اوریانا فلاچی

مصنف : قیصر نذیر خاور

سلسلہ : شخصیات

شمارہ : جنوری 2019

اوریانا فلاچی

۔۔۔ قیصر نذیر خاور

یہ مضمون خاص طور پر ان قارئین کے لئے ہے جو انٹرویو لینے کا فن سیکھنا چاہتے ہیں۔ انہیں ڈیوڈ فراسٹ، لیری کنگ اور دیگر اہم انٹرویورز بارے بھی معلومات حاصل کرنا چاہئے۔ر)
'' میں جب پہلی بار ٹائپ رائٹر کے سامنے بیٹھی تو مجھے ان لفظوں سے پیار ہو گیا جو سفید کاغذ پر قطروں کی طرح ابھر رہے تھے اور کاغذ پر ثبت ہوتے جارہے تھے۔ ہر قطرے کو جیسے وجود مل رہا ہو۔ ایسے لگ رہا تھا کہ اگر انہیں بولا گیا تو یہ ہوا میں بکھر جائیں گے۔ لیکن کاغذ پر ثبت ہونے سے انہیں انمٹ وجود مل رہا تھا چاہے یہ الفاظ اچھے تھے یا برے۔‘‘
یہ تحریر اطالوی مصنفہ اوریانا فلاچی کی ہے۔ ناول اور یاداشتیں لکھنے کے ساتھ ساتھ وہ ایک ایسی صحافی بھی تھی جسے دنیا کی کوئی بھی اہم بشمول سیاسی شخصیت انٹرویو دینے سے انکار نہ کرسکی۔ ہنری کسنجر، گولڈامیئر، جنرل گیاپ، رضاشاہ پہلوی، اندراگاندھی، ذوالفقار علی بھٹو، یاسرعرفات،ہیل سلاسی، ولی برانٹ، کرنل قذافی یہاں تک کہ امام خمینی بھی ان شخصیات میں شامل ہیں جن کا فلاچی نے انٹرویو کیا۔ فلاچی کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں مگر فلاچی کا سب سے مضبوط پہلو اس کے سیاسی شخصیات سے لئے گئے انٹرویو ہیں۔
اوریانا فلاحی 29 جون 1930ء کو فلورنس، اٹلی میں پیدا ہوئی۔ اس وقت گو پہلی جنگ عظیم ختم ہوئے کافی عرصہ ہوچکا تھا مگر اس کی تباہی کے اثرات اٹلی پر ابھی بھی موجود تھے۔ 1921ء میں مسولینی نیشنل فاشسٹ پارٹی بنا چکا تھا اور 1925ء تک وہ اٹلی کا سب سے طاقت ور شخص تھا۔ جب اوریانا فلاچی پیدا ہوئی تو اٹلی پر مسولینی کی فاشسٹ حکومت قائم تھی۔ فلاچی کی صحافتی یا ادبی تحریروں پر قبل از پیدائش اور نوجوانی کے زمانے کے اٹلی کے حالات کا بہت گہرا اثر نظر آتا ہے۔ فلاچی کی زندگی پر ایک اور اثر اس کے والد ایڈرڈو (Edoardo) کا بھی ہے جو ایک لبرل اطالوی تھا اور میسولینی کے اقتدار کی مخالفت کرتا رہا۔ اوریانا کی والدہ ٹوسکا (Tosca) کا والد انارکسٹ تحریک میں شامل تھا۔جب فلاچی دس برس کی ہوئی تو اٹلی ایک بار پھر جنگ میں شامل ہو چکا تھا اپنے باپ کے ہمراہ وہ بھی اس خفیہ تنظیم کی ممبر بن گئی جو نازیوں کے خلاف سرگرم عمل تھی۔ جب دوسری جنگ عظیم میں نازیوں نے فلورنس پر قبضہ کر لیا تو اوریانا فلاچی کے باپ کو قید کر لیا گیا اور اسے تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا۔1945 ء میں جب جنگ ختم ہوئی تو اوریانا فلاچی15 برس کی تھی۔ اتنی چھوٹی عمر میں تباہ حال اٹلی، مسولینی کا فاشسزم، فلورنس پر نازیوں کا قبضہ، باپ کا لبرل ہونا اور پھر مزاحمتی کارروائیوں میں شرکت، ان سب نے فلاچی کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا۔ 16برس کی عمر میں اوریانا فلاچی نے یہ فیصلہ کیا وہ مصنفہ بنے گی۔ اس نے اٹلی کے ایک اخبار میں جرائم کے حوالے سے کالم لکھنا شروع کر دیا۔ یہ شروعات تھی جلد ہی وہ بین الاقوامی واقعات کی رپورٹنگ اور سیاسی و غیر سیاسی اہم شخصیات کے انٹرویو کرنے لگی۔ اوریانا فلاچی نے جتنے بھی انٹرویو کئے ان میں ایک بات مشترک نظر آتی ہے کہ وہ اس بات پر ساری گفتگو مرکوز کرتی ہے کہ طاقت کا استعمال کیسے ہوتا ہے اسے غلط کیسے استعمال کیا جاتا ہے۔غیر سیاسی اہم شخصیات کے انٹرویوز میں بھی وہ شہرت کے غلط استعمال پر ان کو نشتر چبھوتی ہے۔ یہ نشتر کئی شخصیات برداشت نہ کر پائیں اور فلاچی سے بدتمیزی بھی کی۔ اس کی ایک مثال محمد علی کلے ہے جس نے انٹرویو کے دوران اوریانا سے بدتمیزی کی اور فلاچی کو انٹرویو درمیان میں ہی چھوڑنا پڑا۔ اسی طرح مشہور اطالوی فلم ڈائریکٹرفیلینی (Frederico Fellini) کے ساتھ اس کا انٹرویو بھی عرصے تک متنازعہ بنا رہا۔ انٹریو سے قبل وہ فیلینی اور اس کی فلموں کی شیدائی تھی لیکن انٹرویو میں اس نے جب فیلینی کا رویہ عورتوں کے بارے میں تحقیر آمیز پایا تو فلاچی کا فیلینی کے بارے میں رویہ مکمل طور پر بدل گیا اور وہ اسے ناپسند کرنے لگی۔
فلاچی نے جب ہنری کسنجر کو انٹرویو کیا تو اس سے قبل صحافتی دنیا کو اس کی زندگی اور شخصیت کے بارے میں بہت کم معلوم تھا۔ انٹرویو کے دوران اپنی شخصیت پر ہونے والے سوالات کو کسنجر خوبصورتی سے ٹالتا رہا مگر فلاچی نے اسے یہ کہنے پر مجبور کرہی دیا۔’’بعض اوقات مجھے لگتا ہے جیسے میں ایک ایسا کاؤ بوائے ہوں جو اکیلا گھوڑے پر سوار ایک قافلے کی علمبرداری (Lead) کر رہا ہے۔ ''
جب یہ انٹرویو چھپا تو مغربی دنیا میں تہلکہ مچ گیا کہ کسنجر خود کے بارے میں یوں سوچتا ہے۔ کسنجر کو مہینوں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس انٹرویو کے بارے میں کسنجر کا یہ کہنا تھا کہ پریس کے سامنے اتنی بڑی غلطی اس نے کبھی نہیں کی۔ جبکہ خود فلاچی اپنے اس انٹرویو کو سب سے گھٹیا انٹرویو قرار دیتی ہے۔ 
فلاچی نے فروری 1972ء میں اندرا گاندھی کا انٹرویو کیا تو ذوالفقار علی بھٹو نے اوریانا فلاچی کو ملاقات کی دعوت دی۔ اوریانا لکھتی ہے:’’میرے لئے یہ دعوت نامہ ایک مخمصہ کا باعث تھا۔ مجھے کہا گیا تھا کہ جلدازجلد راولپنڈی پہنچو۔ مجھے تعجب تھا کیوں؟۔ بھٹو مجھ سے کیوں ملنا چاہتا تھا؟۔ کیا وہ میرے ذریعے اندرا گاندھی کو کوئی پیغام بھجوانا چاہتا تھا؟ یا مجھے سزا دینا چاہتا تھا کہ میں نے اندرا گاندھی کے انٹرویو میں اس کی شخصیت سے ہمدردی دکھائی تھی اور اسے عزت دی تھی۔ اس مفروضے کو میں نے فوراََ ہی رد کر دیا کیونکہ بھٹو کو اپنے دشمن تک پیغام پہنچانے کے لئے میرے جیسے پیغام رساں کی ضرورت نہ تھی۔ اس کام کے لئے سوئس اور روسی سفارتکار ہی کافی تھے۔ میں نے دوسرا مفروضہ بھی ردکر دیا۔ بھٹو کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ایک تہذیب یافتہ انسان ہے اور تہذیب یافتہ لوگ اپنے مہمانوں کو سزا نہیں دیتے یا قتل نہیں کرواتے۔ تیسرا مفروضہ یہ تھا کہ بھٹو خود مجھے موقع دینا چاہتا ہے کہ میں اس کا انٹرویو کروں یوں وہ مجھے حیران کرنا چاہتا ہے۔ حقیقت میں ایسا ہی تھا۔ اس نے میرا بنگلہ دیش کے صدر پر مضمون ’’بدقسمت مجیب الرحمان‘‘ بھی پڑھ رکھا تھا۔ میں نے دعوت قبول کی لیکن یہ بھی واضح کردیا گو میں بھٹو کی مہمان ہوں گی لیکن میں لکھتے وقت کوئی رعایت نہ برتوں گی۔‘‘
بھٹو کے بارے میں فلاچی لکھتی ہے:
’’بھٹو کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں اور وہ سب اپنی جگہ سچ ہیں۔ وہ لبرل ہے، مطلق العنان ہے، فاشسٹ ہے، کمیونسٹ ہے۔ مخلص ہے لیکن جھوٹا بھی ہے۔
اوریانا فلاچی نے ذوالفقار علی بھٹو کا انٹرویو اپریل 1972 ء میں پانچ نشستوں میں لیا۔ پہلی نشست راولپنڈی میں، دوسری نشست ہوائی جہاز میں لاہور تک سفر کے دوران، تیسری سندھ کے گاؤں ہالہ جبکہ چوتھی اور پانچویں کراچی میں ہوئی۔ بھٹو کے انٹرویو میں اوریانا فلاچی کا آخری سوال تھا:’’ایک آخری سوال جناب صدر اور اس سوال کے جارحانہ ہونے پر معافی کی درخواست گزار بھی ہوں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اپنا اقتدار قائم رکھ سکیں گے؟‘‘ 
اس کا جواب بھٹو مرحوم نے یوں دیا:
’’اس کو اس طرح دیکھتے ہیں۔ میں کل بھی ختم ہوسکتا ہوں لیکن میرا خیال ہے کہ اب تک، جتنے لوگوں نے بھی اس ملک پر حکومت کی ہے، میں ان سے زیادہ دیر تک حکومت کر سکو ں گا۔ سب سے پہلے یہ کہ میں صحت مند ہوں،توانائی سے بھرپور ہوں، میں کام کرسکتا ہوں جیسے کہ میں اب بھی اٹھارہ گھنٹے کام کرتا ہوں۔ پھر یہ کہ میں جوان ہو ں،میں بمشکل چوالیس سال کا ہوں مسنر اندرا گاندھی سے دس سال چھوٹا۔ آخری وجہ یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ میں کیا چاہتا ہوں۔‘‘
اوریانا نے بھٹو کے ہمراہ چھ روز گزارے۔
اوریانا فلاچی نے اندراگاندھی اورذوالفقار علی بھٹو کے جو انٹرویو کئے وہ سفارتی سطح پر تہلکہ کا باعث بنے۔ اندرا نے اپنے انٹرویو میں بھٹو کو ایک غیر متوازن شخصیت قرار دیاتھا جبکہ بھٹو نے اندرا کو ایک عام سطح کی ذہانت رکھنے والی ایک اوسط درجے کی عورت کہا تھا۔ فلاچی نے جس زمانے میں یہ انٹرویو کئے ان دنوں سفارتی سطح پر یہ کوششیں ہو رہی تھیں کہ دونوں سربراہان کی ملاقات ہو۔ لیکن اندرا گاندھی نے بھٹو کے کہے الفاظ کا اتنا برا منایا کہ ملاقات کینسل کردی گئی۔ جب تک یہ ملاقات ہو نہیں گئی، اٹلی میں پاکستانی سفیر اوریانا فلاچی سے مسلسل رابطہ کرتا رہا کہ وہ اس بات کی تردید کرے کہ بھٹو نے اندرا گاندھی کے بارے میں ایسا کہا تھا۔ اس کے علاوہ فلاچی جہاں بھی جاتی اسے کوئی نہ کوئی اہم پاکستانی شخصیت ایسا کرنے کی ترغیب دیتی۔ اوریانا فلاچی لکھتی ہے:’’میرا پیچھا تب چھوٹا جب دونوں کی ملاقات ہو نہ گئی اور ان کے درمیان معاہدہ دستخط نہ ہو گیا۔ میرے لئے انہیں ٹی وی پر اکٹھے دیکھنا دلچسپ تھا کہ جب وہ ہاتھ ملا رہے تھے اور مسکرا رہے تھے۔ اندرا کی مسکراہٹ میں فتح جھلک رہی تھی جبکہ بھٹو کی مسکراہٹ خجالت آمیز تھی۔‘‘
اگست 1979ء میں اوریانا فلاچی اس امید میں ایران گئی کہ وہ آیت اللہ روح اللہ خمینی کا انٹرویو کرسکے۔ وہ دس دن قُم کے مقدس شہر میں انتظار کرتی رہی۔ 12ستمبر 1979ء کو اسے مدرسہ فظیہ کے مذہبی مدرسے لے جایا گیا جہاں امام خمینی لوگوں سے ملتے تھے۔ فلاچی کے ہمراہ دو ایرانی تھے جو مترجم کا کام سرانجام دے رہے تھے۔ جب امام خمینی وہاں آئے تو فلاچی ننگے پاؤں ایرانی لباس میں سر سے پاؤں تک چادر میں لپِٹی قالین پر بیٹھی منتظر تھی۔ امام خمینی سے فلاچی نے دو نشستوں میں انٹرویو کیا۔ پہلی نشست کا اختتام خاصا ڈارمائی تھا۔ فلاچی حقوق نسواں کے حوالے سے خصوصاََ عورتوں کے پردے پر سوال کررہی تھی۔ ’’امام کیا آپ نے ایرانی خواتین کو مجبور نہیں کیا کہ وہ خود کو سر سے پاؤں تک ڈھانپ لیں جبکہ وہ ایران کے اسلامی انقلاب میں یہ ثابت کر چکی ہیں کہ وہ مردوں کے شانہ بشانہ تھیں۔‘‘ 
امام خمینی نے جواب دیا:’’وہ عورتیں جو انقلاب میں حصہ لیتی رہیں وہ اسلامی لباس میں تھیں اور ہیں وہ تمہارے جیسی نہیں جو جسم کو اچھی طرح ڈھانپے بغیر باہر پھرتی ہیں اور ان کے پیچھے مرد دم چھلا بنے ہوتے ہیں۔‘‘ فلاچی نے سوال کیا:’’امام چادر اوڑھے تیراکی کیسے کی جا سکتی ہے۔‘‘ امام نے جواب دیا:’’یہ تمارا مسئلہ نہیں ہے۔ ہماری رسوم تمہارا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر تم اسلامی لباس کو پسند نہیں کرتیں تو یہ ضروری نہیں ہے کہ تم اسے پہنو۔ دوسرا یہ کہ اسلامی لباس اچھی اور شریف خواتین کا لباس ہے۔‘‘ جواب میں اوریانا فلاچی نے کہا:
’’آپ کا بہت شکریہ امام۔ اب جبکہ آپ نے خود ہی کہہ دیا ہے تو میں یہ فضول اور قدامت کا نشان چادر اتار رہی ہوں۔‘‘
فلاچی نے چادر امام خمینی کے سامنے اتار پھینکی۔ فلاچی لکھتی ہے کہ اس وقت امام خمینی ناراض ہو کر اٹھے، اپنی بلی کو اٹھایا اور تمکنت کے ساتھ کمرے سے نکل گئے۔ میں اس بڑھاپے میں اتنی تمکنت کی متوقع نہ تھی۔ مجھے انٹرویو مکمل کرنے کے لئے چوبیس گھنٹے مزید انتظار کرنا پڑا۔ جب میں نے انٹرویو کی دوسری نشست شروع کی تو امام خمینی کے چہرے پر مسکراہٹ کا ایک سایہ نظر آیا پھر یہ سایہ مسکراہٹ میں بدل گیا اور پھر یہ مسکراہٹ قہقہے میں بدل گئی۔ جب میں نے انٹرویو ختم کر لیا تو امام خمینی کے بیٹے احمد نے مجھے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کو
کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا اس کا خیال تھا کہ اس دنیا میں میں وہ واحد انسان ہوں جس نے میرے باپ کو ہنسا دیا۔‘‘
اوریانا فلاچی کا امام خمینی کے بارے میں تاثر کچھ یوں تھا:’’امام ذہین ہے۔ میں نے اس سے زیادہ وجیہہ اور پروقار بزرگ کبھی نہیں دیکھا۔ وہ مائیکل انیجلو کے مجسمے ’’موسیٰ‘‘ سے مشاہبت رکھتا ہے۔ وہ اسلامی دنیا کے عرفات یا قذافی یا دوسرے کئی آمروں کی طرح کٹھ پتلی نہیں ہے۔ وہ پوپ کی طرح ہے۔ ایک بادشاہ کی خُو لئے ایک سچا لیڈر جس سے ایرانی عوام بہت محبت کرتے ہیں۔ لوگوں کو امام خمینی کی شکل میں ایک اور’’نجات دہندہ‘‘ نظر آتا ہے۔‘‘
اوریانا فلاچی کا کہنا ہے کہ جب وہ انٹرویو کرکے باہر نکلی تو ایرانی میرے پیچھے بری طرح پڑگئے۔ وہ مجھے چھونا چاہتے تھے کیونکہ میں امام کے ساتھ وقت گزار کر آئی تھی لہذا میں بھی ان کے لئے متبرک ہو گئی تھی۔
چودہ سیاسی شخصیات کے انٹرویوز پر مبنی اور یانا فلاچی کی کتاب’’An Interview with History‘‘۔ ۱۹۷۴ میں شائع ہوئی جس نے کتابوں کی دنیا میں تہلکہ مچادیا۔ 1976ء میں اس کا انگریزی زبان میں ترجمہ ہوا۔ امام خمینی کا انٹرویو اس کتاب میں شامل نہیں ہے۔ اس کتاب سے قبل اس کی سات کتابیں شائع ہو چکی تھیں۔
اسے دوبار صحافت کے لئے سنیٹ ونسٹن کا انعام دیاگیا۔ کتاب Nothing and So Be It کے لئے بارسلونا انعام، ناول A Man کے لئے ویرگیو انعام، کتاب Inshallah کے لئے رومیزو انعام دیا گیا۔ کولمبیاکالج شکاگو نے اوریانا فلاچی کو ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری بھی دی۔ لکھنے کے علاوہ اوریانا فلاچی دنیا کی تقریباََ تمام مشہور یونیورسٹیوں میں وقتاََ فوقتاََ پڑھاتی بھی رہی۔
2001ء میں جب 9/11 کا امریکی سانحہ ہوا تو اس کے بعد سے اوریانا فلاچی جو بطور ایک لبرل، روشن خیال، بے باک، عمومی طور پر انسانی حقوق اور خصوصی طور پر حقوق نسواں کی علمبردار اور غیر مذہبی شخصیت جانی جاتی تھی یک دم مسلمانوں اور اسلام کے خلاف ہو گئی۔ وہ یہ سمجھنے لگی کہ مغربی دنیا خطرے میں ہے اور یہ خطرہ اسلام اور اس کی انتہا پسندی سے پیدا ہوا ہے ۔اس نے اپنی اس دلیل کو تین کتابوں میں پیش کیا۔ پہلی کتاب The Rage and the Prideہے جبکہ دوسری The Force of Reason اور تیسری The Apocalypseہے۔ اوریانا فلاچی کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے آنے سے یورپ اسلام کی نوآبادی بن گیا ہے۔ وہ اسے’’یوربیا‘‘ (Eurabia) کا نام دیتی ہے۔ اسے خطرہ ہے: ’’جلد ہی یورپ میں گرجا گھروں کی گھنٹیوں کی جگہ مسجد کے مینار لے لیں گے اور منی سکرٹ کی جگہ برقعہ آ جائے گا۔‘‘ 
اوریانا فلاچی کو ان تین کتابوں، اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں خیالات میں یکسر تبدیلی کی وجہ سے خود کو اپنی زندگی میں ایک عجیب مقام پر لاکھڑا کیا۔ سیکولر اطالوی دانشور اس پر تنقیدکرنے لگے یہاں تک کہ جرمن اور دوسرا یورپی پریس بھی اس کے خلاف لکھنے لگا۔ جبکہ کچھ نے تو اسے مغربی دنیا کی جون آف آرک کا نام دیا۔ اوریانا فلاچی کا موقف مغربی دنیا کے بہت سے لوگوں کو بھاتا ہے۔ اس موقف کے مطابق اسلامی بنیاد پرستی فاشسزم کی تجدید ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اچھے مسلمان بہت کم ہیں۔ اچھا یا برا اسلام محض ایک ڈھونگ ہے۔ اسلام ایک ہی ہے اور مسلمان ہم سب کومغلوب کرنا چاہتے ہیں۔ اوریانا فلاچی کے انہی خیالات کی وجہ سے اٹلی کی ایک عدالت میں اس کے خلاف مذہبی منافرت پھیلانے کے حوالے سے ایک مقدمہ بھی زیر سماعت رہا جس میں اسے دو سال کی قید بھی ہو سکتی تھی۔ اوریانا فلاچی جس کا انتقال 15ستمبر 2006ء کو فلورنس میں ہوا چھاتی کے کنیسر کی مریضہ تھی۔ مرتے وقت اس نے کہا تھا:’’میں زندہ رہنا چاہتی ہوں اس لئے نہیں کہ مجھے زندگی سے بہت پیار ہے، میں زندہ رہنا چاہتی ہوں تاکہ میں دیکھ سکوں کہ میرے خلاف جو مقدمہ چل رہا ہے اس کا نتیجہ کیا نکلتاہے۔ میرا خیال ہے کہ عدالت مجھے مجرم قرار دے گی۔‘‘
اوریانا فلاچی میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہ نفرت یک دم کیسے آئی اس پر ساری دنیا میں خصوصاََ مغربی ممالک میں خاصی تکرارجاری رہی اور جاری ہے۔ بہت سے اس کی حمایت میں ہیں اور اس کے موقف کی تائید کرتے ہیں جبکہ بقیہ اس کے موقف سے متفق نہیں اور اس کایا کلپ کی مختلف توجیہات پیش کرتے ہیں۔
اور یانا فلاچی کی تحریریں اور اس کے بارے میں پڑھ کر جہاں تک میں سمجھا ہوں تو شاید یہ Timing کی بات ہے۔ اوریانافلاچی کی اوائل عمری فاشسنرم کے زیر سایہ گزری۔ اس کے انٹرویوز میں بھی طاقت کا استعمال (جائز و ناجائز دونوں) بنیادی موضوع رہا ہے۔ طاقت ور لوگوں کے انٹرویو کر تے وقت بھی وہ اپنے سوالات کا تانابانا اسی کے گرد بنتی ہے۔ اس کا ایک ثبوت امام خمینی کا انٹرویو ہے جو اوریانا فلاچی نے 1979ء میں لیا تھا۔ اس انٹرویو میں خمینی کے بارے میں فلاچی کے تاثرات پڑھ کر یہ بات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے وہ تب بھی اسلامی بنیاد پرستی کے خلاف تھی۔ جو موقف اس نے 9/11 کے امریکی سانحے کے بعد اختیار کیا اگر وہ 2001ء میں ہونے کی بجائے 1996ء یا اس سے پہلے بھی ہوجاتا تو اوریانافلاچی کا موقف تب بھی یہی ہوتا جو اس نے 2001ء کے 9/11 سانحے کے بعد اپنایا۔ خدا کے وجود سے انکاری اور غیر مذہبی اوریانافلاچی کے اندر ایک کٹّر عیسائی عورت کہیں نہ کہیں موجود تھی جو 2001 ء میں باہر نکل آئی اور وہ اس موقف پر آن کھڑی ہوئی جس کو اپنانے کا Rationale اس کو اس سے قبل مل نہیں پا رہا تھا۔ عمر کے آخری حصے میں موقف میں یہ تبدیلی اپنی جگہ لیکن اوریانا فلاچی نے جو نام اپنے بے باک انٹرویوز کی وجہ سے صحافت میں کمایا وہ اپنی جگہ اٹل ہے۔
***             

(یہ مضمون خاص طور پر ان قارئین کے لئے ہے جو انٹرویو لینے کا فن سیکھنا چاہتے ہیں۔ انہیں ڈیوڈ فراسٹ، لیری کنگ اور دیگر اہم انٹرویورز بارے بھی معلومات حاصل کرنا چاہئے۔۔۔۔۔ قیصر نذیر خاور)
'' میں جب پہلی بار ٹائپ رائٹر کے سامنے بیٹھی تو مجھے ان لفظوں سے پیار ہو گیا جو سفید کاغذ پر قطروں کی طرح ابھر رہے تھے اور کاغذ پر ثبت ہوتے جارہے تھے۔ ہر قطرے کو جیسے وجود مل رہا ہو۔ ایسے لگ رہا تھا کہ اگر انہیں بولا گیا تو یہ ہوا میں بکھر جائیں گے۔ لیکن کاغذ پر ثبت ہونے سے انہیں انمٹ وجود مل رہا تھا چاہے یہ الفاظ اچھے تھے یا برے۔‘‘
یہ تحریر اطالوی مصنفہ اوریانا فلاچی کی ہے۔ ناول اور یاداشتیں لکھنے کے ساتھ ساتھ وہ ایک ایسی صحافی بھی تھی جسے دنیا کی کوئی بھی اہم بشمول سیاسی شخصیت انٹرویو دینے سے انکار نہ کرسکی۔ ہنری کسنجر، گولڈامیئر، جنرل گیاپ، رضاشاہ پہلوی، اندراگاندھی، ذوالفقار علی بھٹو، یاسرعرفات،ہیل سلاسی، ولی برانٹ، کرنل قذافی یہاں تک کہ امام خمینی بھی ان شخصیات میں شامل ہیں جن کا فلاچی نے انٹرویو کیا۔ فلاچی کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں مگر فلاچی کا سب سے مضبوط پہلو اس کے سیاسی شخصیات سے لئے گئے انٹرویو ہیں۔
اوریانا فلاحی 29 جون 1930ء کو فلورنس، اٹلی میں پیدا ہوئی۔ اس وقت گو پہلی جنگ عظیم ختم ہوئے کافی عرصہ ہوچکا تھا مگر اس کی تباہی کے اثرات اٹلی پر ابھی بھی موجود تھے۔ 1921ء میں مسولینی نیشنل فاشسٹ پارٹی بنا چکا تھا اور 1925ء تک وہ اٹلی کا سب سے طاقت ور شخص تھا۔ جب اوریانا فلاچی پیدا ہوئی تو اٹلی پر مسولینی کی فاشسٹ حکومت قائم تھی۔ فلاچی کی صحافتی یا ادبی تحریروں پر قبل از پیدائش اور نوجوانی کے زمانے کے اٹلی کے حالات کا بہت گہرا اثر نظر آتا ہے۔ فلاچی کی زندگی پر ایک اور اثر اس کے والد ایڈرڈو (Edoardo) کا بھی ہے جو ایک لبرل اطالوی تھا اور میسولینی کے اقتدار کی مخالفت کرتا رہا۔ اوریانا کی والدہ ٹوسکا (Tosca) کا والد انارکسٹ تحریک میں شامل تھا۔جب فلاچی دس برس کی ہوئی تو اٹلی ایک بار پھر جنگ میں شامل ہو چکا تھا اپنے باپ کے ہمراہ وہ بھی اس خفیہ تنظیم کی ممبر بن گئی جو نازیوں کے خلاف سرگرم عمل تھی۔ جب دوسری جنگ عظیم میں نازیوں نے فلورنس پر قبضہ کر لیا تو اوریانا فلاچی کے باپ کو قید کر لیا گیا اور اسے تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا۔1945 ء میں جب جنگ ختم ہوئی تو اوریانا فلاچی15 برس کی تھی۔ اتنی چھوٹی عمر میں تباہ حال اٹلی، مسولینی کا فاشسزم، فلورنس پر نازیوں کا قبضہ، باپ کا لبرل ہونا اور پھر مزاحمتی کارروائیوں میں شرکت، ان سب نے فلاچی کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا۔ 16برس کی عمر میں اوریانا فلاچی نے یہ فیصلہ کیا وہ مصنفہ بنے گی۔ اس نے اٹلی کے ایک اخبار میں جرائم کے حوالے سے کالم لکھنا شروع کر دیا۔ یہ شروعات تھی جلد ہی وہ بین الاقوامی واقعات کی رپورٹنگ اور سیاسی و غیر سیاسی اہم شخصیات کے انٹرویو کرنے لگی۔ اوریانا فلاچی نے جتنے بھی انٹرویو کئے ان میں ایک بات مشترک نظر آتی ہے کہ وہ اس بات پر ساری گفتگو مرکوز کرتی ہے کہ طاقت کا استعمال کیسے ہوتا ہے اسے غلط کیسے استعمال کیا جاتا ہے۔غیر سیاسی اہم شخصیات کے انٹرویوز میں بھی وہ شہرت کے غلط استعمال پر ان کو نشتر چبھوتی ہے۔ یہ نشتر کئی شخصیات برداشت نہ کر پائیں اور فلاچی سے بدتمیزی بھی کی۔ اس کی ایک مثال محمد علی کلے ہے جس نے انٹرویو کے دوران اوریانا سے بدتمیزی کی اور فلاچی کو انٹرویو درمیان میں ہی چھوڑنا پڑا۔ اسی طرح مشہور اطالوی فلم ڈائریکٹرفیلینی (Frederico Fellini) کے ساتھ اس کا انٹرویو بھی عرصے تک متنازعہ بنا رہا۔ انٹریو سے قبل وہ فیلینی اور اس کی فلموں کی شیدائی تھی لیکن انٹرویو میں اس نے جب فیلینی کا رویہ عورتوں کے بارے میں تحقیر آمیز پایا تو فلاچی کا فیلینی کے بارے میں رویہ مکمل طور پر بدل گیا اور وہ اسے ناپسند کرنے لگی۔
فلاچی نے جب ہنری کسنجر کو انٹرویو کیا تو اس سے قبل صحافتی دنیا کو اس کی زندگی اور شخصیت کے بارے میں بہت کم معلوم تھا۔ انٹرویو کے دوران اپنی شخصیت پر ہونے والے سوالات کو کسنجر خوبصورتی سے ٹالتا رہا مگر فلاچی نے اسے یہ کہنے پر مجبور کرہی دیا۔’’بعض اوقات مجھے لگتا ہے جیسے میں ایک ایسا کاؤ بوائے ہوں جو اکیلا گھوڑے پر سوار ایک قافلے کی علمبرداری (Lead) کر رہا ہے۔ ''
جب یہ انٹرویو چھپا تو مغربی دنیا میں تہلکہ مچ گیا کہ کسنجر خود کے بارے میں یوں سوچتا ہے۔ کسنجر کو مہینوں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس انٹرویو کے بارے میں کسنجر کا یہ کہنا تھا کہ پریس کے سامنے اتنی بڑی غلطی اس نے کبھی نہیں کی۔ جبکہ خود فلاچی اپنے اس انٹرویو کو سب سے گھٹیا انٹرویو قرار دیتی ہے۔ 
فلاچی نے فروری 1972ء میں اندرا گاندھی کا انٹرویو کیا تو ذوالفقار علی بھٹو نے اوریانا فلاچی کو ملاقات کی دعوت دی۔ اوریانا لکھتی ہے:’’میرے لئے یہ دعوت نامہ ایک مخمصہ کا باعث تھا۔ مجھے کہا گیا تھا کہ جلدازجلد راولپنڈی پہنچو۔ مجھے تعجب تھا کیوں؟۔ بھٹو مجھ سے کیوں ملنا چاہتا تھا؟۔ کیا وہ میرے ذریعے اندرا گاندھی کو کوئی پیغام بھجوانا چاہتا تھا؟ یا مجھے سزا دینا چاہتا تھا کہ میں نے اندرا گاندھی کے انٹرویو میں اس کی شخصیت سے ہمدردی دکھائی تھی اور اسے عزت دی تھی۔ اس مفروضے کو میں نے فوراََ ہی رد کر دیا کیونکہ بھٹو کو اپنے دشمن تک پیغام پہنچانے کے لئے میرے جیسے پیغام رساں کی ضرورت نہ تھی۔ اس کام کے لئے سوئس اور روسی سفارتکار ہی کافی تھے۔ میں نے دوسرا مفروضہ بھی ردکر دیا۔ بھٹو کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ایک تہذیب یافتہ انسان ہے اور تہذیب یافتہ لوگ اپنے مہمانوں کو سزا نہیں دیتے یا قتل نہیں کرواتے۔ تیسرا مفروضہ یہ تھا کہ بھٹو خود مجھے موقع دینا چاہتا ہے کہ میں اس کا انٹرویو کروں یوں وہ مجھے حیران کرنا چاہتا ہے۔ حقیقت میں ایسا ہی تھا۔ اس نے میرا بنگلہ دیش کے صدر پر مضمون ’’بدقسمت مجیب الرحمان‘‘ بھی پڑھ رکھا تھا۔ میں نے دعوت قبول کی لیکن یہ بھی واضح کردیا گو میں بھٹو کی مہمان ہوں گی لیکن میں لکھتے وقت کوئی رعایت نہ برتوں گی۔‘‘
بھٹو کے بارے میں فلاچی لکھتی ہے:
’’بھٹو کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں اور وہ سب اپنی جگہ سچ ہیں۔ وہ لبرل ہے، مطلق العنان ہے، فاشسٹ ہے، کمیونسٹ ہے۔ مخلص ہے لیکن جھوٹا بھی ہے۔
اوریانا فلاچی نے ذوالفقار علی بھٹو کا انٹرویو اپریل 1972 ء میں پانچ نشستوں میں لیا۔ پہلی نشست راولپنڈی میں، دوسری نشست ہوائی جہاز میں لاہور تک سفر کے دوران، تیسری سندھ کے گاؤں ہالہ جبکہ چوتھی اور پانچویں کراچی میں ہوئی۔ بھٹو کے انٹرویو میں اوریانا فلاچی کا آخری سوال تھا:’’ایک آخری سوال جناب صدر اور اس سوال کے جارحانہ ہونے پر معافی کی درخواست گزار بھی ہوں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اپنا اقتدار قائم رکھ سکیں گے؟‘‘ 
اس کا جواب بھٹو مرحوم نے یوں دیا:
’’اس کو اس طرح دیکھتے ہیں۔ میں کل بھی ختم ہوسکتا ہوں لیکن میرا خیال ہے کہ اب تک، جتنے لوگوں نے بھی اس ملک پر حکومت کی ہے، میں ان سے زیادہ دیر تک حکومت کر سکو ں گا۔ سب سے پہلے یہ کہ میں صحت مند ہوں،توانائی سے بھرپور ہوں، میں کام کرسکتا ہوں جیسے کہ میں اب بھی اٹھارہ گھنٹے کام کرتا ہوں۔ پھر یہ کہ میں جوان ہو ں،میں بمشکل چوالیس سال کا ہوں مسنر اندرا گاندھی سے دس سال چھوٹا۔ آخری وجہ یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ میں کیا چاہتا ہوں۔‘‘
اوریانا نے بھٹو کے ہمراہ چھ روز گزارے۔
اوریانا فلاچی نے اندراگاندھی اورذوالفقار علی بھٹو کے جو انٹرویو کئے وہ سفارتی سطح پر تہلکہ کا باعث بنے۔ اندرا نے اپنے انٹرویو میں بھٹو کو ایک غیر متوازن شخصیت قرار دیاتھا جبکہ بھٹو نے اندرا کو ایک عام سطح کی ذہانت رکھنے والی ایک اوسط درجے کی عورت کہا تھا۔ فلاچی نے جس زمانے میں یہ انٹرویو کئے ان دنوں سفارتی سطح پر یہ کوششیں ہو رہی تھیں کہ دونوں سربراہان کی ملاقات ہو۔ لیکن اندرا گاندھی نے بھٹو کے کہے الفاظ کا اتنا برا منایا کہ ملاقات کینسل کردی گئی۔ جب تک یہ ملاقات ہو نہیں گئی، اٹلی میں پاکستانی سفیر اوریانا فلاچی سے مسلسل رابطہ کرتا رہا کہ وہ اس بات کی تردید کرے کہ بھٹو نے اندرا گاندھی کے بارے میں ایسا کہا تھا۔ اس کے علاوہ فلاچی جہاں بھی جاتی اسے کوئی نہ کوئی اہم پاکستانی شخصیت ایسا کرنے کی ترغیب دیتی۔ اوریانا فلاچی لکھتی ہے:’’میرا پیچھا تب چھوٹا جب دونوں کی ملاقات ہو نہ گئی اور ان کے درمیان معاہدہ دستخط نہ ہو گیا۔ میرے لئے انہیں ٹی وی پر اکٹھے دیکھنا دلچسپ تھا کہ جب وہ ہاتھ ملا رہے تھے اور مسکرا رہے تھے۔ اندرا کی مسکراہٹ میں فتح جھلک رہی تھی جبکہ بھٹو کی مسکراہٹ خجالت آمیز تھی۔‘‘
اگست 1979ء میں اوریانا فلاچی اس امید میں ایران گئی کہ وہ آیت اللہ روح اللہ خمینی کا انٹرویو کرسکے۔ وہ دس دن قُم کے مقدس شہر میں انتظار کرتی رہی۔ 12ستمبر 1979ء کو اسے مدرسہ فظیہ کے مذہبی مدرسے لے جایا گیا جہاں امام خمینی لوگوں سے ملتے تھے۔ فلاچی کے ہمراہ دو ایرانی تھے جو مترجم کا کام سرانجام دے رہے تھے۔ جب امام خمینی وہاں آئے تو فلاچی ننگے پاؤں ایرانی لباس میں سر سے پاؤں تک چادر میں لپِٹی قالین پر بیٹھی منتظر تھی۔ امام خمینی سے فلاچی نے دو نشستوں میں انٹرویو کیا۔ پہلی نشست کا اختتام خاصا ڈارمائی تھا۔ فلاچی حقوق نسواں کے حوالے سے خصوصاََ عورتوں کے پردے پر سوال کررہی تھی۔ ’’امام کیا آپ نے ایرانی خواتین کو مجبور نہیں کیا کہ وہ خود کو سر سے پاؤں تک ڈھانپ لیں جبکہ وہ ایران کے اسلامی انقلاب میں یہ ثابت کر چکی ہیں کہ وہ مردوں کے شانہ بشانہ تھیں۔‘‘ 
امام خمینی نے جواب دیا:’’وہ عورتیں جو انقلاب میں حصہ لیتی رہیں وہ اسلامی لباس میں تھیں اور ہیں وہ تمہارے جیسی نہیں جو جسم کو اچھی طرح ڈھانپے بغیر باہر پھرتی ہیں اور ان کے پیچھے مرد دم چھلا بنے ہوتے ہیں۔‘‘ فلاچی نے سوال کیا:’’امام چادر اوڑھے تیراکی کیسے کی جا سکتی ہے۔‘‘ امام نے جواب دیا:’’یہ تمارا مسئلہ نہیں ہے۔ ہماری رسوم تمہارا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر تم اسلامی لباس کو پسند نہیں کرتیں تو یہ ضروری نہیں ہے کہ تم اسے پہنو۔ دوسرا یہ کہ اسلامی لباس اچھی اور شریف خواتین کا لباس ہے۔‘‘ جواب میں اوریانا فلاچی نے کہا:
’’آپ کا بہت شکریہ امام۔ اب جبکہ آپ نے خود ہی کہہ دیا ہے تو میں یہ فضول اور قدامت کا نشان چادر اتار رہی ہوں۔‘‘
فلاچی نے چادر امام خمینی کے سامنے اتار پھینکی۔ فلاچی لکھتی ہے کہ اس وقت امام خمینی ناراض ہو کر اٹھے، اپنی بلی کو اٹھایا اور تمکنت کے ساتھ کمرے سے نکل گئے۔ میں اس بڑھاپے میں اتنی تمکنت کی متوقع نہ تھی۔ مجھے انٹرویو مکمل کرنے کے لئے چوبیس گھنٹے مزید انتظار کرنا پڑا۔ جب میں نے انٹرویو کی دوسری نشست شروع کی تو امام خمینی کے چہرے پر مسکراہٹ کا ایک سایہ نظر آیا پھر یہ سایہ مسکراہٹ میں بدل گیا اور پھر یہ مسکراہٹ قہقہے میں بدل گئی۔ جب میں نے انٹرویو ختم کر لیا تو امام خمینی کے بیٹے احمد نے مجھے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کو
کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا اس کا خیال تھا کہ اس دنیا میں میں وہ واحد انسان ہوں جس نے میرے باپ کو ہنسا دیا۔‘‘
اوریانا فلاچی کا امام خمینی کے بارے میں تاثر کچھ یوں تھا:’’امام ذہین ہے۔ میں نے اس سے زیادہ وجیہہ اور پروقار بزرگ کبھی نہیں دیکھا۔ وہ مائیکل انیجلو کے مجسمے ’’موسیٰ‘‘ سے مشاہبت رکھتا ہے۔ وہ اسلامی دنیا کے عرفات یا قذافی یا دوسرے کئی آمروں کی طرح کٹھ پتلی نہیں ہے۔ وہ پوپ کی طرح ہے۔ ایک بادشاہ کی خُو لئے ایک سچا لیڈر جس سے ایرانی عوام بہت محبت کرتے ہیں۔ لوگوں کو امام خمینی کی شکل میں ایک اور’’نجات دہندہ‘‘ نظر آتا ہے۔‘‘
اوریانا فلاچی کا کہنا ہے کہ جب وہ انٹرویو کرکے باہر نکلی تو ایرانی میرے پیچھے بری طرح پڑگئے۔ وہ مجھے چھونا چاہتے تھے کیونکہ میں امام کے ساتھ وقت گزار کر آئی تھی لہذا میں بھی ان کے لئے متبرک ہو گئی تھی۔
چودہ سیاسی شخصیات کے انٹرویوز پر مبنی اور یانا فلاچی کی کتاب’’An Interview with History‘‘۔ ۱۹۷۴ میں شائع ہوئی جس نے کتابوں کی دنیا میں تہلکہ مچادیا۔ 1976ء میں اس کا انگریزی زبان میں ترجمہ ہوا۔ امام خمینی کا انٹرویو اس کتاب میں شامل نہیں ہے۔ اس کتاب سے قبل اس کی سات کتابیں شائع ہو چکی تھیں۔
اسے دوبار صحافت کے لئے سنیٹ ونسٹن کا انعام دیاگیا۔ کتاب Nothing and So Be It کے لئے بارسلونا انعام، ناول A Man کے لئے ویرگیو انعام، کتاب Inshallah کے لئے رومیزو انعام دیا گیا۔ کولمبیاکالج شکاگو نے اوریانا فلاچی کو ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری بھی دی۔ لکھنے کے علاوہ اوریانا فلاچی دنیا کی تقریباََ تمام مشہور یونیورسٹیوں میں وقتاََ فوقتاََ پڑھاتی بھی رہی۔
2001ء میں جب 9/11 کا امریکی سانحہ ہوا تو اس کے بعد سے اوریانا فلاچی جو بطور ایک لبرل، روشن خیال، بے باک، عمومی طور پر انسانی حقوق اور خصوصی طور پر حقوق نسواں کی علمبردار اور غیر مذہبی شخصیت جانی جاتی تھی یک دم مسلمانوں اور اسلام کے خلاف ہو گئی۔ وہ یہ سمجھنے لگی کہ مغربی دنیا خطرے میں ہے اور یہ خطرہ اسلام اور اس کی انتہا پسندی سے پیدا ہوا ہے ۔اس نے اپنی اس دلیل کو تین کتابوں میں پیش کیا۔ پہلی کتاب The Rage and the Prideہے جبکہ دوسری The Force of Reason اور تیسری The Apocalypseہے۔ اوریانا فلاچی کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے آنے سے یورپ اسلام کی نوآبادی بن گیا ہے۔ وہ اسے’’یوربیا‘‘ (Eurabia) کا نام دیتی ہے۔ اسے خطرہ ہے: ’’جلد ہی یورپ میں گرجا گھروں کی گھنٹیوں کی جگہ مسجد کے مینار لے لیں گے اور منی سکرٹ کی جگہ برقعہ آ جائے گا۔‘‘ 
اوریانا فلاچی کو ان تین کتابوں، اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں خیالات میں یکسر تبدیلی کی وجہ سے خود کو اپنی زندگی میں ایک عجیب مقام پر لاکھڑا کیا۔ سیکولر اطالوی دانشور اس پر تنقیدکرنے لگے یہاں تک کہ جرمن اور دوسرا یورپی پریس بھی اس کے خلاف لکھنے لگا۔ جبکہ کچھ نے تو اسے مغربی دنیا کی جون آف آرک کا نام دیا۔ اوریانا فلاچی کا موقف مغربی دنیا کے بہت سے لوگوں کو بھاتا ہے۔ اس موقف کے مطابق اسلامی بنیاد پرستی فاشسزم کی تجدید ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اچھے مسلمان بہت کم ہیں۔ اچھا یا برا اسلام محض ایک ڈھونگ ہے۔ اسلام ایک ہی ہے اور مسلمان ہم سب کومغلوب کرنا چاہتے ہیں۔ اوریانا فلاچی کے انہی خیالات کی وجہ سے اٹلی کی ایک عدالت میں اس کے خلاف مذہبی منافرت پھیلانے کے حوالے سے ایک مقدمہ بھی زیر سماعت رہا جس میں اسے دو سال کی قید بھی ہو سکتی تھی۔ اوریانا فلاچی جس کا انتقال 15ستمبر 2006ء کو فلورنس میں ہوا چھاتی کے کنیسر کی مریضہ تھی۔ مرتے وقت اس نے کہا تھا:’’میں زندہ رہنا چاہتی ہوں اس لئے نہیں کہ مجھے زندگی سے بہت پیار ہے، میں زندہ رہنا چاہتی ہوں تاکہ میں دیکھ سکوں کہ میرے خلاف جو مقدمہ چل رہا ہے اس کا نتیجہ کیا نکلتاہے۔ میرا خیال ہے کہ عدالت مجھے مجرم قرار دے گی۔‘‘
اوریانا فلاچی میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہ نفرت یک دم کیسے آئی اس پر ساری دنیا میں خصوصاََ مغربی ممالک میں خاصی تکرارجاری رہی اور جاری ہے۔ بہت سے اس کی حمایت میں ہیں اور اس کے موقف کی تائید کرتے ہیں جبکہ بقیہ اس کے موقف سے متفق نہیں اور اس کایا کلپ کی مختلف توجیہات پیش کرتے ہیں۔
اور یانا فلاچی کی تحریریں اور اس کے بارے میں پڑھ کر جہاں تک میں سمجھا ہوں تو شاید یہ Timing کی بات ہے۔ اوریانافلاچی کی اوائل عمری فاشسنرم کے زیر سایہ گزری۔ اس کے انٹرویوز میں بھی طاقت کا استعمال (جائز و ناجائز دونوں) بنیادی موضوع رہا ہے۔ طاقت ور لوگوں کے انٹرویو کر تے وقت بھی وہ اپنے سوالات کا تانابانا اسی کے گرد بنتی ہے۔ اس کا ایک ثبوت امام خمینی کا انٹرویو ہے جو اوریانا فلاچی نے 1979ء میں لیا تھا۔ اس انٹرویو میں خمینی کے بارے میں فلاچی کے تاثرات پڑھ کر یہ بات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے وہ تب بھی اسلامی بنیاد پرستی کے خلاف تھی۔ جو موقف اس نے 9/11 کے امریکی سانحے کے بعد اختیار کیا اگر وہ 2001ء میں ہونے کی بجائے 1996ء یا اس سے پہلے بھی ہوجاتا تو اوریانافلاچی کا موقف تب بھی یہی ہوتا جو اس نے 2001ء کے 9/11 سانحے کے بعد اپنایا۔ خدا کے وجود سے انکاری اور غیر مذہبی اوریانافلاچی کے اندر ایک کٹّر عیسائی عورت کہیں نہ کہیں موجود تھی جو 2001 ء میں باہر نکل آئی اور وہ اس موقف پر آن کھڑی ہوئی جس کو اپنانے کا Rationale اس کو اس سے قبل مل نہیں پا رہا تھا۔ عمر کے آخری حصے میں موقف میں یہ تبدیلی اپنی جگہ لیکن اوریانا فلاچی نے جو نام اپنے بے باک انٹرویوز کی وجہ سے صحافت میں کمایا وہ اپنی جگہ اٹل ہے۔

***