تہذیب

مصنف : خورشید برنی

سلسلہ : معاشرتی کہانی

شمارہ : اگست 2008

میں مسلم ہائی اسکول ساڈھورہ ضلع انبالہ میں نویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ گھر کی مستورات نے ہم چار لڑکوں کو محترم بزرگ شوکت علی خاں کی تحویل میں دے دیا تھا ،ہم تحویل میں کیا تھے ان کے ضابطوں کے شکنجے میں کسے ہوئے تھے۔ انہیں چھوٹے بڑے سب خاں صاحب کہتے تھے۔ ہمارے شب و روز مشین کی طرح گزر رہے تھے۔ علی الصباح اُٹھتے، وضو کر کے نماز پڑھتے، سیر کو جاتے، واپس آکر غسل کرتے اور ناشتہ کر کے اسکول چلے جاتے۔ ناشتے میں صرف دودھ ملتا۔ ہم نے لاکھ احتجاج کیا، بہتیرے عذر پیش کیے کہ ہمیں دو گھنٹے بعد ہی بھوک محسوس ہونے لگتی ہے، اور ہاف ٹائم تک ہماری آنتیں قل ہو اللہ پڑھنے لگتی ہیں، اس لیے دودھ کے ساتھ ایک آدھ پراٹھا یا ٹوسٹ مکھن ضرور ہونا چاہیے، لیکن خانصاحب نے ہماری ایک نہ سنی۔ دوپہر کو گھر آتے آتے بھوک سے نڈھال ہوجاتے، تاہم گرم گرم کھانا تیار ملتا۔ ہفتے میں غالباً دو تین دن پلاؤ بھی پکتا۔ سویٹ ڈش تقریباً روزانہ ہوتی۔ خانصاحب ناشتے کے عادی نہ تھے۔ وہ ہمارے ساتھ صرف کھانا کھاتے۔ اگرچہ ان دنوں خوان بچھا کر کھانے کا رواج تھا لیکن ہمیں کھانا میز پر بیٹھ کر کھانا پڑتا۔ ہمیں چمچوں اور کانٹوں کا استعمال، ڈونگے سے سالن نکالنے کا طریقہ اور بوٹی کھانے کا ہنر بھی ازبر کرایا گیا۔ ہم ہڈی والی بوٹی صرف اس صورت میں کھا سکتے تھے جب گوشت آسانی سے علیحدہ کیا جاسکتا ہو۔ اگر ہڈی سخت جان ہوتی تو ہمیں یہ ہدایت تھی کہ ہڈی والی بوٹی یونہی چھوڑ دیں اور سب کے سامنے گنوارپن کا مظاہرہ نہ کریں۔ ہمارا کیسا کیسا جی مچلتا کہ ہم نلی میں سے مخ نکال کر کھائیں لیکن کبھی اس کی اجازت نہ ملی۔ کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے اور کھانے سے فراغت پاکر کلی کرنے اور دانت صاف کرنے کا طریقہ بھی سکھایا گیا اور دونوں وقت باقاعدہ ہم چاروں کا امتحان ہوتا اور غلطی پر سرزنش بھی ہوتی گھر میں اگر پھل ہوتے تو وہ ہم کھانے کے ساتھ نہیں کھا سکتے تھے کیونکہ کسی حکیم نے خانصاحب کو یہ بتا رکھا تھا کہ پھل کھانے کا بہترین وقت دو کھانوں کے درمیان ہوتا ہے، چنانچہ ہم سب اس نسخے پر باقاعدگی سے عمل کرتے، وہ زمانہ آموں کا تھا اور ان دنوں آم بہت ملتے تھے اور غالب کی شرائط کے مطابق میٹھے بھی تھے اور بکثرت بھی تھے۔ ایک ٹوکرا آموں کی قیمت بلامعاوضہ روپے دو روپے تھی۔ یہ آم ہم پانچ بجے کے قریب کھاتے۔ خانصاحب بھی ساتھ دیتے اور کبھی کبھی ترنگ میں آتے تو گٹھلی چھلکا بھی چلتا۔ شام کو ہلکی غذا ہوتی اور سوتے وقت ہم سب دودھ پیتے۔ یہ ہمارا معمول تھا اور ہم ایک مشین کی طرح اس پر کاربند تھے، اور ہمارے لیے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ ہم خانصاحب کے ضابطے سے سرموانحراف کرسکتے۔

بعد میں پتاچلا کہ ہمیں محاذ جنگ کے لیے تیار کیا جا رہا تھا، چنانچہ موسم گرما کی تعطیلات میں ہم چاروں لڑکے بوریا بستر باندھ کر تیار ہوگئے اور ہمارا قافلہ خانصاحب کی قیادت میں ایک انجانے سفر پر روانہ ہوا۔ ساڈھورہ سے براڑہ ریلوے اسٹیشن تک سو میل کا فاصلہ ہم نے بس کے ذریعہ طے کیا اور وہاں سے ٹرین میں سوار ہوگئے۔ ہم اپنی منزل سے بالکل بے خبر تھے۔ ہمیں ان سے استفسار کرنے کی جرأت تھی نہ انہیں کچھ بتانے کی عادت تھی۔ وہ فوجی تو نہیں تھے لیکن فوجی قواعد کے قائل ضرور تھے۔ اکثر کہا کرتے کہ جو سامنے آجائے وہ کھا لو، جو پہننے کو مل جائے وہ پہن لو، اور بڑوں کا جو حکم صادر ہو اس کی بے چوں و چرا تعمیل کرو۔ ویسے بھی وہ زمانہ تعمیل ارشاد کا تھا۔ چھوٹے بڑوں کا حکم بھی مانتے اور ادب بھی کرتے تھے۔ خیرصاحب، ہم دوسرے دن ضلع بلندشہر کے ایک قصبہ میں پہنچ گئے۔ وہاں بتائے بغیر پتا چل گیا کہ یہ خانصاحب کی سسرال ہے اور اس کے ساتھ ہی ڈرامے کی ساری کڑیاں ملتی چلی گئیں اور یہ راز عیاں ہوگیا کہ خانصاحب اپنی سسرال کو ہم بچوں کے مہذب و مثالی کردار سے متاثر کرکے مرعوب کرنا چاہتے تھے۔ یہ تو ہمیں علم نہ ہوسکا کہ ان کی سسرال والے مرعوب ہوئے یا نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہماری زندگی باقاعدگی کے سانچے میں ڈھل گئی۔ جس کسی نے ہمیں برسرِعمل دیکھا، اسی نے ہماری تعریف کی۔ جہاں بھی ہم گئے، جن جن خواتین و حضرات سے ملے وہ سب ہمارے مہذب کردار سے متاثر اور مسرور و شادماں ہوئے اور خانصاحب کے جو ضابطے ہمیں ابتدا میں ناگوار معلوم ہوتے تھے ان ہی کی بدولت ہم اپنی زندگی میں ہر جگہ سرخرو ہوئے۔

ہمارا قیام مہمان خانے میں تھا جو تھا تو پرانی طرز کا لیکن ضرورت کی ہر چیز اس میں حاضر تھی۔ ہم بدستور خانصاحب کے ٹائم ٹیبل پر عمل کر رہے تھے۔ علی الصباح اُٹھتے، وضو کر کے نماز پڑھتے، ورزش کرتے، سیر کو جاتے، واپس آکر غسل کرتے، کپڑے بدلتے اور پھر وہی ناشتہ کھانا وغیرہ، مگر اب وہ ہم سب کو میزبان کے گھر جاکر کھانا پڑتا تھا، البتہ رات کو سوتے وقت دودھ اب بھی پیتے تھے۔ ہم ہر قسم کا لباس پہنتے، کبھی قمیض پتلون، کبھی قمیض نیکر اور کبھی قمیض یا کُرتا اور پاجامہ۔ دن کے وقت ہم آپس کے گھروں میں جا سکتے تھے لیکن ہمیں بھاگ دوڑ والے کھیل کود میں شرکت کی اجازت نہیں تھی، البتہ کیرم اور لوڈو جیسے بے ضرر کھیل کھیل سکتے تھے۔ خانصاحب بس یہ چاہتے تھے کہ ہمارے کپڑے خراب نہ ہوں اور ہم کوئی غیرمہذب حرکت نہ کریں۔ جامع مسجد مہمان خانے کے سامنے تھی۔ جمعہ کی نماز میں وہاں ہم نے اپنا ہم عمر ایک لڑکا دیکھا جس نے چوڑی مہری کا پاجامہ، قمیض اور ترکی ٹوپی پہن رکھی تھی، البتہ سر کے بال قدرے بڑے تھے جو ٹوپی سے باہر نکل رہے تھے۔ ہم نے سمجھا، نائی نہیں ملا ہوگا اس لیے بال بڑھ گئے ہیں۔ اس نے ہمیں اور ہم نے اسے غور سے دیکھا۔ میزبان کے لڑکے اسلم نے اس سے ہمارا تعارف کرایا اور نماز کے بعد ہمیں اس کے گھر لے گیا۔ اس کے والد انجینئر تھے اور والدہ گریجویٹ تھیں۔ اس زمانے میں کسی خاتون کا گریجویٹ ہونا بڑی بات تھی۔ وہ لڑکا نہیں ان کی اکلوتی لڑکی تھی اور اس کی تربیت لڑکوں کی طرح ہورہی تھی۔ اس کا نام شہربانو تھا۔ الف لیلیٰ کی کہانیوں میں یہ نام کسی شہزادی کا تھا۔ اس نام کے سوا ان کے گھر کا سارا ماحول مغربی طرز کا تھا۔ وہی رہن سہن، وہی کھانا پینا، وہی لباس، وہی آداب۔ جب ہم پہلی دفعہ اچانک ان کے گھر گئے تو شہربانو کی والدہ پتلون پہنے بیٹھی تھیں، گھر کے تینوں افراد بہت ہی خلیق، ملنسار اور متواضع تھے۔

وہ شہر کے ساتھ ہی کینال کالونی کی ایک کوٹھی میں رہتے تھے۔ ساتھ ہی ایک اصطبل میں تین گھوڑے بندھے ہوئے تھے۔ ان تینوں کو گھڑسواری کا بڑا شوق تھا۔ ہم نے بھی گھوڑے کی سواری وہیں سیکھی۔ چند روز تو ہم بہت گھبرائے لیکن آہستہ آہستہ ہمارا خوف دُور ہوگیا اور پھر تو یہ حالت ہوگئی کہ جب تک سواری نہ کرلیتے، ہمیں چین ہی نہ آتا۔ باری باری ہم چاروں شہر بانو کے ساتھ گھوڑوں پر سوار ہوکر نہر اور کھیتوں کی سیر کرتے۔ ایک مہینے تک روزانہ ہم ان کے گھر جاتے رہے، وہاں گھڑسواری کرتے، کیرم یا بیڈمنٹن کھیلتے، باتیں کرتے، کچھ کھاتے پیتے اور چلے آتے۔ ہم نے شہربانو کو کبھی لڑکیوں کے لباس میں نہ دیکھا۔ وہ ہمیشہ لڑکا بنی رہتی۔ وہ تینوں انگریزی زبان و تہذیب کے دلدادہ تھے اور جب بھی ہم نے دیکھا انہیں انگریزی لباس میں ملبوس پایا۔ انھوں نے کئی دفعہ ہماری دعوت کرنا چاہی لیکن ہم نے ہرمرتبہ خانصاحب کے ڈر سے معذرت کرلی، البتہ ہم اکثر بے وقت ان کے ساتھ کھانا کھا لیا کرتے تھے۔ وہ لوگ کھانا میز پر بیٹھ کر چھری کانٹوں سے کھاتے، ہم بھی ان کا ساتھ دیتے اور پھلوں کا تو کبھی ناغہ نہیں ہوتا تھا۔ ہم شہربانو کی ممی کو آنٹی اور پاپا کو انکل کہتے تھے۔ آنٹی ہمیں بہت پیار کرتی تھیں، انکل اکثر دورے پر ہوتے یا دفتر میں۔ ہم چاروں لڑکے شہربانو سے خاصے مانوس ہوگئے تھے اور وہ بھی ہمارا انتظار کیا کرتی۔ وہ دبلی پتلی، گورے رنگ اور نیلی آنکھوں والی تھی۔ وہ بہت خوش مزاج لڑکی تھی۔ تبسم اس کے ہونٹوں پر ہر وقت رقصاں رہتا۔ کبھی کبھی ہم نہر کے کنارے جابیٹھتے، تھوڑی دیر پانی سے کھیلتے اور پھر اپنے اپنے اسکول کی باتیں سناتے۔ دیر ہوجاتی تو آنٹی بھی چلی آتیں اور ہمارے ساتھ شامل ہوجاتیں۔ ہمارے بغیر ان کا دل ہی نہیں لگتا تھا۔ اکثر کہا کرتیں، جب تم چلے جاؤ گے تو تمہارے بغیر میرے لیل و نہار کیسے گزریں گے، عرصے تک میں تمہیں تلاش کیا کروں گی۔ بہت دن بعد جاکر کہیں یہ احساس ہوگا کہ تم لوگ چلے گئے ہو، انھوں نے اپنے کیمرے سے ہماری بہت ساری تصویریں لیں، اور ان کا ایک پوراالبم بن گیا۔رخصت ہونے سے پہلے ہم نے شہربانو کو اپنا پتا لکھایا اور اس نے اپنا پتا ہمیں دیا۔ آنٹی نے ہمیں ایک البم دیا جس میں ہماری اور ان سب کی ہر موقع کی تصویریں چسپاں تھیں۔ البم دیتے وقت انھوں نے کہا کہ یہ تصویریں دیکھتے رہنا۔ ان میں تمہارا ماضی محفوظ ہوگیا ہے۔ اب تمہارا بچپن گم نہیں ہوگا اس کی یاد تازہ رہے گی۔جب ہم آخری بار ملنے گئے تو آنٹی نے ہم چاروں کو اپنے سینے سے لگاکر بہت پیار کیا۔ ان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ دونوں ماں بیٹی نے خیریت کا خط لکھنے کی تاکید کی۔ شہربانو بہت افسردہ تھی اور ہم یہ دیکھ کر حیران تھے کہ وہ خلافِ معمول شلوار قمیص اور دوپٹے میں ملبوس تھی۔ ہماری مشرقیت نے اسے متاثر کردیا تھا۔ چلتے وقت اس نے ہم سے ہاتھ ملایا اور زاروقطار رونے لگی۔ آنٹی نے اسے اپنے گلے سے لگا لیا، سر پر ہاتھ پھیرتی اور تسلی دیتی رہیں۔ ہم نے اس کی نیلی آنکھوں میں پہلی بار آنسوؤں کے قطرے دیکھے۔

چند روز ہم نے دوسرے مقامات پر اپنے عزیزوں سے ملنے میں گزارے اور چھٹیاں ختم ہونے سے تقریباً دس دن پہلے اپنے گاؤں پہنچ گئے اور ہوم ورک مکمل کرنے میں کھو گئے۔ ہمیں شہربانو یاد ہی نہ رہی، وہ بھی البم کی طرح آہنی صندوق کے کسی گوشے میں چھپ کر بیٹھ گئی۔ اسکول کھلا تو چند روز بعد مجھے ہیڈماسٹر صاحب نے طلب فرمایا۔ وہ غصے میں بھرے بیٹھے تھے۔ میں حیران تھا کہ جب میں شرارت کرنے والے لڑکوں میں سے ہوں ہی نہیں تو وہ بلاوجہ کیوں ناراض ہورہے ہیں۔ ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ یکایک ان کی گرجدار آواز سنائی دی: ‘‘یہ شہربانو کون ہے؟’’ میں نے تفصیل بیان کردی، لیکن وہ مطمئن نہ ہوئے اور ہمارے گھر چلے آئے۔ خانصاحب سے شکایت کی تو وہ بھی حیران ہوگئے کہ یہ شہربانو کہاں سے ٹپک پڑی۔ انھوں نے بہت یاد کیا، آنکھیں بند کر کے اپنی کشادہ جبیں پر ہاتھ بھی پھیرتے رہے (حافظہ کو اپنی گرفت میں لانے کے لیے یہ ان کا معمول تھا) لیکن انہیں اپنے سسرال میں اس نام کی کوئی لڑکی کہیں نظر نہ آئی، چنانچہ ہم سب کی طلبی ہوئی۔ مجھے ازسرنو وہی قصہ دوبارہ سنانا پڑا جس کی سب لڑکوں نے تائید و تصدیق کی۔ فیصلہ پھر بھی میرے خلاف ہوا اور مجھے باقاعدہ ڈانٹ پلائی گئی اور حکم دیا گیا کہ آیندہ کسی لڑکی کا خط نہیں آنا چاہیے۔ خط مجھے پھر بھی نہ ملا، میرے سامنے ہیڈماسٹر صاحب نے خانصاحب کے حوالے کر دیا۔ پڑھ کر بھی انھیں رحم نہ آیا اورانھوں نے بھی وہ خط مجھے دینا گوارا نہ کیا۔ بہرحال میں نے چند روز کی جستجو کے بعد وہ خط ڈھونڈ نکالا اور نقل کرکے وہیں رکھ دیا۔

میں نے شہربانو کے خط کا جواب ارسال کیا اور نیا پتا بھی لکھ دیا۔ یہ زندگی میں میرا پہلا خط تھا جو کسی لڑکی کے نام لکھا گیاتھا۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ میں اسے القاب کیا لکھوں۔ پھر میں نے فیصلہ کیا کہ جب اس نے کوئی القاب نہیں لکھا تومیں القاب لکھنے والا کون ہوتا ہوں۔ چنانچہ میں نے بغیر القاب کے خط لکھ دیا۔ رفتہ رفتہ میرے نام کی رعایت سے اس نے صاحب لکھنا شروع کردیا۔ میں بھی اس کی نقل کر کے شہربانو صاحبہ لکھنے لگا۔ ہمارے خطوط تو علانیہ اس کے گھر کے پتے پر جاتے رہے تھے اور وہ انہیں اپنی ممی اور پاپا کو پڑھ کر سناتی تھی جو سن کر خوش ہوتے اور ادھر ہم تھے کہ خط بھی چوری چوری منگواتے اور انہیں چھپا کر بھی رکھتے۔ خط وکتابت کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ ہم خطوط نویسی کے ماہر ہوگئے اور مضمون نگاری بھی کرنے لگے۔ وہ ابتدا میں خط انگریزی میں لکھتی تھی اور میں جواب اُردو میں دیتا تھا۔ پھر میری فرمائش پر وہ بھی اُردو میں لکھنے لگی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے اُردو زبان و ادب کا مطالعہ شروع کردیا۔ اس نے اپنے خطوں میں بتایا: ‘‘میں بدلتی جارہی ہوں، میں نے انگریزی تہذیب سے یکسر کنارہ کرلیا ہے۔ اب کھاتے وقت چھری کانٹے استعمال نہیں کرتی، ٹوپی بھی نہیں پہنتی۔ لڑکوں کا لباس ترک کر کے لڑکیوں کا لباس پہنتی ہوں۔ بالوں میں چوٹی کرتی ہوں، ممی پاپا کی جگہ امی، ابو کہتی ہوں اور ان سے اُردو میں گفتگو کرتی ہوں۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب بھی نماز کا وقت ہوا آپ لوگ ہمارے گھر بھی نماز پڑھ لیا کرتے تھے اور مجھے ہمیشہ یہ دیکھ کر ندامت ہوتی تھی کہ مسلمان ہونے کے باوجود ہمارے گھر میں نماز کا سرے سے رواج ہی نہ تھا۔ اب میں نے باقاعدگی کے ساتھ پنج وقتہ نماز شروع کر دی ہے اور اس کوشش میں ہوں کہ کسی طرح امی ، ابو بھی نماز پڑھنے لگیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ ضرور مان جائیں گے۔ آپ یہ سن کر حیرت میں ڈوب جائیں گے کہ میں برقع بھی پہننے لگی ہوں اور ایک برقع میں نے امی کے لیے بھی سلوا لیا ہے۔ انھوں نے زندگی میں برقع کیا، چادر بھی کبھی نہیں پہنی، لیکن امید ہے کہ وہ مجھے مایوس نہیں کریں گی۔ انھوں نے کبھی میری کوئی خواہش نہیں ٹھکرائی۔ بس میں اس تذبذب میں ہوں کہ کس طرح اپنی خواہش کا اظہار کروں۔ ارادہ کر کے ان کے روبرو جاتی ہوں تو ہمت جواب دے جاتی ہے اور کچھ یہ بات بھی ہے کہ اظہار کے لیے مجھے الفاظ ہی نہیں مل رہے۔ بہرحال جس دن بھی میں نے یہ معرکہ سر کرلیا، وہ میرے لیے کامیابی کا دن ہوگا۔

شہربانو کا جب بھی کوئی خط آتا میں اسے لاکر سب کے سامنے کھولتا اور سب کو پڑھ کر سناتا، اس کی زندگی میں جو غیرمعمولی تغیر رونما ہو رہا تھا وہ دراصل ہمارے کرداروعمل کی شاندار فتح کی علامت تھی، لیکن جانے کیا بات تھی کہ ہم چاروں اس تبدیلی پر خوش نہیں تھے۔ جو بھی خط آتا وہ کسی نہ کسی تبدیلی کا مژدہ سناتا لیکن ہم چاروں افسردہ ہوجاتے، ہمارا جی چاہتا کہ وہ انگریزی بولتی رہے، مغربی لباس پہنتی رہے، چھری کانٹوں سے کھانا کھاتی رہے اور برقع کے بجائے برجس پہن کر گھوڑے کی سواری کرتی رہے۔ انگریزی تہذیب کے لوازمات ہمیں خود بھی دل سے پسند تھے اس لیے میں نے کبھی اپنے خط میں اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی اور نہ کبھی اس کی تبدیلی پر کوئی تبصرہ کیا، البتہ اس کے ہر خط کا جواب لکھنے میں باقاعدگی ضرور قائم رکھی۔

آہستہ آہستہ میرے ساتھیوں میں شہربانو کے لیے دلچسپی کم ہوتی گئی اور کچھ عرصے کے بعد نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ اس کا خط ہی سننا گوارا نہ کرتے، اور پھر انھوں نے ایک دن مجھ سے کہہ دیا کہ آپ خود ہی اس کے خط کا جواب لکھ دیا کریں۔ اس کے بعد میں خود ہی خط پڑھتا، خود ہی جواب لکھتا اور اس کے خط کا انتظار بھی خود ہی کرتا۔ شہربانو نے متعدد خطوط میں کچھ اس قسم کے خیالات کا بھی اظہار کیا: ‘‘آپ آخر میری غیرمعمولی تبدیلی پر حیران کیوں نہیں ہوئے۔ مجھے تو یہ توقع تھی کہ آپ اس حیرت انگیز انقلاب پر چونک پڑیں گے، خوشی کا اظہار کریں گے اور اپنی فتح پر پھولے نہ سمائیں گے اور سب کچھ چھوڑ کر مجھے دیکھنے کے لیے بھاگتے چلے آئیں گے۔ آپ کی عادات و اطوار نے میرے زندگی کی کایا پلٹ دی۔ میری کائنات کو زیروزبر کردیا لیکن آپ کے دل میں یہ خواہش بھی پیدا نہیں ہوئی کہ مجھے نئے روپ میں ایک نظر دیکھ ہی لیں۔ میں نے بہت انتظار کیا لیکن آپ تو موسم گرما کی تعطیلات میں بھی نہیں آئے’’۔

میں نے پھر اپنے خط میں معذرت کا اظہار کیا اور چند رسمی الفاظ تحریر کیے تاکہ اس کی کچھ نہ کچھ ڈھارس بندھ جائے۔ ندامت کا اظہار بھی کیا تاکہ وہ اپنی خوش گوار تبدیلی پر پشیمان نہ ہو اور مجھے بے مروت اور بداخلاق نہ سمجھے۔ میں نے اولین فرصت میں آنے کا وعدہ بھی کیا تاکہ میں اسے نئے روپ میں دیکھ سکوں۔ جواب آیا کہ وہ میرا بے چینی سے انتظار کر رہی ہے اور اگر آمد سے ایک دن پہلے بھی اطلاع مل گئی تو وہ برقع پہن کر ریلوے اسٹیشن پر میرا استقبال کرے گی، لیکن مجھے فرصت ہی نہ مل سکی اور ملی تو خانصاحب نے اجازت نہ دی۔ پھر دسویں کا امتحان دے کر میں علی گڑھ چلا گیا اور باقی تینوں لڑکے رائے پور سدھار گئے جہاں ان کے ابا کا تبادلہ ہوگیا تھا۔ علی گڑھ کے روح پرور ایام اور زندگی بخش ماحول میں کچھ ایسا سحر تھا کہ جو قلب و ذہن پر طاری ہوکر رہ گیا۔ آہستہ آہستہ میرے حافظے پر ماہ و سال کی گرد اس قدر جمع ہوگئی کہ سارا ماضی ہی دھندلا گیا اور شہربانو قصہ پارینہ بن کر رہ گئی۔ میں اسے کوئی خط نہ لکھ سکا اور اس بیچاری کو تو معلوم ہی نہ تھا کہ میں کہاں ہوں۔ اسی دوران میں پاکستان معرضِ وجود میں آچکا تھا۔ میں نے علی گڑھ سے ایم اے اور قانون کا امتحان پاس کیا اور پاکستان چلا آیا۔ چند ماہ کراچی میں گزارے، پھر ایک دوسرے عزیز کے ہمراہ لاہور آگیا۔

میرے کچھ عزیز و اقارب کراچی میں اور کچھ اندرون سندھ کے اضلاع میں سکونت اختیار کرچکے تھے۔ ان کا اصرار تھا کہ میں پنجاب کے بجائے سندھ میں آباد ہوجاؤں۔ میں چاہتا تھا کہ وہ سب پنجاب میں آجائیں، چنانچہ وہ سب میرے اصرار پر پنجاب دیکھنے میرے پاس آئے۔ میں نے انہیں متعدد اضلاع کی سیر کرائی، شہروں میں گھمایا، دیہات دکھائے، زمین دکھائی، نہروں کا بچھا ہوا جال دکھایا اور اپنا کیس دلائل کے ساتھ پیش کیا، لیکن ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ ان کے دل میں صحرا کی خشک اور کراچی کی مرطوب آب و ہوا بس کے رہ گئی تھی۔ وہ اس کے جال سے نکلنے پر آمادہ ہی نہ تھے۔ میں نے لاکھ زور لگایا لیکن وہ تیار نہ ہوئے۔ سندھ کی سوندھی سوندھی خوشبو والی مٹی انہیں اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ چلتے وقت انہوں نے اصرار کیا کہ پنجاب میں آباد ہونے کی حماقت کرنے سے پہلے میں سندھ کا ایک دورہ ضرور کروں۔ چنانچہ خوشگوار موسم میں، میں سندھ کی طرف نکل گیا۔ میں نے سب سے پہلے شکار کی فرمائش کی۔ وہ بھی مجھے شکار کھلا کر پھانسنا چاہتے تھے، اور واقعی ہر قسم کا شکار وہاں تھا بھی بہت زیادہ۔ میں وہاں کئی ماہ رہا اور شاید ہی کوئی دن شکار کے بغیر گزرا ہو۔

ایک دن شکار کھیلنے گیا تو میں نے ایک لڑکی کی شہرت سنی کہ وہ بہترین شکاری ہے، بہترین نشانہ باز ہے، گھوڑے کی سواری اس شان سے کرتی ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے اور ایسی شہ سوار ہے کہ مرد بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ قابلِ تحسین بات یہ کہ ہر وقت پردہ کرتی ہے حتیٰ کہ گھوڑے پر بھی نقاب پہن کر سوار ہوتی ہے اور اسی عالم میں فائر کرتی ہے۔ پھر لطف یہ ہے کہ کبھی اس کا نشانہ خطا ہوتے ہوئے بھی نہیں دیکھا۔ جونہی اس کے شکار کھیلنے کی خبر پھیلتی ہے اسے دیکھنے کے لیے لوگوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگ جاتے ہیں۔ سنا ہے برقع اس کے روز مرہ کے معمول میں شامل ہے اور آج تک کسی غیرمحرم نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ابھی تک اس نے شادی نہیں کی۔ لوگوں نے اسی قسم کی اور بہت سی باتیں سنائیں اور اس کی تعریف کے پُل باندھ دیئے۔ مجھے یہ سب کچھ خواب معلوم ہوا، پھر بھی ایک لڑکی کے متعلق محیرالعقول لیکن چشم دید زندہ حکایتوں کی فہرست اتنی طویل تھی کہ میں اسے ایک نظر دیکھنے کے لیے بے چین ہوگیا۔ اپنے میزبانوں کی مدد حاصل کرکے معلومات کرائی گئیں، رابطہ قائم ہوا اور آخرکار ایک شکار کا پروگرام طے ہوگیا۔ میں نے بھی شکار کی تیاری کی۔ ہفتہ بھر گھوڑے کی سواری کی۔ میں چونکہ یہ سواری چھوڑ چکا تھا، اس لیے پہلے دن تو مجھے کچھ تکلیف محسوس ہوئی لیکن پھر سارا سارا دن مختلف گھوڑوں کی پیٹھ پر رہنے کے باعث خاصی مشق ہوگئی۔

پھر وہ دن آیا جب میں نے اس نقاب پوش لڑکی کے ساتھ شکار کھیلا۔ بہت کوشش کی کہ کسی طرح اس کا چہرہ نظر آجائے، مگر ناکام رہا۔ اس نے مردوں کے ساتھ کھانے میں بھی شرکت نہ کی اور نماز بھی کسی وقت کی قضا نہ ہونے دی۔ ضرورتاً وہ مجھ سے ہم کلام بھی ہوئی، لوگوں کو ہدایات بھی دیتی رہی، لیکن کسی کو بے تکلف نہ ہونے دیا اور جو کچھ میں نے کانوں سے سنا تھا وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیا۔ اس نے فی الحقیقت اپنے طرزِعمل سے یہ ثابت کردیا کہ اسلام کی حدود میں رہ کر سب کچھ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے کردار نے ہم سب کو بہت متاثر کیا اور جو لوگ نماز نہیں پڑھتے تھے وہ بھی پڑھنے لگے۔ صحبت صالح ترا صالح کند۔

رخصت ہونے سے پہلے اس نے ہم سب شکاریوں کو اپنے گھر کھانے کی دعوت دی۔ میز پر انواع و اقسام کے پُرتکلف کھانوں کے علاوہ وہ سویٹ ڈش بھی تھی جو میں نے اکثر شہربانو کے گھر کھائی تھی، اور یہ اس کے گھرانے کی مخصوص ڈش تھی۔ میں حیران تھی کہ آخر یہ ڈش یہاں کس طرح آگئی۔ کھانے سے فراغت پاکر میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اس کی والدہ نے ہم سب کو اندر بلایا، ہم سب چائے پیتے رہے اور وہ ہم سے باتیں کرتی رہیں۔ اس لڑکی کا نام عظمیٰ تھا۔ اس کے والد پاکستان آکر وفات پاچکے تھے۔ اب گھر میں وہ اور اس کی والدہ تھیں۔ وہ ان کی اکلوتی لڑکی تھی۔ ملازم اسے ‘‘باجی’’ اور اس کی والدہ کو ‘‘بیگم صاحبہ’’ کہتے تھے۔ عظمیٰ ہمارے سامنے نہیں آئی۔ اس کی والدہ کو دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں نے انہیں کہیں دیکھا ہے۔ لیکن سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کہاں دیکھا ہے۔ میں نے ان سے دوبارہ ملنے کی خواہش کااظہار کیا اور میں جب تنہا ان سے ملا تو ان سے کہا: ‘‘آپ کو دیکھ کر مجھے شہربانو کی ممی یاد آتی ہیں’’۔ انھوں نے استفسار کیا: ‘‘شہربانو کون تھی؟’’میں نے انہیں سارا قصہ سنایا۔ انھوں نے غور سے مجھے دیکھا اور دریافت کیا: ‘‘تمہارا کیا نام ہے؟’’میں نے اپنا نام بتایا تو انھوں نے مجھے بہت پیار کیا اور میری اتنی بلائیں لیں کہ مجھے اپنی والدہ یاد آگئی۔ میں نے دیکھا، ان کی آنکھیں آنسوؤں سے لباب بھری ہوئی تھیں۔ اس اچانک تبدیلی پر مجھے بڑا تعجب ہوا۔ ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ یکایک انھوں نے عظمیٰ کو آواز دی۔ مجھے ساتھ والے کمرے سے کسی کی آہٹ سنائی دی۔ یوں محسوس ہوا جیسے عظمیٰ ہماری باتیں سن رہی تھیں۔ ماں نے اسے بلایا تو اس نے میرے سامنے آنے سے گریز کیا اور کہا: ‘‘میں ان کے سامنے کس طرح آؤں؟’’ انھوں نے جواباً کہا: ‘‘آجاؤ، کوئی بات نہیں ہے’’۔اور جب عظمیٰ شرماتی ہوئی میرے سامنے آئی تو وہ عظمیٰ نہیں، شہربانو تھی۔ شرم و حیا کا پیکر، شلوار قمیص اور دوپٹے میں ملبوس۔ یہ وہ شہربانو نہیں تھی جو مغربی طرزِ حیات کی علمبردار تھی اور جسے میں نے اپنے لڑکپن میں ایک چھوٹے سے قصبے کی کینال کالونی کی ایک کوٹھی میں دیکھا تھی۔ یہ نئے روپ، نئے لباس، نئے مکتب فکر اور نئے ضابطہ حیات کی نمائندہ شہربانو تھی۔

نیلی آنکھوں میں وہی سرور انگیز چمک اور گہرائی جو کسی جھیل میں ہوتی ہے کہ دل ڈوب جانے کو مچلنے لگے۔ دلکش چہرے کے وہی مانوس نقوش، دلفریب خدوخال کی وہی ذہانت آمیز معصومیت، وہی پاکیزہ تبسم، نہ لڑکوں کا سا لباس، نہ لڑکوں جیسے بال، نہ لڑکوں والی بیباکی، ساری ہیئت ہی بدل گئی تھی۔ زندگی نئے روپ میں زیادہ پُرکشش ہوگئی تھی۔ میں نے کہا: ‘‘شہربانو تم! عظمیٰ کہاں ہے؟’’ میری طرف دیکھے بغیر کہنے لگی: ‘‘میں ہی عظمیٰ ہوں، میں ہی شہربانو ہوں’’۔میں نے پوچھا: ‘‘اور وہ تمہاری ٹوپی کہاں چلی گئی؟’’کہنے لگی : ‘‘ٹوپی نے دوپٹے کی شکل اختیار کرلی’’۔

میرے احباب چلے گئے اور میں وہاں رہ گیا، تمام رات ہم ایک دوسرے کو اپنی اپنی داستان سناتے رہے۔ شہربانو اور اس کی ممی مشترکہ طور پر اور میں تنہا ‘‘بلاشرکت غیرے’’۔ میری داستان ہی کیا تھی۔ جب تک خط و کتابت رہی، شہربانو کا تھوڑا بہت خیال رہا۔ علی گڑھ جاکر میں سب کچھ بھول گیا۔ پھر سندھ میں شکار کھیلنے تک اس کے تصور کا ہر نشان میرے ذہن سے محو ہوچکا تھا اور میں گمان بھی نہیں کرسکتا تھا کہ گھوڑے پر سوار ہوکر شکار کھیلنے والی لڑکی شہربانو ہوسکتی ہے۔ آنٹی اور انکل کی داستان حسرتوں سے بھری ہوئی بے رنگ سی داستان تھی۔ اگر وہ اس کے والدین نہ ہوتے تو اس میں داستان والی کوئی کیفیت ہی نہ ہوتی۔ اصل داستان تو شہربانو کی تھی جس کا آغاز ہماری ملاقات سے ہوا۔ پھر ہم سب کے اخلاقی اطوار اور مذہبی رجحان سے وہ متاثر ہونے لگی۔ ایک ڈیڑھ سال کی خط و کتابت نے اس کے خیالات و نظریات کو مزید مستحکم کردیا۔ اسی اثناء میں وہ شوریدہ سرجذ بات کی سرحد میں داخل ہوگئی اور ساتھ ہی اس کے قلب و ذہن میں رفاقت کا تصور بھی اُبھرا اور چونکہ ان نازک لمحات میں وہ مجھ سے خط و کتابت کر رہی تھی، اس لیے مجھے ہی اس نے اپنا آئیڈیل بنالیا۔ پھر جب شادی کی تجویز سامنے آئی تو وہ ٹالتی رہی اور جب والدین نے اصرار کیا تو اس نے انکار کردیا۔ کوئی رشتہ اسے شادی پر مائل نہ کرسکا۔ پھر برسوں وہ مجھے تلاش کرتے رہے اور جب پاکستان آکر اس نے کبھی شادی نہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو اس کے والد اس صدمے کی تاب نہ لاکر اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اسلام کی محبت اور احکامِ الٰہی کی اطاعت اس کا ایمان بن چکی تھی، چنانچہ ان حدود میں رہ کر اس نے شکار کو اپنا مشغلہ بنا لیا اور شادی کے تصور سے یکسر کنارا کرلیا۔

تمام رات چائے کا دور چلتا رہا اور ہم داستان سنتے اور سناتے رہے حتیٰ کہ جب نازک مرحلہ آیا تو شہربانو اُٹھ کر چلی گئی۔ آنٹی نے یہ موقع غنیمت جانا اور وہ غبار جو ان کے سینے میں طوفان برپا کر رہا تھا یکایک زبان پر آگیا۔ کہنے لگیں: ‘‘اب تم پوری کہانی سن چکے ہو، یہ بتاؤ کہ اب ہمیں چھوڑ کر چلے تو نہیں جاؤ گے؟ برسوں ہم نے تمہارا انتظار کیا۔ برسوں ہم تمہیں تلاش کرتے رہے۔ نہ جانے تم کیا جادو کرکے چلے گئے کہ ہم تمہیں بھول نہ سکے۔ تمہاری ادائیں کچھ ایسی مسحور کن تھیں کہ تم ہمارے دلوں میں بس گئے اور پھر نکل ہی نہ سکے۔ ہم نے برسوں تمہاری باتیں کی ہیں، ہر روز تمہیں یاد کیاہے، آہیں بھری ہیں، آنسو بہائے ہیں، لیکن تم نے پلٹ کر نہیں دیکھا، نہ جانے کہاں چھپے رہے۔ اب چلے جاؤ گے تو وہ زندہ نہیں رہے گی’’۔

میں نے سر جھکاتے ہوئے جواب دیا: ‘‘آنٹی! پہلے میں اس کا آئیڈیل تھا، اب وہ میری آئیڈیل ہے، میں آپ کو چھوڑ کر کہاں جاسکتا ہوں؟’’

چند روز بعد میری اور اس کی شادی ہوگئی اور میں سندھ کے جنت نظیر گوشے میں آباد ہوگیا۔ یہی مقصد میرے احباب کاتھا۔ وہ جیت گئے، میں ہار گیا لیکن یہ ہار اگرچہ حقیقت ہے مگر افسانہ معلوم ہوتی ہے۔٭٭٭