امیر تیمور، امام بخاری اور خواجہ نقشبند کے دیس میں ؍ قسط ۳

مصنف : صاحبزادہ ڈاکٹر انوار احمد بُگوی

سلسلہ : سفرنامہ

شمارہ : مارچ 2020

    لب حوض کے نزدیک ایک دو منزلہ نئی عمارت دیکھی جس پر ازبک میں لکھاتھا:
1-Son OILAVIY POLIKLINIKA
ایک طرف تحریر تھاIJTIMOIY DORIXONAیعنی پبلک دوائی خانہ یعنی فارمیسی،صاف ستھری عمارت،فرنٹ بہت خوبصورت، دروازے کے اندر ایک طرف ہسپتال کی فارمیسی تھی اوردوسری طرف دوائی خانہ،ایک پیرامیڈک ملا اس سے بات کرنے کی ناکام کوشش کی،وہ کسی میڈک کے پاس لے گیا۔اس کے ساتھ اُردو،انگریزی اورمعمولی فارسی زبان میں کوئی بات سمجھا سکا اور نہ سمجھ سکا۔واپسی پر ایک ڈینٹسٹ ملامگر سوائے السلام علیکم کے کوئی مکالمہ نہ ہوسکا۔دواؤں میں اکثر ہربل لگیں صرف ایک دودواؤں کوپہچان سکا جن میں ایک پرانگریزی میں Amoxicillin اوردوسری پر Cough Syp لکھاتھا۔غالباً دوا کے لئے نسخے کی پابندی نہیں ہے۔ایک جگہ پہلی منزل پرعورتوں کارش تھاشاید مشورے معائنے کے لئے انتظار کررہی تھیں۔کسی ڈاکٹر کے نام کے ساتھ ڈگری لکھی ہوئی نہیں دیکھی۔تالاب کے ایک حوض کے قریب واقع ریستوران کے پاس شادی کی تقریب دکھائی دی۔ وہا ں دو دلہنیں سفید براق لباس اورسرپرسفید جھالر لپیٹے ہوئے، دُولہے سوٹ زیب تن کئے ہوئے ہوٹل کے باہر کھڑے تھے۔ مہمان تو تھوڑے سے تھے۔غالباً طعام کے بعد فوٹوسیشن تھا۔
بخارا شریف یامقامی لہجے میں بُخرا (ب خ را)دراصل ریگستان میں ایک نخلستان ہے یہاں گرمیوں میں تپش کی شدت سے ریت سرخ ہوتی ہے۔گرمیوں میں درجہ حرارت 45/50تک اورسردیوں میں سخت سردی اورکبھی برف باری بھی ہوجاتی ہے ۔ ریلوے سٹیشن سے لب حوض تک اکثر سٹرکیں چوڑی اوردورویہ ہیں مگر کارپٹ طلب ہیں،نئی عمارات اکثر دومنزلہ ۔
بچپن میں سنا تھاکہ بھیرہ کے خواجے اور پراچے جو کاروباری لوگ تھے کابل،بخارا اورچینی ترکستان تک تجارت کرتے تھے۔ اُن کے گھر وں میں نفیس روسی کراکری اورقندھار کابل کے قالین ہوتے تھے۔ان کے پاس وہاں کی کرنسی اورڈاک کے ٹکٹ بھی پائے جاتے تھے۔بھیرہ کے پراچوں کی ایک شاخ اسی بناپرکابلی کہلاتی تھی۔یہ لوگ بھیرہ سے پشاور،کابل، قندھار اور وہاں سے سڑک کے راستے ترکمانستان اور ازبکستان تک سفر کرتے تھے۔
بخارا میں ٹی وی چینل تھوڑے تھے اس لئے بین الاقوامی خبریں نہ مل سکیں۔اشتہار حسب معمول معقول اورایکٹر ملبوس نظر آئے ۔
پہلے زارِ روس کاقبضہ،پھر آزادی،اس کے بعد کمیونسٹوں کاقبضہ اوراب 1991ع سے اصل آزادی۔ازبکستان ازبک اور تاجک ہوتے ہوئے بھی روسی اثرات سے پوری طرح متاثرہے سرخوں نے مسلمانوں کو مقابر،مساجد اورقرآن سے دوررکھاجس طرح آج چین وہاں کے مسلمانوں خصوصاً ا یغورمسلمانوں کو جبر وتشدد کی مدد سے مذہب سے دور رکھ رہاہے۔روس نے سوشلسٹ سسٹم کے تحت یہاں عام لوگوں کے لئے ایک جیسے رہائشی مکان،یکساں تعلیم کانظام،زراعت اورانڈسٹری اور سب سے بڑھ کر ہرشخص کو روٹی ،کپڑا ، مکان اور سب کے یکساں قانون اور یکساں مواقع فراہم کئے ہیں۔اصل میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کی یہ تعلیم تو اسلام کی تھی جسے ہمارے حکمرانوں،جاگیرداروں اور مولویوں،پیروں نے کچھ اورہی بنادیا۔
ہرمذہبی عمارت کے بیرونی دروازے کا انداز ایرانی،ترکی اورمغل تعمیرات سے ملتا جلتاہے۔رات کاکھاناایک ریستوران میں کیاجس کانام پسند آیاI LOVE BUKHARA ART RESTURANT کھلے صحن والی حویلی تھی۔باہردکانیں بھی تھیں۔ خاتون مالکن تھی کھانا بھی اس نے اردگرد سے مانگ تانگ کرسرو کیااوربل بھی زیادہ نکلا۔دن کی روشنی میں شاید یہ ماحول زیادہ مقامی نظرآتا۔حوض بڑے سائز کاہے۔کنارے پرسیڑھیاں ہیں اور بہت پرانے درخت اور ان کے ضیعف منڈھ کھڑے ہیں۔حوض کے کنارے اونٹوں کے اورایک بزرگ دانا کا مُجسمہ ہے۔شہتوت Mulberry)کے ایک درخت کے ساتھ لکھا ہے کہ درخت1477ع میں لگایاگیاتھا۔اب اس کا ٹونٹھ سامنڈھ باقی ہے جو اب بھی ہراہے!۔محلہ لب حوض کی ایک بندگلی جو قدرے صاف اوربہتر دیواروں کے ساتھ تھی وہاں دیوار پر ایک بورڈ آویزاں تھا۔ اس پر ایک ازبک خاتون کاخاکہ بناہواتھاجس نے سرپرازبک ٹوپی پہن رکھی تھی یہ ایک معزز استانی کی یادگار تھی جس نے سب سے پہلے تدریس شروع کی۔نیچے ازبک اورانگریزی میں تحریرتھا            Gold Found of Uzbekistan
     Honourable citizens of Bukhara Yusupora Bibi Rodjab, the First Women Teacher                 of Bukhara People Republic lived in the house 1900-1983    
      Awarded by the Soviet Union in Commemoration of "100 - Anniversary of the birth of Lenin"     
گلی میں باہر سے یہ ایک بہتر مکان تھا،لوہے کے دروازے کے ساتھ دوآرائشی لیمپ بھی دیوارپر لگے ہوئے تھے۔حوض کے پاس سے تازہ پانی کی ایک چھوٹی نہر بھی گذرتی ہے جس میں دریاکاپانی باغوں بغیچوں اورپارکوں کے لئے میسر ہوتاہے ۔ حوض کی ایک سمت ایک مدرسہ واقع ہے جس کافرنٹ زیر مرمت و تزئین تھا۔ دروازوں کے اُوپر جو ڈاٹ یا محراب ہوتی ہے اس میں ہوا اور روشنی کے لئے مختلف ڈئیزائینوں کے سوراخ رکھے جاتے ہیں۔ ایسا ہمارے ہاں بھی پرانے مکانوں، پرانی مساجد اورمقابر میں دیکھاجاسکتاہے۔اکثر آثار میں صرف دروازہ یامحراب رہ گئی ہے بعض میں عقبی صحن بھی ہے۔ایک دوجگہ صرف دروازہ ہی بچایااور سجایا گیا ہے ۔ پلیٹ پر درج ہے:
             (سولہویں صدی)Architectural Monument XVI The Trading dome under state Protection ّ 
 محلہ لب حوض کی گلیوں میں پھرتے ہوئے ایک عمارت پر مجھے کنیسہ کا گمان گذرا۔کنیسہ(Synagogue) یہودی مذہب کی عبادت گاہ ہے۔ دروازے کے اوپر ایک بورڈ پر ازبک اورعبرانی میں نیلا ستارہ داؤد(Star of David) اورسات نوکوں والا پنجہ اور دوسرے نامعلوم نشانات کے ساتھ ساتھ ایک بورڈ پر بنے ہوئے تھے۔دروازے کے اوپر بھی یہ سات نوکوں والانشان موجود تھا۔مین گیٹ کے اندر داخل ہوا تو صحن خالی تھا۔سامنے چار بینج مع بیک یعنی تکیوں کے پڑے ہوئے تھے جن پرگدیاں رکھی تھیں۔ ان کے سامنے میز اور دیوارپر یہی نشان موجودہے۔اس کے بائیں جانب صحن تھا اورلمبی کھڑکیوں کے پیچھے ایک بڑاہال تھا۔فرش بھی ستارہ داؤد کا بچھونہ تھا۔باقی دیوار پر بھی یہی نشانات اورعبرانی میں کچھ آیات درج تھیں۔مین گیٹ کے ساتھ ہی بائیں طرف ایک کمرہ تھا،اندرگھسا تو ایک بزرگ موجود تھے۔حسب معمول وہ میری زبان سمجھ سکتے تھے اور نہ میں اُن کی ،وہ اپنی بولتے رہے اورمیں ادب سے سنتا رہا وہ غالباً کنیسہ کے خادم تھے۔کمرے میں ایک دیوار پرعبرانی آیات اور کتابیں تھیں۔ اطراف میں میزیں تھیں جن پرسبز میزپوش تھا اور ان کے اوپر غالباً تالمود کے نسخے رکھے ہوئے تھے۔یہ نسخے مختلف تھے یعنی کتابیں ایک ہی پرنٹ یامطبع کی نہ تھی، الگ الگ تھیں۔غالباً ہفتے کے روزیہودی آتے ہوں گے اوریہاں بیٹھ کر کتاب کی تلاوت کرتے ہوں گے۔وہاں کوئی لاؤڈ سپیکر نہ تھا البتہ سنٹر میں ایک پلیٹ فارم تھا جس پر قالین بچھاتھا۔اس کے اوپرلکڑی کا ایک سفید منبرساتھا جس کے سامنے اوراس کی طرفوں پرلکڑی کے چھوٹے سے جنگلے تھے۔منبر دراصل ایک میز کی طرح تھا جس کے سامنے دوپٹ تھے اوران پر تالہ لگا ہوا تھا ،منبر کے اوپر چند کتابیں بھی تھیں۔جیسے کوئی واعظ یا مولوی کھڑے ہوکرتقریر کرتا ہو؟ کسینہ پر کوئی گنبدیامینار نہیں تھا۔ گرجے،مندر یادوسری عبادت گاہ کی طرح کوئی آرائش وزبیائش نہ تھی۔عبادت گاہ سادہ نظر آئی ۔کسینہ کے سامنے ایک سکول تھا غالباً پہلی سے گیارھویں منزل تک۔یہ ایک یہودی سکول ہے۔4,3مرلے میں تہ خانہ اوراوپر دومنزلیں،صاف ستھرا،چند بچے صحن میں ہاتھوں سے سکول کی صفائی دھلائی کررہے تھے جیسے اپنے مدرسے کو صاف رکھنا سب طلبہ کی ذمہ واری ہے۔ کلاسز ہورہی تھیں اس لئے اندر جانے کا موقع نہ مل سکا۔ایک طالب علم چھٹی جماعت کا اچھی انگریزی بول لیتا تھا ۔ بڑے اعتماد سے بات چیت کی،مستقبل میں اس کاارادہ سکول ٹیچر بننے کایاگائیڈ بننے کاہے۔
مُلّا نصیرالدین :
لب حوض کے قرب وجوار میں متعدد آثار خصوصاً مدارس ہیں چنانچہ جگہ جگہ نیلگوں گنبد ہیں۔بعض میں گنبد کی چھت کا اندرونی حصہ،بعض میں دیوارکاکچھ حصہ اور بعض میں عربی فارسی کے خوبصورت طغریٰ جو نیلی فائیلز پر لکھے ہوئے ہیں،بچاکر رکھے ہوئے ہیں۔حوض اورمدرسہ کے درمیان ایک خوبصورت قطعہ ہے،گھاس اورپودوں،درختوں کے ساتھ،اس کے اندر مسلمان معاشروں کامقبول اورمعروف کردار ملاّ نصیرالدین کاوجود ہے۔ملاّ اپنے مشہور زمانہ گدھے پرسوار ہیں۔پالان اورلگام یاکاٹھی کے بغیر،پاؤں لٹکے ہوئے ہیں اورآدھے پاؤں سلیپروں سے باہر۔ سلام کاجواب ملاّ کا دایاں ہاتھ اس کے سینے پر ہے ،وہ مسکراتے چہرے سے دوسرا ہاتھ سلام کے لئے اُٹھائے ہوئے ہے۔ دھات کامجسمہ بہت محنت اورمہارت سے بنایا گیاہے۔گدھے اور صاحب گدھا دونوں کے نقوش بڑے حقیقی اورموثر ہیں ۔ یہاں آنے والا کوئی سیاح ملاّ سے ملے اوراس کے ساتھ تصویر بنوائے بغیر نہیں جا سکتا۔ملاّ کاتذکرہ فارسی بولنے والے مسلمان ممالک کے لٹریچر میں پایا جاتا ہے ملاّ ایک ذہین،حاضر جواب اورمستعد (Active)ذات ہے وہ نکتہ چینی نہیں بلکہ نکتہ آفرین پایاجاتاہے۔اس کی ظرافت ولطافت اور فی البدیہ گوئی اورکسی جھگڑے لڑائی کے بغیر لوگوں کے درمیان باہمی دوستی ، آشتی اورصلح بڑھانے کاذریعہ ہیں۔ملاّ کے ساتھ حماقت اورلاعلمی کے واقعات اورسادہ دیہاتی پن کے واقعات اوراقوال بھی منسوب ہیں،ملاّ بہرحال ایک عوامی پیکر ہے جو عوامی اورخوش طبعی کا نشان ہے اورگلی محلوں میں آج بھی پایاجاتاہے۔
SARRAFON MOSQUE (بیسوی صدی) --اب اس کے اندرTea Coffee Khonaہے۔سولہویں صدیXVI) )کاباتھ ہاؤس،دروازے پر خوبصورت چوب کاری کاکام ہے۔ اوپر نیلاگنبد ہے اورگنبد کے نیچے چارطرف سے راستے ملتے ہیں۔اس کے نیچے سوئینر شاپس ہیں۔
20نومبر2019ع بخارا میں آخری روز:
آج اس خاتون مریم نے ملنے آنا تھا جو بخارا کی رہنے والی تھی اورتاجک تھی مگر اس کی شادی کوئٹہ کے ایک خاندان میں ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ لاہور سے تاشقند کے سفر کے دوران عائشہ کی جان پہچان ہوئی تھی۔وہ اور اُس کی دوسالہ پیاری سی بیٹی زنیرہ کے ساتھ ملاقات تو جہاز میں ہوئی تھی رات عائشہ کی اس کے ساتھ فون پر بات ہوئی تھی اوراس نے صبح آنے کاوعدہ کیاتھا مگر اپنی مصروفیات کی بناپرنہ آسکی ۔وہ چاہتی تھی کہ وہ اپنے ساتھ ہمیں اپناآبائی شہر بخارا دکھائے اورہماری خواہش پر اپنا اوراپنی والدہ کاگھر دکھائے۔ وہ لیٹ تھی ، ادھر رات کوہم نے عزیز کو اس کی ٹیکسی سمیت بطور گائڈ ہائر کرلیاتھا۔
عزیز کی رواں کمنٹری کے ساتھ بخارا کے CHOR MINOR (1806-7) (چارمینار)جاپہنچے۔یہ آثار اب ایک محلے کے اندرواقع ہیں۔سطح زمین سے چند فٹ نیچے۔صدر دروازہ ایک بڑی ڈاٹ، اس کے نیچے داخلہ دروازہ کی محراب ،دروازے کے اوپر محراب کے نیچے ہوااور روشنی کے لئے سوراخ ۔چارمینار کے بالائی حصے گو نیلگوں ہیں لیکن چاروں کی اوپر والی منزل کے بیرونی نقش ونگار مختلف ہیں،صحن میں ایک طرف ایک حوض ہے جو قریباً چھ فٹ گہرا ہے مگر اب خالی تھا۔ایک روایت ہے کہ یہ چاروں مینارچار فقی مکاتب کو ظاہر کرتے ہیں،دوسری حکایت ہے کہ بدھ ،عیسائی ،یہودی،مسلم مذاہب کی نشاندہی کرتے ہیں۔ چاردیواری کے اندر دراصل ایک مدرسہ تھا جس کے کمرے کناروں پر بنے ہوئے ہیں۔ اس مدرسے کو داستان کے مطابق ایک سوداگر نے اپنی چار بیٹیوں کی یاد میں بنایاتھا۔وہ بیٹیاں دوردراز کے علاقوں میں بیاہی گئی تھی۔یہاں طلبہ رہتے تھے۔میناروں کے درمیان پہلی منزل پر ایک لائبریری تھی۔اب نچلے کمرے میں معمول کے مطابق سونیئر شاپ تھی اورایک عورت عمارت دیکھنے کاٹکٹ دیتی تھی۔اوپر جاکر لائبریری دیکھنے کا الگ ٹکٹ تھا۔چار دیواری کے اندر سامنے کی طرف رہائشی کمرے تھے اوراس سے آگے پھلدار درخت،ایک پتھر پرفارسی زبان میں عمارت کے بارے میں معلومات کندہ تھیں۔
گائڈ ایک دلچسپ مخلوق ہے۔ازبکستان جیسے ملکوں میں شوق رکھنے والے طلبہ سپیشل کورس کرتے ہیں،زبانیں سیکھتے ہیں، کمیونیکیشن میں مہارت حاصل کرتے ہیں۔بعض آثار کے حقائق توریکارڈ میں لکھے پائے جاتے ہیں لیکن جہاں متوقع یاضرورت ہو گائڈ اپنی معلومات کے لئے کہتاہے!"There is a Legend" یعنی"آواز آئی!" یا"روایت کی جاتی ہے!" دیکھنے میں آیا کہ گائڈ ٹورسٹوں کے گروپ کے سامنے مسلسل بول رہا ہے اوربہت کم شرکاء توجہ سے سن رہے ہوتے ہیں۔سمجھتے شاید سب سے کم!
اب ہماری منزل ایک قدیم حویلی تھی۔سمر پیلس کوشاہی مفہوم میں محل سراہی کہاجا سکتاہے جسے بخارا کے آخری خود مختار امیرسید علیم خان (1911-20)نے تعمیرکیا تھا۔عمارت وسیع رقبے میں پھیلی ہوئی ہے جس کے مختلف الگ الگ حصے ہیں۔ درمیان میں روشیں اورمختلف پھلدار اورچھتناردرخت لگے ہوئے ہیں۔پیلس کاداخلی دروازہ حویلی جیساہے اوربیل بوٹوں سے مزین ہے۔داخل ہونے پر ڈیوڑھی سے ٹکٹ لئے۔ساتھ زردوزی اور دستکاری کے کام کے فروخت کے لئے پھٹوں اوردیواروں یا سٹینڈسے لٹکے پارچہ جات کے سٹال ہیں۔بزرگ عمر کی روایتی دکاندار قسم کی خواتین ہیں جن سے پیچھا چھڑانا مشکل کام ہے۔پہلے باغیچے یا تختے میں ایک طرف کمرے ہیں جو شاید ملازم پیشہ عملے کے لئے ہوں گے اب وہاں دستکاری کے اڈے اوردکانیں ہیں۔ایک گیٹ سے گزر کر اگلے تختے میں جائیں تو پہلے اس معمار کاخوبصورت مجسمہ نظر آتاہے جس نے اس گرمائی محل کو تزئین و تعمیر بخشی ۔ دائیں طرف انگریزی ایل شکل کی عمارت میں مختلف کمرے ہیں جہاں امیر بخارا مہمانوں کاسواگت کرتاتھا۔ملحقہ کمروں میں مختلف قسم کے آرائشی سامان،امیر کوملنے والے دساور کے تحفے،کراکری،پارچہ جات جیسی یادگار اورنادر اشیاء سجائی گئی ہیں بعض اشیاء یورپ کی پرانی مصنوعات پر مشتمل ہیں۔اس عمارت سے باہر نکلیں تو ایک جانب ایسے کمرے ہیں جہاں امراء کی عورتوں کے پہننے والے کپڑے اورجوتے رکھے گئے ہیں،بعض پارچہ جات بہت بھاری بھر کم اوربعض نفیس کشیدہ کاری کانمونہ ہے۔ایک حصہ حرم سرا ہے۔اس کے ساتھ ایک تالاب ہے جس میں اب باسی پانی تھااورکائی تیررہی تھی۔اس کے ساتھ ایک مچان جیساکمرہ تھا جس تک جانے کے لئے دونوں طرف سیڑھیاں تھیں۔امیر صاحب کی گویا یہ گرمائی تفریح تھی کہ وہ خود نہانے یا نہلانے کاعمل دیکھنے سے جی بہلاتے ہوں گے۔سمر پیلس کی سیرکے دوران اچانک سردی بڑھ گئی جیسے سردی کی لہر نے آن دبوچ لیا ہو۔سمر پیلس کے بعد ٹیکسی اورعزیز گائڈ کی زبان فراٹے بھرتی شہر کے مضافات سے گذررہی تھی۔ شہری عمارتیں پیچھے رہ رہی تھیں۔سڑک کے دونوں کناروں کے ساتھ کپاس کے کھیت تھے دوردورتک،روئی تو ڈؤڈوں سے نکالی جاچکی تھی البتہ کہیں کہیں روئی کے چند گالے ابھی باقی نظرآرہے تھے۔اب سوکھے ہوئے کالے خشک پودے یعنی ٹگھیّں تھیں جوہمارے دیہاتوں میں جلانے کے کام آتی ہیں اورہمارے ہاں تنوروں کو گرمانے اوربھڑکانے کے لئے کام آتی ہیں۔بخارا میں بھی ٹگھیّں تنوروں پر نان روٹی پکانے میں مدد دیتی ہیں!
خواجہ بہاؤالدین نقشبندؒ
پختہ سڑک کے بائیں طرف ایک سفید عمارت نظر آئی۔بخارا سے12کلومیٹرباہر KOGAN نامی علاقے میں خواجہ بہاؤالدین نقشبند کمپلیکس واقع ہے ۔ Complexکے اندر مزار،آثار،عجائب گھر،آب متبرک ،خانقاہ جواب مسجد کا حصہ ہے، عورتوں کے لئے الگ نماز خانہ ،مینار،پارک/پلاٹ اورمدرسہ عربیہ بھی موجود ہے۔دائیں طرف پارکنگ اورشاید مسافر خانے ہیں۔گاڑی پارک کرتے ہی چند بھکاری مرد عورت مع ایک معذور ویل چیئر پر متوجہ ہوئے۔سڑک پار کرکے کمپلیکس کے دروازے پرپہنچے۔نیلی ٹائیلز پر عربی اور فارسی تحریریں،اندر داخل ہوئے تو راستے میں دونوں جانب اونچی دیواریں تھیں۔دیواروں پرفارسی میں خواجہ صاحب کے اقوال لکھے ہوئے تھے۔اُن کے نیچے ازبک،روسی اورانگریزی میں ترجمہ بھی درج تھا۔ دستِ بکار دل بہ یار
اس شعر کاپنجابی میں متبادل ہے:ہتھ کاروَل تے دل یاروَل۔اسی ایک شعر میں خواجہ صاحب کی زندگی آئینہ نظر آتی ہے۔ پروفیشن کے لحاظ سے وہ چھیبے یاچھاپے تھے جورنگ تیارکرکے پھول بوٹوں کے ٹھپے کپڑوں پرلگاتے تھے۔اس کام کی مناسبت سے نقش بند کہلائے۔سلسلے کے لوگوں نے نقش بند سے تصوف اورمعرفت کے کئی مراحل اورمدارج مرتب کر لئے۔ 1993ع میں خواجہ صاحب کی675ویں برسی منائی گئی تھی۔ایک صُوفی سلسلہ کے بانی کے علاوہ خواجہ نقشبندمحب وطن بھی تھے۔اُنہوں نے اپنے اہل وطن کو منگول حکمرانوں کے خلاف جہاد کی دعوت دی۔خواجہ نقشبند امیر تیمور کے روحانی پیشوا ثابت ہوئے۔
اونچی اونچی دیواروں کے درمیان ایک مربع عمارت ہے جس کاکوئی دروازہ ہے نہ کھڑکی۔یہ مکعب نما عمارت15,12فٹ اونچی ہے۔چھت پرچاروں طرف بنیرا ہے جس کے اندر لحد ہے۔یہ قبر نیچے کھڑے ہوکرنظر نہیں آتی۔اصل قبر اس عمارت کے اندر ہے جس کوجانے کاکوئی راستہ نہیں ہے عربی جاننے والے مسلمان زائردیواروں کے نیچے کھڑے ہوکرفاتحہ پڑھ لیتے ہیں ۔ عربی نہ جاننے والے ساتھ ایک عربی خواں کولاتے ہیں یا شاید معمولی معاوضے پر احاطے کے اندرمل جاتے ہیں۔ وہ آیات اوردعائیہ کلمات عربی زبان میں پڑھتاہے اور دوسرے لوگ آمین کہہ کرثواب حاصل کرلیتے ہیں بالکل ایسے ہی جیساہمارے ہاں دیہاتوں اورشہروں میں زیادہ تر آمین ئیے ہوتے ہیں۔اس مربع عمارت کے پاس ایک پرانا سوکھا ہوادرخت بھی کھڑا ہے قبر کی عمارت کے ساتھ بورڈ پرانگریزی میں تحریر ہے۔
"خواجہ بہاؤالدین ؒ نقشبند اسلامی دنیا کے بہت جانے پہچانے صوفی جونقشبندی سلسلے کے بانی تھے۔وہ 1318ع میں قصری ہندو وان قصبے ضلع کوگن،صوبہ بخارا میں پیداہوئے۔وہ عوام میں مختلف ناموں سے مشہور ہیں لیکن اُن کا اصل نام محمد ہے۔ روایت ہے کہ ان کے والد اور ان کے دادا اُن دونوں کا نام بھی محمدتھا۔باپ کی طرف سے اُن کا تعلق سیدنا علی المرتضیٰؓ اورماں کی طرف سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے بنتا ہے نقشبندی اس لئے کہلاتے ہیں کہ وہ اپنی جوانی میں کسبِ معاش کے لئے کپڑوں پرنقش ونگار بناتے تھے۔اُنہوں نے لوگوں کے دل میں اللہ کی محبت کی جوت جگائی تھی اس لئے بہاوالدین اُن کا لقب ہے جس کامطلب ہی دین کی روشنی ہے"۔
"خواجہ نقشبند نے اپنی زندگی میں چند صوفیوں سے کسب فیض حاصل کیا جیسے محمد یولوساسی بہت معروف تھے۔انہوں نے اپنے ایک مرید سید کلال کومامور کیا کہ وہ محمدکو اس سلسلے میں تربیت دیں۔حقیقت کی تلاش میں وہ معروف یساویہ طریقہ کے شیخ قسام آف نحشب(جواب قرشی کہلاتاہے) کے پاس گئے۔انہوں نے تین ماہ میں تربیت مکمل کی ۔دوران تربیت مرشداور مرید میں باپ بیٹاجیسا تعلق پیدا ہو گیا ۔ روحانی تربیت میں حاجی عبدالخالق گجروانی نے بھی حصہ لیا۔خواجہ نقشبندساری زندگی بخارا اور اس کے نواحی گاؤں میں ہی قیام پذیر رہے۔ان کی زندگی سادہ اورغریبانہ تھی اوروہ اپنے ہاتھ سے محنت مشقت کرتے تھے۔ان کے پاس کوئی خادم یا غلام نہیں تھا۔ان کے صوفیانہ فکر کی بنیادشیخ یوسف ہمدانی اورشیخ عبدالخالق کے نظریات پر ہے"۔
اُن کا فکران کے گیارہ اُصولوں اور اس قول میں پوری طرح سمویا ہواہے:
دل بایار    -    دست باکار
مرقد کے نیچے عربی میں یہ تعارف خوبصورت عربی نسخ میں تحریر ہے۔
صوفیا کے بارے میں حضرت سعدیؒ کاقول انگریزی میں درج ہے۔"ناسمجھ لوگوں کوسمجھانا،گمراہوں کوراہ دکھانا، محتاجوں اوریتیموں کی مدد کرنا،لوگوں کے لئے رحمت کی دعامانگنا یہ ایک صوفی کے خصائص ہیں"۔
کمپلیکس کے اندر اسلام اور مسلمان اپنی سادہ شکل میں نظر آتے ہیں۔کہیں کوئی صوفیانہ مظاہرہ نظر نہیں آتا۔کسی جگہ کوئی نقشبندی صوفی مراقبے یا ذکر خفی جلی میں ملوث نہیں پایا گیا ۔میموریل کی سب سے بڑی عمارت خانقاہ ہے جس پربڑاساگنبد ہے۔اب یہاں مراقبہ چلہ،ضربات،حال، ہُوحق کی جگہ صرف نمازیں اداکی جاتی ہیں۔یہاں پر بھی زیارت قبور کے آداب لکھے ہوئے تھے جن میں مہذب لباس اورسرڈھانکنے سے قبر کومس نہ کرنے تک کاذکرتھا۔سیاحوں کے جوچند ٹولے موجود تھے ان میں کوئی بھی پنجابی سٹائل کی زیارت نہیں کررہاتھا۔قبر نظر نہ آنے سے شرک وبدعت کے بہت سارے مسئلے خودبخود حل ہوجاتے ہیں۔گویاقبرہے مگر ہرچند نہیں ہے! اسی دوران ایک صاحب آئے اورانہوں نے احاطہ مزار میں داخلہ فیس طلب کی،وہ جانے لگے توعائشہ نے رسید طلب کی جو انہوں نے معذرت کے ساتھ دے دی۔اگلے حصے میں گئے تو ایک طرف عورتوں کے لئے اوردوسری جانب مردوں کے لئے نماز نوافل تلاوت وغیرہ کاحصہ تھا۔اس حصے کے ساتھ ایک گیپ میں چند ٹوٹیاں لگی ہوئی تھیں۔ایک دو سے پانی کی پتلی سی دھار بہہ رہی تھی۔ساتھ چینی کے چندپیالے رکھے تھے۔گائڈ کے بقول یہ Complexکا زیرزمین پانی ہے جسے برکت اورسعادت کے لئے زائرین پیتے ہیں اورواقعی چند مردخواتین ثواب کمارہے تھے !اس کے قریب ہی ایک میوزیم ہے اس کاالگ سے کرایہ ہے۔میوزیم کے اندر اکیلا ہی گیا۔اندردیکھ کرتاثر ملا کہ یہاں رہنے والے خواجہ صاحب اور ان کے معتقد صوفی اپنے ہاتھوں سے رزق حلال کماتے تھے۔وہ زمین میں ہل چلاتے تھے۔کھیتوں میں پانی دیتے تھے۔سبزیاں پھل اگاتے تھے۔پہننے کے کپڑے سیتے تھے۔تجارت کے طورپرکپڑوں پر نقش بندی کاکام بھی کرتے تھے۔ان کے استعمال کے کپڑے موٹے جھوٹے،جوتے سادہ،لباس عام سے، پگڑیاں البتہ عزت داروں جیسی تھی۔ان کے کھانے پینے کے برتن اوردیگر تمام اشیائے ضروریہ آج کسی نقشبندی آستانے /درگاہ/خانقاہ اوروہاں رہنے والوں کو حاصل نہیں ہیں۔ اب حاصل یہ رہ گیاہے کہ مدارج ومنازل،ضربات اورمقامات تزکیہ اوراصلاح فکرونظر کے جو عملی اقدامات مطلوب تھے وہ شاندار عمارتوں،غلاف پوش مزاروں،بڑی بڑی گاڑیوں میں جدید سہولیات اورماڈرن لوازمات میں کہاں مل سکتے ہیں؟خواجہ نقشبند مرحوم کی جواصلی تعلیمات ہیں وہ تو لازماً قرآن وحدیث سے الگ نہیں ہوں گی مگر وقت گذرنے کے ساتھ اس سلسلے کے بعد کے مشائخ نے مشغولات،افادات اورملفوظات سے ایک اور ہی دنیابساڈالی۔
(جاری ہے )
٭٭٭