آمنہ تھامس (کیرالا)

مصنف : انّامّا تھامس

سلسلہ : من الظلمٰت الی النور

شمارہ : مارچ 2010

میں Annamm Thomas جنوبی بھارت کے ایک پروٹسٹنٹ (پنٹا کوسٹل) عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئی اور پروان چڑھی۔ میرا باپ شروع میں ایک رومن کیتھولک عیسائی تھا۔ بائبل کی تعلیمات کی روشنی میں انھوں نے رومن کیتھولک عقائد کا جائزہ لیا اور محسوس کیا کہ رومن کیتھولک نہ صرف مورتیوں کی پرستش کرتے ہیں، بلکہ اپنے بزرگوں (مقدس ہستیوں مثلاً پادری اور بشپ وغیرہ) کو مشکل کشا سمجھ کر ان سے مدد کے طلب گار ہوتے ہیں۔ بائبل کی تعلیمات رومن کیتھولک عقائد کی نفی کرتی تھیں، اس لیے وہ پروٹسٹنٹ بن گئے۔ بالآخر وہ ایک مقامی چرچ میں فل ٹائم مسیحی مبلغ مقرر کر دیے گئے۔

میں خود بھی ایک متحرک اور خدا پرست عیسائی تھی، لیکن اب میں بہت خوش ہوں کہ میں ایک مسلمہ ہوں۔ اتفاق سے مسلمان نہیں بنی، بلکہ خوب سوچ سمجھ کر میں نے اسلام کا انتخاب کیا ہے۔ رب کائنات جس نے صحیح راستے یعنی اسلام کی طرف رہنمائی کی، اس کا میں جس قدر بھی شکر ادا کروں، کم ہے۔ میرا قبول اسلام مختلف مذاہب کے تقابلی مطالعے کا نتیجہ ہے۔ تقابلی مطالعے نے میرے ذہن کو قائل کیا کہ اسلام ہی ایک سچا مذہب اور اللہ تعالیٰ کا آخری دین ہے۔ تقابلی مطالعے سے میں اس نتیجے پر پہنچی کہ رب کائنات اور رب واحد ‘‘اللہ تعالیٰ’’ پر ایمان رکھنے کا تقاضا ہے کہ میں اسلام قبول کر کے مسلمان بن جاؤں، اگرچہ مجھے اس کے لیے سماجی زندگی میں کتنے ہی مسائل کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔

میں ایک سرگرم عیسائی مبلغہ اور ہیلتھ کیئر کرسچین فیلو شپ کی ممبر تھی۔ یہ تنظیم میڈیکل فیلڈ سٹاف کے ان افراد پرمشتمل تھی، جنھوں نے اپنی زندگی عیسائیت کے فروغ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ان کی زندگی کا مقصد غیر عیسائیوں میں عیسائی تعلیمات پھیلانا اور انھیں عیسائی بنانا تھا۔ بطور عیسائی میں سوچتی تھی کہ یسوع کی رضا حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عیسائیت کی تبلیغ کو میں اپنے لیے فرض عین سمجھوں، لیکن بچپن ہی سے میرے ذہن میں عیسائی عقائد بالخصوص ‘‘عقیدۂ تثلیث، یسوع کی موت اور ان کا دوبارہ زندہ ہونا’’ کے بارے میں کئی سوال تھے۔ بطور عیسائی مجھ سے توقع کی جاتی تھی کہ عیسائی پادریوں نے مجھے جو کچھ پڑھایا ہے، بالخصوص ‘‘عہد نامۂ جدید’’ کی تعلیمات پر میں اندھا ایمان رکھوں۔ بذات خود بائبل نے مجھے شک میں مبتلا کر دیا کہ آیا یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے بھی کہ نہیں، کیونکہ اس کی تعلیمات ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ ‘‘عہد نامۂ جدید’’ کی تعلیمات ‘‘عہد نامۂ قدیم’’ کی تعلیمات کی متضاد ہیں۔ سینٹ پال کی تعلیمات، عیسائیت آج جن کی پیروکار ہے، وہ موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام دونوں کی تعلیمات کی متضاد ہیں۔

اللہ کا سچا کلام کون سا ہے، ‘‘عہد نامۂ جدید ’’ یا ‘‘عہد نامۂ قدیم’’؟ اس بارے میں میں ابہام کا شکار تھی۔ اگر دونوں اللہ کے سچے کلام ہیں تو پھر عیسائی ‘‘عہد نامۂ قدیم ’’ کے قوانین اور قواعد و ضوابط کی پابندی کیوں نہیں کرتے، حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام خود ‘‘عہد نامۂ قدیم’’ کی تعلیمات کے پابند تھے۔ عقیدۂ تثلیث کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام ‘‘ایک خدا میں تین’’ میں ایک ہیں۔ اگر وہ واقعی ‘‘ایک خدا میں تین’’ میں ایک ہیں تو پھر انھیں تمام دنیا کے گناہوں کی خاطر صلیب پر کیوں مرنا پڑا؟ اگر عیسیٰ علیہ السلام ‘‘ایک خدا میں تین’’ میں ایک ہیں تو پھر کسے خوش کرنے کے لیے انھوں نے صلیب پر مرنا پسند کیا؟ اگر عقیدۂ تثلیث عیسائیت کا اہم اور بنیادی ستون ہے تو پھر شروع کے عیسائیوں (۳۲۵ ء سے قبل) نے اسے اپنے ایمان کا حصہ کیوں نہ بنایا؟ سینٹ پال جسے عیسائیوں کا حقیقی اور سچا بانی تصور کیا جاتا ہے، ہ بھی سچے خدا کے بارے میں کچھ نہ جانتا تھا۔ جب ۳۱۸ء میں عقیدۂ تثلیث پر کلیسائی عہدے داروں میں تنازع بہت زیادہ بڑھ گیا، تو اسکندریہ سے پادری آریوس (Arivus) بشپ الیگزینڈر اور شہنشاہ کانسٹنٹائن جھگڑے میں کود پڑے۔ جب تنازع کے حل کے لیے مذاکرات ناکام ہو گئے تو شہنشاہ کانسٹنٹائن نے چرچ کی تاریخ میں پہلی رومن کیتھولک کلیسائی کونسل (Ecumenical Council) کا اجلاس طلب کیا، تاکہ وہ اس مسئلے کو حل کرے۔ ۳۲۵ء میں ۳۰۰ بشپ Nicea میں اکٹھے ہوئے اور تثلیث ڈاکٹرائن پر بحث کی۔ عیسائیوں کے خدا کی تین ماہیتیں اور نوع سامنے آئے یعنی باپ ، بیٹا اور روح القدس۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے بیٹے کی قربانی پیش کی، مگر اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنے بیٹے کا خون نہ بہانے دیا تو پھر اس (اللہ تعالیٰ) نے اپنے بیٹے (عقیدۂ تثلیث کے مطابق عیسیٰ اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں) کو اپنی خوشی کے لیے خون کیوں بہانے دیا؟

ہم آدم و حوا کے بچے ہیں۔ انھوں نے ایک گناہ کیا اور عیسائی عقیدے کے مطابق ہر انسان پیدایشی گناہ گار ہے۔ جہاں تک بائبل کا تعلق ہے، وہ اس عقیدے کی تصدیق نہیں کرتی کہ ‘‘کرے کوئی بھرے کوئی’’، مثلاً کتاب یرمیاہ کے باب ۳۱ کی آیت نمبر ۲۹۔۳۰ میں ہے: ‘‘پھر یوں نہ کہیں گے کہ باپ دادا نے کچے انگور کھائے اور اولاد کے دانت کھٹے ہو گئے۔ کیونکہ ہر ایک اپنی بدکرداری کے سبب سے مرے گا۔ ہر ایک جو کچے انگور کھاتا ہے، اس کے دانت کھٹے ہوں گے۔’’بائبل کی کتاب احبار کے باب ۲۴ کی آیت نمبر ۱۵ میں ہے: ‘‘اور تو بنی اسرائیل سے کہہ دے کہ جو کوئی اپنے خدا پر لعنت کرے گا، اس کا گناہ اسی کے سر لگے گا۔ ’’ کتاب حزقی ایل کے باب ۱۸ کی آیت ۲۰ میں ہے: ‘‘جو جان گناہ کرتی ہے، وہی مرے گی۔ بیٹا باپ کے گناہ کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور نہ باپ بیٹے کے گناہ کا بوجھ۔ صادق کی صداقت اسی کے لیے ہو گی او رشریر کی شرارت شریر کے لیے۔’’

اگر یسوع مسیح ‘‘ایک خدا میں تین’’ میں ایک ہیں تو پھر وہ صلیب پر کیوں چلائے: ‘الوہی، الوہی لما شبقتنی؟’ جس کا ترجمہ ہے: ‘‘اے میرے خدا، اے میرے خدا، تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟’’ (مرقس ۱۵: ۳۴)

کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ مذکورہ بالا الفاظ کسی خدا کی زبان سے نکلے ہیں؟ یہ تو کرب و اذیت میں مبتلا ایک بے بس اور لاچار آدمی کی پکار ہے۔ جس میں وہ اپنے خالق اور آقا سے مخاطب ہے۔

الحمد للہ، اب میں خوش اور مطمئن ہوں۔ میں اعتماد سے کہہ سکتی ہوں کہ ‘‘قرآن مجید’’ نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہر اس سوال کا تسلی بخش جواب دے دیا ، جو میرے ذہن میں تھا۔ قرآن مجید تو خود ایک معجزہ ہے۔ یہ ایک بے نظیر و بے مثال اور منفرد کتاب ہے۔ اس کی یہ انفرادیت شکوک و شبہات سے بالا ہے کہ یہ کوئی انسانی تخلیق نہیں ہے۔ یہ تو کسی سپر ہستی کی تخلیق کردہ ہے۔ اس کتاب میں انسانی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کیا گیا ہے۔ کسی فرد کا کوئی ذاتی مسئلہ ہو یا سیاسی یا معاشرتی مسئلہ، قرآن مجید سب کا حل پیش کرتا ہے۔ اس کی سب سے زیادہ حیرت انگیز اور تحسین آفریں خصوصیت یہ ہے کہ ۱۴۰۰ سال سے زیادہ عرصے سے اس میں کسی حرف تو کجا اعراب تک کی کمی بیشی نہیں ہوئی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ قیامت تک اس میں کوئی تحریف نہیں ہو سکتی اور وہ خود اس کا محافظ ہے: ‘‘اس ذکر (قرآن) کو ہم نے ہی نازل کیا ہے اور ہم خود ہی اس کے نگہبان ہیں۔’’ (الحجر ۱۵: ۹) ‘‘یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے۔ جو ایک محفوظ کتاب میں ثبت ہے۔’’(الواقعہ ۵۶: ۷۷۔ ۷۸) اس کے بالمقابل بائبل میں مسلسل تبدیلیاں ہوتی رہیں۔ عیسائی پادری اور اسکالر اس میں جمع تفریق کرتے رہے اور اس میں اس قدر تحریف ہو چکی ہے کہ اسے ہم خدا کا کلام نہیں کہہ سکتے۔ عیسائیوں کی اکثریت بائبل اور اناجیل کی تاریخ سے آگاہ نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عہد نامۂ جدید میں شامل چاروں اناجیل کے چاروں مصنفین ‘‘مرقس، متی، یوحنا اور لوقا’’ عیسیٰ علیہ السلام کے حواری تھے، لیکن یہ درست نہیں ہے۔ ان میں سے کوئی بھی عیسیٰ علیہ السلام کا ہم عصر نہ تھا اور نہ کسی نے براہ راست عیسیٰ علیہ السلام کو وعظ کرتے سنا۔ چاروں اناجیل ۷۰ء اور ۱۱۵ء کے درمیانی عرصے میں یونانی زبان میں لکھی گئیں، جبکہ عیسیٰ علیہ السلام کی زبان آرامی تھی۔ سب سے پہلے ‘‘مرقس کی انجیل’’ لکھی گئی اور یہ روم میں عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کیے جانے کے چالیس سال بعد لکھی گئی۔ ‘‘متی کی انجیل’’ ۹۰ء میں یونانی میں ‘‘Anti loch’’ میں لکھی گئی۔ تیسری انجیل ‘‘انجیل لوقا’’ یونان میں ۸۰ء میں لکھی گئی۔ ‘‘انجیل یوحنا’’ ۱۱۰ء اور ۱۱۵ء کے درمیان ایفی سس (Ephesus) میں یا سا کے قریب کی دوسری جگہ کسی نامعلوم مصنف نے لکھی۔ یہ سامی مخالف تھا اور اس نے یہودیوں کو یسوع مسیح کے دشمن کے طور پر پیش کیا۔

میں اسلام کے بارے میں کچھ نہ جانتی تھی۔ ایک روز میری ایک مسلمان سہیلی نے مجھے ایم اے نبی کی کتاب ‘‘کرسچین مسلم ڈائیلاگ’’ اور احمد دیدات کی Choice Islam and Christianity تحفے میں دی۔ دونوں کتب میری زندگی میں نکتۂ انقلاب ثابت ہوئیں۔ ان کتب کے مطالعے سے میں نے محسوس کیا کہ مسلمانوں کے عقیدے کی پشت پر کوئی ٹھوس سچائی ہے۔ اس کے بعد میں نے اسلام اور عیسائیت کا تقابلی مطالعہ شروع کیا۔ میں نے دیکھا کہ ایک غیر مسلم اسلام کے بارے میں جو تصور رکھ سکتا ہے، اسلام اس سے بالکل مختلف ہے۔ بطور غیر مسلم میرا اپنا یہ خیال تھا کہ مسلمان متشدد لوگ ہیں، جو امن پر یقین نہیں رکھتے اور نہ قادر مطلق اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔ مطالعے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ اسلام کے تو معنی ہی ‘‘امن’’ اور اپنے آپ کو اللہ کی رضا کے حوالے کر دینے کے ہیں۔ میری اس سہیلی نے مجھے احمد دیدات کی مزید کتب دیں اور جماعت اسلامی ہند دہلی کے اعلیٰ سطح کے دانشوروں اور بزرگ ارکان کے ذریعے سے میرے شکوک و شبہات دور کرنے کی کوشش کی۔ سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی کتاب ‘‘رسالۂ دینیات’’، Towards Understandnig Islam نے اسلام کا ایک مکمل تصور میرے سامنے رکھا۔ اس مطالعے نے مجھے بے چین کر دیا کہ پوری کائنات کے خالق اور رب ‘‘اللہ تعالیٰ’’ پر سچا ایمان رکھنے والی کی حیثیت سے مجھے اب کیا کرنا چاہیے؟

اسلام سے متعلق میرا مطالعہ جاری تھا کہ بہتر مستقبل کے لیے میں سعودی عرب آ گئی۔ یہاں میں نے مسلمانوں اور ان کے طرز زندگی کا نہایت قریب سے مشاہدہ کیا۔ یہاں میں نے محسوس کیا کہ قادر مطلق خدائے حق نے یہودیوں سے اپنی بادشاہت چھین کر مسلمانوں میں قائم کی ہوئی ہے، جیسا کہ یسوع مسیح نے پیشین گوئی کی تھی: ‘‘اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے، دے دی جائے گی۔’’ (متی ۲۱: ۴۳) ایسا ہی موسیٰ علیہ السلام نے بائبل کی کتاب ‘‘احبار’’ میں فرمایا تھا۔

سعودی عرب میں مجھے تقابل ادیان کے مطالعے کا سنہری موقع ملا۔ لٹریچر، آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں کے علاوہ چلتی پھرتی زندہ شہادتوں نے میری بڑی مدد کی۔ یہ زندہ شہادتیں وہ انسان تھے، جنھوں نے سچائی اور دین حق کا راستہ پانے کے لیے بڑی تحقیق اور محنت کی تھی۔ جب انھیں صراط مستقیم مل گیا تو انھوں نے عیسائیت کو خیر باد کہہ کر اسلام قبول کر لیا۔ ان لوگوں کی تحقیق او رتجربے میرے لیے نہایت سود مند اور مشعل راہ ثابت ہوئے۔

امریکی نو مسلمہ مسز خدیجہ واٹسن جو کسی امریکی یونیورسٹی میں شعبۂ الٰہیات (Dept of Theolgoy) کی پروفیسر رہ چکی ہیں، کے ساتھ براہ راست مکالمہ روحانی تسکین کی تلاش میں میرے لیے نہایت نفع بخش رہا، اسی دوران، میں نے انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ نو مسلموں کی رودادوں کا مطالعہ کیا۔ ان میں پروفیسر عبد الاحد داؤد (سابق نام ریورنڈ ڈیوڈ بنجمن کلدنی۔ ایک بشپ اور رومن کیتھولک پادری ‘‘محمد ان دی بائبل’’ کا مصنف) قسیس (پادری) چارلس ولیم پکتھال کے بیٹے محمد پکتھال کی داستانیں خاصی اہم تھیں۔ ان کے مطالعے نے ‘‘اسلام ہی سچا دین ہے’’ کے حوالے سے میرے اعتماد میں کافی اضافہ کیا۔

اب سب سے بڑا مسئلہ جس کا مجھے سامنا تھا، وہ یہ تھا کہ میں اپنے آپ کو صحیح طریقے سے عبادت کرنے کے قابل نہ پاتی تھی۔ میں یہ تو جان گئی تھی کہ خدائے واحد ہی ہر چیز کا خالق ہے، لیکن مجھے یہ یقین نہیں تھا کہ سچا الٰہ واحد عیسائیت میں ہے یا اسلام میں۔ یہ حقیقت ہے کہ دونوں مذاہب ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں،مگر عبادات کا طریقہ بالکل مختلف ہے۔ اب پھر کیا کروں؟ یہ سوال مجھے مسلسل پریشان کر رہا تھا۔ میں نے اپنی یہ پریشانی اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے دعا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے گزارش کی: ‘‘اے میرے اللہ ! میں دعا کے لیے تیرے حضور میں حاضر ہوں۔ تم سے زیادہ مجھے کوئی نہیں جانتا۔ تم ہی جانتے ہو کہ میں کیا ہوں او رکہاں ہوں۔ میرے دل میں کیا ہے اور میں کیا چاہتی ہوں، لیکن میں نہیں جانتی کہ تم اسلام اور عیسائیت میں سے کس کو ترجیح دیتے ہو، کس کو پسند کرتے ہو۔ اب میں عیسائی نہیں ہوں، کیونکہ عیسائیت میں ‘‘خدا کے تصور’’ کے بارے میں میرے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا ہو چکے ہیں او رنہ میں مسلمان ہوں، کیونکہ میں ایک مسلمہ کی طرح زندگی نہیں گزار رہی۔ اے میرے اللہ! صحیح مذہب کے انتخاب میں میری رہنمائی فرما۔ میں صرف سچائی کی تلاش میں ہوں، اس لیے مجھے گمراہ ہونے سے بچا لے۔ اگر مذہب عیسائیت سچا ہے تو پھر مجھے اس پر جما دے اور اس کے بارے میں میرے ذہن میں جو شکوک و شبہات ہیں، وہ دور کر دے۔ اگر اسلام سچا ہے تو پھر اس کی سچائی کی توثیق کر اور میرے دل میں اس کو مستحکم کر دے۔ میری مدد کر اور میرے اندر اس قدر جرأت پیدا کر دے کہ میں اپنے مستقبل کے دین کے طور پر اسے قبول کر لوں۔’’

قرآن و بائبل کے تقابلی مطالعے اور خلوص دل سے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا نے اسلام کی طرف مائل میرے دل کو تقویت بخشی اور میں اندر ہی اندر مسلمان ہو گئی۔ میں نے مسلمانوں کی طرح نماز پڑھنی شروع کر دی۔ نماز پڑھنے کے دوران میں نے محسوس کیا کہ اسلام کی سب سے زیادہ پرکشش چیز نماز ہی ہے۔ عیسائیت کی نماز میں ایک عیسائی یسوع مسیح کے واسطے سے اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرتا ہے، لیکن اسلام میں نماز کا مطلب ہے کہ دنیا کے تمام امور سے کٹ کر اللہ بزرگ و برتر کی حمد و ثنا اور بڑائی بیان کرنا، اس کے انعام و اکرام پر اس کا شکر ادا کرنا۔ صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ کون سی چیز ہمارے لیے مفید ہے او رسود مند ہے اور وہی ذات یکتا ہماری تمام ضروریات پوری کرتی ہے۔

۱۴۲۱ھ کے رمضان المبارک کا بھی میں نے مشاہدہ کیا۔ میں تو اسے ایک معجزہ ہی تصور کرتی ہوں، کیونکہ میرے خیال میں مسلمانوں کی طرح روزے رکھنا میرے لیے ناممکن تھا۔ میں نے تجربے کے طور پر روزے رکھنے شروع کیے کہ جان سکوں کہ آیا میں اسلام کے احکام پر عمل کرسکوں گی یا نہیں۔ الحمد للہ میں پورے تیس روزے رکھنے میں کامیاب رہی۔ تاہم میں نے اب بھی روایتی طریقے سے اسلام قبول نہ کیا، کیونکہ میں اپنی فیملی اور سہیلیوں کے ممکنہ رد عمل کے خوف میں مبتلا تھی۔ میں سوچتی تھی کہ کہیں وہ مجھے اپنے آپ سے دور نہ کر دیں اور میں تنہا نہ ہو جاؤں۔ اس خوف کے باوجود سورۂ توبہ کی آیات ۲۳ اور ۲۴ کے مطالعے نے مجھے اسلام قبول کرنے کا اعلان کرنے پر مجبور کر دیا کہ ایک سچے مسلمان کے لیے اس خوف کی کوئی حیثیت نہیں ہونی چاہیے۔ مذکورہ آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

‘‘اے ایمان والو! اگر تمھارے باپ اور تمھارے بھائی ایمان کے مقابلے میں کفر کو عزیز رکھیں تو ان کو اپنا رفیق نہ بناؤ اور تم میں سے جو انھیں رفیق بنائیں گے تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں۔ (اے پیغمبر! مسلمانوں سے) کہہ دو کہ اگر تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھاری برادری اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے مندا پڑ جانے کا تم کو اندیشہ ہے اور وہ مکانات جو تمھیں پسند ہیں (اگر یہ ساری چیزیں) اللہ اور اس کے رسول اور اللہ کی راہ میں جہاد سے تمھیں زیادہ پیاری ہیں تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمھارے سامنے لے آئے اور اللہ کا مقررہ قانون ہے کہ وہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ (التوبہ: ۹: ۲۳۔۲۴)

ان آیات کے مطالعے سے میں نے محسوس کر لیا کہ اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی طرف میری رہنمائی کر دی ہے اور اب عیسائیت کی طرف دیکھنا میرے لیے اچھا نہ ہو گا۔ الحمد للہ، ۱۲ ذی قعدہ ۱۴۲۱ھ (۶ فروری ۲۰۰۱ء) کو اسلامک ایجوکیشن سنٹر طائف میں ، میں نے کلمۂ شہادت پڑھ لیا۔ میں اللہ تعالیٰ کی شکر گزار ہوں، جس نے میری رہنمائی کی اور جس کی رحمتوں کے باعث آج میں مسلمان ہوں۔ قبول اسلام سے قبل اور بعد میں مجھے بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی تنقید اور دیگر مشکلات کا مقابلہ کرنے کی میرے اندر ہمت پیدا کر دی اور دین اسلام پر مجھے استقامت دی۔ الحمد للہ!

٭٭٭