مقبول دعا ‘ کوشش کا قانون

مصنف : مولانا وحید الدین خان

سلسلہ : اصلاح و دعوت

شمارہ : جولائی 2022

مقبول دعا
مولانا وحید الدین 
حقیقی دعا آدمی کی پوری ہستی سے نکلتی ہے، نہ کہ محض زبانی الفاظ سے- یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا سے مانگنے والا کبھی محروم نہیں ہوتا۔مگر مانگنا صرف کچھ لفظوں کو دہرانے کا نام نہیں- مانگنا وہی مانگنا ہے جس میں آدمی کی پوری ہستی شامل ہو گئی ہو- ایک شخص زبان سے کہہ رہا ہو : خدایا! مجھے اپنا بنا لے، مگر عملا وہ اپنی ذات کا بنا رہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے مانگا ہی نہیں، اس کو جو چیز ملی ہوئی ہے، وہی دراصل اس نے خدا سے مانگی تھی خواہ زبان سے اس نے جو لفظ بھی ادا کئے ہوں-ایک بچہ اپنی ماں سے روٹی مانگے تو یہ ممکن نہیں کہ ماں اس کے ہاتھ میں انگارہ رکھ دے- خدا اپنے بندوں پر تمام مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے- یہ ممکن نہیں کہ آپ خدا سے خشیت مانگیں اور وہ آپ کو قساوت دے دے، آپ خدا کی یاد مانگیں اور وہ آپ کو خدا فراموشی میں مبتلا کر دے، آپ آخرت کی تڑپ مانگیں اور خدا آپ کو دنیا کی محبت میں ڈال دے، آپ کیفیت سے بھری ہوئی دین داری مانگیں اور خدا آپ کو بے روح دین داری میں پڑا رہنے دے- آپ حق پرستی مانگیں اور خدا آپ کو گمراہی میں بھٹکتا چھوڑ دے-
آپ کی زندگی میں آپ کی مطلوب چیز کا نہ ہونا، اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے ابھی تک اس کو مانگا ہی نہیں- اگر آپ کو دودھ خریدنا ہواور آپ چھلنی لے کر بازار جائیں تو پیسے خرچ کرنے کے بعد بھی آپ خالی ہاتھ واپس آئیں گے-اسی طرح اگر آپ زبان سے دعا کے کلمات دہرارہے ہوں، مگر آپ کی اصل ہستی کسی دوسری چیز کی طرف متوجہ ہو تو یہ کہنا صحیح ہو گا کہ نہ آپ نے مانگا تھااور نہ آپ کو ملا- جو مانگے وہ کبھی پائے بغیر نہیں رہتا- یہ مالک کائنات کی غیرت کے خلاف ہے کہ وہ کسی بندے کو اس حال میں رہنے دے کہ قیامت میں جب خدا سے اس کا سامنا ہو تو وہ اپنے رب کو حسرت کی نظر سے دیکھے وہ کہے کہ خدایا، میں نے تجھ سے ایک چیز مانگی تھی مگر تو نے مجھے وہ چیز نہ دی- بخدا، یہ ناممکن ہے، یہ ناممکن ہے، یہ ناممکن ہے- کائنات کا مالک تو ہر صبح و شام اپنے خزانوں کے ساتھ آپ کے قریب آ کر آواز دیتا ہے --- " کون ہے جو مجھ سے مانگے، تاکہ میں اس کو دوں" مگر جنہیں لینا ہے وہ اس سے غافل بنے ہوئےہوں تو اس میں دینے والے کا کیا قصور-
ضائع شدہ کوششوں کا قانون
محمد سلیم
شیر اپنی شکار کی کوششوں میں محض ایک چوتھائی کامیاب ہوتا ہے۔ یعنی صرف 25% کامیابی اور باقی کی 75% ناکامی۔ 
کامیابی کے اس چھوٹے سے تناسب (اس عدد کو زیادہ تر شکاریوں نے اپنے تجربات، مشاہدات اور عکسبندیوں کے ساتھ دنیا سے شیئر کیا ہے) اس کے باوجود بھی شیر کا اپنے کام سے مایوس ہو جانا اور شکار کے تعاقب سے باز رہنا ناممکن ہے-جہاں تک شیر کے اس مسلسل اور ان تھک شکاری کوششوں کی بنیادی وجہ ہے (اور یہ وجہ جیسا کہ کچھ لوگ سمجھتے  ہیں: بھوک ہرگز نہیں ہے)، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جانوروں کو فطری طور "ضائع شدہ کوششوں کے قانون"  کوہضم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اور یہ وہ قانون ہے جس کے ذریعے تمام فطرت چلتی ہے، جیسے: مچھلی کے آدھے سے زیادہ انڈے کھا لیئے جاتے ہیں۔  ریچھ کے تمام نوزائیدہ بچوں میں سے آدھے بلوغت سے پہلے مر جاتے ہیں۔دنیا کی زیادہ تر بارشیں سمندروں میں ہوتی ہیں- درختوںکے زیادہ تر بیج پرندے کھا جاتے ہیں۔ اور بھی ایسی بے شمار مثالیں ہیں۔ 
صرف انسان ہی ہے جو اس کائناتی فطری قانون کو رد کر تا ہے اور سمجھتا ہے کہ چند کوششوں میں اس کی ناکامی مکمل ناکامی ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ:
ناکامی بس یہ ہوتی ہے کہ آپ "کوشش کرنا چھوڑ دیں"۔ اور کسی کی کامیابی کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس کی  زندگی کی ساری سوانح عمری رکاوٹوں، خساروں اور ناکامیوں سے  پاک ہوبلکہ کامیابی یہ ہوتی ہے کہ اپنی غلطیوں کے باوجود چلنا اور چلتے رہنا ہے۔ 
آپ ہمیشہ ہر اس مرحلے سے آگے ہی بڑھتے ہیں جس میں آپ کی کوششیں رائیگاں گئی تھیں، اور اس کے بعد آپ اگلے مرحلے کے سر ہونے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔
کامیابی کی اگر کوئی حکمت ہے جو اس چل رہی دنیا کا خلاصہ کر سکتی ہو تو وہ محض یہی ہو گی کہ: کرتے رہیئے، جاری رکھیئے۔ اسی قانون کا احاطہ کرتی ایک آیت میں کچھ ایسے  ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
*اذْهَبْ أَنتَ وَأَخُوكَ بِآيَاتِي وَلَا تَنِيَا فِي ذِكْرِي*تم اور تمہارا بھائی میری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا۔
لفظ بلفظ ترجمے سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ: 
اذْھبْ: جاؤ : منفی ذہنیت کو ختم کر دو -  یہ سرگرمی اور مثبتیت کو قبول کرنا ہے۔
أَنتَ وَأَخُوك - تم اور تمہارا بھائی: انفرادیت کو مٹانا اور اجتماعیت کی تعمیر کرنا ہے ۔ 
بِآيَاتِي -  میری نشانیاں ساتھ لیکر : جہالت اور بے ترتیبی تباہ ہو جاتی ہے۔ علم اور منظم طریقہ کار کو اختیار کرنا ہے۔ 
وَلَا تَنِيَا - اور ترک نہ کرنا : سستی توڑ دیتی  ہے، عزم اور قربانی کو گلے لگا کر رکھنا ہے۔ 
فِي ذِكْرِي   میری یاد میں: یاد اللہ کے ساتھ اپنے اندر روحانیت پیدا کرتے ہوئے۔ 
***** 
یہ محض ایک آیت ربانی میں تدبر ہے جو  ہمیں زندگی گزارنے کا طریقہ بتا رہی ہے۔ 
پورے قرآن کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟!!!