صحافیوں اور انیکرز کی لوٹ مار

مصنف : سجاد حیدر

سلسلہ : متفرقات

شمارہ : جون 2020

بینظیر بھٹو 1988 میں وزیر اعظم بنیں تو پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان کے خلاف پروپیگنڈہ کا جواب دینے کے لیے پیپلز میڈیا سیل بنایا گیا شیخ رفیق احمد جہانگیر بدر اور سلمان تاثیر کی تجویز پر حسن نثار کو پیپلز میڈیا سیل کا سربراہ بنایا گیا۔سیل کے اخراجات کا ماہانہ تخمینہ 18 لاکھ روپے تھا۔ بی بی نے فیصلہ کیا کہ یہ اخراجات کسی حکومتی وزارت کے فنڈ یا وزیراعظم کے خصوصی فنڈز سے نہیں پیپلز پارٹی کے اپنے وسائل سے پورے کیے جائیں گے۔یوں 20 ماہ تک محترمہ بینظیر بھٹو کی ہدایت پر پارٹی فنڈ سے سلمان تاثیر ہر ماہ حسن نثار کو 18 لاکھ روپے فراہم کرتے رہے۔ پیپلز میڈیا سیل کے معاونین میں ان صحافیوں کو شامل کیا گیا جو ضیا رجیم اور رجعت پسند ٹولے کے مقابلہ میں عوام دوست صحافی کی شناخت رکھتے تھے۔ حسن نثار 1988 سے 1990 کے درمیان ماہنامہ زنجیر لاہور کے ایڈیٹر رہے۔اگست 1990 میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمے پر محترمہ بینظیر بھٹو لاہور آئیں۔ سینیٹر گلزار خان کے گھر پر ان کی صحافیوں سے ملاقات کا اہتمام کیا گیا معمول کی پریس بریفنگ ختم ہونے کے بعد کھانے کی میز پر محترمہ بینظیر بھٹو نے منو بھائی اور مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا'' ہم نے حسن نثار کی سربراہی میں جو میڈیا سیل بنایا تھا ان بھائیوں اور ساتھیوں کی خدمت بھی کی لیکن آپ لوگوں نے پیپلز پارٹی کی مخالف قوتوں کے بیہودہ الزامات کا اس طور جواب نہیں دیا جو پیپلز میڈیا سیل کے ارکان کا فرض بنتا تھا ''۔محترمہ کی اس بات پر ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھااور پھر میں نے پہل کرتے ہوئے کہا '' بی بی اولاً تو ہم نے کسی سے پچھلے بیس ماہ کے دوران کوئی پیسہ نہیں لیا جو بھی شخص ایسی ادائیگی کا دعویدار ہے اسے سامنے بیٹھا کر بات کی جائے۔ ثانیاً یہ کہ ہم کارکن صحافی ہیں ضیاالحق رجیم اور رجعت پسند سیاسی قوتوں کے مقابلہ میں ترقی پسند عوام دوست پیپلز پارٹی کی حمایت کرتے رہے اور کریں گی اس موقع پر میں نے انہیں یاد دلایا کہ اپریل 1989 میں جب انہوں نے ایم آر ڈی کی جماعتوں کے کچھ کارکنوں اور ضیا مارشل لاء دور میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے صحافیوں کو اسلام آباد بلایا اور ان کی معاونت کی تب بھی میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ایم آر ڈی کی مارشل لاء مخالف جدوجہد کی اپنی بساط کے مطابق حمایت کسی منفعت کیلیے نہیں جمہوریت کی بحالی کے لیے کی تھی اس لیے آپ اس وقت جو معاونت کرنا چاہتی ہیں میں خود کو اس کا حقدار نہیں سمجھتا ''
محترمہ بینظیر بھٹو نے اس وقت موجود افراد کے سامنے میری بات کی تائید کی اور انہوں نے منو بھائی کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے جہانگیر بدر سے کہا حسن نثار کو بلاؤ لگ بھگ ایک گھنٹہ بعد حسن نثار سینیٹر گلزار خان کی اقامت گاہ پر پہنچے اور جیسے ہی وہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے ہم سب کو وہاں دیکھ کر حیران ہوئے۔اس کے آتے ہی محترمہ نے اپنے بیگ (پرس) سے دو کاغذ نکال کر میز پر رکھے ایک پر پیپلز میڈیا سیل کے معاونین کے نام لکھے تھے دوسرے پر بیس ماہ کی ماہانہ ادائیگی کی تفصیل۔ پھر انہوں نے حسن نثار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا''آپ ہمیں یہ فہرست دیے تھے کہ یہ ساتھی پیپلز میڈیا سیل میں معاونت کررہے ہیں اور انہیں ماہانہ بنیاد پر یہ اعزازیہ دیا جارہا ہے۔ لیکن منو بھائی اور حیدر سید تو تردید کررہے ہیں کسی قسم کی کوئی رقم پیپلز میڈیا سیل سے لینے کی دوسرے لوگ بھی تردید کرتے ہیں آپ نے پیسہ لیا تو کہاں گیا اگر ان دوستوں کو نہیں دیا گیا؟ ''
محترمہ نے جہانگیر بدر اور شیخ رفیق احمد سے شکوہ کیا کہ آپ لوگوں نے کس آدمی کو پیپلز میڈیا سیل کا انچارج بنوایا اور یہ سب کیا ہے؟حسن نثار سے ہم نے کہا کہ آپ نے کیوں اس فہرست میں ہمارا نام لکھا کیوں بدنام کیا بہر طور ایک بدمزگی کے ساتھ وہ نشست اختتام کو پہنچی محترمہ بینظیر بھٹو جو کہہ سکتی تھیں انہوں نے ان تینوں افراد سے کہا اور اس بات کی معذرت کی کہ چونکہ انہیں غلط معلومات دی گئیں اس لیے وہ شکوہ کر بیٹھیں۔
اب سنیں حسن نثار نے پیپلز میڈیا سیل والی رقم سے اپنا رسالہ (زنجیر سے وہ الگ ہوچکے تھے ان کی جگہ بابا مقبول احمد مرحوم نے مجھے زنجیر کا ایڈیٹر مقرر کیا تھا) ہفت روزہ وعدہ
 نکالا کچھ پراپرٹی خریدی اور لاہور میں اقبال ٹاون الفیصل ٹاون اور ماڈل ٹاون سی بلاک میں'' دی رینگلرز '' کے نام تین عالی شان بیوٹی سیلون بنائے جو سال بھر بعد فروخت کردیے گیے۔یہ بھی عرض کردوں کہ بیلی پور والی اراضی حسن نثار کو کوڑیوں کے دام میاں شہباز شریف نے دلوائی تھی یہ قصہ قبل ازیں مختصراً اور تفصیل کے ساتھ اپنے کالموں میں تحریر کرچکا ہوں اس وقت اسے تحریر کرنے کی وجہ برادر عزیز محمد عامر حسینی اور محترم رانا شرافت علی کا حکم ہے جسے نظر انداز کرنا میرے لیے ممکن نہیں ہر دواحباب کے حکم اور ریکارڈ کی درستگی کے لیے تحریر لکھ دی ہے تاکہ سند رہے۔
نوٹ
تیس سال بعد ممکن ہے کہ تحریر لکھتے وقت الفاظ آگے پیچھے ہوگیے ہوں لیکن ہوا یہی سب کچھ جو تحریر کیا ہے۔
حیدر جاوید سید