کے بچے بھی اس سے دور رہنے کی کوشش کرتے۔ نتیجتاً پہروں بھوکی رہتی اور شام کو اس کا بیٹا اکبر تانگہ لے کر گھر آتا تو اسے کچھ کھانا نصیب ہوتا۔

            برسوں کی مالش اور ٹونے ٹوٹکوں سے شریفاں صرف اس قابل ہو سکی کہ لاٹھی کے سہارے گھر سے نکل کر قبرستان کے پاس کھلی جگہ تک آجاتی اور سردیوں کے موسم میں دھوپ میں بیٹھی رہتی۔ اس کے حواس بعض اوقات اتنے مختل ہوجاتے کہ کوڑے کے ڈھیر سے گندگی اٹھا کر کھانے لگتی ۔ ایک لمبا عرصہ وہ اس ابتلاء سے دوچار رہی حتیٰ کہ ایک روز اس پر فالج کا حملہ ہوا اور وہ سسک سسک کر مر گئی۔

            لوگوں نے بتایا کہ موت کے وقت اس کا چہرہ اتنا خوفناک ہو گیا تھا کہ ہر دیکھنے والے پر دہشت طاری ہوجا تی تھی۔

عدل و انصاف فقط حشر پہ موقوف نہیں

زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے