حضرت سعید بن جبیرؒ

مصنف : عبدالرحمان رافت الباشا

سلسلہ : مشاہیر اسلام

شمارہ : مئی 2006

            قوی الجثہ ، بھرا ہوا جسم ، بیدا ر مغز ، زندہ دل ، زود فہم ، زیرک، حسن اخلاق کا پیکر ، محرمات ومکروہات سے دامن کش ، ابھرتا ہوا چاق وچوبند کڑیل حبشی جوان اس کا سیاہ رنگ اور گھنگریالے بال اس کی ممتاز شخصیت میں کوئی رکاوٹ نہ تھے اور وہ تھا بھی بالکل نو عمر ۔

 ٭٭٭

            اس حبشی النسل نوجوان نے اس بات کا اچھی طرح ادراک حاصل کر لیا تھا کہ علم ہی وہ موثر ذریعہ ہے جو اللہ تک پہنچا سکتا ہے اور تقوی ہی وہ ہموار راستہ ہے جو اسے جنت تک پہنچانے کا باعث بنے گا ۔اس نے تقوی کا ہتھیار اپنے دائیں ہاتھ میں لیا اور علم کا جھنڈا اپنے بائیں ہاتھ میں تھاما ۔ دونوں کو نہایت مضبوطی سے پکڑا اور بغیر کسی کوتاہی کے زندگی کے کٹھن سفر پر رواں دواں ہوا ۔

            بچپن ہی سے لوگ اسے پورے انہماک سے کتاب پڑھتا ہوا یا مسجد کے ایک کونے میں دنیا و مافیہا سے بے نیاز عبادت کرتا ہوا دیکھتے ۔

            یہ تھے اپنے دور میں مسلمانوں کے گل سر سبد حضرت سعید بن جبیرؒ ۔ اللہ اس پر راضی اور وہ اللہ پر راضی ۔

 ٭٭٭

            حضرت سعید بن جبیرؒ نے حضرت ابو سعید خدریؓ ، حضرت عدی بن حاتم طائیؓ ، حضرت ابو موسی اشعریؓ ، حضرت ابو ہریرہ ؓ ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور ام المومنین حضرت عائشہؓ سے علم حاصل کیا ۔ ان کے علاوہ علم کے بحر بیکراں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے سامنے بھی زانوئے تلمذ طے کیے ۔

 ٭٭٭

            حضرت سعید بن جبیرؒ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے ساتھ سائے کی مانند چمٹے رہتے ۔ ان سے قرآن ، تفسیر ، اصول تفسیر ، حدیث ، اصول حدیث، اصول فقہ اور لغت کا علم حاصل کیا اور ان علوم میں کامل دسترس حاصل کی ۔ وہ علمی میدان میں اعلی وارفع مقام پر فائز ہوئے یہاں تک کہ اس دور کا کوئی فردا یسا نہ تھا جو ان کے علم کا محتاج نہ ہو ، انہوں نے خود بھی حصول علم ودانش کے لیے مختلف ممالک کا سفر اختیار کیا ۔ تکمیل علم کے بعد کوفہ میں رہائش اختیار کی اور اہل کوفہ کے معلم او رامام بن گئے ۔

 ٭٭٭

            رمضان میں نماز تراویح پڑھایا کرتے تھے ، ایک رات حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے لہجے میں تلاوت کرتے ، دوسری رات حضرت زید بن ثابتؓ کا لہجہ اختیار کرتے ، یہ متعدد قراتوں میں مہارت رکھتے تھے ، جب اکیلے نماز پڑھتے تو بسا اوقات وجد میں آکر ایک ہی نماز میں پورا قرآن ختم کر دیتے ۔ جب اس آیت پر گزر ہوتا فسوف یعلمون اذالاغلال فی اعناقھم والسلاسل یسحبون فی الحمیم ثم فی النار یسجرون (المؤمن: 71 )( عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا جب طوق ان کی گردنوں میں ہونگے اور زنجیریں جن سے پکڑ کر وہ کھولتے ہوئے پانی کی طرف کھینچے جائیں گے پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دیے جائیں گے ۔)

اسی طرح جب وعد ووعید کی آیات سے گزر ہوتا تو بدن کانپ اٹھتا ، دل کپکپا اٹھتا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے پھر وہ ان آیات کو گڑاگڑتے ہوئے بار بار دہراتے، دیکھنے والوں کو یہ اندیشہ لاحق ہو جاتا کہ کہیں ان کی موت واقع نہ ہو جائے ۔

 ٭٭٭

            حضرت سعید بن جبیرؒ ہر سال دو مرتبہ بیت اللہ کا سفر اختیار کرتے ، ایک مرتبہ عمرے کے لیے ماہ رجب میں اور دوسری مرتبہ حج کے لیے ذی القعدہ میں ۔

            علم وعرفان ، خیر وبرکت ، رشد وہدایت واصلاح کے متلاشی حضرت سعید بن جبیرؒ کے کوفہ میں جاری وساری علم ومعرفت کے میٹھے چشمے سے سیراب ہونے کے لیے جوق در جوق چلے آتے ۔ شاگرد معلومات حاصل کرنے کے لیے مختلف سوال کرتے ، ایک شاگرد نے سوال کیا کہ خشیت کسے کہتے ہیں ؟

آپ نے جواب دیا : خشیت اسے کہتے ہیں کہ تم اللہ تعالی سے ایساڈرو کہ یہ ڈر تیرے اور گناہ کے درمیان حائل ہو جائے ۔ دوسرے شاگرد نے سوال کیا کہ ذکر الٰہی کسے کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالی کی اطاعت ہی دراصل ذکر ہے ، جو شخص اللہ کی طرف متوجہ ہوا اور اس کی اطاعت بجا لایا ، گویا اس نے حقیقت میں اللہ کو یاد کیا ۔ جس نے اللہ تعالی سے روگردانی کی اور اس کی اطاعت نہ کی خواہ وہ ساری رات تسبیح اور تلاوت کرتا رہے ، اسے ذاکر نہیں کہا جا سکتا۔

            جب حضرت سعیدبن جبیرؒ نے کوفہ میں رہائش اختیار کی تو یہ شہر حجاج بن یوسف کے زیر تسلط آچکا تھا ۔ حجاج ان دنوں عراق ، ایران اور سرزمین ماوراء النہرا کا گورنر تھا ۔ اور اس کا رعب ودبدبہ ، ظلم وستم ، جبرو قہر اور اقتدار واختیار نقطہ عروج پر تھا ، یہ ان دنوں کی بات ہے جب حجاج بن یوسف نے جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کو قتل کر کے بنو امیہ کے خلاف برپا ہونے والی تحریک کا خاتمہ کر دیا تھا اور پورے عراق کو بنو امیہ کے تابع کر دیا تھا ، اور چاروں طرف بنو امیہ کے خلاف اٹھنے والی شورش کی آگ کو بجھا دیا تھا ۔اس نے بندگان خدا کی گردنوں پر بے دریغ تلوار چلائی ، ملک کے کونے کونے میں اپنے رعب ودبدبہ کی ایسی دھاک بٹھائی کہ لوگوں کے دل اس کی پکڑ دھکڑ سے لرزنے لگے ۔ پھر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ حجاج بن یوسف اور اس کی افواج کے ایک بہت بڑے جرنیل عبد الرحمان بن اشعث کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے ، اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ اختلافات ایک ایسے فتنے کی صورت اختیار کر گئے جس نے ہر رطب ویابس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ یہ فتنہ اس طرح رونما ہوا کہ حجاج بن یوسف نے جرنیل عبدالرحمان بن اشعث کو کمانڈر بنا کر افغانستان اور ایران کے درمیانی علاقے رتبیل کو فتح کرنے کے لیے روانہ کیا ۔ جو اس وقت ترکوں کے زیر اقتدار تھا ۔ اس بہادر ، نڈر اور بے باک جرنیل نے رتبیل کا وسیع علاقہ فتح کر لیا ۔ اور اس کے مضبوط قلعے سر کر لیے ۔ اس کے شہروں اور دیہاتوں سے بہت سا مال غنیمت ہاتھ لگا ۔ اس نے حجاج کو عظیم فتح کی خوشخبری دینے کے لیے ایک قاصد روانہ کیا اور اس کے ساتھ ہی مال غنیمت کا پانچواں حصہ بھی بھیج دیا تاکہ اسے بیت المال میں شامل کر لیا جائے ۔ اس کے علاوہ ایک درخواست بھی روانہ کی کہ کچھ مدت کے لیے جنگ بند رکھنے کی اجازت دی جائے تاکہ مفتوحہ علاقے کا نظام ترتیب دیا جا سکے ۔ اور اس کے آمد وخرچ کے حسابات مرتب کیے جا سکیں ۔ نیز اس کے نامعلوم اور دور دراز علاقوں میں داخل ہونے سے پہلے اس کا اچھی طرح جائزہ لیا جاسکے ۔ تاکہ لشکر کو موہوم خطرات سے بچایا جا سکے ، یہ درخواست دیکھ کر حجاج غضبناک ہو گیا۔ اور جوابی خط لکھا جس میں جرنیل کو بزدل ، کمینہ اور کمزور قرار دیا ۔ اس کی گردن زنی اور لشکر کی قیادت سے معزول کرنے کی دھمکی دی ۔ جرنیل عبدالرحمان بن اشعث نے لشکر کے گروپ لیڈرو ں کو اکٹھا کیا ، انہیں حجاج بن یوسف کاخط سنایا اور ان سے مشورہ لیا کہ اب کیا موقف اختیار کیا جائے ۔ سب نے یک زبان ہو کر کہا ، گورنر حجاج کی اطاعت سے دستبردار ہو کر اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے کیونکہ ظلم وستم اور بربریت وفرعونیت نے مسلمانوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ۔ عبدالرحمان بن اشعث نے کہا : کیا سرزمین عراق کو حجاج کی نجاست سے پاک کرنے کے لیے تم میرا ساتھ دو گے ۔ پورے لشکر نے پورا ساتھ دینے کی حامی بھر لی اور آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ پر بیعت کر لی ۔ عبدالرحمان بن اشعث حجاج پر حملہ آور ہونے کے لیے اپنا لشکر جرار لیکر روانہ ہوا ۔ اس کے اور حجاج کے لشکر کے درمیان گھمسان کا رن پڑا ۔ جس سے طرفین کے بہت سے افراد تہ تیغ ہوئے ، لیکن عبدالرحمان بن اشعث کا پلہ بھاری رہا ۔ اسے میدان کارزار میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی، اسے سجستان اور ایران کے بیشتر شہروں پر غلبہ حاصل ہو گیا ، پھر اس نے کوفہ او ربصرہ کو حجاج سے ہتھیانے کے لیے پیش قدمی کا ارادہ کیا ۔ فریقین کے درمیان لڑائی شعلہ جوالہ بنی ہوئی تھی ، عبدالرحمان مسلسل کامیابی سے ہمکنار ہو رہا تھا ، حجاج ایک ایسی ناگہانی مصیبت میں گرفتار ہوا جس سے اس کے مد مقابل کو مزید تقویت حاصل ہو گئی ۔ ہوا یہ کہ بیشتر شہروں کے بلدیاتی سربراہوں نے حجاج کی طرف خط لکھے جن میں اسے آگاہ کیا کہ ذمی لوگ ٹیکس سے بچنے کے لیے دھڑا دھڑ اسلام قبول کر رہے ہیں اسی طرح وہ بستیوں کو چھوڑ کر بڑی تیزی سے شہروں میں منتقل ہورہے ہیں۔ جس سے ملک کی آمدن کے ذرائع دن بدن محدود ہوتے جا رہے ہیں ۔ حجاج بن یوسف نے بصرہ اور دیگر علاقہ جات کے سرکاری نمائندوں کو تحریری حکم دیا کہ جتنے بھی ذمی لوگ بستیوں سے شہروں میں منتقل ہو چکے ہیں ان سب کو ایک جگہ جمع کر لیا جائے ، اور انہیں دوبارہ زبردستی ان بستیوں کی طرف لوٹا دیا جائے جنہیں چھوڑ کر وہ شہروں کی طرف منتقل ہوئے تھے، خواہ انہیں رہائش اختیار کیے کتنا ہی عرصہ کیوں نہ گزر چکا ہو اور اس سلسلے میں کسی سے کوئی رعایت نہ برتی جائے۔ سرکاری نمائندوں نے گورنر کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کثیر تعداد میں ان لوگوں کو شہروں سے بستیوں کی طرف زبردستی دھکیل دیا ۔ ان سے کاروباری مراکز چھین لیے ۔ ان کے ساتھ عورتوں اور بچوں کو نکال باہر کیا ۔ ان سب کو ظلم وستم اور بربریت کا نشانہ بنایا گیا ، حالانکہ انہیں یہ بستیاں چھوڑے ایک عرصہ بیت چکا تھا ، عورتیں ، بچے اور بوڑھے آہ وزاری کرنے لگے ۔ درد بھرے انداز میں سسکیاں لے رہے تھے ۔ چیخ وپکار ایسی کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی تھی ۔سروں پر ہاتھ رکھ کر غم واندوہ کی تصویر بنے زاروقطار روتے اورفریاد کرتے ہوئے مدد کے لیے لوگوں کو پکار رہے تھے ۔ سبھی لوگ پریشان تھے کہ اب کیا کریں ؟ کدھر جائیں ؟ ہمارا کیا بنے گا ؟ اب سر کہاں چھپائیں گے ہائے ہماری حرمان نصیبی ۔ اللہ کسی دشمن کو بھی یہ دن دیکھنے نصیب نہ کرے یہ دلفگار منظر دیکھ کر بصرہ کے فقہا ان مظلوموں کی فریاد رسی اور سفارش کے لیے میدان میں نکل آئے لیکن وہ ان بے چاروں کے لیے کچھ نہ کر سکے ، انہیں روتا دیکھ کر یہ خود بھی رونے لگے ، نوع انسانی پر یہ ظلم وستم ان سے برداشت نہ ہو سکا ۔

            عبدالرحمان بن اشعث نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ان مظلوم ومقہور لوگوں کو حجاج کے مقابلے کے لیے ابھارا جس کے نتیجے میں جلیل القدر تابعین اور آئمہ کرام کی ایک جماعت حجاج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو گئی ۔ جس میں سعید بن جبیرؒ ، عبد الرحمان بن یعلی شعبی جیسے عظیم المرتبت تابعین سرفہرست تھے ۔

 ٭٭٭

            فریقین کے درمیان گھمسان کا رن پڑا پہلے مرحلے میں جرنیل ابن اشعث کو حجاج کے لشکر پر غلبہ حاصل ہوا ۔ پھر لڑائی کا پانسہ پلٹ گیا ۔ رفتہ رفتہ میدان جنگ میں حجاج کے قدم جمنے لگے اور اس کی گرفت مضبوط ہونے لگی ۔ یہاں تک کہ جرنیل ابن اشعث ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوا اور اپنے لشکر کو حجاج کے رحم ورکرم پر چھوڑ کے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا ۔

 ٭٭٭

            حجاج نے منادی کرنے والے کو حکم دیا کہ وہ شکست خوردہ لڑاکوں میں یہ اعلان کر دے کہ وہ پہلی فرصت میں اپنی بیعت کی تجدید کر لیں ۔بیشتر دعوت قبول کرتے ہوئے دوبارہ بیعت کے لیے تیار ہو گئے او ربعض روپوش ہو گئے ۔ جنگجو جب بیعت کے لیے آگے بڑھے تو انہیں ایسی اندوہناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جس کا انہیں وہم وگمان بھی نہ تھا ۔ حجاج ہر ایک سے کہتا تم نے امیر المومنین کی بیعت توڑ کر کفر کا ارتکاب کیا ہے ؟ اگر وہ ہاں میں جواب دیتا تو اس سے بیعت لے لیتا اور اگر وہ اس سے انکاری ہوتا تو اسے قتل کر دیتا ۔ بعض خوف وہراس میں مبتلا قتل سے بچاؤ کی خاطر سر تسلیم خم کرتے ہوئے کفر کا ارتکاب کر لیتے اور بعض کفر کے اعتراف کے لیے اپنے آپ کو آمادہ نہ پاکر اپنی گردن کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ۔ اس ذبح خانہ کی دلخراش داستانیں پورے ملک میں زبان زد عام ہو چکی تھیں جس میں ہزاروں آدمی بے دریغ قتل کر دیے گئے تھے ، اور صرف چند آدمی اپنے کفر کا ارتکاب کر کے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے ۔

 ٭٭٭

            قبیلہ خثعم کا ایک عمر رسیدہ بزرگ دونوں گروہوں سے الگ تھلگ دریائے فرات کے پرلے کنارے جا بیٹھا جب اسے دوسرے لوگوں کے ساتھ پکڑ کر حجاج کے دربار میں لایا گیا تو اس نے کہا : جب سے لڑائی کی آگ بھڑکی ہے ، میں دریا کے کنارے بالکل الگ تھلگ لڑائی کا نتیجہ واضح ہونے کے انتظار میں بیٹھا رہا ۔ جب آپ غالب آگئے کامیابی وکامرانی نے آپ کے قدم چوم لیے میں بیعت کرنے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہو گیا ہوں ۔ حجاج یہ سن کر بھڑک اٹھا : کہنے لگا تیرا کچھ نہ رہے، تیرا ستیاناس ہو ، تو اتنی دیر بھیگی بلی بن کر بیٹھا رہا ، تو نے امیر کی قیادت میں لڑائی کیوں نہ کی ۔ پھر اسے ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا : کیا تو اپنے کفر کی گواہی دیتا ہے ؟ اس نے کہا یہ میری بدبختی ہو گی کہ اسی سال میں اللہ کی عبادت میں مصروف رہا ۔ اور اس کے بعد میں اب اپنے کفر کا ارتکاب کر لوں ۔ حجاج نے کہا اگر اعتراف نہیں کرو گے تو میں تجھے قتل کر دوں گا ۔ اس نے کہا : جو جی میں آئے کرو ، میں کفر کا قطعاً اعتراف نہیں کروں گا ۔ میری اب عمر ہی کیا باقی رہ گئی ہے چراغ سحری ہوں ٹمٹما رہا ہوں ، پھڑپھڑا رہا ہوں ابھی بجھا کہ ابھی گل ہوا ۔ میں صبح شام اپنی موت کا منتظر ہوں ۔ جو کرنا ہے کر لو …… حجاج نے اپنے جلاد سے کہا اس بوڑھے کی گردن اڑا دو ۔ اس نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے چشم زدن میں گردن اڑا دی ۔ حجاج کے ہمنواؤں اور مخالفوں نے اس عمر رسیدہ بزرگ کے قتل کو افسردہ نگاہوں سے دیکھا اور سبھی یہ دلخراش منظر دیکھ کر کانپ اٹھے ۔ پھرحجاج نے کمیل بن زیاد نخعی کو بلایا اور اس سے کہا : کیا تم اپنے کفر کا اقرار کرتے ہو ؟

اس نے کہا : اللہ کی قسم میں اپنے کفر کی گواہی ہر گز نہیں دوں گا ۔ حجاج نے کہا : میں تجھے قتل کر دوں گا ۔ فرمایا: جو کرنا ہے کر لو ، اللہ کے ہاں جانے کا وقت مقرر ہے ، موت کے بعد حساب ہو گا ۔ حجاج نے کہا : اللہ کے ہاں مقدمہ تیرے خلاف چلایا جائے گا نہ کہ حق میں ! فرمایا : ہاں اگر تجھے قیامت کے دن قاضی بنا دیا گیا تو پھر مقدمہ تیری مرضی سے چلے گا ۔ حجاج نے چیخ کر جلاد سے کہا اس کو قتل کر دو ۔ جلاد آگے بڑھا ، تلوار نکالی اور ابن زیاد نخعی کی گردن اڑا دی۔

            ایک ایسے شخص کو حجاج کے سامنے پیش کیا گیا جو ہر وقت اس کا مذاق اڑایا کرتا تھا ، اٹھتے بیٹھتے حجاج کے خلاف ہرزہ سرائی اسکا دلپسند مشغلہ تھا ۔ حجاج نے کہا : آج میں اپنے سامنے ایک ایسے شخص کو دیکھ رہا ہوں جو ہر وقت مجھے برا بھلا کہتا رہتا ہے میرا خیال ہے کہ یہ میرے سامنے اپنے کفر کا قطعا اقرار نہیں کرے گا جس کے نتیجے میں اس کی گردن اڑا دی جائے گی ۔ حجاج نے کہا کیا تم اپنے کفر کا اعتراف کرتے ہو ؟ اس نے ہاتھ باندھ کر کہا : جناب میں تو روئے زمین پر بسنے والے تمام کافروں سے بڑھ کر کافر ہوں ۔ جناب میرا کیا پوچھنا! میں تو ان تمام کافروں کا بھی باپ ہوں جو اس وقت دنیا میں موجود ہیں ۔ خدارا میری گردن نہ اڑائیں جو جی میں آئے کہلوالیں ، اللہ کی قسم میں تو اس فرعون سے بھی بڑا کافر ہوں جو میخیں گاڑ کر لوگوں کو ہلاک کیا کرتا تھا ۔ اس شخص کے منہ سے اپنے کفر کا اعتراف سن کر حجاج نے اس کا راستہ چھوڑ دیا ، حالانکہ وہ اس کے قتل کے لیے غصے سے دانت پیس رہا تھا ۔ اور اس کے خون کا پیاسا تھا ۔

            ہلاکت خیز اور خوفناک مقام کی دلخراش داستانیں ہر طرف پھیل چکی تھیں ۔ جہاں ہزاروں راسخ العقید مومن بے دریغ موت کے گھاٹ اتار دیے گئے ۔ اور بعض کمزور دل خوف کے مارے اپنے پر کفر کا داغ لگا کر بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ۔ سعید بن جبیرؒ کو یقین ہو گیا کہ اگر مجھے حجاج کے سامنے پیش کیا گیا تو دو صورتوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ہے ، تیسری صورت نہیں ہو گی ۔ یامیری گردن اڑا دی جائے گی ۔ یا مجھے کفر کا ارتکاب کرنا ہو گا ۔ یہ دونوں صورتیں ایسی ہیں کہ ان میں سے جو ظاہری طور پر زیادہ میٹھی معلوم ہوتی ہے وہ حقیقت میں اتنی ہی زیادہ کڑوی ہے لہذا انہوں نے چھپ کر بھاگ جانے کو ترجیح دی ۔ وہ اللہ کی وسیع زمین میں حجاج کے کارندوں سے آنکھ بچا کر نکلنے میں کامیاب ہو گئے ۔ دور دراز کا سفر طے کرتے ہوئے مکہ معظمہ کے قریب ایک بستی میں پناہ گزین ہو گئے ۔ اس میں پورے دس سال رہے ۔ یہ عرصہ دراز حجاج کے دل میں غیض وغضب کی آگ کو سرد کرنے کے لیے کافی ہونا چاہیے تھا لیکن وہاں ایک ایسا واقعہ رونماہوا جو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا ۔ مکہ میں بنو امیہ کا ایک نیا گورنر مقرر کیا گیا جس کا نام خالد بن عبداللہ القسری تھا ۔ سعید بن جبیرؒ کے ساتھیوں نے اس کی سخت گیری اور ترش روی کی وجہ سے خطرہ محسوس کیا ، بعض مخلص احباب نے حضرت سعید سے کہا : اب جسے مکہ کا گورنر مقرر کیا گیا ہے اللہ کی قسم ہمیں اس سے خطرہ ہے کہ وہ آپ کو نقصان پہنچائے گا ۔ ہماری بات مانیں ، ازراہ کرم اس شہر سے چلے جائیں ، آپ نے فرمایا ، اللہ کی قسم میں پہلے عراق سے بھاگا ، یہاں آکر پناہ گزین ہوا ۔مجھے ایسا بھی نہیں کرنا چاہیے تھا۔ وہیں رہ کر مجھے حالات کا مقابلہ کرناچاہیے تھا ، میں اپنی اس کمزوری پر پہلے ہی بہت شرمسار ہوں ۔ لیکن اب میں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے ، اب میں یہیں رہوں گا کہیں نہیں جاؤں گا جو بھی میرے ساتھ پیش آئے میں اسے خندہ پیشانی سے قبول کروں گا ۔

 ٭٭٭

            گورنر مکہ خالد بن عبداللہ نے وہی طرز عمل اختیار کیا جس کا لوگوں کو اندیشہ تھا ۔ جب اسے سعید بن جبیرؒ کی رہائش کا علم ہوا تو اس نے پولیس کو حکم دیا کہ وہ انہیں گرفتار کر کے حجاج بن یوسف کے پاس واسط شہر میں لے جائے ، پولیس نے شیخ کے گھر کا محاصرہ کر لیا ، آخرکار انہیں گرفتار کر کے حجاج بن یوسف کی طرف چلنے کو کہا گیا ۔ آپ بغیر کسی احتجاج کے واسط شہر کی طرف روانہ ہوئے ، چلنے لگے اپنے ساتھیوں پر الوداعی نگاہ ڈالی او رفرمایا مجھے لگتا ہے کہ اب ظالم وجابر حجاج کے ہاتھوں مجھے قتل کر دیا جائے گا

            حضرت سعید بن جبیرؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات ہم تین ساتھی عبادت میں مصروف رہے ۔ دعا کی لذت اور مٹھاس کا احساس ہوا تو جی بھر کر اللہ کے حضور دعائیں کیں اور اس کی بارگاہ میں دل کھول کر گڑگڑائے ، پھر ہم نے اللہ سے دعا کی کہ وہ ہمیں شہادت کی موت نصیب فرمائے ۔ میرے دونوں ساتھی شہادت کی طلعت سے سرفراز ہوئے لیکن میں ابھی تک اس کے انتظار میں ہوں ۔

            آپ کی ایک چھوٹی بیٹی نمودار ہوئی ، اس نے دیکھا کہ آپ کو گرفتار کر لیا گیا ہے وہ آپ سے چمٹ کر زاروقطار رونے لگی ۔ حضرت نے بڑے پیار اور محبت سے بچی کو اپنے سینے سے الگ کیا اور کہا میری پیاری بیٹی اپنی امی کو میرا پیغام پہنچا دینا کہ اب انشااللہ جنت میں ملاقات ہو گی ، یہ کہہ کر آپ سوئے منزل روانہ ہوئے ۔

 ٭٭٭

            جب اس عابد زاہد ، شب زندہ دار ، عالم ، فاضل اور عظیم المرتبت شخصیت کو حجاج کے دربار میں پیش کیا گیا ۔ حجاج نے انہیں کینہ پرور نگاہوں سے دیکھا اور بڑے حقارت آمیز لہجے میں پوچھا تیرا نام کیا ہے ؟

فرمایا : سعید بن جبیر ۔

حجاج نے کہا : نہیں بلکہ تیرا نام شقی بن کسیر ہے ۔

فرمایا میری والدہ میرے نام کے متعلق تجھ سے بہتر جانتی ہے ۔

حجاج نے پوچھا : حضرت محمدﷺ کے بار ے میں تیرا کیا خیال ہے ؟

فرمایا : وہ اولاد آدم کے سردار ، نبی مصطفی ، شفیع المذنبین ، سید المرسلین ، شاہ امم سلطان مدینہ ، ساری مخلوق میں سب سے اعلی ارفع ، اجمل ، اکمل اور بہتر وبرتر ہیں ۔ رسالت کا تاج ان کے سر پر سجایا گیا ۔ آپ ﷺ نے امانت رسالت کی ادائیگی کا حق ادا کر دیا ، آپ نے اللہ کی رضا کے لیے قرآن کے احکامات عام لوگوں تک پہنچانے میں کوئی کسر باقی اٹھا نہ رکھی ۔ آپ نے بنی نوع انسان کی راہنمائی کے لیے تن ، من دھن کی بازی لگائی ۔

حجاج نے پوچھا : حضرت ابو بکر صدیقؓ کے بارے میں تمہارا کیاخیال ہے ؟

فرمایا : وہ صدیق ہیں رسول اللہ کے خلیفہ ہیں ، انہوں نے سعادت کی زندگی بسر کی دنیا سے قابل رشک انداز میں کوچ کیا ، نبیﷺ کے طریقے پر چلے اور اس میں سرمو بھی کوئی تبدیلی نہیں کی ۔

حجاج نے پوچھا : حضرت عمر بن الخطابؓ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟

فرمایا : وہ فاروق ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالی نے حق وباطل کے درمیان فرق کیا ، وہ رسول اللہﷺ کی مراد ہیں۔ انہیں رسول اللہﷺ اللہ سے مانگ کر لیا ۔ وہ زندگی بھر حضورﷺ اور صدیق اکبرؓ کے راستے پر چلے ۔ آپ نے زندگی بھر قابل فخر کارنامے سر انجام دیے ، قابل رشک زندگی بسر کی اور جام شہادت نوش کیا ۔

حجاج نے پوچھا : حضرت عثمانؓ کے متعلق کیا خیال ہے

فرمایا : وہ جیش عسرہ کو تیار کرنے والے ۔ مدینہ منورہ میں بئر رومہ کو خرید کر وقف کرنے والے ۔ جنت میں اپنا گھر بنانے والے ۔ رسول اللہﷺ کی دو بیٹیوں کے شوہر بن کر ذوالنورین کا اعزاز حاصل کرنے والے ہیں ۔ ان کی شادی حضورﷺ نے وحی الٰہی کے مطابق کی ۔ اور آخر میں ظلم وستم کا نشانہ بنا کر شہید کر دیے جانے والے ہیں ۔

حجاج نے پوچھا : حضرت علیؓ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟

فرمایا : وہ رسول اقدسﷺ کے چچا زاد بھائی ۔ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں میں سے ، سیدہ فاطمہؓ کے خاوند ، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردارحسن ؓ اور حسینؓ کے والد ، اور زندگی میں جنت کی بشارت پانے والے ۔

حجاج نے پوچھا : بنو امیہ میں تجھے کون سا خلیفہ پسند ہے ؟

فرمایا : جو اپنے خالق کو پسندیدہ ہے ۔

حجاج نے پوچھا : ان میں سے کون اپنے خالق کو پسندیدہ ہے ؟

فرمایا : اس کا علم اس ذات کو ہے جو ان کے رازہائے دروں سے خوب اچھی طرح واقف ہے ۔

حجاج نے پوچھا : میرے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ؟

فرمایا : میری رائے تجھے اچھی نہیں لگے گی ۔

حجاج نے کہا میں ضرور سننا چاہتا ہوں ۔

فرمایا ، میری معلومات کے مطابق تو کتاب اللہ کا دشمن ہے اور ایسے کام کرتا ہے جس سے تیرے رعب ودبدبہ کی دھاک بیٹھے ، اوریہ انداز تجھے ہلاکت کی طرف لے جا رہا ہے ، آخرکار تجھے یہ جہنم میں دھکیل دے گا ۔

حجاج نے یہ باتیں سنتے ہی آگ بگولہ ہو کر کہا ۔

اللہ کی قسم میں تجھے ضرور قتل کر دوں گا ۔

فرمایا تو میری دنیا خراب کر دے گا ، میں تیری آخرت برباد کر دوں گا ۔

حجاج ، تو کس طرح قتل ہونا پسند کرے گا؟

فرمایا اے حجاج! تو اپنے قتل کا طریقہ منتخب کر ، اللہ کی قسم جس انداز سے تو مجھے قتل کرے گا وہی انداز قیامت کے روز تجھے قتل کرنے کا اختیار کیا جائے گا ۔

حجاج نے پوچھا : تو کیا چاہتاہے کہ میں تجھے معاف کر دوں؟

فرمایا ، اگر ایسا ہوا بھی تو وہ معافی اللہ کی جانب سے ہو گی ، تو مجھے چھوڑ کر اپنے گھناؤنے جرم سے بری نہ ہو سکے گا ۔

حجاج بن یوسف نے غصے سے آگ بگولا ہوا اور دربان سے کہا : تلوار اور چمڑے کی چادر لے آؤ ۔

یہ سن کر سعید بن جبیرؒ مسکرائے ۔ حجاج نے پوچھا تم کیوں مسکرائے ہو ؟

فرمایا تیری جرأت اور تیرے متعلق اللہ کی بردباری دیکھ کر مسکرایا ہوں ۔

حجاج نے حکم دیا ارے جلاد ! اسے قتل کر دو ، آپ نے

 قبلہ رخ منہ کیا اور کہا :انی وجھت وجھی للذی فطرالسموت والارض حنیفا ومانا من المشرکین ۔ میں یکسو ہو کر اپنا چہرہ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں ۔

حجاج نے کہا : اس کا منہ قبلہ کی طرف سے ہٹا دو ۔

آپ نے فرمایا : فاینما تولوا فثم وجہ اللہ ‘‘جس طرف بھی منہ پھیرو اسی طرف اللہ ہے ۔’’

حجاج نے کہا، اسے اوندھے منہ لٹا دو ۔

فرمایا : منھاخلقناکم وفیھا نعیدکم ومنھا نخرجکم تارۃ اخری ‘‘اسی سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ تمہیں نکالیں گے ۔’’

حجاج نے غصے سے دانت پیستے ہوئے کہا : ‘‘اللہ کے اس دشمن کو قتل کر دو میں نے زندگی میں آیات قرآنی کو اس سے زیادہ یاد رکھنے والا کوئی نہیں دیکھا ۔’’

حضرت سعید بن جبیرؒ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور کہا: الہی میر ے بعد حجاج کو کسی پر مسلط نہ کرنا ۔

 ٭٭٭

            حضرت سعید بن جبیرؒ کے قتل کو ابھی پندرہ دن بھی نہ گزرے تھے کہ حجاج بن یوسف شدید بخار میں مبتلا ہو گیا ، کبھی بے ہوش ہو جاتا اور کبھی ہوش میں آتا ، جب آنکھ لگتی تو چیخ مار کر اٹھتا اور کہتا کہ سعید بن جبیر نے میرا گلا پکڑ رکھا ہے ، سعید بن جبیرؒ مجھ سے پوچھتا ہے بتاؤ تو نے مجھے قتل کیوں کیا ۔پھر حجاج بچوں کی طرح رونے لگتا اور کہتا بھلا سعید بن جبیرؒ سے میرا کیا واسطہ مجھے کیا ہو گیا ۔دنیا والو سعید کو مجھ سے پیچھے ہٹا دو سعید بن جبیرؒ سے مجھے بچا لو ، میں مارا گیا ، میں لوٹا گیا میں تباہ وبرباد ہو گیا ۔جب حجاج بن یوسف مر گیا اور اسے دفنایا گیا تو ایک شخص نے اسے خواب میں دیکھا اور اس سے پوچھا ، اے حجاج جن کو تو نے قتل کیا ان کا بدلہ تجھ سے کیسے لیا گیا ۔ اس نے کہا : ہر قتل کے بدلے اللہ تعالی نے مجھے ایک بار قتل کیا لیکن سعید بن جبیرؒ کے بدلے مجھے ستر بار قتل کیا گیا ۔ ٭٭٭