کرونا، خدا اورنیچر

مصنف : ڈاکٹر محمد عقیل

سلسلہ : اصلاح و دعوت

شمارہ : مارچ 2020

مولانا وحیدالدین خان نے ایک واقعہ نقل
کیا کہ کچھ لوگ غار ثور کی زیارت کو گئے۔ فجر کا وقت تھا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ عقیدت میں ننگے پاؤں اس کی زیارت کریں گے۔ وہ وہاں پہنچ تو گئے لیکن واپسی میں تیز دھوپ نکل آئی اور ان کے لیے ننگے پاؤں چلنا دو بھر ہوگیا۔ کچھ کے پاؤں بری طرح جل گئے اور کچھ وہیں پر بے ہوش ہوگئے۔یہ ہم مسلمانوں کا عمومی مزاج ہے وہ عقیدت میں خدا کے قوانین سے کھلواڑ کرتے ہیں اور جب نقصان پہنچتا ہے تو خدا ہی کو برا بھلا بولتے اور اس پر اعتراضات کرتے ہیں کہ اس نے مدد نہیں کی۔ یہی معاملہ کرونا وائرس کا بھی ہے۔
کچھ لوگ توکل کے خود ساختہ مفہوم میں غلطاں ہیں کہ کچھ نہیں ہوگا اور اللہ مالک ہے۔ یہ کہاں خدا نے بیان کیا کہ کچھ نہیں ہوگا۔ اس نے تو چین اور یورپ کی مثالیں سامنے لا کر دکھادیں اور بتایا کہ اگر اس کی تیاری نہ کی گئی تو بہت کچھ ہوگا۔ کچھ لوگ تقدیر کے خود ساختہ نظریے کے داعی بن کر یہ کہنے میں مصروف ہیں کہ موت تو جس کو آنی ہے، اسے آنی ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر تو کسی بھی معاملے میں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ جو ہونا ہے وہ تو ہونا ہے تقدیر کا مطلب یہ نہیں جو بیان کیا جارہا ہے تقدیر تو ایک مشروط بیان ہے جس میں لکھا ہے کہ ایسا کروگے تو یہ ہوگا، ویسا کروگے تو وہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے اس وائرس پر سنجیدگی سے توجہ دی تو اس نے اس پر کافی حد تک قابو پالیا۔ اٹلی میں لوگوں نے ان پابندیوں کا مذاق اڑایا اور اس کا خمیازہ بھگت لیا۔ یہی تقدیر ہے اور یہی قسمت۔
کچھ لوگ خدا کی آسمانی مدد کے طلب گار ہیں۔ حالانکہ خدا عمومی طور پر جب مدد بھیجتا ہے تو اسباب کے پردوں ہی میں بھیجتا ہے اور اس نے یہ مدد بھیجی بھی ہے۔ چین میں یہ معاملہ جب شروع ہوا تو پاکستانی طلبا وہاں پھنس گئے اور یہ جنوری کی بات ہے۔ یہ قدرت کی جانب سے ایک سنہری موقع تھا کہ ہمارے مقتدرہ حلقے اس بات کو ذہن میں رکھ کر یہ سوچ لیتے کہ یہ وبا اگر آئی تو باہر ہی سے آئے گی اور ایسا ہی ہوا۔ معاملہ تفتان بارڈر سے شروع ہو ا اور ااس کے بعد جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔
کچھ لوگ کرونا سے نبٹنے کے لیے خدا سے رجوع کرنے کا حکم دے رہے ہیں۔ یہ ایک درست بات ہے لیکن خدا سے رجوع کرنے سے مراد محض طویل نمازیں اور رقت آمیز دعائیں ہی نہیں بلکہ وہ اقدامات بھی ہیں جن سے کرونا کی روک تھام ممکن ہے۔ ان میں سب سے پہلے احتیاط ہے۔ یہ دعا کی قبولیت کی پہلی شرط ہے کیونکہ جو خود اپنا خیال نہیں رکھتا تو خدا اس کا خیال کیوں رکھے گا۔ دوسری شرط اجتماعی سطح پر فلاح و بہبود یعنی متاثرہ لوگوں کی اپنی استطاعت کے مطابق مدد کرنا ہے۔ جو دوسروں کی مدد نہیں کرتا تو خدا بھی ان کا مدد گار نہیں ہوتا۔ تیسری شرط توکل و تفویض ہے یعنی تدبیر کرنے کے بعد معاملہ اللہ پر چھوڑ دینا اور نیتجے پر صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنا۔