ہندستان کا سفر

مصنف : ڈاکٹر خالد ظہیر

سلسلہ : سفرنامہ

شمارہ : نومبر 2005

معروف دانشوور اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے استاد جناب خالد ظہیر پچھلے دنوں ہندستان تشریف لے گئے ۔ واپسی پر انہوں نے المورد انسٹیوٹ آف اسلامک سائنسز لاہور میں اپنے تاثرات بیان کئے ۔ یہ تاثرات افادہ عام کے لیے ان کے شکریے کے ساتھ شائع کیے جارہے ہیں۔ ان تاثرات کو آپ کے لیے قلمبند کیاہے جناب عمر فاران نے ۔

کانفرنس کے ہندو شرکا نے اس بات سے اتفاق کیا کہ تمام اخلاقیات تمام انسانوں میں مشترک ہیں۔

ہندووں نے کہاکہ شرک ہمارے ہاں بالکل نہیں ہے یہ بس ذریعے ہیں وہاں تک پہنچنے کے ، آخر آپ کے ہاں بھی تو لوگ جاتے ہیں مزاروں پر۔ اور حقیقت یہ ہے کہ جتنا شرک ہندوؤں کے ہاں ہو رہا ہے اسی Level کا شرک مزاروں پر بھی ہورہا ہے۔ بمبئی میں آپ جائیں تو جو دو تین بڑی جگہیں آپ کو بتائی جائیں گی جانے کے لیے ان میں سے ایک حاجی علی کا مزار ہے وہ ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے، وہاں ہندو ، مسلم ، سکھ ، عیسائی سبھی جاتے ہیں اور پیدل جاتے ہیں۔

ہم مسلمانوں کی یہ کوتاہی ہے کہ ہم نے صحیح طو رپر دین کو سمجھ کے تحمل کیساتھ ہندووں کوکبھی قائل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔

ہندستان میں غربت ہماری غربت سے زیادہ ہے ۔تین چیزیں ایسی ہیں جو ان میں ہم سے بڑی ہیں ‘‘ شرک، فحاشی اور گندگی’’ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ قابلیت بھی ہم سے زیادہ اور ترقی بھی ہم سے زیادہ ہے۔

 

سود کے معاملے میں بھی میرامولانا وحید الدین سے اتفاق نہ ہوسکا۔ان کا کہنا ہے کہ دور حاضر میں اسکا کوئی امکان نہیں ہے کہ ہم ترقی کر سکیں جب تک کہ ہم کمرشل سودکومان نہ لیں۔ میں نے کہامولانا کاروباری مراکز اگر نہ بنیں تو کیا فرق پڑتا ہے ہماری ذمہ داری تو اپنے دین کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہے۔ کہنے لگے نہیں ، یہ وہ سود ہے ہی نہیں جومنع کیا گیا ہے ۔

            میرا سفر 6 دنوں پر مشتمل تھا ، ان میں سے تین دن بمبئی ، ایک آگرہ ، ایک علیگڑھ اور ایک دن دہلی میں گزرا۔ میں اصل میں وہاں ایک کانفرنس Attend کرنے گیا تھا جس میں مجھے دو موضوعات ملے تھے ایک تھاکہ‘‘ بزنس ایتھکس’’ اور دوسراموضوع تھا Why has not Pakistan progressed economically ۔وہاں سارے کے سارے ہندو تھے سوائے ایک آدھ مسلمان کے۔ میراتاثر یہ ہے کہ اس کانفرنس میں مقررین بہت اعلی پائے کے تھے۔ ان کی علمی صلاحیت واقعتا قابل تعریف تھی۔ میں تومتا ثر اور مرعوب ہو گیااور میں نے محسوس کیاکہ میں بول نہیں سکوں گا اس لیے کہ میری باری بالکل آخر پرتھی۔اس کے علاوہ اہم بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں کے برعکس ان کے ہاں تصنع اوربناوٹ نہیں تھی۔ اس کانفرنس کے عام شرکا بھی بہت سمجھدا راورسنجیدہ لوگ تھے۔ ہر مقرر کی تقریر کے بعد شرکا میں سے کسی ایک کی ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ آکے پوری گفتگو کا خلاصہ بیان کرے ۔یہ خلاصہ بھی بڑا اچھا ہوتا تھا اور سوال جواب بھی بہت اچھے۔ میں نے بغیر اسلام اور قرآن کا نام لیے اسلامک ایتھکس اینڈ بزنس کے موضوع پر بات کی اور میرے لیے حیرت کی بات یہ تھی کہ کسی نے کوئی اختلاف نہیں کیا بلکہ ان کے سب سے سینئر ڈائریکٹر نے کھڑے ہو کر میری بات کی تائید کی اور مزید اس کو آگے بڑھایا ۔ سوالات میں کسی نے خدا کے وجود کے بارے میں سوال کیااور اس کوجب میں نے جوا ب دیا تو لوگوں نے پھر میری بات کی تائید کی۔ انہوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ تمام اخلاقیات تمام انسانوں میں مشترک ہیں۔ معلوم ہوتاتھا کہ میں اجنبی سامعین میں گفتگو نہیں کر رہا ۔

              میں جب بمبئی میں اپنے میزبان یعنی اس کمپنی کے چیئرمین جن کی عمر ۶۵ برس ہوگی کے ساتھ سیر کر رہا تھا تو ہمارے ساتھ 5 ہندو اور تھے ۔ اس موقع پر بڑی اچھی گفتگو ہوئی ، وہ بڑے مذہبی قسم کے باقاعدہ تبلیغ کرنے والے ہندوتھے ۔ایک موقع پر انہوں نے مجھ کو‘‘ گیتا’’ کھول کردعوت بھی دی اور یہ کہا کہ تم بھی یہ کیاکرو ۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ تم مسلمان ہو ،مسلمان ہی رہو، لیکن مسلمان ہونے کے علاوہ مشترک عبادت اور دعا، میں بھی کبھی کبھی شریک ہوجایا کرو،ہم اسے کوئی عیب نہیں سمجھتے ۔ موقع غنیمت پاتے ہوئے میں نے بھی ان سے کچھ سوالات کیے ۔ میں نے کہا کہ آپ یہ بتائیں کہ اگر کوئی شخص اپنا مذہب بدل لے تو آپ کو کوئی مسئلہ ہو گا ، انہوں نے کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے اپنا مذہب بدل لیتاہے تویہ بڑی اچھی بات ہے ایسے ہی ہونا چاہیے ، میں نے کہا کہ یہ بتائیں کہ ہمارے مذاہب میں اختلاف کیوں ہے ؟ آخر یہ کیا وجہ ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگ مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں ، انہوں نے کہاکہ یہ اسی بھگوان ،اسی خدا، اسی اللہ کے طرف پہنچنے کے مختلف طریقے ہیں اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے مختلف علاقوں کی مختلف روایات ہوتی ہیں، ان کے اپنے حالات ہوتے ہیں اور ایک حقیقت کو پانے کے مختلف راستے ہیں ۔ انکایہ بھی کہنا تھا کہ یہ جتنے بھی بڑے لوگ ہیں یہ اللہ کے پیغمبر ہوتے ہیں، اللہ کی طرف سے آئے ہوئے ہوتے ہیں اور اسی کی طرف رہنمائی کرتے ہیں میں نے کہاکہ اگر بات ایسی ہی ہے توپھر کیا اس بات کی اہمیت نہیں ہے کہ یہ دیکھاجائے کہ کون بعد میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی اہمیت تو ہے لیکن سب سے بعدمیں تو گرونانک آئے ، ان کودیکھنا چاہیے میں نے کہاجی میں آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ گرونانک کے بعد جوزف سمتھ بھی آئے اور غلام احمد قادیانی بھی ، تو پھر ان کوبھی دیکھنا چاہیے ۔ میں نے کہا کہ اس سے ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیغمبروں کے Authentic اور غیر Authentic ہونے کے بارے میں بھی سوال اٹھنا چاہیے کہ نہیں، تو وہ کہنے لگے کہ اصل میں بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص لوگوں کے اندر مذہبی رہنما ہونے کی حیثیت سے مشہور ہو جائے اور لوگ ؒبڑی تعداد میں اسکی بات ماننے لگیں اور ایسا طویل عرصہ ہوتا رہے تو پھر وہ Authentic ہے ۔ میں نے کہا کہ اس کے علاوہ مجھے اپنے دین کے پہلو سے آپ کے نقطہ نظر پر دو مسئلے اور ہیں ، ایک یہ کہ ہمارے ہاں شرک کی بڑی مذمت ہے اور آپ لوگ جو کرتے ہیں لگتا ہے کہ یہ شرک ہے اور دوسرا یہ کہ میں نے اپنی کتاب سے یہ محسوس کیا ہے کہ اصل اہمیت تو آخرت کی ہے ، آپ کے ہاں دین کو اختیار کرنے کی جو وجہ میں نے محسوس کی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں انسان کو اندر سے کوئی حرارت اور خارج سے کوئی سپورٹ مل جائے کہ جس سے انسان اپنی زندگی اور زیادہ بہتر طریقے سے گزار سکے۔ انہوں نے کہاکہ شرک ہمارے ہاں بالکل نہیں ہے یہ بس ذریعے ہیں وہاں تک پہنچنے کے ، آخر آپ کے ہاں بھی تو لوگ جاتے ہیں مزاروں پر۔ اور حقیقت یہ ہے کہ جتنا شرک ہندوؤں کے ہاں ہو رہا ہے اسی Level کا شرک مزاروں پر بھی ہورہا ہے ۔بمبئی میں آپ جائیں تو جو دو تین بڑی جگہیں آپ کو بتائی جائیں گی ان میں سے ایک حاجی علی کا مزار ہے وہ ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے، وہاں ہندو ، مسلم ، سکھ ، عیسائی سبھی جاتے ہیں اور پیدل جاتے ہیں۔ میں نے کہاکہ وہاں تو آپ ہی نے مجھے بھیجا تھا ورنہ میں تو وہاں نہ جاتا ، وہ کہنے لگے کہ ہم بھی نہ جاتے لیکن یہ کہ لوگ جاتے ہیں بس یہ سب Symbolic چیزیں ہیں ورنہ بھگوان ایک ہی ہے دوسری بات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بھی یہ عقید ہ ہے کہ آدمی جب مرتاہے تو پھر ایک اورجنم پاتا ہے اور پچھلی زندگی کی جوپرفارمنس ہے اسکے نتیجے میں اس کی کوالٹی اور سٹیٹس طے ہوتا ہے ۔ میں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ آج اگر پچھلے جنم کی بہتر پرفارمنس کے نتیجے میں، میں انسان کی شکل اورحیثیت میں ہوں تو مجھے اس کا شعو رہونا چاہیے ، مجھے تو اس بات کا کوئی شعور نہیں ہے کہ یہ انسان ہونے کا یہ انعام مجھے پچھلے جنم کی نیکی کی بنا پرملا ہے اور اگر کوئی بندر یا خنزیر پچھلے جنم میں انسان تھا تو اس کی بری پرفارمنس کے نتیجے میں اس کو جو سزا ملی ہے تو اس کو بھی اس کاشعو رہونا چاہیے ۔ اس پر ہنس کے کہنے لگے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو روتا ہے تویہ کوئی شعور ہی ہوتا ہے۔یہ کوئی خاص جواب نہ تھا لیکن جو بات میں نے محسوس کی وہ یہ تھی کہ وہ سب بڑی دلچسپی سے بات سن رہے تھے۔ تبادلہ خیالات میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ ، کوئی غصہ، کوئی ماتھے پر بل سرے سے نظر نہیں آیا اور دیانتداری کی بات یہ ہے کہ میں نے یہ محسوس کیا کہ ہم مسلمانوں کی یہ کوتاہی ہے کہ ہم نے صحیح طو رپر دین کو سمجھ کے تحمل کیساتھ ان کوکبھی قائل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔یہاں پاکستا ن آ کر مجھے ایک اورتجربہ ہوا۔میں نے اس تاثر کو اپنے ایک قریبی بزرگ کے سامنے پیش کیا تووہ اتنے زیادہ ناراض ہوئے کہ میرا وہاں سے بھاگنے کودل کررہاتھا۔ انکا کہنا یہ تھا کہ یہ ناممکن ہے کہ ہندو مسلمان کی بات سمجھ سکے ۔میں نے کہا کہ آخر پہلے بھی تو برصغیر میں ہندووں ہی سے لوگ مسلمان ہوئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ جو ہندو مسلمان ہوئے بس وہ ہو چکے اب اس کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ جن ہندووں کے ساتھ میں نے 6 دن گزارے ان کو اپنے عام معمولات میں بڑے ہی کھرے ، منکسر المزاج اوراپنے بھگوان سے مانگنے والے پایایعنی وہ پورے مذہبی لوگ تھے۔

             دوسرا سفر علیگڑھ کا سفر تھا ، وہاں بس لوگوں سے خیر سگالی کی ایک ملاقات ہو گئی۔ المورد کو وہ سب لوگ جانتے تھے زیادہ گفتگو کسی خاص موضوع پر نہیں ہو سکی ۔البتہ وہ لوگ المورداورجاوید صاحب کے کام میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔

            آخری دن تھا وحیدالدین خان صاحب کے لیے ۔ دہلی جاتے ہوئے میں نے مولانا کو فون کیا تو انہوں نے کہا کہ تم میرے پروگرام میں آجاؤ۔ اس پروگرام میں مولانا وحیدالدین خان اور کوئی ہندو سکالر مدعو تھے ۔ مولانا نے اسلام کے بارے میں گفتگو کرنی تھی اورکرن سنگھ صاحب نے ہندو ازم کے بارے میں، میں جب پہنچا تو مولانا اپنی گفتگو کے بالکل آخری حصے میں تھے اور وہ جہاد کا Concept بیان کر رہے تھے ۔وہ کہہ رہے تھے کہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام صلح، آشتی اورامن کادین ہے تو پھر آپ کے ذہن میں سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ جہاد کیاچیز ہے ، یہ سوال پیدا کرکے انہوں نے جہاد کے بارے میں اپنا مخصوص نظریہ بیان کیا ۔اس کے بعد بہت سے سوالات ہوئے۔ ہندو سپیکر نے کہاکہ میں کوئی تقریر نہیں کروں گا اس لیے کہ آپ مجھے سنتے ہی رہتے ہیں ۔ وہاں کوئی 150 کا مجمع ہو گا بہت اچھا آڈیٹوریم تھا اور اس میں اکثر ہندو تھے اور جہاد سے متعلق بہت سوالات کر رہے تھے ۔ ان کا کہنا تھاکہ اگر اسلام واقعی امن کا مذہب ہے توپھر اس میں جہاد کی بات کیوں ہے؟ اسی طرح مسلمانوں میں فرقہ بندی کے بارے میں بہت سے سوالات تھے۔ میرا خیال ہے کہ شاید مولاناوحیدالدین خان کی یہ پالیسی ہے کہ وہ سوالات کے جوابات پبلک میں کھل کر نہیں دیتے I don't know کہہ دیتے ہیں۔مجھے انکے جوابات میں کچھ تشنگی سی محسوس ہوئی اسکے بعد جب میں ان سے ملا ،تو انہوں نے پوچھا کہ جاوید صاحب اور اصلاحی صاحب کے درمیان کیا اختلافات ہیں؟ آپ لوگوں کا حدیث کے بارے میں کیا رویہ ہے ؟ پاکستان میں وہ کون سے علما ہیں کہ جن سے آپ زیادہ ذہنی مناسبت رکھتے ہیں ، اس طرح کی دوچارباتوں کے علاوہ انہوں نے کوئی اوربات اس روز نہیں کی۔ اگلے روز ملاقات میں میں نے جوفاش غلطی کی وہ یہ تھی کہ میں نے ان سے کہا مولانامیں رات کو یہ سوچ رہاتھاکہ آپ نے مجھ سے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ سوال کیا کہ پاکستان میں وہ کون سے علماہیں کہ جن سے میں ذہنی طو رپر زیادہ مناسبت رکھتا ہوں تو میں کوئی جواب ہی نہیں دے سکا تھا کہیں ایسا نہ ہوکہ اگلی مرتبہ آپ کے رسالے میں آجائے کہ ایک صاحب پاکستا ن سے آئے تھے توان سے میں نے ایک سوال پوچھا تو وہ کوئی جواب نہ دے سکے ۔ اس پر مولانا غصے میں آگئے کہنے لگے آپ کے خیال میں، میں Stupid ہوں ۔ میں نے کہا نہیں جی I'm sorry تو انہوں نے کہاکہ جب کبھی میں اس طرح کی کوئی چیز لکھتا ہوں تومیں اس آدمی سے پوچھ کے لکھتا ہوں اور پھر مجھے حق حاصل ہوتاہے کہ میں لکھوں۔ ان سے گفتگو کر کے مجھ کو یہ محسوس ہوا کہ اگرچہ بعض معاملات میں ہمارا ان سے اختلاف ہے لیکن مولاناسے پوری گفتگو ہو سکتی ہے ۔

            میں نے ان سے پہلا سوال یہ کیاکہ آپ نے کل بھی جہاد کے بارے میں گفتگوکی اورآج بھی آپ یہ بیان کررہے ہیں کہ اسلام میں جہاد صرف دفاعی نوعیت کاہوتا ہے آخر آپ کو کیامسئلہ ہے کہ آپ یہ بات کیوں نہیں بیان کرتے کہ اصل میں اتمام حجت کے نتیجے میں ،رسولوں کے آنے کے بعد، اللہ تعالی کی طرف سے بعض اوقات ‘جہاد ’ کی صورت میں منکرین پرعذاب آتا ہے ۔ نبیﷺ کے زمانے میں بھی ایسا ہی ہوا۔تو انہوں نے کہا کہ یہ توسب سے پہلے میں نے ہی لکھا ہے اس کاتوبیان کرنے والامیں ہوں۔ پھرانہوں نے مجھے دو تین کتابیں بتائیں۔ ایک کتاب ‘‘دین و شریعت’’ کہ اس میں، میں نے لکھا ہے ۔ میں نے کہامو لانابات یہ ہے کہ آپ جہاں جہاد کو بیان کریں وہیں آپ کو یہ بات کہنی چاہیے ، اس لیے کہ لوگ آپ کی گفتگونہیں سنیں گے لوگ تو قرآن بھی پڑھیں گے قرآن میں تو سب کچھ لکھا ہوا ہے اور اگر آپ اس کی وضاحت نہیں کریں گے تو لوگوں کے ذہن میں تو وہی خلجان اور Problems رہیں گے تو انہوں نے کہا کہ بات یہ ہے کہ ایک آدمی کس موقع پر کیا گفتگو کرتا ہے یہ تو اس کا ہی اختیار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس بات کو لکھ چکا ہوں ، میں نے کہا کہ یہ تو آپ کی تفسیر میں بھی نہیں ہے۔ وہ کہنے لگے کہ تفسیر ذرامختصر ہے ۔

            ان سے ملاقات کے تھوڑی دیر بعد مجھے محسوس ہوا کہ یہ بالکل میرے بزرگ ہیں اور ان کے ساتھ بڑی اطمینان سے گپ شپ ہو سکتی ہے۔ دوسری گفتگو حدیث کے موضوع پر ہوئی ۔میں نے ان سے پوچھاکہ آپ مجھ کو یہ بتائیے کہ آپ حدیث اور سنت متواترہ میں فرق کیوں نہیں کرتے ؟ آخر یہ دونوں الگ چیزیں ہیں۔ میں نے وضاحت کرنے کی کوشش کی، غالبا وہ پہلی مرتبہ سمجھے نہیں، انہوں نے کہاکہ بات یہ ہے کہ اس طرح تو محدثین کے نزدیک صرف ایک ہی حدیث غالباً ایسی پائی جاتی ہے جو اس معیار پر پورا اترتی ہے تو میں نے کہاکہ میں یہ نہیں کہہ رہا ، میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ سنت تواصل میں ہے ہی عمل ۔ کہنے لگے دیکھیں بات یہ ہے کہ یہ بات تومیں بھی کہتاہوں۔ میں نے کہاکہ یہ بتائیں کہ یہ کیوں ہواکہ حضرت ابو بکر ؓ جیسے جلیل القدر صحابی کے ہاں توحدیث کااہتمام ہی نظر نہیں آتا انہوں نے کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ دو طرح کے لوگ تھے ایک بہت ذہین اور ایک Average تو حدیث کو زیادہ اہتما م سے جمع کیا ہے average لوگوں نے ۔ انہوں نے کہا کہ اسی کی وجہ ہے کہ آپ دیکھتے ہیں کہ طہارت کا جوباب ہے اس میں اتنا موادجمع ہو گیاہے کہ آپ اس پر پورا انسائیکلوپیڈیا لکھ سکتے ہیں۔وہ کہنے لگے کہ اس بات کالحاظ رکھناپڑتا ہے کہ آپ یہ دیکھیں کہ جو بات بیان ہو رہی ہے وہ کس نے بیان کی ہے اور اس کا کیاپس منظر ہے اوران سب چیزوں کوسامنے رکھ ہی کر آپ نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں ۔میں نے یہ محسوس کیاکہ وہ غالباً حدیث اورسنت کے فرق کومان رہے تھے۔

             اس کے بعد وہ نظم کے بارے میں کہنے لگے کہ آپ مجھ کوبتائیں یہ کیا چیز ہے ، اس سے کیا فرق پڑتا ہے ، قرآن مجید میں کہاں لکھا ہواہے؟وہ غالباً اس کوماننے کے لیے تیار نہیں ہیں لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ میں ان کو سمجھانے میں بہت زیادہ کامیاب نہیں ہوا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ جب تک ان کو باقاعدہ مثالیں نہ پیش کی جائیں جس سے کہ بالکل دو اور دو چار کی طرح نظم کا مسئلہ واضح ہوجائے کہ اس سے قرآن مجید کے سمجھنے میں انسان کو مدد ملتی ہے تووہ نہیں مانیں گے ۔

            سود کے معاملے میں بھی ہمارا اتفاق نہ ہوسکا۔ان کا کہنا ہے کہ دور حاضر میں اس کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ہم ترقی کر سکیں جب تک کہ ہم کمرشل سودکومان نہ لیں۔ میں نے کہامولانا کاروباری مراکز اگر نہ بنیں تو کیا فرق پڑتا ہے ہماری ذمہ داری تو اپنے دین کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہے۔ کہنے لگے نہیں ، یہ وہ سود ہے ہی نہیں جومنع کیا گیا ہے ۔میں نے کہا مولانا مجھے تو بے بسی کا احساس ہو رہا ہے کہ آپ قرآن سے ایک بات سمجھ رہے ہیں میں بالکل دوسری بات سمجھ رہا ہوں تو اب ہم آپس میں Dialogue کیسے کریں ؟مطلب یہ ہے کہ کیسے ہم سمجھیں کہ بات آپ کی زیادہ وزنی ہے یا میری زیادہ وزنی ہے۔ آپ تو بالکل ایک دنیاوی استدلال کر رہے ہیں ۔کہنے لگے ایسا ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ آج کے دورمیں ترقی ممکن نہیں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ذہن میں اس مسئلے میں کوئی رکاوٹ ہے جسے میں اپنے استدلال سے دور نہیں کر سکا۔ وہ اس مسئلے میں قرآن سے کوئی حوالہ نہیں دے رہے تھے۔ میں نے وان کان ذو عسرۃ فنظرۃ الی میسرہ کے ضمن میں مولانا اصلاحی کی بات بتائی ۔ انہوں نے کہا یہ استنباطی چیز ہے کوئی واضح بات نہیں ہے اور اسی پر بات ختم ہو گئی جو ہندو دوست ہمارے ساتھ موجود تھے مولانا نے انہیں اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ اگر آپ سمجھنا چاہیں تو مجھے ایک ماڈرن صوفی سمجھ لیں۔ میں نے کہا مولانا آپ صوفی نہیں ہیں ۔ ابھی تو آپ نے فرمایا کہ وحدت الوجود کفر ہے تو صوفی تووحدت الوجودی ہی ہوتے ہیں کہنے لگے اسی لیے تو میں کہہ رہا ہوں کہ میں ماڈرن صوفی ہوں۔ میں نے کہا میں آپ سے گزارش کرتا ہوں آپ صوفی نہیں ہیں یہ لفظ آپ کیوں استعمال کر رہے ہیں یہ لفظ تو نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں ہے ۔کہنے لگے ہاں قرآن مجید میں لفظ ربانی ہے ۔

             ایک موقع پر انہوں نے کہاکہ بھارت سے بہتر کوئی ملک نہیں ہے۔ وہ کوئی اخبارلے کر آئے انہوں نے کہا آپ کے ملک میں اگر کوئی جناح صاحب کے خلاف بات کرے تو وہ پکڑا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا گاندھی کی یوم پیدائش پر ایک سیمینار ہوا( ہندستان ٹائم ان کے پاس تھا) اور اس میں کوئی پانچ چھ افراد آئے جنہوں نے اپنی گفتگو کی اور جومیری تقریر تھی وہ من وعن نقل کر دی گئی۔ کہنے لگے اس سے بہتر کو ن سا ملک ہو سکتا ہے ؟یہاں ہر بات آپ بغیر کسی تردد کے بیان کر سکتے ہیں انہو ں نے بتایا کہ وہ ایک وفادار بھارتی شہری ہیں۔ اور یہ بیان کرتے ہوئے وہ رو پڑے ہمارے درمیان جو Discussion ہوئی اس پر ان کے تاثرات بہت اچھے تھے ۔ مجھے ذاتی طور پر ان سے مل کے بہت خوشی ہوئی اس لیے کہ میراخیال تھاکہ شاید ان کے ساتھ کوئی مکالمہ نہیں ہو سکتا ، لیکن نہیں ،بالکل ہو سکتا ہے بعض موقعوں پر ظاہر ہے کہ یہ محسوس ہوگا کہ بات آگے نہیں بڑھ رہی لیکن یہ کہ آپ اپنی بات Communicate کر دیتے ہیں اور آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے آپ کی بات سن لی ہے اور رجسٹر کر لی ہے ۔

            میں نے ان سے کہاکہ آپ ایک مرتبہ ڈاکٹر اسرارصاحب کے ہاں تشریف لائے تھے اورآپ نے ایک تقریر کی تھی جس کا موضوع تھاکہ مسلمانوں کے درمیان لڑائی جھگڑا حرام ہے ۔ میں نے کہاکہ ایک صاحب نے سوال کیا تھا کہ اگر بات یوں ہے تو پھر آپ جنگ صفین اور جنگ جمل کوکیسے Explain کریں گے ؟تو میں نے کہا مولانا آپ کویاد ہے آپ نے کیاجواب دیا تھا تو کہنے لگے نہیں ، میں نے کہاآپ نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ آپ نے کہا تھاNo comments تومجھے خیال ہواکہ اس سوال کا جواب نہ دے کر آپ نے ایک گھنٹے کی اپنی پوری گفتگو کوضائع کر دیا ، انہوں نے کہااصل میں بات یہ نہیں تھی ،بات یہ تھی کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کایہ قول ہے کہ‘‘اللہ تعالی نے جن جنگوں میں ہماری تلوار کوشریک ہونے سے بچالیا ، ہماری زبانیں اس میں کیوں شریک ہوں ’’میں نے تواس پر عمل کیا تھا۔ میں نے کہا مولانا آپ یہی کہہ دیتے توسارامسئلہ حل ہو جاتا۔میں تو یہ سمجھا تھا کہ آپ نے جواب نہ دے کہ اعتراف کر لیا تھا کہ آپ کی ساری تقریر ہی غلط ہے۔ ان کی بیٹی نے کہابعض اوقات یہ ایسا ہی کرتے ہیں ،جواب نہیں دیتے خاموش ہو جاتے ہیں حالانکہ ان کو جواب دیناچاہیے۔

            مولانا کوئی بہت اچھے پبلک سپیکر نہیں ہیں، اور نہ ہی وہ کوئی سوالات کے جوابات دینے والے آدمی ہیں۔

            میں نے کہا بعض اوقات آپ کے رسالے میں ایسی چیزیں بھی ہوتی ہیں کہ جو بالکل سمجھ میں نہیں آتیں جیسے آپ نے ابھی لکھا ہے کہ امت مسلمہ میں اللہ نے چار ادوار رکھے ہیں اورہر دورمیں دین کو پھیلانے کا الگ اہتمام کررکھاہے۔ میں نے کہا یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہنے لگے بات یہ ہے کہ اس کے بارے میں امام ابوحنیفہ اور امام ابو محمد کے درمیان بھی کوئی ایک سو بیس اختلافات ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔میں نے کہاکمال ہے یہ توبہت زبردست رویہ ہے ۔ ان سے ہر بات ہوسکتی ہے یعنی اگرمولانا غصے میں بھی آئیں تو آپ تحمل سے بات کرتے رہیں تو ایسا نہیں ہوگاکہ وہ کہیں گے کہ بیٹا جاؤاور پھر آپ کی بات نہیں سنیں گے ۔ ان کو جو غصہ آتا ہے وہ گفتگو کا غصہ ہوتاہے یہ وہ غصہ نہیں ہوتا جوکینے اور بغض اور تعلقات کی خرابی کاباعث بنے۔

             ایک صاحب جو علیگڑھ میں بہت سے لوگوں سے ملاقات کا باعث بنے تھے ان سے بڑی تفصیل سے بات ہوئی کیونکہ آگرہ سے علیگڑھ کے سفر میں وہ میرے ساتھ تھے۔ تو انہوں نے کہا کہ مولانااصلاحی اور مولاناوحیدالدین خان کومیں پڑھتا تھا لیکن جب سے میں نے پڑھا کہ انہوں نے شاہ ولی اللہ کے خلاف سخت بات لکھی ہے تو پھر میرا دل اچاٹ ہوگیا ۔ میں نے مولاناسے کہا کہ آپ ضرور اختلافی چیز لکھا کریں مگر اتنا شدید ہونے کی کیا ضرورت ہے جس کے نتیجے میں اچھے بھلے لوگ آپ کی بات پڑھنے سے گریز شروع کر دیں۔ توکہنے لگے میں منافقت نہیں کر سکتا۔میرے بڑے بھائی کہاکرتے تھے کہ پٹھان کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا تو میں پٹھان ہوں۔ اس کے بعد جب سود کا مسئلہ آیا تو میں نے اسی سٹائل کو اختیار کیا۔میں نے کہا بات یہ ہے کہ اگرسود کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا تو نہ ہو۔ ہم نے تو اپنے دین کو سمجھنا اور اس کو بیان کرناہے تو اس پرکہنے لگے اصل میں آپ صحیح نہیں سمجھ رہے اس کے بغیر کوئی ترقی نہیں ہو سکتی ۔

             علیگڑھ شہر بہت ہی گندہ ہے ۔ ان کی غربت ہماری غربت سے زیادہ ہے ۔تین چیزیں ایسی ہیں جو ان میں ہم سے بڑی ہیں ‘‘ شرک، فحاشی اور گندگی’’ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ قابلیت بھی ہم سے زیادہ اور ترقی بھی ہم سے زیادہ ہے ۔