کمپیوٹر اکاؤنٹ کی حفاظت

مصنف : عقیل شہزاد

سلسلہ : ٹیکنالو جی

شمارہ : ستمبر 2018

ٹیکنالو جی
کمپیوٹر اکاؤنٹ کی حفاظت
عقیل شہزاد

                                                                                            فیس بک اور ای میل اکاؤنٹ کیسے ہیک ہوتے ہیں؟
بہت سے لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا فیس بک اکاؤنٹ وغیرہ ہیک ہو گیا ہے، لیکن ایساکچھ بھی نہیں ہوتا ہمیشہ یہی نتیجہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ جس کا اکاؤنٹ ہیک ہوا وہ اس کی اپنی غلطی سے ہوا۔ یاد رکھیں کہ آپ صرف اور صرف اپنی کم علمی کی وجہ سے اپنا اکاؤنٹ ہیک کرواتے ہیں اور دوسرے صرف اور صرف معلومات ہونے کی وجہ سے اکاؤنٹس ہیک کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
چند پوائنٹس یہاں قابلِ ذکر ہیں۔
پاس ورڈز
اکثر لوگ نہ صرف کمزور پاس ورڈ استعمال کرتے ہیں بلکہ ایک ہی پاس ورڈ ایک سے زیادہ اکاؤنٹس کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ اور اپنے لیک پاس ورڈ دوبارہ استعمال کرنا تو سمجھیں ہیکر کو دعوت دینے والی بات ہے۔گزشتہ سالوں میں بڑی سے بڑی ویب سائٹس جیسے کہ لنکڈاِن اور یاہو وغیرہ کے پاس ورڈ ڈیٹا بیس لیک ہو چکے ہیں۔ اس لیے ہر اکاؤنٹ کے لیے الگ پاس ورڈ استعمال کریں اور ایسا پاس ورڈ جس پر آپ کو ذرا سا بھی شک ہو کہ وہ کسی کو معلوم ہے بالکل مت استعمال کریں۔ پاس ورڈ میں ہمیشہ نمبرز اور اسپیشل کیریکٹرز شامل رکھیں تاکہ انھیں کریک کرنا انتہائی مشکل ہو جائے۔اگر کسی کام کے سلسلے میں کسی کو اپنا پاس ورڈ دینا پڑ بھی جائے تو کام مکمل ہونے کے فوراً بعد پاس ورڈ بدل لیں۔ بلکہ ہر دو تین ماہ بعد اپنا پاس ورڈ اپ ڈیٹ کرتے رہیں۔یاہو! کا پاس ورڈ ڈیٹا بیس لیک ہونے پر پتا چلا کہ ہزاروں لوگ یہ سادہ سے پاس ورڈ ز استعمال کر رہے تھے:
password, welcome, qwerty, monkey, jesus, love, money, freedom, ninja, writer
سیکیورٹی کوئسچن
کسی بھی ای میل اکاؤنٹ کے ہیک ہونے میں سیکیورٹی کوئسچن کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں زیادہ تر لوگوں کے اکاؤنٹس انھیں جاننے والے ہی ہیک کرتے ہیں۔ فرض کریں کہ میرا سیکیورٹی سوال ہے ’’میرا بچپن کا بہترین دوست کون ہے؟‘‘ تو ظاہر سی بات ہے اس کا جواب میرے جاننے والے لوگ باآسانی بوجھ سکتے ہیں۔لیکن یہاں غلطی میری اپنی ہے اگر میں یہاں درست معلومات درج کر 
د وں ۔ یہ کوئی امتحان کا سوال تو ہے نہیں کہ درست جواب دینے پر مجھے نمبرز ملیں گے اور غلط جواب دینے پر مجھے فیل کر دیا جائے گا۔ بلکہ یہاں بات میری اپنی سیکیورٹی کی ہے۔ اگر جواب میں دوست کی بجائے دشمن کا نام، یا حتیٰ کہ کسی دوسری چیز کا نام مثلاً کافی کپ، ہیلی کاپٹر ، کرکٹ یا کوئی بے معنی لفظ بھی لکھ دوں تو ای میل سروس کو اس سے کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔اس لیے سیکیورٹی کوئسچنز کے جواب لکھتے ہوئے ہمیشہ خیال رکھیں۔ ایسے جواب لکھیں جنھیں آپ کے علاوہ کوئی تْکا لگا کر بھی نہ بوجھ سکے۔ اگر آپ نے بھی درست جواب دے رکھے ہیں تو انھیں فوراً بدل لیں۔
موبائل فون نمبر
آج کل تقریباً ہر بڑی ای میل سروس اور فیس بک اکاؤنٹ میں اپنا موبائل فون نمبر شامل کیا جا سکتا ہے۔ تاکہ اگر خدانخواستہ آپ کے اکاؤنٹ کے ساتھ کوئی مسئلہ ہو جائے تو فون نمبر استعمال کرتے ہوئے اکاؤنٹ واپس حاصل کیا جا سکے۔اس لیے اپنے اکاؤنٹ میں فون نمبر ضرور شامل رکھیں اور ایسا نمبر شامل رکھیں جو آپ ہی کے پاس موجود ہو۔ اگر آپ اپنا نمبر بدلیں تو اپنے اکاؤنٹ میں بھی اسے بدلنا مت بھولیں۔
متبادل ای میل
اکثر ایسا تجربہ ہوا کہ لوگوں نے اپنے اکاؤنٹس میں متبادل ای میل کے طور اپنا کوئی دوسرا ای میل ایڈریس ہی شامل نہیں کر رکھا ہوتا۔ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی دوسرے سے اکاؤنٹ بنوا لیا اور استعمال کرنا شروع کر دیا۔ پھر ایک دن ایسا ہوتا ہے کہ اکاؤنٹ اچانک سے ہیک۔ اپنے اکاؤنٹ میں درست متبادل ای میل ایڈریس شامل رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ پاس ورڈ ری سیٹ کرنے کی درخواست اس پر موصول کی جا سکے۔
نوٹ
تو اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کا اکاؤنٹ کبھی کسی نے استعمال تو نہیں کیا یا ہیک تو نہیں اس کا بہت آسان ذریعہ جان لیں۔یعنی اگر آپ کو ایسا لگے کہ اکاؤنٹ کو کسی نے استعمال کیا ہے تو یہ طریقہ آزمائیں۔سب سے پہلے مینیو میں جاکر سیٹنگز پر کلک کریں۔اس کے بعد سیکیورٹی اینڈ لاگ ان میں چلے جائیں اور پھر Where You're Logged In۔وہاں ان تمام ڈیوائسز کی فہرست سامنے آجائے گی جن پر یہ اکاؤنٹ لاگ ان ہوا ہوگا اور ان کی لوکیشن بھی دیکھی جاسکتی ہے۔تو اگر جس ڈیوائس پر لاگ ان آپ پہچان نہیں سکے تو اس بات کے امکانات ہیں، آپ کے اکاؤنٹ کو ہیک یا کسی دوست وغیرہ نے استعمال کیا ہے۔اگر آپ کو یقین ہو کہ آپ اس ڈیوائس یا لوکیشن سے لاگ ان نہیں ہوئے تو اس کے دائیں جانب تھری ڈاٹس پر کلک کرکے Not You پر کلک کریں۔
اس کے بعد Secure Account اکاؤنٹ پر کلک کریں، جس کے بعد فیس بک کی جانب سے اکاؤنٹ کو محفوظ بنانے کے لیے مختلف اقدامات دیئے جائیں گے۔فیس بک اور دیگر ای میلز سروسز کی سیکیورٹی انتہائی سخت ہے۔ آج سے چند سال پہلے جیسی صورت حال تھی اب ایسا نہیں ہے۔ کسی کا بھی اکاؤنٹ ہیک کرنا کوئی آسان بات نہیں رہا۔ جیسا کہ آپ نے اس مضمون میں پڑھا کہ آپ خود کوئی چور راستہ چھوڑ دیتے ہیں، جسے استعمال کرتے ہوئے کوئی آپ کا اکاؤنٹ لے اْڑتا ہے اور آپ سمجھتے ہیں کسی ماہر ہیکر نے آپ کا پاس ورڈ اْڑا لیا۔

***