چھوٹا نواب

مصنف : سید عمر فاران بخاری

سلسلہ : متفرقات

شمارہ : مارچ 2007

            سٹی ناظم ،نواب فضل کریم کے محلے میں اک ہلچل برپا تھی۔ ہر چہرہ لٹکا ہوا تھا کہ نجانے اب کیا قیامت برپا ہو گی۔ ایک طرف لوگ اپنے اپنے گھروں میں دبک کے بیٹھ گئے تھے اور دوسری طرف شادی والے گھر میں سب کے چہروں پر موت کی زردی چھائی ہوئی تھی۔ادھر نواب فضل کریم کا بیٹا سہیل کریم عرف چھوٹا نواب آپریشن تھیٹر میں ڈاکٹروں کے جھرمٹ میں بیہوش پڑا تھا

            گو کہ آپریشن کوئی بہت بڑا نہ تھا ،لیکن اس چھوٹے آپریشن نے بھی شہر کی فضا میں ایک عجیب سی سنسنی پھیلا دی تھی کیونکہ یہ نواب فضل کریم کا بیٹا تھا اور نواب فضل کریم کوئی عام آدمی تھوڑا تھا آخر سٹی ناظم تھا ،جو منصفانہ انتخابات سے منتخب ہوا تھا اور اس نے عوام کی خدمت کا حلف بھی اٹھایا تھا اور یہ حلف تو قسمت والے ہی اٹھایا کرتے ہیں۔

٭٭٭

            نواب کے محلے میں شادی تھی اور نواب صاحب بھی اس میں بدل وجان شریک تھے کیونکہ سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا بہر حال ان کا شیوہ تھا۔ شادی کی تیاریاں حسب معمول جاری تھیں ۔عورتیں اورمردسب خوش تھے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ سب اس شادی کی وجہ سے خوش ہورہے ہیں مگر ان میں سے اکثر چہرے اسی طرح کے ایک رنگین دن کی یاد سے خوش ہورہے تھے اور باقی آنے والے سہانے دن کو یاد کر کے ۔ باہر سہرہ بندی ہو رہی تھی اور زنان خانے میں عورتیں گیت گا کر خوشی کا اظہار کر رہی تھیں ادھر برات روانہ ہونے لگی تو ادھر محلے کے نوجوان آپے سے باہر ہونے لگے ۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے چکر میں آتش بازی میں مصروف تھا۔ اسی جوش میں دولہا کے چھوٹے بھائی نے پستول بھی داغ دیا ۔ ادھر اس نے پستول داغا اور ادھر ایک دلدوز چیخ سنائی دی ۔ گولی چھوٹے نواب کے ہاتھ کو چیرتی ہوئی نکل گئی تھی اور وہ وہیں بے ہوش گر پڑا تھا ۔

٭٭٭

             نواب کو تو جیسے ہوش ہی نہ رہا ۔ ایک گھڑی قبل جہاں شادی کے شادیانے بج رہے تھے وہاں اب موت کا سا سکوت طاری تھا ۔ ہسپتال میں ایک طرف نواب دندناتا پھر رہا تھا تو دوسری طرف آپریشن تھیٹر کے باہر نواب کی بیوی واویلا مچا رہی تھی جب کہ شادی والے گھر کے افراد سجدے میں پڑے بیٹے کی سلامتی کے لیے ہلکان ہو رہے تھے ۔ ڈاکٹروں کی تھوڑی سی تگ ودو کے بعد ٹوٹی ہوئی انگلیوں کو جوڑ کر نواب کے بیٹے کو وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ۔اب چھوٹے نواب صاحب ہوش میں تھے مگر بڑے نواب صاحب ہوش سے باہر۔ وہ ہسپتال سے سیدھے شادی والے گھر جا دھمکے۔ گھر کے تمام افراد شادی کو بھول کر نواب کے سامنے کھڑے تھر تھر کانپ رہے تھے ۔ گھر کے بڑے بوڑھوں نے اپنی پگڑیاں اتار کر نواب کے قدموں میں ڈھیر کر دیں کہ شاید ایسے ہی امان مل جائے ۔مسئلہ تو بہت بنا مگر لوگ کہتے ہیں کہ نواب صاحب بہر حال رحم دل ثابت ہوئے کہ انہوں نے بڑے بوڑھوں کی پگڑیوں، عورتوں کے آنسووں، اہل محلہ کی منتوں اور پانچ لاکھ کے ہرجانے کی لاج رکھتے ہوئے دولہا کے بھائی کی جان بخشی کر دی تھی۔

٭٭٭

             آج قریباً ایک ماہ کے بعد اسمبلی کا پہلا اجلاس ہو رہا تھا جس میں نواب صاحب بھی شریک تھے ۔ اسپیکر نے نواب کے بیٹے کی چوٹ اوراپر یشن پر ان سے اظہار ہمدردی کیا اور معمول کی کارروائی شروع کی ۔ آج کا دن خیریت سے گزر گیا اور کوئی غیر معمولی بات نہ ہو سکی ۔ چند قراردادیں پیش ہوئیں اور ان پر حکومت کی طرف سے حمایت اور اپوزیشن کی طرف سے مخالفت میں شورمچایا گیا ۔واک آؤٹ بھی کیا گیا، ایک دوسرے پر کیچڑ بھی اچھالا گیا اور اسمبلی کے اندر توڑ پھوڑ بھی ۔ البتہ اس سے زیادہ کچھ نہ ہو سکا کہ اخبارات کو خبرملتی کیونکہ شور، ہڑبونگ ، اور واک آؤٹ تو معمول کی کارروائی کا حصہ تھا۔دوسرے دن نواب صاحب نے ایک بل پیش کیا، یہ بل شادی بیاہ میں کھانوں پر پابندی اور آتش بازی اور فائرنگ پر پابندی کے بارے میں تھا۔اس پر دو ہفتے خوب ہنگامہ رہا مگر بالآخر اسے اتفاق رائے سے اس طرح منظور کر لیا گیا کہ کھانے توویسے ہی رہیں گے کہ یہ ہماری روایات کا حصہ ہیں البتہ آتش بازی اور فائرنگ پر پابندی ہو گی۔ اس بل کی منظوری سے پولیس کی کارکردگی بہت بہتر ہوگئی اور شہر بھر میں کئی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔

٭٭٭

            چھوٹے نواب صاحب صحت پاکر فلاحی کامو ں میں اب از سرنو سر گرم عمل ہو گئے تھے شعبان کا مہینہ شروع ہو اتو بڑے نواب صاحب نے پتر سے کہا، پتر ! شب برات آنے والی ہے ابھی تک تم نے کوئی تیاری نہیں پکڑی ۔ تیاری کرو ، پٹاخے شٹاخے ،شرلیاں پستولاں ۔۔ ۔ اور اس دن کے بعد شب برات کی تیاریاں پوری زور و شور سے شروع ہو گئیں ۔ نواب کی حویلی کو دلہن کی طرح سجایا گیا ۔ طرح طرح کے پکوان پکائے گئے ۔ بڑے بڑے لوگ مدعو کیے گئے ۔ شب برات جوں جوں قریب آرہی تھی ، آتش بازی میں تیزی آرہی تھی چھوٹا نواب اس آتش بازی کا سربراہ تھا ، ہر سو بارود کی بدبو پھیلی رہتی اور کانوں پڑی آواز سنائی نہ دیتی ۔ چھوٹے نواب کے دوستوں نے منصوبہ بنایا کہ اس بارکوئی غیر معمولی کام ہونا چاہیے ۔ یہ چھوٹے موٹے پٹاخے تو روز ہی ہواکرتے ہیں ۔

چھوٹا نواب فورا تیار ہو گیا ۔ حویلی کے عقب میں محنت کشوں کے جھونپٹرے تھے پروگرام بنا کہ پٹاخوں سے ان کو ڈرایا جائے۔چھوٹا نواب پورے سازوسامان سے لیس ہو کر اور اپنے دوستوں کے جلو میں رات کی تاریکی میں جھونپڑوں کے عقب میں جا پہنچا ۔ محنت کش دن بھر کی محنت کے بعدگہری نیند سو رہے تھے ۔ ایک جھونپڑے کو دیکھ کر ان سب کی آنکھیں چمکیں اور فوراً ہی منصوبے پر عمل در آمد شروع ہو گیا ۔ جھونپڑے کے چاروں اطراف بڑے بڑے آتشی پٹاخے ترتیب وار رکھ کر ان کو آگ لگا دی گئی ۔ جونہی دھماکے شروع ہوئے ، یوں لگا جیسے رات کی اس خامشی میں گویا قیامت برپا ہو گئی ہو۔ لوگ ڈر کر جھونپڑوں سے باہر بھاگے ۔ہوا اس دن مہربان تھی چنانچہ جس جھونپڑے کے گرد ‘‘آپریشن’’ کیا گیا تھا ، بارود کی چنگاریوں نے اڑ کر فوراً اس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔جھونپڑے میں موجود ایک جوان مرد اور اس کی بیوی تو فورا بھاگ نکلے لیکن ان کی بوڑھی ماں پھرتی کا مظاہرہ نہ کر سکی چنانچہ جھونپڑے کے ساتھ ہی راکھ کا ڈھیر ہو گئی ۔

٭٭٭

            چھوٹے نواب کی تو گویا سٹی گم ہو گئی ۔ وہ دم دبا کر بھاگ کھڑا ہوا ۔ نواب کو اس واقعے کی اطلاع ملی تو اس نے چھوٹے نواب کو دلاسا دیا کہ پتر! مائی ہی مری ہے نا کوئی پہاڑ تو نہیں ٹوٹ پڑا۔

چھوٹے نواب کی تو نیندیں حرام ہو چکی تھیں ۔ ہر وقت اس کے سامنے جیل کی تاریک کوٹھری رہتی لیکن نواب اس کو تسلی دے کر چپ کرا دیتا ۔ پولیس ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی تو عوام مشتعل ہو کر سڑکوں پر آگئے ۔ حالات سے مجبور ہو کر منسٹر صاحب کے حکم پر چھوٹے نواب کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔ نواب فوراً منسٹر صاحب کے پاس پہنچا ۔ ان سے بیٹے کی گرفتاری کی شکایت کی تو انہوں نے نواب کو دلاسا دیا کہ بس حالات ذرا ٹھنڈے ہو لیں پھر سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ لیکن حالات مزید بگڑتے چلے گئے اور حکومت کو دباؤ میں آکر چھوٹے نواب کا مقدمہ عدالت میں پیش کرنا پڑا ۔ مقدمے کی سماعت ایک حکومتی جج کے سپرد ہوئی ۔ مقدمہ حسب معمول طویل سے طویل تر ہوتا گیا لیکن کوئی درمیانی راہ نہ نکلی ۔ آخر ایک دن مجبور ہو کر جج نے اعلان کر دیا کہ کل فیصلہ سنایا جائے گا ۔ ہر دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔

٭٭٭

             رات کو مائی کے وارثوں کو اٹھایا گیا اور زبردستی ان سے صلح نامہ پر دستخط کروا لیے گئے۔ صبح بے شمار لوگ انصاف کی آس میں عدالت میں جمع ہو گئے ، عدالت لگی ، جج صاحب جلوہ افروز ہوئے اور اپنی عینک درست کر نے لگے ۔اسی اثنا میں ان کو خبر ملی کہ مائی کے وارثوں نے صلح نامہ داخل دفتر کروا دیا ہے ۔ اس پرجج صاحب نے ملزم کو باعزت بری کر دیا ۔سب لوگ اپنا سا منہ لے کر رہ گئے البتہ ان کے اصرار پر انہیں بتایا گیا کہ مرحومہ کے وارثوں نے ایک لاکھ روپے کے عوض صلح کر لی ہے اچانک پچھلی صفوں میں سے کسی سرپھرے کی آواز آئی ، جج صاحب! یہ کیسا انصاف ہے ۔ چھوٹے نواب کو ہاتھ پر گولی لگے تو نواب پانچ لاکھ کے عوض صلح کر ے اور یہاں ایک جان چلی جائے مگر اس کی قیمت محض ایک لاکھ ؟ کیا غریب کی جان اتنی ارزاں ہے ؟ اس متوالے کے منہ کو بھی جج کی طرح فورا بھر دیا گیا، نوٹوں سے نہیں بلکہ رائفل کی نال سے۔

٭٭٭

             آج پھر نواب کی حویلی کو دلہن کی طرح سجایا جار ہا تھا کیونکہ چھوٹا نواب رہا ہو کر ایک سال کے بعد گھر آرہا تھا ۔ جونہی نواب کی جیپ حویلی کے دروازے سے داخل ہوئی ، فضا دھماکوں سے گونج اٹھی ۔ چھوٹے نواب کی رہائی کی خوشی میں اسے اکیس رائفلوں کی سلامی پیش کی گئی۔اور ساتھ ہی جج صاحب کے انصاف کی داد دینے کے لیے بے شمار پٹاخے چھوڑے گئے اور وہ پٹاخے جن لفافوں میں بند تھے وہ لفافے اسی اخبار سے بنائے گئے تھے جس نے شہ سرخی سے یہ خبر شائع کی تھی کہ نواب فضل کریم کے بل کو پاس کر تے ہوئے حکومت نے قانون بنایا ہے کہ آتش بازی اور فائرنگ پر مکمل پابندی ہو گی خلاف ورزی کر نے والے کو تین سال قید بامشقت اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔

٭٭٭

            بھاری ٹکڑا اُٹھا کر ہابیل کی طرف پھینکا۔ ہابیل کا سر پھوٹ گیا۔ وہ تیورا کر گر پڑا اور زمین کنپٹی سے بہنے والے خون سے رنگین ہوگئی۔

            عالم کون و فساد کی ظاہر و مخفی قوتون نے سفک الدماء کا یہ پہلا سین دیکھا اور کائنات خلافت ارضی کے وارث اعلیٰ کی اس حرکت پر خوف کے مارے کانپ اُٹھی۔

            ہابیل جان کنی کی بے تابیوں میں چند لمحوں کے لیے تڑپا اور ٹھنڈا ہوگیا۔ کائنات کا ذرّہ ذرّہ زُبانِ حال سے پکار اُٹھا:…… ‘‘پروردگار! کیا تو اُن لوگوں کو خلافت ارضی کا وارث بنانے والا ہے جو تیری زمین پر فساد برپا کرتے ہیں اور خون گراتے ہیں۔ ہم ہیں کہ ہر وقت تیری تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں’’۔

٭٭٭