مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی مؤرخانہ عظمت

مصنف : ڈاکٹر محمد الیاس اعظمی

سلسلہ : مشاہیر اسلام

شمارہ : نومبر 2011

(تاریخ دعوت و عزیمت کی روشنی میں)

حضرت مولانا سیدابوالحسن علی ندوی کی عبقری شخصیت اس قدر جامع، ہمہ گیر اور مجموعۂ کمالات ہے کہ اس کے نقوش اسلامی اور عالمی سطح پر اور مختلف و متنوع شعبہ جات میں ثبت ہیں۔ ان کی علمی و دینی، تعلیمی و اصلاحی، ادبی و تاریخی، قومی و ملّی خدمات اور داعیانہ و مصلحانہ کارناموں کی تفصیل کے لیے ایک دفتر بے پایاں درکار ہوگا۔

ان کی ہشت پہل شخصیت کا ایک اہم اور روشن پہلو ان کا مؤرخانہ شعور، مطالعۂ تاریخ اور تاریخی تصنیفات کی تدوین و تالیف ہے۔ سو سے زائد کتابیں ان کے قلم سے نکلیں اور مقبول ہوئیں، ان میں چند خالص تاریخی کتابیں ہیں، ان کی پہلی معرکۃ الآرا تصنیف ‘‘سیرت سیداحمد شہید’’ حضرت شہید کی سوانح کے ساتھ ان کے عہد کے ہندوستانی مسلمانوں کی مجاہدانہ اور سرفروشانہ تاریخ بھی ہے،ان کی مقبول ترین کتاب ‘‘انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر’’ بھی درحقیقت ان کے نہایت وسیع و عمیق تاریخی مطالعہ ہی کا مظہر ہے، لیکن اس ناچیز کی نظر میں خالص تاریخی نقطۂ نظر سے ان کی کتاب ‘‘تاریخ دعوت عزیمت’’ منفرد اور ممتاز و بیش قیمت تصنیف ہے۔ اس مختصر مضمون میں اسی معرکۃ الآرا تصنیف، نیز اس کے مباحث کی روشنی میں حضرت مولانا علی میاں کے مؤرخانہ شعور، مطالعہ تاریخ کے لیے مطلوب فہم و بصیرت، وسعت نظر اور کمالِ فن کا ایک اجمالی جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔

مولانا علی میاں کو تاریخ بالخصوص تاریخِ اسلام کا ذوق اور اس سے تعلق ورثے میں ملا تھا۔ ان کا خانوادہ علم و فن کا مرکز اور تاریخ و تہذیب اسلامی کا دلدادہ اور تصوف و سلوک کا گہوارا تھا۔ اس تاریخ ساز خاندان نے علما و فضلاء اور اہل اللہ کے ساتھ ایسے نامور اہلِ علم پیدا کیے جنھوں نے خاص طور سے فنِ تاریخ میں گراں بہا خدمات انجام دیں۔ متعدد تاریخی کتب ان کی یادگار ہیں (۱)۔ خاص طور سے ان کے والد مولانا حکیم عبدالحئی صاحب کا شمار ہندوستان کے عظیم مؤرخین میں کیا جاتا ہے۔ انھوں نے تاریخ ہندوستان کی بڑی خدمت انجام دی۔ نزہۃ الخواطر (۸ جلدوں میں) الثقافۃ الاسلامیہ فی الہند، جنۃ المشرق، معارف العوارف اور یاد ایام وغیرہ تاریخِ ہند کے موضوع پر نہایت عظیم الشان کتابیں ان کے نوکِ قلم سے نکلیں۔

مولانا علی میاں مرحوم کی پرورش و پرداخت اسی علمی ماحول میں ہوئی جس نے انھیں علمِ تاریخ سے قریب تر کرنے میں بڑا مؤثر رول ادا کیا۔ عہدطفلی میں ان کی والدہ اور بہنیں جو خود علم و حکمت اور دینی غیرت و حمیت کے زیور سے آراستہ تھیں، اسلامی تاریخ کے واقعات سناتیں۔ صمصام الاسلام جو فتوح الشام کا منظوم ترجمہ ہے اور اسی علمی خانوادے کی یادگار ہے اور ‘‘حلیمہ دائی کی کہانی’’ نامی کتاب کے اشعار عہدطفلی میں مولانا کے کانوں میں پڑے۔

بعد میں تاریخِ اسلام سے شغف و انہماک پیدا کرنے میں ندوہ کا وہ علمی ماحول بھی ایک اہم محرک ثابت ہوا جو مؤرخ اسلام علامہ شبلی نعمانی کی ذات و الاصفات سے پیدا ہوا تھا اور جو مولانا علی میاں ندوی کے ابتدائی دور میں ندوہ میں پوری طرح باقی تھا۔ انھی اسباب و محرکات کا نتیجہ تھا کہ سولہ برس کی عمر میں مولانا علی میاں کے قلم سے جو پہلی تحریر منظرعام پر آئی وہ حضرت سیداحمدشہید بریلویؒ کے حالات و واقعات پر مشتمل تھی۔ یہ ابتدائی تاریخی مضمون بالآخر ایک بڑی وقیع اور گراں مایہ تاریخی تصنیف ‘‘سیرت سیداحمد شہید’’ کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔

اس اہم تصنیف کے بعد مولانا علی میاں کی معرکہ آرا تصنیف ‘‘تاریخ دعوت و عزیمت’’ منظرعام پر آئی۔ پانچ جلدوں پر مشتمل اس سلسلہ تصنیف کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی ابتدائی دو جلدیں ہندوستان میں علم و تحقیق کے سب سے بڑے مرکز دارالمصنفین اعظم گڑھ نے شائع کیں۔ بقیہ جلدیں مجلس تحقیقات و نشریات اسلام لکھنؤ سے طبع ہوئیں۔

تاریخ دعوت و عزیمت میں عالمِ اسلام کی چند منتخب اور برگزیدہ شخصیتوں کی تبلیغی، اصلاحی اور تجدیدی کوششوں اور کاوشوں کا ایک تاریخی جائزہ پیش کیا گیا ہے اور ان کے علمی، دینی، اصلاحی کارناموں اور اس عہد کے تمدن و معاشرت پر ان کے نقوش و اثرات اور نتائج کی مفصل اور محققانہ تاریخ بھی قلم بند کی گئی ہے۔ اپنے موضوع پر یہ پہلی تحریر ہے جس میں اسلام کی تاریخ دعوت و عزیمت ربط و تسلسل کے ساتھ لکھی گئی ہے، یہاں اس کا مختصر تعارف یہ ہے:

جلداوّل:

اس میں پہلی صدی ہجری سے آٹھویں صدی ہجری تک کی اصلاحی و تجدیدی تحریکوں اور اس عہد کے نامور مصلحین اور ممتاز اصحاب دعوت و عزیمت کی مفصل تاریخ اور ان کے علمی و عملی کارناموں کی مرقع آرائی کی گئی ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے کارناموں کو تاریخ اسلام میں پہلی اصلاحی کوشش قرار دے کر انھی سے اس سلسلہ کا آغاز کیا گیا ہے، اس کے بعد آنے والی صدیوں کے اصحابِ دعوت و عزیمت مثلاً حضرت حسن بصری، امام احمد بن حنبل، ابوالحسن اشعری، امام غزالی، شیخ عبدالقادر جیلانی، علامہ ابن جوزی، نورالدین زنگی، صلاح الدین ایوبی، شیخ عزالدین بن عبدالسلام اور مولانا جلال الدین رومی وغیرہ کی اصلاحی اور دعوتی کوششوں اور سرگرمیوں کی تفصیل ربط و تسلسل کے ساتھ قلم بند کی گئی ہے۔ اس عہد میں بعض فتنوں مثلاً فتنۂ خلق قرآن اور اعتزال وغیرہ نے سر اُٹھایا، جن سے اسلام کو براہِ راست دوچار ہونا پڑا۔ ان کی تفصیلات، ان کے اثرات و نتائج اور ان کے سدباب کی کوششوں کو بھی بیان کیا گیا ہے۔

جلد دوم:

تاریخ دعوت و عزیمت کی دوسری جلد میں آٹھویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہؒ کے حالات و سوانح ان کے فضائل، امتیازات و کمالات ان کی علمی، اصلاحی اور تجدیدی خدمات، اہم تصنیفات کا تعارف اور خصوصیات وغیرہ نہایت مستند مآخذ سے قلم بند کیے گئے ہیں۔ آخر میں ان کے ممتاز و نامور تلامذہ حافظ ابن قیم، ابن عبدالہادی، ابن کثیر، ابن رجب اور ابواسحاق الشاطبی وغیرہ کے حالات، علمی کمالات اور دعوت و عزیمت کے واقعات کو تفصیل سے لکھا گیا ہے۔

جلد سوم:

تیسری جلد میں ہندوستان کی اصلاحی و تجدیدی تاریخ ہے۔ اس میں خواجہ معین الدین چشتی، سلطان المشائخ نظام الدین اولیاء اور مخدوم شیخ شرف الدین یحییٰ منیری کے حالات، تجدیدی و اصلاحی کوششیں، نیز ان کے ممتاز تلامذہ و منتسبین و مسترشدین کی سوانح حیات اور ان کے علم و فضل کا مفصل تذکرہ ہے۔

جلد چہارم:

اس جلد میں مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی کی مفصل سوانح عمری، ان کے عہد کے حالات و واقعات، ان کے عظیم تجدیدی، اصلاحی اور انقلابی کارناموں کی مفصل روداد اور اس کی اہمیت و نوعیت کی تفصیل، ان کے اور ان کے سلسلہ کے بعض دوسرے اکابر بزرگوں کے اثرات کی مفصل نشاندہی کی گئی ہے۔

جلد پنجم:

اس میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی اور ان کے خلفاء و تلامذہ کے حالاتِ زندگی کے ساتھ ان حضرات کی ان عہدآفریں کوششؤں اور کاوشوں کی تاریخ ہے جو انھوں نے احیائے دین، اشاعت کتاب و سنت، اسرار و مقاصد شریعت کی توضیح و تنقید اور ارشاد و تربیت اور ہندوستان میں ملت اسلامیہ کے تحفظ و بقا کے لیے سرانجام دیں۔

تاریخ دعوت و عزیمت کی ان پانچ جلدوں کے علاوہ مولانا علی میاں کی پہلی تصنیف سیرت سیداحمد شہید بھی دراصل اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ اس میں حضرت سیداحمد شہید کی سوانح حیات ان کے عہد کے بعض سیاسی اور اصلاحی واقعات اور ان کے مجاہدانہ و سرفروشانہ کارناموں کی مفصل تاریخ ہے۔ مولانا علی میاں کی بعض دوسری تالیفات مثلاً شیخ عبدالقادر رائے پوری، شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا سہارن پوری اور مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ وغیرہ میں چودھویں صدی ہجری کی اصلاحی، تبلیغی اور دعوتی کوششوں کی تاریخ ہے۔ ان کتابوں کو بھی دعوت و عزیمت کے سلسلہ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ یہ کتابیں اگرچہ اس سلسلہ تاریخ کے طور پر نہیں لکھی گئی ہیں، تاہم موضوع اور مواد دونوں حیثیتوں سے اسی سلسلہ کا حصہ ہیں۔ اس طرح اس سلسلہ تصنیفات میں پہلی صدی ہجری سے لے کر چودھویں صدی ہجری تک کی عالمِ اسلام بالخصوص ہندوستان کی اصلاحی و تجدیدی تحریکوں، ممتاز اصحابِ دعوت و عزیمت کی ایک مربوط اور مسلسل تاریخ آگئی ہے جو فن تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا تاریخی کارنامہ ہے۔

علامہ شبلی اور بعض دوسرے مؤرخین کی طرح مولانا علی میاں کو بھی یہ احساس تھا کہ ہماری قدیم تاریخیں سیاسی جدوجہد اور معرکہ آرائیوں کی داستان ہیں۔ قدیم مؤرخین نے اپنے عہد کے عام رواج کے مطابق محض سیاسی تاریخیں قلم بند کیں لیکن تہذیب و ثقافت کی تاریخ کی طرف خاطرخواہ توجہ نہیں دی، جس سے تہذیب و ثقافت کے متعدد نقوش دب گئے یا پھر صحیح طرح ظاہر نہ ہو پائے۔ یہ بھی ہوا کہ تہذیب و ثقافت پر تو کسی قدر توجہ دی گئی لیکن دعوت و عزیمت اور اصلاحی کوششوں اور مجاہدانہ و سرفروشانہ کارناموں کی تو سرے سے کوئی مربوط و مسلسل تاریخ ہی نہیں لکھی گئی۔ اس حیثیت سے اگر غور کیا جائے تو تاریخ دعوت و عزیمت مولانا علی میاں کا ایک منفرد اور عظیم الشان کارنامہ ہے۔

عہداسلامی شروع سے آج تک رزم گاہ حق و باطل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ شرک، شیطان اور شر سے اسلام مسلسل نبردآزما رہا، مختلف اوقات، مختلف شکلوں میں شیطانی اور عدوانی طاقتیں حملہ آور رہیں اور کبھی کبھی مثلاً تاتاریوں کے حملہ نے ایسا تاثر دیا کہ گویا اسلام اب روئے زمین سے مٹ جائے گا، تاہم یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ اسلام اپنی پوری توانائی کے ساتھ جلوہ فگن رہا۔ تاریخ دعوت و عزیمت میں ان حملوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور ان سے اسلام کو جو نقصانات پہنچے ان کا بھی بیان ہے۔ پھر اسلام میں جو نئے برگ و بار آئے اور پھر وہ جس طرح پھیلا مولانا علی میاں نے اس کی تفصیلات بھی قلم بند کی ہیں۔ مولانا کے الفاظ میں عالمِ اسلام کے اخلاقی، معاشرتی، دینی، روحانی اور سیاسی حالات کا پہلی مرتبہ جائزہ لیا گیا ہے۔(۲)

اسلام کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ اس کی چودہ سو سالہ تاریخ میں برابر ایسے اصحاب دعوت و عزیمت و استقامت پیدا ہوتے رہے جنھوں نے اپنی اصلاحی، تجدیدی، مجاہدانہ اور سرفروشانہ کوششوں سے اسلام کی اشاعت میں ہر دور میں بھرپور حصہ لیا۔ اس کے برعکس دوسرے مذاہب میں اس طرح کی کوششوں کا ذکر تو مفقود ہے یا پھر خال خال ہی ملتا ہے۔ مولانا علی میاںؒ نے دعوت و عزیمت کے ایک باب میں چند دوسرے مذاہب کا بھی جائزہ لیا ہے اور دکھایا ہے کہ مسیحیت اور ہندومت دونوں میں ایسے اشخاص کی ہمیشہ کمی رہی اور اسی بنیاد پر ان کے عالم گیر مذاہب ہونے پر شک و شبہ کیا جاتا ہے۔

قدیم و جدید مؤرخین اسلام نے اسلامی تہذیب و ثقافت کی تاریخ لکھنے پر برائے نام توجہ دی لیکن تاریخ دعوت و عزیمت کی تو سرے سے کوئی مربوط و مسلسل تاریخ ہی نہیں لکھی۔ تاریخ کے اس اہم اور ضروری پہلو کی تاریخ کی تدوین مولانا علی میاں کا ایک منفرد اور ممتاز کارنامہ ہے۔

تاریخ و سوانح نگاری کے اصولوں کی روشنی میں اگر مولانا علی میاں کی اس تصنیف کا جائزہ لیا جائے تو اس کی اہمیت و افادیت اور واضح طور پر سامنے آتی ہے اور مولانا علی میاں کی مؤرخانہ عظمت، علوے مرتبت، دقتِ نظر اور ان کے وسیع مطالعۂ تاریخ کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ یہاں اس کی چند اہم خصوصیات کا ذکر کیا جاتا ہے۔

مولانا علی میاں نے اپنی اس کتاب میں کسی تحریک یا صاحب ِ دعوت و تحریک کے حالات اور کارنامے بالقصد اسی کی تصنیفات، تحریروں اور اقوال سے اخذ کیے ہیں اور اگر ان میں یہ معلومات نہ مل سکے تو ان کے معاصرین اور تلامذہ کی تصنیفات اور ان کے بیانات کو ترجیح دے کر ان سے نقل و اخذ کیے ہیں اور کسی مؤرخ کا یہی وہ طریقہ کار ہے جس سے تاریخ استناد کے مرتبہ تک پہنچتی ہے۔

کتاب اور صاحب ِ کتاب کی عظمت و بلند پائیگی کے لیے ضروری ہے کہ کتاب مستند ماخذ کی مدد سے لکھی جائے۔ اہم، متنازعہ اور مختلف فیہ مسائل میں جو اقتباسات نقل کیے گئے ہیں ان کے حوالے دیے جائیں۔ ‘‘تاریخ دعوت و عزیمت’’ میں یہ تصنیفی خوبیاں نمایاں ہیں۔

تاریخ دعوت و عزیمت گو اصولی اور فنی لحاظ سے تاریخ کی کتاب ہے مگر اس میں تذکرہ و سوانح نوسی کے فن سے بھی کام لیا گیا ہے اور یہ پوری کتاب تاریخ کے ساتھ تذکرہ و سوانح کے اندازِ تصنیف و تالیف ہی کے حوالہ سے قلم بند کی گئی ہے۔ صاحب ِ تذکرہ کی اصلاحی و انقلابی کوششوں کی روشنی میں اس کے نقوش و اثرات اور نتائج کی نشان دہی بھی کی گئی ہے۔ صاحب ِ تذکرہ کے حالات و علمی کمالات کے ذکر میں صرف اس کے مداحوں اور قدر شناسوں اور اہلِ علم کے اعترافات کو فاضل مؤرخ نے اپنی توجہ کا مرکز نہیں بنایا ہے بلکہ اس کے نکتہ چینوں اور معاندین کے تنقیدی رویوں کو بھی پیش نظر رکھا ہے۔ اس طرح اس کتاب کی تالیف میں یہ اصول تحریر کہ ہر صاحب سوانح کی زندگی کے دونوں پہلوؤں (مدح و قدح) کو واضح کیا جائے، اس کی بھی پاسداری ملتی ہے۔

اس کتاب کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اصحاب دعوت و عزیمت کے تذکرہ و سوانح کے سلسلہ میں ان کے گردوپیش، اس عہد کے علمی و فکری معیار اور دعوت کے میدان کی وسعتوں کو بھی اس مقصد سے واضح کیا ہے کہ اس سے اصحابِ دعوت و تحریک کی صحیح عظمت ان کی کامیابی اور تحریک و اصلاح کی وسعت کا تعین ہوسکے اور ان کی کامیابیوں کے امکانات کا صحیح اندازہ کرکے تاریخ میں اس کی اصل حیثیت اور قدروقیمت کی نشاندہی کی ہے۔

اس کتاب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ پہلی صدی ہجری سے لے کر چودھویں صدی تک مصلحین، مبلغین اور مجتہدین کی اصلاحی سرگرمیوں سے تمدن و معاشرت پر جو اثرات مرتب ہوئے ان کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی غالباً پہلی کوشش ہے۔ ساتھ ہی یہ حقیقت بھی ہے کہ چونکہ اپنی نوعیت کی پہلی کوشش ہے اس لیے اس پر مزید کام کیا جاسکتا ہے۔

اس کتاب کی ایک خصوصیت اس کا ربط و تسلسل ہے۔ اسلام کی چودہ سو برسوں کی تاریخ کے بارے میں یہ عام خیال پیدا ہوگیا تھا کہ اس کی متعدد اصلاحی کوششوں اور دینی تحریکوں کے درمیان ربط و تسلسل نہیں ہے اور ایک تحریک اصلاح سے دوسری تحریک اصلاح میں ربط و تسلسل کی بڑی کمی ہے۔ مولانا علی میاں نے تاریخ دعوت و عزیمت لکھ کر اس عام خیال کی تردید اور ایک بڑی کمی کو پورا کیا اور ثابت کیا کہ عالمِ اسلام کی اصلاحی تحریکیں ایک دوسرے سے مربوط اور ملی جلی ہیں۔ مولانا مرحوم نے ایک تحریک کے دوسرے تحریک پر بعض اثرات اور ان کے نتائج کی بھی نشاندہی کی ہے۔

ربط و تسلسل کے لیے قیاس و اجتہاد بھی تاریخ نگاری کی بڑی ضرورت ہے۔ یہ کتاب موضوع کے لحاظ سے اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی تھی جب تک کہ قیاس و اجتہاد سے کام نہ لیا جائے کیونکہ کئی اصلاحی تحریکوں کے معاشرے پر جو اثرات ہوئے ان کا تاریخ کے صفحات میں نمایاں ذکر نہیں۔ انھیں قیاس و استنباط اور طرزِ معاشرت کے جائزے ہی سے ثابت کیا جاسکتا تھا۔ چنانچہ مولانا نے اپنے انتہائی وسیع تاریخی مطالعے کی بنیاد پر ا ن میں ربط و تسلسل پیدا کیا۔ ظاہر ہے یہ اسی وقت ممکن ہے جب مؤرخ کی تاریخ پر وسیع نظر ہو اور اس کا کوئی گوشہ اس کی نگاہ سے مخفی نہ ہو۔ اس اصولِ تاریخ کو برتنے اور اس کا ہرممکن پاس و لحاظ کرنے کی مولانا علی میاں کی کوشش سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے تاریخِ اسلام کا کس قدر گہرائی و گیرائی سے مطالعہ کیا تھا اور اس پر ان کی نگاہ کس قدر دقیق و عمیق تھی۔

تاریخ میں اسباب و علل اور سبب کی تلاش و جستجو جدید مؤرخین نے ضروری قراردیا ہے۔ مولانا علی میاں نے مؤرخ کا یہ فریضہ بھی پورا کیاہے مثلاًتاتاری حملے اور اس کے اسباب وغیرہ۔

قدیم تاریخی واقعات کا جدید دور کے واقعات سے جدید اصول تاریخ کی روشنی میں موازنہ و مقابلہ بظاہر ایک بڑا تنقیدی و تحقیقی کارنامہ تصور کیا جاتاہے لیکن اصولِ تاریخ نویسی کے لحاظ سے درحقیقت یہ مؤرخ کا ایک غیرمنصفانہ عمل ہے جس کی وجہ سے متعدد شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں اور مؤرخ تاریخ نویسی کے فرائض سے کماحقہ عہدہ برآ نہیں ہوسکتا۔ مولانا علی میاں تاریخ نویسی کے اس قبح سے بخوبی واقف تھے (۳)۔ چنانچہ انھوں نے اس کا پورا پورا لحاظ رکھا ہے۔

کتابوں میں اقتباسات کی کثرت زیادہ پسندیدہ شے نہیں ہے۔ اس سے عام طور سے اہلِ علم اور بڑے مصنفین احتراز کرتے ہیں، تاہم مولانا علی میاں نے تاریخِ دعوت میں کثرت سے اقتباسات نقل کیے ہیں لیکن اس اصول شکنی کے انھوں نے متعدد مفید مقاصد اور فوائد بتائے ہیں، مثلاً ان کا خیال ہے کہ اس سے اصحاب دعوت و عزیمت کی اصلاح و تجدید کی کوششوں کی قریب سے سمجھنے اور ان کی صحبت میں رہنے کا لطف حاصل ہوگا، لیکن خود مولانا علی میاں کو احساس ہے کہ یہ اصولِ تاریخ نویسی کی رُو سے درست نہیں اور وہ برملا اس کا اعتراف کرتے ہیں اور اس پر کسی معذرت کو بھی وہ ضروری خیال نہیں کرتے۔ ظاہر ہے ایک مقصد کی خاطر انھوں نے اس اصول کو شعوری طور سے بالائے طاق رکھا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس اصول کو مقاصد پر قربان کر دینا جائز سمجھتے تھے (۴)۔ ان کے اس احساس کا جائزہ و فیصلہ ماہرین فن تاریخ کرسکتے ہیں، تاہم یہاں یہ عرض کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بہرحال مولانا علی میاں تاریخ کے فن اور اس کے اصول پربڑی عمیق نظر رکھتے تھے۔

تاریخ میں مذہبی شخصیات کو اگرچہ جگہ ملی اور ان کے افکار و خیالات اور اعمال سے تاریخ کے صفحات مزین ہیں مگر اہلِ اللہ کے باطنی احوال اور تعلق مع اللہ پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی تھی۔ مولانا علی میاں نے تاریخ دعوت و عزیمت کو اس خوبی سے بھی آراستہ کیا ہے۔ غرض یہ کہ تاریخ دعوت و عزیمت اپنے مشمولات کے ساتھ اصولی اور فنی لحاظ سے بھی ایک معرکۃ الآرا تاریخی تصنیف ہے اور مولانا علی میاں مرحوم کے دوسرے علمی کارناموں کے مقابلہ میں ایک زیادہ بڑا کارنامہ اور ان کی مؤرخانہ عظمت کا شاہکار ہے۔

حواشی

۱-         تفصیل کے لیے کاروانِ زندگی، جلد اول ملاحظہ ہو۔

۲-        تاریخ دعوت و عزیمت، مقدمہ جلد اول

۳-        ایضاً، جلد اول،ص ۴-۵

۴-        ایضاً، ص ۶

٭٭٭