دین اخلاص اور خیرخواہی کا نام ہے

مصنف : مجاہد شبیر احمد فلاحی قاسمی

سلسلہ : اصلاح و دعوت

شمارہ : اگست 2009

عَنْ تَمِیْم ِالدَّاری ؓ أنَّ النَّبِیَﷺ قَالَ: اَلْدِّیْنُ اَلْنَّصِْیحۃُ قُلْنَا لِمَنْ؟ قَالَ: لِلّٰہِ وَلِکِتَابِہِ، لِرَسُوْلِہ، وَلِأئِمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ وَعَامَّتِہِمْ (مسلم:کتاب الایمان، باب بیان أن الدین النصیحۃ: ۹۵)

حضرت تمیم داریؓ سے روایت ہے کہ نبی ؐ نے فرمایا:‘‘دین خیر خواہی کا نام ہے’’۔ہم نے پوچھا:کس کے لیے؟آپؐ نے فرمایا:‘‘اللہ کے لیے،اس کی کتاب کے لیے،اس کے رسول کے لیے،مسلمانوں کے ائمہ کے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے’’

عربی زبان میں ‘اَلنَّصِیْحَۃُ’ اخلاص کو کہتے ہیں ۔لغت میں ‘نُصْحاً ’کے معنی خالص ہونا۔جیسے نَصَحَ الشَّئیُ: خالص ہونا،بے غل و غش ہونا ،اسی طرح۔ نَصَحَ الْقَلْبُ:دل کا کھوٹ وغیرہ سے پاک ہونا اور نَصَحَ لَہُ:یعنی ایسی بات کرنا جس سے محبت اور شفقت کا اظہار ہو رہا ہو، جو اس کے شایاں شان اور موافق ہو اور جس سے اس کو ئی ضرر لاحق نہ ہو رہا ہو۔

یہ حدیث عظیم الشان مرتبہ کی حامل ہے۔علماء نے لکھا ہے کہ یہ حدیث ان چار حدیثوں میں سے ایک ہے جو اسلام کے تمام امور کی جامع ہیں اور جن پر اسلام کا دارومدار ہے۔(مسلم شرح النووی ص۳۷ جلد اول جز۲)

اس حدیث میں اللہ کے رسولؐ نے فرمایا :دین اخلاص اور خیر خواہی کا نام ہے۔گو کہ اگر انسانی مزاج میں اخلاص نہ ہو بلکہ اس کی جگہ پر کھوٹ،بغض،حسد،کینہ،ہٹ دھرمی اور ذاتی مفادات ہوں تو اس کو دین قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔اس لیے کہ دین اللہ کے نذدیک صرف اسلام ہی ہے۔اور اسلام سِلْمٌ سے بنا ہے جس کے معنی امن و آشتی۔اور جہاں پر خلوص اور خیر خواہی کا جذبہ ہو وہاں امن و آشتی کا ہونا لازمی ہے۔

صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے جب اللہ کے رسولؐ کی یہ حدیث سنی تو انہوں نے پوچھا اے اللہ کے رسول !یہ خلوص اور خیر خواہی کا جذبہ ہم اپنے دلوں کے اندر کس کے لیے پیدا کریں؟ اللہ کے رسولؐ نے ترتیب کے ساتھ پانچ چیزوں کا تذکرہ کیا۔

ا-اللہ کے لیے:

اللہ کے لیے خلوص کا مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ کو ایک جانیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔اسی طرح اللہ کی صفات کو اسی کے لیے مختص کریں جیسے خالق، مالک، رازق، حافظ، رحمن،رحیم،حیّ،قےّوم وغیرہ صفات اسی کے شایاں شان ہیں۔قرآن شریف میں بے شمار مواقع پر اللہ تعالی کی صفات کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔کوئی بھی مخلوق ان صفات کی متحمل نہیں ہو سکتی۔جیسے سورہ شوری کی یہ تین آیات: ہُوَ اللَّہُ الَّذِیْ لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ ہُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِیْمُ ۔ ہُوَ اللَّہُ الَّذِیْ لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ الْمَلِکُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُہَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّہِ عَمَّا یُشْرِکُونَ ۔ ہُوَ اللَّہُ الْخَالِقُ الْبَارِءُ الْمُصَوِّرُ لَہُ الْأَسْمَاء الْحُسْنَی یُسَبِّحُ لَہُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْم﴾(الحشر:۲۲۔۲۴)

‘‘وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ،غائب اور ظاہر ہر چیز کا جاننے والا ،وہی رحمان اور رحیم ہے ۔وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ،وہ بادشاہ ہے نہایت مقدس،سراسر سلامتی امن دینے والا، نگہبان، سب پر غالب،اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا،اور بڑا ہی ہوکر رہنے والا،پاک ہے اللہ اس شرک سے جو لوگ کر رہے ہیں۔وہ اللہ ہی ہے جو تخلیق کا منصوبہ بنانے والااور اس کو نافذ کرنے والا اور اس کے مطابق صورت گری کرنے والا ہے۔اس کے لیے بہترین نام ہیں ۔ہر چیز جو آسمان اور زمین میں ہے اس کی تسبیح کر رہی ہے،اور وہ زبردست اور حکیم ہے’’۔

اس کے علاوہ اللہ کو ہی قانون ساز تسلیم کرنا،اسی کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا ،اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنا یہ سب اسی اخلاص کے مظاہر ہیں۔اسی بات کو اللہ کے رسولؐ نے ایک چھو ٹے سے فقرے میں یوں بیان کیا ہے: رَضِیْتُ بِاللّٰہِ تَعَالَی رَبا(مسلم کتاب الایمان)

‘‘میں اللہ کے رب ہونے پر راضی ہوا’’۔یعنی اس اقرار کے بعد اگر پوری دنیا میری مخالف ہو جائے تب بھی میں اس عہد سے نہ پھروں گا۔اللہ کو رب تسلیم کرنے کا مطلب تمام غیر اللہ کا انکار ،چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہوں۔اور اللہ کو رب تسلیم کرنے کے بعد جو کیفیت ایک بندے کی ہوتی ہے،اس کا بیان اس آیت میں ہوا ہے: إِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن (الانعام: ۱۶۲)

‘‘بے شک میری نماز اورمیری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے’’۔ یہ تمام اعما ل ادا کرتے ہوئے اسے کسی اور کی خوشی اور رضا مطلوب نہیں ہوتی،اسے کسی کے انعام و اکرام کا لالچ نہیں ہوتا،وہ اللہ کی محبت پر کسی کی محبت کو ترجیح نہیں دیتا ،وہ مال کی محبت کے باوجود اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے : وَآتَی الْمَالَ عَلَی حُبِّہِ (ا لبقرۃ:۱۷۷) ۔وہ کھلاتا ہے تو صرف اپنے رب کی خوشنودی کے لیے: إِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللَّہِ لَا نُرِیْدُ مِنکُمْ جَزَاءً وَلَا شُکُوراً (الدھر:۹)

‘‘ہم تو صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے تم کو کھلاتے ہیں ،ہم آپ کے کسی بدلے اور شکرئے کے طلب گار نہیں ہیں’’۔وہ اگر جڑتے ہیں تو اللہ کے لیے،محبت کرتے ہیں تو اللہ کے لیے،نفرت کرتے ہیں تو اللہ کے لیے،کچھ دیتے ہیں تو اللہ کی خوشنودی کی خاطر،منع کرتے ہیں تو طلب رضا کے لیے: مَنْ أحَبَّ لِلّٰہِ وَأبْغَضَ لِلّٰہِ وَأعْطَی لِلّٰہِ وَمَنَعَ لِلّٰہِ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ الْاِیْمَانُ (ابو داؤد،کتاب السنۃ،باب الدلیل علی زیادۃ الایمان و نقصانہ:۴۶۸۱)

‘‘جس نے اللہ کے لیے محبت کی ،اللہ ہی کی خاطر کسی سے نفرت کی،اللہ ہی کی رضا کے لیے دیا اور اللہ کی خوشنودی کے لیے منع کیا تو اس کا ایمان مکمل ہوگیا’’ ۔

گوکہ اس کی زندگی کا لمحہ لمحہ اللہ کی بندگی میں گذرتا ہے ۔ان تمام معاملات میں وہ اپنی خواہش کا پیرو نہیں ہوتا ،بلکہ اس کے رب نے جس چیز کے کرنے کا حکم دیا ہے،اس پربغیر کسی لیت و لعل کے عمل کرتا ہے اور اس کے رب نے جس چیز سے بھی روکاہے اس سے رک جاتا ہے : إِذْ قَالَ لَہُ رَبُّہُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ (البقرۃ:۱۳۱) ‘‘جب اس کے رب نے اس سے کہا :مسلم ہو جا،تو اس نے فوراً کہا میں مالک کائنات کا مسلم ہوگیا’’ ۔

اسی طرح ایک بندہ ہر وقت قولاً اور فعلاً اس چیز کا اظہار کرے کہ:اے اللہ!بلاشبہ ہم تجھ سے ہی مدد کی درخواست کرتے ہیں ،ہم تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں ،ہم تجھ پر ایمان اور یقین رکھتے ہیں ،ہم تیری بہترین ثنا کرتے ہیں ،ہم تیرا شکر بجا لاتے ہیں ،ہم تیری ناشکری نہیں کرتے،ہم ان لوگوں سے ترک تعلق کرتے ہیں ،جو تیرے نا فرمان ہیں ۔اے اللہ!ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں ،ہم تیرے ہی لیے نماز ادا کرتے اور تیرے ہی حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں ،تیری ہی طرف دوڑتے اور تیرے ہی احکام کی تعمیل میں کمر بستہ رہتے ہیں،ہم تیری ہی رحمت کی امید رکھتے ہیں ،ہم تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں ،بلا شبہ تیرا سنگین عذاب کفار پر چھا کر رہے گا۔ (اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَ نَسْتَغْفِرُکَ۔۔۔۔۔۔اِنَّ عَذَابَکَ الْجَدِّبِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ)۔ اگر کسی کے اندر واقعی یہی کیفیت پیدا ہوتی ہے،تو یہی دراصل اللہ کے لیے نصح اور خیر خواہی ہے۔

۲۔اللہ کی کتاب کے ساتھ خیر خواہی:

اللہ کی کتاب کے ساتھ خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے اس بات پر ایمان لایا جائے کہ یہ کتاب اللہ کی نازل کردہ ہے۔ جس کو اللہ نے اپنے برگزیدہ فرشتے کے ذریعے اپنے پیغمبرآخر الزماں حضرت محمد ؐ پر نازل کیا۔اور اس میں کسی طرح کی کوئی ٹیڑھ نہ رکھی : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِیْ أَنزَلَ عَلَی عَبْدِہِ الْکِتَابَ وَلَمْ یَجْعَل لَّہُ عِوَجَا (الکہف:۱)

‘‘تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر یہ کتاب نازل کی اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہ رکھی’’۔

اس میں کوئی شک و شبہہ کی گنجائش نہیں لَارَیْبَ فِیْہِ۔اگر کوئی چیز انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوئی تو وہ یہی کتاب ہے: ھُدَی لِلنَّاسِ۔اس کے علاوہ اس کتاب کے تمام احکام کو بے چوں چرا تسلیم کیا جائے ،اور ان میں تھوڑی سی بھی تبدیلی کو گوارا نہ کیا جائے۔ عملی طور پر اللہ کی کتاب کے ساتھ خیر خواہی یہ ہے کہ اس کی تلاوت اس طرح کی جائے جیسا کہ اس کا حق ہے: الَّذِیْنَ آتَیْنَاہُمُ الْکِتَابَ یَتْلُونَہُ حَقَّ تِلاَوَتِہِ (البقرۃ:۱۲۱)

‘‘جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے’وہ اُس سے اُس طرح پڑھتے ہیں جیسا کی پڑھنے کا حق ہے’’۔اس کو سمجھنے اور سمجھا نے کی کوشش کی جائے،اس کو یادکیا جائے ،اس کی حقیقی دعوت کو عام کیا جائے،اس کے احکام تمام انسانوں کو سنائے جائیں ،اور ان کو اپنی عملی زندگی میں اپنایا جائے۔اگر صرف کتاب اللہ کی تلاوت کی جائے اور باقی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہواجائے ،یا اس کو چھوڑ کر انسانوں کی لکھی ہوئی کتابوں کے ساتھ اتنی عقیدت برتی جائے کہ کلام اللہ کی عقیدت ماند پڑ جائے تو یہ قرآن کے ساتھ خیر خواہی نہیں بلکہ زیادتی ہے۔انہی لوگوں کے بارے میں قیامت میں کہا جائے گا : وَقَالَ الرَّسُولُ یَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِیْ اتَّخَذُوا ہَذَا الْقُرْآنَ مَہْجُوراً (الفرقان:۳۰) ‘‘اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب ،میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانۂ تضحیک بنا لیا تھا’’۔

۳-اللہ کے رسولﷺ کے ساتھ خیر خواہی :

اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد ؐکو اللہ تعالی کا بندہ اور اس کا رسول تسلیم کیا جائے ،آپ ؐ کی تمام تعلیمات پر صدق ِ دل سے ایمان لایا جائے،آپ ؐ کے اوامر اور نواہی کی اطاعت کی جائے اور آپ ؐ کے لائے ہوئے دین کی حفاظت کے لیے ہمیشہ تیار رہا جائے ۔ان لوگوں کو دشمن سمجھا جائے جو اللہ کے رسول ؐ کے ساتھ دشمنی کرتے ہوں اور ان لوگوں کے ساتھ خوش گوار تعلقات رکھے جائیں جو اللہ ے رسول ؐ کے ساتھ اپنی محبتوں اور عقیدتوں کو جوڑتے ہوں۔اللہ کے رسول ؐ کی عزت و توقیر کی جائے ،آپ کی سنتوں کو زندہ کیا جائے،آ پؐ کی لائی ہوئی شریعت کی طرف دعوت دی جائے اور اس کی اشاعت کی جائے۔آپﷺ کے خلاف لگائے جانے والے الزامات و اعتراضات کا منہ توڑ جواب دیاجائے۔ دراصل یہ تمام چیزیں آپ ؐ کی خیر خواہی کے اجزاء ہیں۔اسی طرح آپ ؐ کے علوم کی نشر و اشاعت کرنا اور ان میں غور و فکر کرنا ،لوگوں کو اس کی طرف بلانا اور ان کو سیکھنا اور سکھانا اور احادیث کے دروس کے وقت ادب و اکرام کا مظاہرہ کرنا ،اور خاموشی کے ساتھ سننا بھی اس میں شامل ہیں۔آپ ؐ کے اہل بیت اور صحابہ ؓ کی محبت اپنے دلوں میں پیداکرنااورجو شخص آپ ؐ کی لائی ہوئی شریعت میں بدعت کا مرتکب ہو رہا ہو اس سے لاتعلقی کا اظہار کرنا بھی اسی کے مظاہر ہیں۔ اس کے علاوہ آپ ؐ کی محبت کو تمام محبتوں پر غالب رکھنا کمالِ ایمان اور کمالِ اخلاص کی دلیل ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا: لَا یُوْمِنُ أحْدُکُمْ حَتّی أکُوْنَ أحَبُّ الَیْہِ مِنْ وَالِدِہِ وَوَلَدِہِ وَالْنَّاسِ أجْمَعِیْنِ (بخاری ،کتاب الایمان، باب حب الرسول من الایمان،رقم:۱۵) ۔

اور مزید اپنی تمام خواہشات کو اللہ کے رسولﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے تابع کرنا ایمان کو مزید پختگی بخشتا ہے:﴿ لَا یُوْمِنُ أحْدُ کُمْ حَتَّی یَکُوْنُ ھَوَاہُ تَبْعاًً لِمَا جِءْتُ بِہِ ﴾ ۔

۴-ائمہ مسلمین کے ساتھ خیر خواہی:

ائمہ سے مراد مسلمانوں کے خلفاء اور ان کے اُمراء ہیں۔اور ان کے ساتھ خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ حق کے معاملے میں ان کی اطاعت کی جائے اور ان کی معاونت کی جائے۔اگر ان سے کبھی صحیح راستے سے انحراف ہو رہا ہو تو بہت ہی نرمی اور محبت کے ساتھ بغیر عوام میں اس کو مشتہر کرکے ان کو اس کی طرف متوجہ کیا جائے۔اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: مَنْ أرَادَ أنْ یَنْصَحَ بِسُلْطَانِِ بِأمْرِِ فَلَا یُبْدِلَہُ عَلَانِیَۃً،وَلٰکِنْ لِیَأْخُذَ بِیَدِہِ ،فَیَخْلُوَ بِہِ ،فَاِنْ قَبِلَ مِنْہُ فَذَاکَ وَ اِلَّا کَانَ قَدْادَّی الَّذِیْ عَلَیْہِ لَہُ ﴾ (مسند احمد: ۳؍۴۰۴ ،رقم:۱۵۴۰۸)

‘‘ تم میں سے جو شخص کسی حکمران کو کسی چیز کی نصیحت کرنا چاہے تو علانیہ اس کا اظہار نہ کرے ،بلکہ اس کا ہاتھ پکڑ کراسے تنہائی میں نصیحت کرے۔اگر اس نے قبول کی تو بہتر، ورنہ تو تم نے اپنی ذمہ داری ادا کر ہی دی’’۔

اگر حقوق کے سلسلے میں وہ کوتاہ محسوس ہو رہے ہوں تو امن کے ساتھ ان سے مطالبہ کیا جائے۔کبھی ان کے خلاف بے جا بغاوت نہ کی جائے،بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی ان کی اطاعت پر ابھارا جائے۔اللہ تعالی نے جہاں قرآن مقدس میں اطاعت اللہ اور اطاعتِ رسول ؐ کا تذکرہ کیا ہے وہیں اُولُوالامر کا بھی تذکرہ کیا ہے۔مگر اللہ اور اس کے رسول ؐ کی اطاعت غیر مشروط طریقے پر مطلوب ہے اور اولوالامر کی اطاعت مشروط ہے۔یعنی جب تک یہ لوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکام کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہوں تب تک ان کی اطاعت کی جائے ۔اگر وہ کسی معاملے کو رائج کرنا چاہیں جو اللہ اور اس کے رسولؐ کے خلاف ہو تو وہاں ان کی اطاعت نہ کرنا ہی ان کے ساتھ خیر خواہی ہے: لَا طَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃِاللّٰہ ﴾(کتاب الامارۃ’باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ و تحریمھا فی معصیۃ :۴۷۶۵)

اللہ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں)۔

اِنَّماالطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ (کتاب الأحکام’باب السمع و الطاعۃ للامام ما لم تکن معصیۃ: ۷۱۴۵’مسلم’کتاب الامارۃ:۴۷۶۵)

‘‘اطاعت تو معروف میں ہے’’ ۔

علامہ خطابی ؒ فرماتے ہیں:‘‘ ائمہ المسلمین کے ساتھ خیر خواہی یہ ہے کہ ان کے پیچھے نماز پڑھی جائے ،ان سے مل کر جہاد کیا جائے اور صدقات کو ان کے حوالے کیا جائے اور جب ان کی طرف سے ظلم کا اظہار ہو رہا ہو تو تلوار لے کر ان کے خلاف بغاوت نہ کی جائے،بلکہ ان کو صلح و صفائی کی دعوت دی جائے’’(مسلم شرح النووی، ج۱، جز۲، ص۳۸)۔

بعض لوگوں نے ائمہ مسلمین میں گروہ علماء کو بھی شامل کیا ہے ۔ان کے ساتھ خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ دین کے بارے مین ان کے اقوال کو قبول کیا جائے اور احکام میں ان کی تقلید کی جائے اور ساتھ ہی ان کے بارے میں حسن ظن رکھا جائے۔

۵-عام مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی:

عام مسلمانوں سے خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کیا جائے ،ان کو کسی قسم کی کوئی تکلیف پہنچانے سے گریز کیا جائے ۔جس طرح کے بھی حقوق ان سے متعلق ہوں ان کو فرض سمجھ کر ادا کر دیا جائے مثلاً ہمسایہ ہو تو اس کے ساتھ کسی ظلم و جبر کا معاملہ نہ کیا جائے ۔اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:

لَا یَدْخُلُ الْجَنَٰۃَ مَنْ لَا یَامَنُ جَارُہُ بَوَائِقَہ (مسلم ،کتاب الایمان، باب بیان تحریم ایذاء الجار’ ۱۷۲)‘‘وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کا ہمسایہ اس کے شر سے محفوظ نہ ہو’’۔مہمان کے بارے میں فرمایا: مَنْ کَانَ یُومِنُ بِاللٰہ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ ( بخاری ، کتاب الادب، باب اکرام الضیف: ۶۱۳۵)‘‘جو شخص آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے’’۔اسی طرح ان کے ان پڑھ لوگوں کو تعلیم دی جائے،کمزوروں کی مدد کی جائے،یتیموں اور مسکینوں کے مسائل میں دلچسپی لی جائے،اپنے قول و فعل سے ان کی مدد کی جائے اور ان کے عیوب کو چھپایا جائے۔بڑوں سے عزت اور چھوٹوں سے شفقت کا معاملہ کیا جائے۔اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: مَنْ لَمْ یَرْحَم ْصَغِیْرَ نَا وَ لَمْ یُؤ َقِّرْ کَبِیْرَنَا فَلَیْسَ مِنَّا (ترمذی،کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی رحمۃ الصبیان: ۱۹۱۹، ابوداؤد، باب فی الرحمۃ :۴۹۴۳)

‘‘ وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو چھوٹوں کے ساتھ شفقت اور بڑوں کے ساتھ عزت و اکرام کا معاملہ نہ کرتا ہو’’۔اس لیے کہ یہ اوصاف حمیدہ نبی کریم ؐ نے اپنی امت کے اندر پیدا کیے۔اب اگر کسی کے اندر یہ صفات نہ ہوں تو وہ کیو ں کر اس قافلے میں شمار ہو سکتا ہے ؟اسی طرح عام لوگوں کو بہترین نصیحت کی جائے،ان کو معروف کا حکم اور منکر سے روکنے کی کوشش کی جائے اور اس کام میں نرمی، اخلاص، شفقت اور محبت کا اظہار ہو۔ان کے ساتھ بغض نہ رکھنا: (لَا تَبَاغَضُُوْا)،ان کے ساتھ حسد نہ رکھنا: لَا تَحَاسَدُوْا (بخاری، کتاب الادب’باب ما ینھی عن التحاسد و التدابر:۵۷)، ان کو دھوکہ نہ دینا: مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا (مسلم ،کتاب الایمان باب قول النبیؐ ‘من غشٰنا فلیس منٰا :۲۸۳)‘‘جس نے ہمیں دھو کہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے ’’۔اور ان کے لیے خیر میں وہی چیز پسند کرنا جو انسان خود کے لیے پسند کرتا ہو،اور ان کے لیے شرکو نا پسند کرنا جس طرح اپنے لیے شر کو نا پسند کرتا ہو۔ ارشادِ نبویؐ ہے: لَا یُوْمِنُ أحْدُ کُمْ حَتَّی یُحِبُّ لِأخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَّفْسِہِ (بخاری، کتاب الایمان،باب من الایمان أن یحبّہ لأخیہ ما یحبّ لنفسہ:۱۳)

‘‘تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کر لے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہو’’۔اسی طرح ان کے اموال ،اعراض اور خون کو حرام سمجھنا اور اس کی حفاظت کرنا : فَاِنَّ دِمَاءَ کُمْ وَ أمْوَالَکُمْ وَأعْرَاضَکُمْ بَیْنَکُمْ حَرَامٔ (ترمذی: ابواب الفتن’باب ما جاء فی تحریم الدماء والاموال۲۱۵۹)

‘‘اوران کے خلاف اپنے غصے پر قابو رکھنا اور ان کی غلطیوں کو معاف کرنا اور ان کی کوتاہیوں سے در گزر کرنا : وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاس (آل عمران :۱۳۴)،اور ان کی غیر موجود گی میں ان کے لیے دعاء خیر کرنا بھی اس میں شامل ہیں:

رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُونَا بِالْإِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوبِنَا غِلّاً لِّلَّذِیْنَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّکَ رَؤُوفٌ رَّحِیْم (الحشر:۱۰)

‘‘اے ہمارے رب ،ہمیں اور ہمارے ان سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی بغض نہ رکھ ،اے ہمارے رب تو بڑا مہربان اور رحیم ہے ’’۔

اللہ کے رسول ﷺ نے مسلمانوں کے آپسی حقوق کے بارے میں ارشاد فرمایا: حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ سِتٌّ، قِیْلَ: مَا ھِیَ یَا رَسُوْ لُ اللّٰہِ؟ قَالَ:اِذَا لَقِیْتَہُ فَسَلِّمْ عَلَیْہِ، وَاِذَا دَعَاکَ فَاَجِبْہُ، وَاِذِا سْتَنْصَحَکَ فَانْصَحْ لَہُ، وَاِذَا عَطَسَ فَحَمِدَاللّٰہَ فَشَمِّتْہُ، وَاِذَا مَرِضَ فَعُدْہُ، وَاِذَا مَاتَ فَاتْبَعْہُ (مسند احمد: ۲؍۳۷۲، رقم:۸۸۳۲)

‘‘مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں ؛پوچھا گیا اے اللہ کے رسول ؐ وہ کون سے ہیں؟آپؐ نے فرمایا:

۱۔ جب اس سے ملو تو اس کو سلام کرو۔

۲۔ جب وہ تمہیں بلائے(دعوت دے)تو اس کی دعوت پر لبیک کہو۔

۳۔ جب وہ تجھ سے مشورہ چاہے تو اسے مشورہ دو۔

۴۔ جب اس کو چھینک آئے ،وہ الحمدللّٰہ کہے تو تم اس کے جواب میں یرحمک اللّٰہ (اللہ تم پر رحم کرے)کہو۔

۵۔ جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرو۔

۶۔ جب اس کا انتقال ہو جائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو’’ ۔

یہ چھ حقوق ذکر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف اتنے ہی حقوق ہم پر عائد ہوتے ہیں ،بلکہ یہ چھ ایسے ہیں کہ ایک مسلمان کو اٹھتے بیٹھتے،چلتے پھرتے،ان سے واسطہ پڑتا ہے۔اس لیے جو شخص ان حقوق کے معاملے میں خیر خواہ ثابت ہو جائے ان شاء اللہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ باقی تمام معاملات میں بھی نصح اور خیر خواہی اختیار کرے گا۔

آخر میں اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے اندر صحیح معنوں میں نصح اور خیر خواہی کا جذبہ پیدا کرے ،آمین ثم آمین!

٭٭٭

(زندگی نو، فروری ۲۰۰۸ء)