دعا

مصنف : ایک پاکستانی

سلسلہ : دعا

شمارہ : جون 2009

 

راتوں کو اٹھ کر
خیالوں سے ہوکر
یادوں میں کھو کر
تمہیں کیا خبر ہے
 اپنے خدا سے میں کیا مانگتا ہوں
 ویرانوں میں جا کر
 دکھڑے سنا کر
 دامن پھیلا کر
 آنسو بہا کر
 تمہیں کیا خبر اپنے خدا سے میں کیا مانگتا ہوں
تم تو کہو گے
 صنم مانگتا ہوں
 غنم مانگتا ہوں
زر مانگتا ہوں
 میں گھر مانگتا ہوں
 زمیں مانگتا ہوں
 نگیں مانگتا ہوں...!
تم تو کہو گے 
 ہم کو خبر ہے
 کہ راتوں کو اٹھ کر
 خیالوں سے ہوکر
 یادوں میں کھو کر
 آنکھیں بھگو کر
 کسی دلربا کی
 کسی دلنشیں کی
وفا مانگتا ہوں
یہ بھی غلط ہے
 وہ بھی غلط ہے
 جو بھی ہے سوچا
سو بھی غلط ہے
 نہ صنم مانگتا ہوں
 نہ زر مانگتا ہوں
 نہ دلربا کی 
 نہ دلنشین کی
 نہ ماہ جبیں کی وفا مانگتا ہوں
تمہیں کیا خبر ہے...اپنے خدا سے میں کیا مانگتا ہوں
میں اپنے خدا سے
آدم کے بیٹے کی آنکھوں سے جاتی...حیا مانگتا ہوں
حوا کی بیٹی کے سر سے اترتی...رِدا مانگتا ہوں
اس کڑے وقت میں...پاک وطن کی بقا مانگتا ہوں