میں نے اسلام کیسے قبول کیا

مصنف : سلمیِ انجم

سلسلہ : من الظلمٰت الی النور

شمارہ : 2017 جنوری

من الظلمت الی النور
میں کیسے مسلمان ہوئی؟
سلمی انجم (مدھو گویل)

سوال : برائے کرم اپنا مختصر تعارف کرائیں ۔
جواب : میرا نام اب الحمدللہ سلمیٰ انجم ہے میرا پہلا نام مدھو گویل تھا ، میں غازی آباد کے ایک بہت مذہبی ہندو گویل خاندان میں پیدا ہوئی ۔میرے والد لالہ سنگل سین گویل ایک سبزی کے تاجر تھے اور میرے بچپن میں انتقال کر گئے تھے۔ میری پرورش میری والدہ کیلاش وتی اور بڑے بھائی بابوجگدیش گویل کے زیر سایہ ہوئی ہم لوگ غازی آباد کے قریب گلدھرگاؤں میں رہتے تھے۔ میری والدہ ماجدہ جن کا اسلامی نام ام نسیم ہے اور میرے سب سے بڑے بھائی بابو جگدیش جن کااسلامی نام کلیم غازی ہیں اور دوسرے بھائی ہیم کمارجو الحمدللہ اب مولانا نسیم غازی ہیں میری چھوٹی بہن بھی جس کانام اب اسماء ہے اپنے پورے خاندان کے ساتھ الحمدللہ مسلمان ہیں۔میری تین بڑی بہنیں مسلمان نہیں ہوئیں جن میں ایک حیات ہے ان کا نام لجا ہے اور دو راجیشوری اور لیلیٰ وتی کا انتقال ہوگیا ہے۔
سوال : اپنے خاندان کے اسلام لانے کے سلسلہ میں ذرا بتائیے؟
جواب : میرے بڑے بھائی بابوجگدیش بڑے مذہبی ہندو تھے اور انہیں ہندو مذہب کی بڑی گہری معلومات تھیں۔ اسلام اور مسلمانوں سے ان کو بڑی نفرت سی تھی۔ مسلمان کے یہاں سے سبزی لینا بھی وہ پسند نہیں کرتے تھے اور اگر خرید تے تو بہت دھوکر پکواتے تھے ۔ وہ غازی آباد نگر پالیکا میں چنگی انسپکٹر تھے وہ ہندو مذہب کو اپنے مالک کو خوش کرنے اور اس تک پہنچنے کا سہارا سمجھتے تھے۔ وہ مذہب سے بہت عقیدت کا تعلق رکھتے ۔ ایک روز وہ ایک چنگی پر جانچ کے لئے گئے ، دوپہر کا وقت تھا ۔ غازی آباد بھٹے کے ایک مسلمان جناب عبدالرحمٰن صاحب جو چوڑیوں کا کاروبار کرتے تھے کسی ہفتہ واری بازار میں دوکان لگانے کے لیے چوڑیاں لے کر آئے مگر ان کے پاس چنگی کے پیسے نہیں تھے۔ انہوں نے چنگی پر آکر درخواست کی کہ میں شام کو واپسی میں چنگی کے پیسے دے دوں گا مجھے شام پانچ بجے تک کی مہلت دیدی جائے۔ بابوجی نے کہا کہ واپسی پر بھی کوئی چنگی دیتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ بابو جی مسلمان دیتے ہیں ، بابو جی کو یہ بات لگ سی گئی اور وہ باوجو دوسری جگہ کے تقاضوں کے شام تک وہیں بیٹھ گئے کہ دیکھتا ہوں مسلمان کس طرح چنگی دیتاہے ۔ عبدالرحمٰن صاحب وقت سے قبل گاہکوں کی بھیڑ سے دوکان سمیٹ کر پانچ بجے سے ۱۵ منٹ قبل چنگی پر آئے اور چنگی جمع کرادی۔ بابو جی ان کے اس ایفائے وعدہ سے متاثر ہوئے اور پھر ان سے دوستی کرلی ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایفائے وعدہ کا یہ اسلامی انداز ہی ہمارے خاندان کے لئے ہدایت کا ذریعہ بنا۔ بابو جی نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا گھر آئے ایک سنجیدہ مسلمان جناب قاضی جمیل صاحب بابوجی کو مل گئے ، انہوں نے بابو جی کو اسلامی لٹریچر مہیا کیا اور ساتھ میں چھوٹے بھائی نسیم غازی کوبھی قریب کیا ۔ بابو جی اسلام کے مطالعہ سے بہت متاثر ہوئے اور انھوں نے دوستوں اور عزیزوں سے اسلام کی تعریف شروع کی اور اسلام قبول کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ انہوں نے ان کو روکنے کی بہت کوشش کی مگر چھوٹے بھائی (ہیم کمار) مولانا نسیم غازی نے اسلام قبول کر لیا۔ اس دوران لوگوں نے دباؤ دینے اور اسلام سے باز رکھنے کے لئے ایک جھوٹے قتل کے مقدمہ میں پھنسادیا۔ مقدمہ شروع ہوا غازی آباد کا ایک بڑا بدمعاش صادق تھا اس کو معلوم ہوا کہ مقدمہ کی تاریخ ہے اور لوگ جھوٹی گواہی دینے آئیں گے، وہ عدالت کے باہر چاقو وغیرہ لے کر بیٹھ گیا کہ جو جھوٹی گواہی دینے آئیگا آج اپنا انجام دیکھے گااس کے ڈر کی سے لوگ گواہی دینے نہیں آئے ۔ مقدمہ میں بابو جی برَی ہوگئے صادق کی اس ہمدردی سے بابو جی اور بھی متاثر ہوئے اور انہوں نے بھابھی اور بچوں سے مشورہ کیا اور پورا خاندان مشرف بااسلام ہوگیا۔ پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں جس میں تین بلریا گنج سے عالم ہیں سب مسلمان ہوگئے ۔ مولانا نسیم غازی جس وقت مدرسۃ الفلاح بلریا گنج میں پڑھتے تھے انہوں نے گھر والوں پر بہت کام کیا انکی کوشش سے میری چھوٹی بہن اسماء مسلمان ہوئیں اور انکی شادی اعظم گڑھ کے ایک معزز خاندان میں ہوئی ان کے شوہر جامعہ میں ایک بڑے عہدے پر ہیں، اس کے بعد نسیم بھائی والدہ اور مجھ پر بہت محنت کرتے رہے وہ بڑے درد بھرے خطوط ہمیں لکھتے تھے انکاایک درد بھرا خط ’’ نو مسلم بیٹے کا اپنی ماں کے نام خط‘‘ کے عنوان سے شائع بھی ہوا چند سالوں کی فکر اور کوشش سے میری والدہ بھی مسلمان ہوگئیں۔
سوال : آپ اپنے اسلام کے سلسلہ میں کچھ بتائیے ؟
جواب : میں اپنے بارے میں بتانے جارہی ہوں مجھے بچپن سے اسلام سے بڑی چڑتھی اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہمارے علاقہ اور غازی آباد کے اکثر علاقے میں مسلمانوں کو دیکھتی تھی کہ وہ بہت گندے رہتے ہیں اور انکے گھر بھی بہت گندے ہوتے ہیں۔ نسیم بھائی جب بھی غازی آباد آتے ایک گھنٹہ مجھے سمجھاتے مجھے انکا سمجھانا بہت برا لگتا کبھی کبھی میں کانوں میں انگلیاں دے لیتی کبھی روئی لگالیتی ان کی طرف پیٹھ پھیر کر دیوار کی طرف منھ کرکے لیٹ جاتی مگر وہ کہتے رہتے۔ ایک بار وہ مجھے اعظم گڑھ لے گئے وہاں میں نے بہت سلیقہ اور صفائی کا خیال رکھنے والے خاندانی مسلمانوں کو دیکھا۔ غازی آباد کے ابراہیم خاں کے گھر مجھے لے گئے ان کے گھر کی عورتوں سے میں متاثر ہوئی۔ وہ دس سال تک مجھے سمجھاتے رہے کبھی کبھی وہ رونے لگتے مجھے اسلام کی باتیں تو سمجھ میں آتی تھیں مگر میں گندے مسلمانوں میں شامل ہونا نہیں چاہتی تھی۔ مجھے ڈر رہتا کہ ان مسلمانوں میں خاص طور پر عبدالرحمن صاحب کے بیٹے سے میری شادی کردی جائے گی اسلئے میں مسلمان ہوتے ہوئے ڈرتی تھی ایک بار میں اعظم گڑھ گئی ہوئی تھی نسیم بھائی میری خوشامد کرتے تھے ایک روز انکی ڈبڈبائی آنکھیں دیکھ کر میرا دل بھر آیا میں نے کہا بھیا تم کیا چاہتے ہو، انہوں نے کہا مدھو بہن اسلام کا کلمہ پڑھ کر ہمیشہ کی آگ سے بچ جاؤ ۔میں نے کہا اچھاپڑھاؤ اور میں نے کلمہ پڑھا اور اسلام قبول کر لیا ، نسیم بھائی کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی وہ خوشی میں مجھے گلے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اس لئے کہ تقریباََ دس سال کی متواتر کڑھن، لگن اور مسلسل دعوتی کوشش کے بعد اللہ تعالیٰ نے میرے دل کو اسلام کے لئے کھولا یہ تقربیاََ اٹھائیس سال پرانی بات ہے۔
سوال : آپ کی شادی کس طرح ہوئی ؟
جواب : شادی کے سلسلہ میں میری کچھ شرائط تھیں ایک زمانہ تک سخت ترین مذہبی ہندو رہنے کی وجہ سے فوراََ ذہن سازی نہیں ہوسکی تھی ، اس لئے میری پہلی شرط تھی کہ میں کسی ڈاڑھی والے شخص سے شادی نہیں کروں گی، لڑکا الگ رہتا ہو، زیادہ بھائی بہن وغیرہ نہ ہوں یعنی بڑا خاندان نہ ہو۔ مجھے ابھی اسلام قبول کئے ہوئے تقریباََ ایک سال ہوا تھا حکیم علیم الدین سنبھلی نے ہمارے شوہرمحمود صاحب سے شادی کے لئے کہا وہ اس وقت روزگار کے لئے کھتولی سے پھلت آکر رہنے لگے تھے، انہوں نے اپنی والدہ سے مشورہ کیا اور پھر کھتولی بھائیوں سے مشورہ کرنے کے لئے گئے وہاں آ پ کے داداحا جی محمد امین صاحب انکے خاندان کے بزرگ تھے انہوں نے تائید کی غاز ی آباد آگئے کہ رشتہ پکا کریں گے اور اشارے سے آپ کے ابی ( مولانا کلیم صاحب) کو دعوت دیتے آئے، رشتہ پر آمادگی دیکھ کر لوگوں کا مشورہ ہواکہ نکاح کر دیا جائے اصل میں انکو میری طرف سے اطمینان نہیں تھا بہر حال سادگی سے نکاح ہوگیا۔ عزیزوں اور گھر والوں میں سے صرف آپ کے والد (کلیم بھائی ) شادی میں شریک ہوئے دو ماہ بعد ہمارے بھائی اور والدہ نے مجھے سادگی سے میرے شوہر کے ساتھ اس طرح رخصت کر دیا جیسے کئے سال کی شادی شدہ لڑکی کو رخصت کر دیتے ہیں۔
سوال : آپ کو اب کیسا محسوس ہوتا ہے، محمود چچا جان نے تو اتنی اچھی داڑھی بھی رکھ لی ہے؟
جواب : مجھے بہت اچھا محسوس ہوتا ہے، میرے شوہر محمود صاحب ایک اچھے شوہر ہیں ایک مثالی مسلمان ہیں، مجھے ان کے ساتھ شادی پر فخر ہے، میں اس پر اللہ کا شکر کرتی ہوں، ان کی ڈاڑھی مجھے بہت اچھی لگتی ہے بلکہ اب مجھے اسلام کی ہر چیزبہت اچھی لگتی ہے۔ میرے خاندان کے اکثر لوگوں کے ڈاڑھیاں ہیں، بڑے بھائی، بابو جی مرحوم تو بہت بہادر مسلمان تھے، ہندو کے کے محلہ میں رہتے تھے بابری مسجد کے قضیہ اور اس سے قبل غازی آباد میں بارہا فسادات ہوئے مسلمان دوستوں کے فون آتے تھے کہ ہم آپ کو لینے آرہے ہیں، ان حالات میں آپ کا وہاں رہنا ٹھیک نہیں ہے، بابوجی بڑے اعتماد سے جواب دیتے اگر آپ اطمینان دلادیں کہ مسلمانوں کے محلہ میں ملک الموت نہیں آسکتے اور ہندؤں کے محلہ میں موت وقت سے پہلے آجائے گی تو میں آنے کو تیار ہوں اور موڑھا بچھا کر سڑک پر بیٹھ کر مشروع حلیہ میں اخبار پڑھنے بیٹھ جاتے ان کا ایمان بڑا قوی تھا۔
قبول اسلام کے بعد ہمارے خاندان کو ہندؤوں نے بڑی دھمکیاں بھی دیں اور بڑے لالچ بھی دئے۔ رام گوپال شال والا وغیرہ بارہا ملنے آئے اور کروڑوں روپے کی پیش کش کی کہ آپ کسی بھی شرط پر اسلام سے باز آجائیے، مگر انہوں نے حق کے مقابلہ پر لالچ اور خوف کو ٹھکر ادیا اور زندگی بھر نہ صرف خود مضبوط مسلمان رہے بلکہ ان کی وجہ سے اللہ نے خاصے لوگوں کو ہدایت دی۔ میرے دوسرے بھائی مولانا نسیم غازی بھی جو الحمداللہ ملک کے مشہور داعی ہیں انسانی رشتہ کے بھائیوں کو دوزخ کی آگ سے بچانے کے لئے بغیر کسی سیاسی فکر اور لالچ کے مخلصانہ دعوت پر زور دیتے ہیں الحمدللہ اس کا فائدہ جماعت اسلامی کے لوگوں کو بھی ہوا ہے ، خاصے لوگ ان کی دعوت سے مشرف بہ اسلام ہوئے ہیں۔الحمد للہ 
سوال : اگر خدانخواستہ آپ کو ہدایت نہ ملتی تو؟
جواب : اگر خدانخواستہ مجھ کو ہدایت نہ ملتی اس تصور سے بھی کانپ جاتی ہوں، میرا رواں رواں کانپ جاتا ہے، دیکھئے ابھی میرا حال خراب ہورہا ہے میری دوبہنیں اسلام کے بغیر دنیا سے چلی گئیں وہ اسلام کے قریب ہوگئی تھیں ، مگر انکے مقدرمیں ہدایت نہیں تھی۔ میرے والد بھی اسلام سے محروم دنیا سے رخصت ہوئے ، جب میں سوچتی ہوں تو نیند اڑجاتی ہے اور کبھی کبھی مسلمانوں پر مجھے بہت غصہ آتا ہے، دس سال تک میں صرف اسلئے مسلمان نہیں ہوئی کہ میں جن اکثر مسلمانوں کو دیکھتی تھی وہ بہت گندے رہتے تھے ان کا رہن سہن اور ماحول جن میں چوری چکاری جوا اور جہالت ہے، میرے لئے حجاب بنا رہا۔ اگر مسلمان اسلام پر حقیقت میں عمل کرتے تو میری بہنیں اور والد ایمان سے محروم نہ جاتے۔
سوال : چچی جان اچھا یہ بتائے آپ گوشت نہیں کھاتی مگر آپ مرغ اور گوشت اس قدر لذیذ بناتی ہیں آپ کو کیسا لگتا ہے؟
جواب : میرے شوہر محمود صاحب ایک اچھے مسلمان شوہر ہیں، میں کچھ نماز ذکر وغیرہ تو زیادہ نہیں کر پاتی اپنی عبادت یہی سمجھتی ہوں، کہ میں ایک اچھی مسلمان بیوی بنوں، میں نے اپنے آپ کو اپنے شوہر کے لئے بالکل وقف کردیا ہے ، وہ گوشت کے بہت شوقین ہیں اس لئے مجھے گوشت بنانے کا شوق ہوگیا ہے میں گوشت کھانے کے حکم کو اللہ کی نعمت سمجھتی ہوں میں نے اپنے بچوں کو ترغیب دے کر گوشت کا شوقین بنایا ہے ، میں کوشش کے باوجود نہیں کھاپاتی تو اسے اپنی معذوری بلکہ محرومی سمجھتی ہوں۔
سوال : ماشاء اللہ آپ نے اپنے بچوں کی بڑی اچھی تربیت کی ہے عائشہ بھابھی صفیہ بھابھی اور سلمان بھائی آپ کے تینوں بچے بہت سعادت مند اور نیک مسلمان ہیں آپ نے ان کی کس طرح تربیت کی۔
جواب : بچوں کی تربیت میں مجھ سے زیادہ ان کے والد کا ہاتھ ہے وہ بہت اچھے اور سچے مسلمان ہیں ، اکثر غیر مسلم کے محلہ میں رہے مگر پڑوسیوں کے محبوب رہے اور جب محلہ چھوڑکر آئے تو ہندوؤں نے روتے ہوئے رخصت کیا ۔پکی مہری محلہ میں ایک چھوٹے مکان میں ہم ایک زمانے تک رہے مالک مکان ایک انتہائی مذہبی ہندو تھا ، رام کشور نام تھا دومضامین میں ایم، اے تھا مگر وہ ہمارے شوہر کے اخلاق و ہمدردی سے حد درجہ متاثر تھاا ور اسلام کی طرف مائل ہوگیا تھا۔ کہتا تھا محمود صاحب جس قدر دیوتاؤں کی پوجا کرتا ہوں حال خراب ہوتا جاتا ہے سوچتا ہوں یہ جھوٹے بھگوان چھوڑدوں اور آپ کی طرح ایک سچے مالک کا ہوجاؤں اس کے مقدر میں ہدایت نہیں تھی بے چارہ محروم دنیا سے چلا گیا۔ میں نے بچوں کو مسلمان بنانے کی فکر کی اور بچپن سے نماز پڑھنے کے وقت ان کے سر رہتی تھی غیر مسلمانہ عادتوں سے بچنے کو کہتی تھی مجھے اسلام قبول کرنے کے بعد جس طرح پہلے مسلمان برے لگتے تھے غیر مسلم برے لگنے لگے اس لئے میں باوجودغیر مسلموں کے محلہ میں رہنے کے، بچوں کے لئے یہ پسند نہیں کرتی تھی کہ وہ غیر مسلم بچوں سے دوستی کریں بلکہ ان کے ساتھ کھیلیں۔
سوال : آپ کے ہندو عزیزوں سے اب کیسے تعلقات ہیں؟
جواب : اسلام قبول کرنے سے پہلے ہم لوگوں کی اقتصادی حالت اچھی نہیں تھی ہم لوگ غریبی کی زندگی گزارتے تھے مگر اسلام قبول کرنے کے بعد اللہ نے ہم کو سب کچھ دیا ہمارے بھائیوں اور بھانجوں نے اپنے ہندو رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کیا اب وہ لوگ ملتے جلتے ہیں اور شادی غمی میں شریک ہوتے ہیں ہم سے تعلقات بنا ئے رکھنا ان کی ضرورت بن گئی ہے،نسیم بھائی فائدہ اٹھاکر ان پر کام کر رہے ہیں۔
سوال : ارمغان کے واسطے سے آپ مسلمانوں کو کوئی پیغام دینا چاہیں گی؟
جواب : مجھے صرف یہ کہنا ہے کہ مسلمان گندے نہ رہیں اس کی وجہ سے لوگ اسلام میں آنے سے رکتے ہیں، اسلام نے پاکی اور صفائی کو کس قدر اہمیت دی ہے ، ہمیں تو دنیا کو صفائی اور پاکی کا سلیقہ سکھانا چاہیے ، ہماری زندگی اسلامی کردار کا نمونہ ہونی چاہئے۔ اسلام کی ہر ادا میں کشش ہے، دیکھئے پچاس سے زائد افراد پر مشتمل خاندان کی ہدایت کا ذریعہ صرف عبدالرحمٰن صاحب کے وعدے پر چنگی جمع کرنے کا عمل ہوا بلکہ ہمارے واسطے سے مسلمان ہونے والے سبھی لوگوں کا ذریعہ ان کا ایک اسلامی عمل ہوا۔افسوس ہم خود گندے رہتے ہیں اور کم از کم ہندوستان میں گندگی مسلمانوں کی شناخت سمجھی جانے لگی ہے، ہمیں اس برائی کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
سوال : بہت بہت شکریہ سلمیٰ چچی جان آپ ہمارے لئے دعاء کیجئے۔
جواب : ضرور، آپ بھی میرے لئے دعاء کریں آپ اللہ کی نیک بندی ہیں۔
اللہ حافظ (مستفاداز ماہ نامہ ارمغان فروری۲۰۰۴ ؁ء)