سلسلے توڑ گیا وہ سبھی آتے جاتے

مصنف : احمد فراز

سلسلہ : نظم

شمارہ : جون 2011

 

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی آتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے 
 
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا 
اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
 
اس کی وہ جانے اسے پاس وفا تھا کہ نہ تھا 
تم فراز اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے