نعت رسول کریمﷺ

مصنف : حافظ لدھیانوی مرحوم

سلسلہ : نعت

شمارہ : اگست 2008

 

شرف کی بات ہے مداح محبوب خدا ہونا
جناب سرورِ کونینؐ کا مدحت سرا ہونا
 
ترستے ہیں شہنشاہِ زمانہ ایسی عظمت کو
بڑی ہے خوش نصیبی آستانے کا گدا ہونا
 
دیار مصطفےٰؐ میں کوئی رنج و غم نہیں رہتا
کرم کی بات ہے ایسی فضاؤں میں مرا ہونا
 
کسی بھی دور میں یہ جذب الفت کم نہیں ہو گا
رہے گا یوں ہی ناموس رسالت پر فدا ہونا
 
فقط اہل بصیرت ہی حقیقت کو سمجھتے ہیں
رسول پاکؐ کے نقش قدم کا رہنما ہونا
 
رقم کرتا ہوں جب نعتیں بڑی تسکین ہوتی ہے
دلیلِ لطف ہے رحمت کا مجھ پر باب وا ہونا
 
کِیا ہے عجز کا اظہار یاں ہر اک سخن ور نے
بہت مشکل ہے نعت مصطفی کا حق ادا ہونا
 
ہے یہ بھی رحمت عالمؐ کا اندازِ کرم حافظؔ
حضوری میں ہوا محسوس اشکوں کا دعا ہونا
 
حافظؔ لدھیانوی (۱۹۲۱؍۱۹۹۹ء)پاکستان کے صف اول کے نعت گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا اصل نام سراج الحق تھا۔ ان کے والد حافظ قرآن اور قادر الکلام شاعر تھے۔ احقرؔ تخلص کرتے تھے۔ حافظؔ نے بھی ۱۹۳۵ ء میں حفظ قرآن کی تکمیل کی۔ ۱۹۳۸ء میں لدھیانہ سے میٹرک کرنے کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے کیا۔ تکمیل تعلیم کے بعد ملازمت اختیار کی اور ساتھ ساتھ شعرو شاعری کا سلسلہ جاری رکھا۔ انہوں نے حمد ونعت کو اپنا میدان چنا اور مدحت مصطفی ؐ میں خصوصی طور پر شہرت حاصل کی۔ کلام نیرنگ خیال، ادب لطیف، مخزن، عالم گیر، ہمایوں اور دیگر موقر رسائل و جرائد میں شائع ہوتا رہا۔ حافظؔ نے مسدس، مخمس، رباعی، قطعہ، غزل غرض ہر صنفِ سخن میں طبع آزمائی کی۔ ‘‘خامہ مژگان’’ پہلا مجموعہ کلام ہے۔ بعد ازاں ثنائے خواجہؐ، مدحت، مصطفیﷺ، نشید حضوریؐ، متاع بے بہا، کیف مسلسل، نعتیہ قطعات اور ذوالجلال والاکرام کے نام سے نعتیہ و حمدیہ کلام کے مجموعے شائع ہوئے۔ نثر میں جمال حرمین(سفرنامہ حجاز) اور متاع گم گشتہ(شخصی خاکے) ان کی یادگار ہیں۔ ان کا کلام سوزو کیف، عقیدت و محبت رسولؐ اور ایمان و یقین کی دولت مندی سے مالا مال ہے۔ زبان با محاورہ، صاف ستھری اور ٹکسالی ہے۔ (تعارف و انتخاب نعت ، پروفیسر خضر حیات ناگ پوری)