آپ کے در پر آتے جاتے ، کتنے موسم بیت گئے

مصنف : ارشاد عرشی ملک (اسلام آباد)

سلسلہ : شاعری

شمارہ : جولائی 2012

 

آپ کے در پر آتے جاتے ، کتنے موسم بیت گئے
آپ کو دل کے زخم دکھاتے ، کتنے موسم بیت گئے
 
من کے بنجر صحرا میں دن رات بگولے رقصاں ہیں
ہم کو اپنی خاک اْڑاتے ، کتنے موسم بیت گئے
 
خود بھڑکایا درد کا بھانبڑ اشکوں کے چھڑکاؤ سے
پانی سے یہ آگ لگاتے ، کتنے موسم بیت گئے
 
جاناں کھڑکی کھول بھی دو اب جان لبوں تک آ پہنچی
چوکھٹ سے سر ٹکراتے ، کتنے موسم بیت گئے
 
درد چھپایا ، آنسو پونچھے ، چہرے پر مسکان سجی
ان رمزوں سے جی بہلاتے ، کتنے موسم بیت گئے
 
شاید آج وہ پٹ کھولیں گے ، شاید آج وہ درشن دیں 
ہر شب دل کی آس بندھاتے ، کتنے موسم بیت گئے
 
آپ کے لب سے نکلی ہوں ہاں ، اپنے دل کا روگ بنی
‘ہوں ہاں’ کو معنی پہناتے ، کتنے موسم بیت گئے
 
آپ نے اک دن یونہی مڑ کر مجھ کم ظرف کو دیکھا تھا
اس دن سے خود پر اتراتے ، کتنے موسم بیت گئے
 
ماتمِ ہستی اتنا پھیلا ، جیون شامِ غریباں ہے!!!
خود روتے اوروں کو رلاتے ، کتنے موسم بیت گئے
 
ہجر نہ جس کا جھیلا جائے ، جس کی ہر پل راہ تکوں
ہائے اسے مجھ سے کتراتے ، کتنے موسم بیت گئے
 
فرصت میں سب زخم کھرچنا ، اپنا شوق پرانا ہے
دل کے سوئے درد جگاتے ، کتنے موسم بیت گئے 
 
آپ کے در پر آ تو گئے پر عرضِ تمنا کر نہ سکے
یونہی جھجکتے اور شرماتے ، کتنے موسم بیت گئے
 
کملی ، جھلی ، اور سودائی ، جگ نے کیا کیا لقب دئے
عشق میں تیرے نام رکھاتے ، کتنے موسم بیت گئے
 
آپ کے اک دو مْبہم فقرے میری عمر کا حاصل ہیں
چل پھر کر ان کو دہراتے ، کتنے موسم بیت گئے
 
جانی پہچانی تھیں راہیں ، تیرے مْکھ کا چانن بھی
پھر بھی گرتے ٹھوکر کھاتے ، کتنے موسم بیت گئے
 
اب بھی حْبِ دنیا کی کچھ چھینٹیں دل پر پڑتی ہیں
آنچل سے یہ داغ چھڑاتے ، کتنے موسم بیت گئے
 
درد ہی اپنا سنگی ساتھی ، درد ہی اپنا جیون ہے
عرشی درد کے نغمے گاتے ، کتنے موسم بیت گئے