دعا

مصنف : حامد اللہ افسر

سلسلہ : دعا

شمارہ : اگست 2013

 

درد جس دل میں ہو میں اس کی دوا بن جاؤں
کوئی بیمار اگر ہو تو شفا بن جاؤں
 
دکھ میں ہلتے ہوئے لب کی میں دعا بن جاؤں
اُف وہ آنکھیں کہ ہیں بینائی سے محروم کہیں
 
روشنی جن میں نہیں نور جن آنکھوں میں نہیں
میں ان آنکھوں کے لیے نور و ضیا بن جاؤں
 
ہائے وہ دل جو تڑپتا ہوا گھر سے نکلے
اُف وہ آنسو جو کسی دیدہ تر سے نکلے
 
میں اس آنسو کو سکھانے کو ہوا بن جاؤں
دور منزل سے اگر راہ میں تھک جائے کوئی
 
جب مسافر کہیں رستے سے بھٹک جائے کوئی
خضر کا کام کروں راہ نما بن جاؤں
 
عمر کے بوجھ سے جو لوگ دبے جاتے ہیں
ناتوانی سے جو ہر روز جھکے جاتے ہیں
 
ان ضعیفوں کے سہارے کو عصا بن جاؤں