مولانا عبدالروف

مصنف : ڈاکٹر طفیل ہاشمی

سلسلہ : یادِ رفتگاں

شمارہ : مئی2016

یاد رفتگاں
حافظ عبد الرؤف
ڈاکٹر طفیل ہاشمی 

حافظ عبد الرؤف عربی زبان و ادب کے شہسوار فقہ تفسیر اور حدیث کے متبحر عالم دارالعلوم دیوبند کے فاضل مولانا حسین احمد مدنی کے تلمیذ رشید اور انیہں سے وابستہ بیعت و ارشاد۔دیو بند سے فراغت کے بعد جامعہ نعمانیہ لاہور میں کچھ عرصہ تدریس کی۔ قیام پاکستان کے بعد آزاد کشمیر میں محکمہ تعلیم جائن کرلیا ۔گورنمنٹ کالج راولاکوٹ میں فیکلٹی ممبر رھے۔ زندگی منٹوں اور لمحات کے حساب سے مرتب و منضبط۔ جب گھر پر ہوتے تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ صبح میری آنکھ کھلی ہو اور ان کی تلاوت کی آواز نہ آرہی ہو۔قرآن سے عشق کا یہ عالم تھا کہ روزانہ تہجد میں دو پارے بعد از نماز فجر دو پارے بعد از نماز ظہر دو پارے اور بعد از مغرب دو پارے تلاوت کا معمول تھا۔ اس کے باوجود زندگی اس قدر معمول کے مطابق تھی کہ کسی بات سے زہد عبادت اور تقدس کا کوء شائبہ تک نہیں ہوتا تھا۔ رزق حلال کا معیار ایسا کہ میں 1975 میں کالج میں لیکچرار لگا تو جس روز پیریڈ نہ ہوتا کالج نہ جاتا ایک روز مجھ سے پوچھا تو میں نے وضاحت کر دی کہنے لگنے بائیس سال گورنمنٹ کی جاب کے دوران صرف ایک بار پانچ منٹ لیٹ ہو گیا تھا اور میں نے رجسٹر پر درج کردیا تھا۔
ایک زمانے میں ہائی سکول میں ہیڈ ماسٹر تھے۔ان کے ایک رفیق کار کی روایت ہے کہ سکول کی کسی ضرورت کے لئے طلبہ سے کچھ فنڈز لئے گئے۔وہ انہیں کے پاس تھے۔جب کام کروا کر ادائیگی کا وقت آیا تو ایک رومال میں بندھی ریز گاری لے آئے۔ہم نے پوچھا 
حافظ صاحب یہ ریز گاری کیسی ؟
انہوں نے جواب دیا یہ بچوں کے پیسے ہیں انہیں تبدیل کرنا جائز نہیں تھا اس لئے یہ اسی طرح محفوظ ہیں۔ جینز کے یہ اثرات ان کے پوتے پوتیوں میں اسی طرح ہیں اور ہمیں بھگتنا پڑتے ہیں۔
وفات سے چار دن پہلے مجھے پیغام بھیجا کہ آکر مل جاؤ۔سوچا ذرا ورکشاپ ختم 
کروالوں تو جاؤں گا تیسرے دن اطلاع ملی کہ فالج ہوگیا ھے افتاں و خیزاں پہنچے تو اگلے دن مارچ صبح نو بج کر منٹ پر خالق حقیقی سے جا ملے۔آخری سالوں میں کء بار یہ حدیث بڑھتے 
من احب لقاء اللہ احب اللہ لقاء ہ 
پھر کہتے میں تو اس کی ملاقات کا مشتاق ہوں نہ معلوم اس کی طرف سے کب بلاوا آئے۔
آج مارچ میرے والد مرحوم کی برسی ھے۔
ان کی وفات پر ہمارے قریب کے ایک گدی نشین تعزیت کے لئے تشریف لائے تو کہنے لگے 
ہاشمی صاحب آپ کے پاس درجنوں ایسی قبریں ہیں کہ میرے پاس ایسی ایک بھی ہو تو میں سارے ملک کو اپنا گرویدہ کرلوں۔آپ ہیں کہ قبریں بھی پختہ نہیں بناتے۔
میں نے والد مرحوم سمیت درجنوں ایسے لوگ دیکھے جن کی زندگی کا کوء لمحہ سنت نبوی کے خلاف نہیں گزرا اور وہ ہر قسم کی مصنوعیت سے پاک تھے۔ رحھم اللہ
ٌٌ*****




غزل 
کتنے بے درد ہیں صَرصَر کو صبا کہتے ہیں
کیسے ظالم ہیں کہ ظلمت کو ضیا کہتے ہیں
جبر کو میرے گناہوں کی سزا کہتے ہیں
میری مجبوری کو تسلیم و رضا کہتے ہیں
غم نہیں گر لبِ اظہار پہ پابندی ہے
خامشی کو بھی تو اِک طرزِ نوا کہتے ہیں
کْشتگانِ ستم و جور کو بھی دیکھ تو لیں
اہلِ دانش جو جفاؤں کو وفا کہتے ہیں
کل بھی حق بات جو کہنی تھی سرِ دار کہی
آج بھی پیشِ بتاں نامِ خدا کہتے ہیں
یوں تو محفل سے تری اْٹھ گئے سب دل والے 
ایک دیوانہ تھا وہ بھی نہ رہا کہتے ہیں
یہ مسیحائی بھی کیا خوب مسیحائی ہے
چارہ گر موت کو تکمیلِ شِفا کہتے ہیں
بزمِ زنداں میں ہوا شورِ سلاسل برپا
دہر والے اسے پائل کی صدا کہتے ہیں
آندھیاں میرے نشیمن کو اڑانے اٹھیں
میرے گھر آئے گا طوفانِ بلا کہتے ہیں
اْن کے ہاتھوں پہ اگر خون کے چھینٹے دیکھیں
مصلحت کیش اسے رنگِ حنا کہتے ہیں
میری فریاد کو اس عہد ہوس میں ناصر
ایک مجذوب کی بے وقت صدا کہتے ہیں
نوابزادہ نصراللہ