اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

مصنف : امیر الاسلام ہاشمی

سلسلہ : نظم

شمارہ : مارچ 2013

 

اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
دہقان تو مر کھپ گیا اب کس کو جگاؤں
 
ملتا ہے کہاں خوشہء گندم کہ جلاؤں
شاہین کا ہے گنبدِ شاہی پہ بسیرا
 
کنجشک فرومایہ کو اب کس سے لڑاؤں
اقبال! تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
 
مکاری و عیاری و غداری و ہیجان
اب بنتا ہے ان چار عناصر سے مسلمان
 
قاری اسے کہنا تو بڑی بات ہے یارو!
اس نے تو کبھی کھول کے دیکھا نہیں قرآن
 
اقبال! تیرے دیس کا کیا حال سناؤں