سالگرہ

مصنف : محمد صدیق بخاری

سلسلہ : آواز دوست

شمارہ : مارچ 2012

            دسمبر ۱۹۹۲ میں جب میرے شاعر(۱) کا جنازہ صدر بازار لاہورکی جامع مسجد سے اٹھا ،تو مجھے یاد ہے کہ ایک لمبی داڑھی والا دراز قداوربارعب آدمی کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے جنازے کے آگے آگے چل پڑا تھا۔ اس کی آواز بہت بلند تھی اور وہ مختلف آیات اور سورتیں بھی پڑھتا جا رہا تھا۔ راستے میں جب بھی کوئی اس سے پوچھتا کہ بھائی یہ کیا ہو گیا؟ تو وہ جواب میں کہتا، ‘‘پینڈا مک گیا ’’ یعنی سفر پورا ہو گیا۔ (پنجابی میں پینڈا پرُمشقت سفر کو کہتے ہیں) ۔ اسی صدر میں ایک دن مشہور ِزمانہ حکیم جگرانوی اپنے ملازم نورے کے ساتھ صبح کی سیر کے لیے نکلے ۔ گھر سے تھوڑی ہی دور چلے ہو ں گے کہ طبیعت میں خرابی محسوس ہوئی۔ وہیں کھڑے ہوئے اور اپنی نبض پہ ہاتھ رکھا اور نورے سے کہنے لگے ، ‘‘ نوریا کہانی مک گئی اے ، چل واپس چلیے ’’ اور یہ کہہ کر و ہیں سے واپس ہوئے اور گھر پہنچ کر انتقال کر گئے۔ وہ جس کا پینڈا مک گیا تھا ، وہ چند گھنٹے پہلے اپنے دفتر میں صحیح سلامت بیٹھامستقبل کے پلان بنا رہا تھااور وہ جس کی کہانی مک گئی تھی وہ بھی تھوڑی ہی دیر قبل گھر سے خوش باش سیر کے لیے نکلا تھا۔ سوچتا ہوں کہ جس انسان کی کہانی اچانک کسی موڑ پر اس طرح ختم ہو جانے والی ہو اور جس کا سفر اس طرح سے پورا ہو جانا ہو ، وہ کیا اپنی سالگر ہ منائے ۔۔۔!

            لوگ جب سالگر ہ کی مبارک بادیں دیتے ہیں تو سوچتا ہوں کہ شاید انہیں یقین ہو گیا ہے کہ یہ موت کے پنجوں سے کچھ دور ہو گئے ہیں اور یا پھر کسی نے انہیں بتلا دیا ہے کہ ان کا یہ سال پچھلے سال کی نسبت بہت ہی اچھا گزرے گا۔ میں تو ہر سال ماہ فروری میں یہ سوچتا رہ جاتا ہوں کہ اپنی سالگرہ پر بیتے دنوں کا ماتم کروں یا آنے والے دنوں کو روؤں، کیونکہ نہ تو گئے دنوں میں مالک کی رضاغالب نظر آتی ہے او رنہ ہی آنے والوں دنوں میں اس کا عزم صمیم دکھائی دیتا ہے ۔ سالگر ہ منانے کا حق تو اُن کا تھا کہ جنہیں زندگی ہی میں رضی اللہ عنہ ورضوا عنہ کی بشارت مل گئی تھی۔ جن کی بحیں ، جن کی شامیں ، جن کے دن اور جن کی راتیں سب اللہ کے لیے تھیں اور جن کا ہر آنے والا لمحہ پہلے سے بہتر ہو اکر تا تھا اور جو اپنے مالک سے ملنے کے لیے ہر دم تیار رہا کرتے تھے لیکن اْن کی زندگی اس طرح کی کسی بھی سرگرمی سے خالی نظر آتی ہے اور ہم جو دھرتی کے سینے کا بوجھ ہیں ، سالگر ہ مناتے رہتے ہیں۔۔۔! وہ لوگ تو ہر آنے والے دن پہلے سے زیادہ فکر مندہوتے تھے کہ کہیں اللہ ناراض نہ ہوجائے او رہم ہر آنے والے دن پہلے سے زیادہ بے پروا او رنچنت ہوتے ہیں اور پھر بھی سالگر ہ مناتے ہیں۔آخرت نہ سہی کہ اس کوتو ہم بہت دور سمجھتے ہیں، اگر ہمیں اپنے ارد گرد اور قریب ہی دیکھنے کی توفیق ہو جاتی تو غربت و افلاس ، فاقہ و بیماری سے نبرد آزما ہزاروں انسانوں میں سے ہمیں چند تو یقینا نظر آہی جاتے تو پھر اگر ہم سینے میں دل اور سر میں عقل رکھنے والے ہوتے تو اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کرتے کہ کیا ان لوگوں کے ہوتے ہوئے بھی سالگرہ جیسی فضول خرچی کرنے کا کوئی جواز بنتا ہے ؟

            کسی بچے کے والدین کو سالگر ہ کی مبارک باد دے دی جائے تو پھر بھی کچھ جواز بنتا ہے کہ بظاہربچہ آگے بڑھ رہا ہوتا ہے (اگرچہ ضمانت تو اس کی بھی نہیں) لیکن وہ جن کی عمریں چالیس سال سے تجاوز کر گئی ہوتی ہیں اور جن کا یقیناکاونٹ ڈاؤن شروع ہوگیا ہوتا ہے وہ نہ جانے کس مان پہ سالگر ہ منا رہے ہوتے ہیں۔جس طرح زندگی کے ہر ہر عمل کے بارے میں ہر ہر انسان کو اللہ کے حضور تنِ تنہا کھڑے ہو کر یہ جواب دینا ہے کہ فلا ں عمل کیا تو کیوں کیا؟ او رنہیں کیا تو کیوں نہیں کیا؟ اسی طرح سالگرہ منانے والوں کو بھی یقینا یہ جواب دینا ہو گا کہ سالگر ہ منائی توکیوں منائی؟ کیا تم نے اللہ کی رضا مندی کی کوئی چوٹی سر کر لی تھی یا زندگی کے مقصدکی کوئی منزل پالی تھی اور یا یہ کہ رضائے الہی کا کوئی پروانہ تمہیں مل گیاتھا؟اس کا کیا جواب ہو گا ۔۔۔؟کم از کم میرے پاس تو اس کا کوئی جواب نہیں۔میں تودیکھ رہا ہوں کہ زندگی ہمیں گزار رہی ہے ، ہم اس کو نہیں گزار رہے ۔ کاش ایسا ہوتا کہ جب اللہ ہم سے پوچھتا کہ جو زندگی دی تھی وہ کس کے لیے گزاری اور کہاں گزاری تو ہم بھی صحابہ ، تابعین،تبع تابعین، محدثین،مفسرین، محققین، آئمہ ، علما اور فقہا کی طرح کہہ سکتے کہ یااللہ تیرے لیے ۔ مگر یہ حسرت تو شاید حسرت ہی رہے کہ ہم نہ محدث ، نہ مفسر، نہ محقق ،نہ فقیہہ۔

            اس سال فروری میں اپنی زندگی کی نصف سینچری پوری ہونے پہ میں نے بیتے دنوں کا حساب لگایا تو شرمندگی ہوئی کہ ہم تو اس شاعر سے بھی گئے گزرے ہیں کہ جس کی زندگی کے چار دنوں میں سے دو آرزو میں کٹ گئے تھے اور دو انتظار میں ، ہمارے ہاں تو نہ آرزو ہے ، نہ انتظار ، بس ہر وقت دال روٹی کا چکر ہے ، پہلے اس چکر تک پہنچنے کے لیے سکولوں کالجوں کے دھکے کھا رہے تھے اور اب اس چکر میں پھنسے گھوم رہے ہیں اور لگتا ہے کہ اسی طرح گھومتے گھومتے کسی چکر میں یہ کہانی مُک جائے گی اور بس زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ کوئی ہمارے جنازے پہ بھی یہ کہہ رہا ہو گا کہ پینڈا مک گیا اے۔۔۔۔!

۱۔ میرے شاعر سے مراد مصنف کے دوست اور برادر نسبتی، ازہر درانی