پلاسٹک سرجری ــــ اسلام کا نقطۂ نظر

مصنف : ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

سلسلہ : فکرونظر

شمارہ : فروری 2010

طب کی ایک شاخ جس میں جسم انسانی کے کسی عضو کی ہیئت یا فعل کو درست کرنے کے لیے ایک خاص طرح کا آپریشن کیا جاتا ہے، پلاسٹک سرجری (Plastic Surgery ) کہلاتی ہے۔ ‘پلاسٹک’ یونانی لفظ Plastikos سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی ہیں کسی چیز کو موڑنا، اسے نئی شکل دینا to mold, to shape (اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ سرجری کی اس قسم میں مخصوص کیمیاوی مادہ ‘پلاسٹک’ کا استعمال ہوتا ہے۔)

تاریخی پس منظر

انسان فطری طور پر چاہتا ہے کہ اس کے اعضائے بدن ٹھیک طریقے سے کام کرتے رہیں، ان کے افعال میں کوئی نقص و خلل واقع نہ ہو، ظاہری طور پر بھی ان میں کوئی عیب دکھائی نہ دے اور اس کی شخصیت پرکشش اور جاذب نظر معلوم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی سبب سے اس کے کسی عضو میں بدہیئتی پیدا ہو جائے تو وہ اس کے ازالے کی کوشش کرتا ہے اور اگر وہ عضو اپنا مفوّضہ کام کرنا بند کر دے یا اس میں کمی آ جائے تو اسے درست کرنے کی تدابیر کرتا ہے۔

دنیا کی تمام قوموں میں علاج معالجہ کی جن اولین تدابیر کا سراغ ملتا ہے، ان میں اس پہلو کے بھی اشارے پائے جاتے ہیں۔ مؤرخین کے مطابق ہندوستان میں دو ہزار قبل مسیح اس عمل کا پتا چلتا ہے۔ مشہور ہندوستانی طبیب سشرت (Sushruta ) نے (جس کا زمانہ چھٹی صدی قبل مسیح بتایا جاتا ہے) پلاسٹک سرجری کے میدان میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔ قدیم مصری طب میں بھی چہرے کے عمل جراحی سے متعلق بعض تفصیلات ملتی ہیں۔ اسی طرح پہلی صدی قبل مسیح میں رومی طب میں اس مخصوص عمل جراحی کی سادہ تکنیک کا سراغ ملتا ہے۔ یہ لوگ زخمی اور کٹے ہوئے کان کی اصلاح اور درستگی کا کام انجام دیتے تھے۔اس طریقۂ علاج میں ہندوستانی اطبا کی مہارت سے دیگر ممالک میں بھی فائدہ اٹھایا گیا۔ سشرت اور چرک (Charaka b. 300BC ) کی طبی تصانیف کا عباسی عہد خلافت میں عربی میں ترجمہ کیا گیا۔ ان سے عرب اطبا واقف ہوئے، پھر یہ ترجمے یورپ پہنچے تو ان سے بھرپور استفادہ کیا گیا ۔ اٹھارہویں صدی کے اواخر میں کچھ برطانوی طبیبوں نے ہندوستان کا سفر کیا تاکہ ناک کی پلاسٹک سرجری کا مشاہدہ کریں، جو یہاں مقامی طریقوں سے انجام دی جاتی تھی۔ اس کی رپورٹیں Gentleman's Magazine میں شائع ہوئیں۔ اسی طرح پلاسٹک سرجری کے مقامی طریقوں کا مطالعہ کرنے کے لیے Joseph Constantine Carpue (1764-1846) نے ہندوستان میں بیس سال گزارے۔ چونکہ عمل جراحی میں بہت زیادہ خطرات تھے، خاص طور سے اس صورت میں جب معاملہ سر اور چہرے کا ہو، اس لیے ناگزیر حالت ہی میں اس کو انجام دیا جاتا تھا۔

انیسویں صدی میں پلاسٹک سرجری کو کچھ زیادہ رواج ملا اور اس میدان میں نئی نئی تکنیکیں ایجاد ہوئیں اور نئے نئے تجربات کیے گئے۔ اس کا اندازہ درج ذیل تجربات سے بہ خوبی کیا جا سکتا ہے جنھیں اس میدان کے اہم سنگ میل کہنا بے جا نہ ہو گا۔

۱۸۱۵ء میں Joseph Carpue نے ایک برطانوی فوجی آفیسر کی پلاسٹک سرجری کی جو Mercury treatment کے سمی اثرات کے نتیجے میں اپنی ناک گنوا بیٹھا تھا۔

۱۸۱۸ء میں جرمن سرجن Carl Ferdinand Von Graefe (1787-1840) نے اپنی کتاب Rhinoplastic شائع کی۔ اس میں اس نے اطالوی طریقۂ جراحی میں تبدیلی کرتے ہوئے Original Delayed Pedicle Flap کے بجائے باز کی کھال لگانے (Free Skin graft ) کا طریقہ ایجاد کیا۔

۱۸۲۷ء میں امریکن سرجن Dr. John Peter Mattauer (1787-1847) نے ناک کی پلاسٹک سرجری پر ایک مبسوط تحریر لکھی جس کا عنوان Chirurgie Operatiue تھا۔ اس میں اس نے اصلاح شدہ ناک کے جمالیاتی مظہر کو بہتر بنانے کے لیے دوبارہ آپریشن کا تصور پیش کیا۔

۱۸۸۹ء میں امریکن سرجن George Monks (1853-1933) نے درمیان میں پچکی ہوئی ناک (Saddle nose ) کے نقص کو دور کرنے کے لیے دوسرے مقام کی ہڈی استعمال کرنے (Heterogeneous. free bone grafting ) کا کامیاب تجربہ کیا۔

۱۸۹۱ء میں کان، ناک اور حلق کے امراض کے امریکی ماہر John Orlando Roe (1848-1915) نے ایک نوجوان خاتون کی ناک کے پچھلے ابھار کوکم کرنے کے لیے آپریشن کیا۔

۱۸۹۲ء میں Robert weirنے پچکی ہوئی ناک (Sunken nose ) درست کرنے کے لیے بطخ کے سینے کی ہڈی (Duck sternum) استعمال کرنے کا تجربہ (Xenograft) کیا، لیکن اس میں اسے کامیابی نہ ملی۔

۱۸۹۶ء میں جرمن سرجن Jemes Adolf Israel (1848-1926) نے امریکن سرج George Monks کے مثل ناک کے نقص کو دور کرنے کے لیے دوسرے مقام کی ہڈی استعمال کی۔

۱۸۹۸ء میں جرمن آرتھوپیڈک سرجن Jacques Joseph (1843-1907) نے ناک کے ابھار کو کم کرنے(Reduction Rhinoplasty) کا اپنا پہلا تجربہ شائع کیا۔

نیا زمانہ ، نئے مسائل

پلاسٹک سرجری کے میدان میں بیسیویں صدی میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ برطانوی فوجی Walter Yeo غالباً پہلا شخص ہے جس کے چہرے کی ۱۹۷۱ء میں Skin graft کے ذریعہ کامیاب سرجری کی گئی۔

جنگ عظیم اول (۱۸۔۱۹۱۴ء) اپنے ساتھ بھیانک تباہی لائی۔ بہت سے لوگ اس میں ہلاک ہوئے اور ان سے کہیں زیادہ تعداد میں زخمی ہوئے۔بہت سے فوجی ہاتھ پیر سے معذور ہو گئے۔ ان کے بدن اور چہرے جھلس گئے۔ اس موقع پر بہت سے ممالک میں پلاسٹک سرجری کے کامیاب تجربے ہوئے۔ یہی صورت حال جنگ عظیم دوم (۴۵۔ ۱۹۳۹ء) کے بعد بھی پیش آئی۔

نیوزی لینڈ کے سرجن ماہر امراض کان و حلق Sir Harold Delf Gillies (1882-1960) نے ان لوگوں کے لیے جن کے چہروں پر جنگ عظیم اول کے درمیان گہرے زخم آئے تھے اور وہ مسخ ہو گئے تھے، جدید پلاسٹک سرجری کے بہت سے طریقوں کو ترقی دی۔

امریکہ میں Dr. Vilary Papin Blair (1871-1955) نے جنگ عظیم اول کے فوجیوں کے جبڑوں اور چہروں کو لاحق ہونے والے پیچیدہ زخموں Maxillofacial injuries Complex کے کامیاب آپریشن کیے۔ اس کی کوششوں سے امریکی ملٹری ہاسپٹل میں پلاسٹک سرجری کا مستقل شعبہ قائم ہوا، جس کے بعد برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور دیگر ممالک میں بھی اس طرح کے شعبے قائم ہوئے۔ جنگ عظیم دوم کے بعد نیوزی لینڈ کے سرجن Sir Archibald Mclndoe (1900-1960) نے جو Sir Harold کا شاگرد تھا، Royal Air Force کے فوجیوں کا ابتدائی علاج کیا، جن کے بدن جھلس گئے تھے۔

امریکہ میں چہرے کی سرجری اور پلاسٹک سرجری سے متعلق ایک انجمن قائم ہوئی جس کا نام تھا: Americnan Association of Oral and Plastic Surgery، بعد میں یہ انجمن دو ذیلی انجمنوں میں تقسیم ہو گئی:

(1) American Association of Plastic Surgeons

(2) American Association of oral and Maxillofacial Surgeions

 ان تمام کوششوں اور خدمات کے باوجود پلاسٹک سرجری طب کا ایک مخصوص اور محدود شعبہ تھا، جس کے تحت جسمانی عیوب و نقائص کی اصلاح کی جاتی تھی۔ جنگوں اور حادثات و آفات کے مواقع پر تو پلاسٹک سرجری کے ضرورت مند متاثرین کی تعداد بڑھ جاتی تھی، لیکن عام حالات میں ایسے مریضوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوتی تھی، لیکن جب سے اس میں ایک نئے ذیلی شعبے کو متعارف کرا گیا، جس کا مقصد انسان کے ظاہری حسن و جمال میں اضافہ تھا، اس وقت سے یہ شعبہ کافی مقبول ہو گیا۔ ہر شخص کی خواہش ہوتی کہ وہ دیکھنے میں اچھا لگے، اس کا چہرہ خوب صورت معلوم ہو، اس کے اعضا چست دکھائی دیں اور ان پر درازئ عمر کے اثرات عیاں نہ ہوں۔ اس نئے شعبے سے ان کی یہ خواہشات پوری ہوتی نظر آئیں۔ مختلف ممالک میں مختلف سطحوں پر منعقد ہونے والے حسن کے مقابلوں، فلمی دنیا کی چمک دمک، نواجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی دل فریب (Glamorous ) زندگی اور دیگر عوامل و محرکات نے پلاسٹک سرجری سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد میں سینکڑوں گنا اضافہ کر دیا اور اس فن نے بہت زیادہ منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کر لی۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے جس کے مطابق ۲۰۰۶ء میں صرف امریکہ میں پلاسٹک سرجری کے تقریباً گیارہ ملین آپریشن کیے گئے۔ پھر جب پلاسٹک سرجری کاروبار بن گئی تو اس کے خواہش رکھنے والے یہ تلاش کرنے لگے کہ کہاں کم سے کم خرچ پر یہ آپریشن کرائے جا سکتے ہیں۔ اس کے لیے کیوبا، تھائی لینڈ، ارجنٹائنا، ہندوستان اور مشرقی یورپ کے بعض ممالک کی نشان دہی کی گئی۔ آپریشن ، آپریشن ہے۔ اس میں بہت سے خطرات پائے جاتے ہیں اور بہت سی پیچیدگیوں کا اندیشہ رہتا ہے۔ لیکن اس سے بے پروا ہو کر ایک دوڑ لگی ہوئی ہے اور اس فن سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔

مقاصد اور میدان عمل

مقاصد کے اعتبار سے پلاسٹک سرجری کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں:

الف: اصلاحی عمل جراحی (Reconstrauctive Surgery)

پلاسٹک سرجری کا مقصد بسا اوقات یہ ہوتا ہے کہ جس میں پائے جانے والے کسی ایسے عیب یا نقص کو دور کیا جائے جس سے انسان دیکھنے میں بدہیئت نظر آ رہا ہو، یا کسی ایسے عضو کی کارکردگی کو بحال کیا جائے یا بہتر بنایا جائے جس کی منفعت ختم یا کم ہو گئی ہو۔ یہ عیب یا نقص خلقی (Congenital) بھی ہو سکتا ہے اور حادثاتی (Accidential) بھی۔

جن صورتوں میں اس قسم کی سرجری کی ضرورت پڑتی ہے، ان میں سے چند یہ ہیں:

پیدایشی نقائص (Congenital abnormalities ) جیسے ہونٹ کا کٹا ہونا (Cleft lip) تالو کا کٹا ہونا (Cleft Palate) ، کان کا بیرونی حصہ نہ ہونا۔ سر کی ہڈیوں کا باہم ملا ہونا (Craniosynostosis) ہاتھ کے پیدایشی نقائص (Congenital hand deformities)

بچوں کی نشوونما کے نقائص (Developmental Abnormalities)

چوٹ لگنے کی وجہ سے پہنچنے والے زخم، جیسے سر اور چہرے کی ہڈیوں کا ٹوٹ جانا (Craniofacial Skeleton Fracture)

جسم کا جھلس جانا (Burns)

ٹیومر یا کینسر، جیسے پستان کا کینسر (Breast Cancer) سر یا گردن کا کینسر (Craniocervical Cancer)، جلد کا کینسر (Skin Cancer) گنجا پن (Baldness)

ب: تجمیلی عمل جراحی (Cosmetic or Aesthetic Surgery)

بسا اوقات پلاسٹک سرجری کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اعضا کی ساخت میں مناسب تبدیلی کر کے انسان کی ظاہری ہیئت کو خوب صورت اور پرکشش بنایا جائے۔ اسی طرح عمر ڈھلنے کے ساتھ انسان کے اعضا میں ڈھیلا پن اور کچھ بد ہیئتی آ جاتی ہے۔ پلاسٹک سرجری کے ذریعے اس کو بھی دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

سرجری کی اس قسم کے ذریعے جو افعال انجام دیے جاتے ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:

پیٹ کا ڈھیلا پن دور کرنا (Abdominoplasty)

ڈھلک جانے والی پلکوں کو نئی شکل دینا(Blepharoplasty)

چھوٹے پستان کو بڑا کرنا (Breast Augmentation)

بڑے پستان کو چھوٹا کرنا(Breast Reduction)

پستانوں کا ڈھیلا پن کم کر کے انھیں اوپر اٹھانا یا نئی شکل دینا(Mastopexy)

کولہوں کو اوپر اٹھانا (Buttock Augmentation)

ناک کو نئی شکل دینا (Rhinoplasty)

کان کوئی نئی شکل دینا (Otoplasty)

چہرے سے جھریاں اور بڑھاپے کی علامات دور کرنا (Rhytidectomy)

ٹھوڑی کو اوپر اٹھانا (Chin Augmentation)

رخسار کو اوپر اٹھانا (Cheek Augmentation)

جلد کو خوب صورت بنانا (Laser Skin resurfing)

مردوں کا سینہ کشادہ کرنا (Male Pectoral Implant)

چہرے سے مہاسے ، چیچک کے داغ اور دیگر نشانات ختم کرنا (Chemiclal Peel)

ہونٹ کو نئی شکل دینا (Labia Plasty)

جسم سے چربی کم کرنا (Suction-Assisted Lipectomy)

سرجری کا طریقۂ کار

پلاسٹک سرجری کے لیے عموماً درج ذیل طریقوں میں سے کوئی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے:

اعضا کے عیب یا نقص کو دور کرنے کے لیے آپریشن کیے جاتے ہیں۔موٹے لوگوں میں بدن سے زائد چربی کوزائل کر کے اسے دبلا اور چھریرا بنایا جاتا ہے۔بدن کے دوسرے حصوں سے چربی کو منتقل کر کے کولہے ابھارے جاتے ہیں۔

جسم جھلس جانے کی صورت میں لیفی انسجہ (Fibrous tissues) جن میں بہت زیادہ کھنچاؤ ہوتا ہے، انھیں آپریشن کر کے نکال دیا جاتا ہے اور صحیح جلد کو ملا کر جوڑ دیا جاتا ہے۔

جلد کو خوب صورت بنانے کے لیے Laser Technique سے مدد لی جاتے ہیں۔

ایک عام اور اہم طریقہ Microsurgery کہلاتا ہے۔ اس میں کسی عضو کے نقص کو چھپانے کے لیے جلد، عضلہ، ہڈی یا چربی کے نسیج (Tissue ) کو دوسری جگہ سے متاثرہ جگہ تک منتقل کیا جاتا ہے اور وہاں کی عروق دمویہ کو جوڑ کر خون کی سپلائی جاری کر دی جاتی ہے۔ یہ تکنیک جلد کی منتقلی کے سلسلے میں کثرت سے مستعمل ہے۔ اسے Skin grafting کہتے ہیں۔

حل طلب مسائل

پلاسٹک سرجری کے سلسلے میں درج بالا تفصیلات کی روشنی میں کچھ سوالات ابھرتے ہیں جنھیں شریعت اسلامی کی روشنی میں حل کیا جانا موجودہ دور کا اہم تقاضا ہے۔ وہ سوالات درج ذیل ہیں:

۱۔ کوئی ایسا عیب جو انسان میں پیدایشی طور پر موجود ہو اور اس کی وجہ سے وہ بدہیئت نظر آ رہا ہو اور وہ عیب عام قانون فطرت کے خلاف ہو، کیا اس کودور کرنے کے لیے پلاسٹک سرجری کرانا جائز ہو گا؟

۲۔ کوئی ایسا عیب جو پیدایشی طور پر نہ ہو، بلکہ کسی حادثہ کی وجہ سے پیدا ہو گیا ہو اور اس کی وجہ سے انسان بد ہیئت معلوم ہو رہا ہو کیا اس کے علاج کے لیے پلاسٹک سرجری کرانا درست ہو گا؟

۳۔ جسم انسانی کی بعض ہیئتیں عام قانون فطرت کے خلاف نہیں ہوتیں اور ان کا شمار عیب میں نہیں کیا جاتا، لیکن بعض افراد کو وہ پسند نہیں ہوتیں۔ اسی طرح بعض ہیئتیں بعض افراد کو پسند ہوتی ہیں، لیکن وہ ان کے بدن میں نہیں پائی جاتیں۔ کیا ناپسندیدہ ہیئتوں کو زائل کرنے اور پسندیدہ ہیئتوں کو حاصل کرنے کے لیے پلاسٹک سرجری کرانا جائز ہے؟

۴۔ بعض عیوب یا ناپسندیدہ ہیئتیں عمر زیادہ ہونے کے ساتھ فطری طور پر ہر شخص کے بدن میں ظاہر ہوتی ہیں۔ کیا ان عیوب یا ہیئتوں کے ازالہ کے لیے آپریشن کرانا جائز ہے؟

۵۔ کیا کم عمر اور خوبصورت نظر آنے کے لیے پلاسٹک سرجری کرائی جا سکتی ہے؟

۶۔ شناخت چھپانے کے لیے پلاسٹک سرجری کرانے کا کیا حکم ہے؟

اسلام کی اصولی تعلیمات

مذکورہ مسائل کا تجربہ کرنے اور شریعت اسلامی میں ان کا حکم دریافت کرنے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی بعض اصولی تعلیمات پیش نظر رکھی جائیں، کیونکہ ان کی روشنی میں ان مسائل کا حل دریافت کرنا اور ان کا حکم مستنبط کرنا آسان ہو گا۔

۱۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے۔ (لَقَد خَلَقنَا الاِنسَانَ فِی أحسَنِ تَقوِیمٍ۔ التین: ۴) اس نے انھیں ہاتھ، پیر، دل، دماغ، زبان، ہونٹ، آنکھ، کان، ناک اور دیگر اعضائے بدن سے نوازا ہے ، تاکہ وہ انھیں کام میں لائیں اور اللہ کا شکر ادا کریں۔اعضائے بدن اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں اور اس امانت کی حفاظت کرنا ان پر فرض ہے۔ ان اعضائے بدن کے جو مفوضہ کام ہیں اگر ان میں کوئی خلل کسی خلقی بیماری کی وجہ سے یا حادثاتی طور پر واقع ہو تو اسے دور کرنا شریعت میں مطلوب ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ کچھ بدو خدمت نبویؐ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول، کیا ہم علاج معالجہ کر سکتے ہیں؟ آپﷺ نے جواب دیا:

نعم، یا عباد اللّٰہ تداووا فان اللّٰہ لم یضع داءً الا وضع لہ شفاءً (او قال دواءً.)

‘‘ہاں، اے اللہ کے بندو، علاج کراؤ، اس لیے کہ اللہ نے جو بیماری بھی پیدا کی ہے، اس کے لیے شفا (یا فرمایا: دوا) بھی رکھی ہے۔’’

۲۔ جس طرح بیماری یہ ہے کہ جسم انسانی کا کوئی عضو کلی یا جزئی طور پر اپنا مفوضہ کام کرنا بند کر دے، اسی طرح بیماری یہ بھی ہے کہ انسان دیکھنے میں کسی خاص وجہ سے بدہیئت نظر آئے۔بدہیئتی سے اگرچہ انسان کو کوئی جسمانی تکلیف نہیں ہوتی، لیکن اس سے جو ذہنی اور نفسیاتی تکلیف پہنچتی ہے، وہ جسمانی تکلیف سے کسی طرح کم نہیں ہوتی، بلکہ بسا اوقات اس کی اذیت جسمانی اذیت سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ یہ دونوں طرح کی بیماریاں پیدایشی بھی ہو سکتی ہیں اور کسی حادثہ کے نتیجے میں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ شریعت نے علاج معالجہ کے سلسلے میں بیماریوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی، بلکہ ہر طرح کی بیماری کا مداوا کرنے کا حکم دیا ہے۔

۳۔ کائنات کے دیگر مظاہر کی طرح انسانوں کی تخلیق میں بھی اللہ تعالیٰ کی بے شمار نشانیاں ہیں۔ (الجاثیہ: ۴) ان نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمام انسانوں کو ایک ہیئت پر پیدا نہیں کیا ہے۔ ان کی تخلیق میں پائے جانے والے فرق اس کی خلاّقی پر دلالت کرتے ہیں۔ اسلامی شریعت میں تشبّہ سے منع کیا گیا ہے۔ تشبّہ کا مطلب ہے دوسرے جیسا بننے کی کوشش کرنا۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں:

لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم المتشبہین من الرجال بالنساء والمتشبہات من النساء بالرجال. (بخاری)

‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔’’

مذکورہ بالا حدیث میں تشبّہ کی صرف ایک صورت کا تذکرہ ہے۔ اس طرح کی دیگر اور بھی جو مشابہتیں ہو سکتی ہیں، وہ شریعت میں مذموم اور ناپسندیدہ ہیں۔

۴۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی لانے کی کوشش کرنے کو اسلامی شریعت میں سخت ناپسندیدہ اور شیطانی تحریک کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ سورۂ نساء میں ہے کہ شیطان نے بارگاہ الٰہی میں لعنتی قرار پانے کے بعد اللہ کے بندوں کو جن طریقوں سے گمراہ کرنے کے منصوبے کا انکشاف کیا تھا، ان میں سے یہ بھی تھا: وَلَآمرَنَّہُم فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلقَ اللّٰہ. (النساء: ۱۱۹) (اور میں انھیں حکم دوں گا تو وہ (میرے حکم سے) خدائی ساخت میں رد و بدل کریں گے)۔ یہ ایک بہت وسیع تعبیر ہے، جس میں انسانی بناوٹ میں تبدیلی لانا بھی شامل ہے۔

۵۔ انسان اپنی زندگی میں مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ بچپن، جوانی اور بڑھاپا اس کے سفر زندگی کے اہم مرحلے ہیں۔ یہ مراحل اس فطرت کے عین مطابق ہیں جس پر اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے۔ قرآن میں اس مظہر کو اللہ کی نشانی کے طور سے پیش کیا گیا ہے۔ (الروم: ۵۴) ایک مرحلہ سے دوسرے مرحلے میں منتقلی کے ساتھ انسان کے بدن میں کچھ تغیرات واقع ہوتے ہیں۔ یہ تغیرات اللہ تعالیٰ کے طے کردہ قوانین فطرت کا حصہ ہیں۔ انھیں روکنے یا ان میں تبدیلی لانے کی کوشش کرنا بھی ‘تغییر خلق اللہ’ کے مثل ہے۔

۶۔ اسلامی شریعت نے انسانوں کے باہمی معاملات میں سچائی اور اظہار حقیقت کو پسندیدہ رویہ قرار دیا ہے اور جھوٹ، مکر و فریب، دھوکا دہی اور غلط بیانی سے روکا ہے۔

پلاسٹک سرجری کی مختلف صورتوں کے بارے میں شرعی حکم

پلاسٹک سرجری سے متعلق مسائل کا تعلق موجودہ دور کے نئے مسائل سے ہے۔ اس لیے قدیم فقہا کی تحریروں میں ان سے متعلق احکام صراحت سے نہیں مل سکتے۔ اسلام کی مذکورہ بالا اصولی تعلیمات اور قرآن و حدیث اور قدیم فقہا کی تحریروں کے اشارات سے ان کے احکام معلوم کیے جا سکتے ہیں۔ ذیل میں ان میں سے بعض صورتوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے:

۱۔ خلقی بدہیئتی جو عام قانون فطرت کے خلاف ہو

بسا اوقات انسان میں پیدایشی طور پر کوئی ایسا عیب پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کی بدہیئتی نمایاں ہوتی ہے اور وہ عیب عام قانون فطرت کے خلاف ہوتا ہے، مثلاً ہونٹ یا تالو کٹا ہوا ہو، ہاتھ یا پیر میں زائد انگلی ہو، منہ میں زائد دانت ہو، یا کوئی دانت زیادہ لمبا ہو، یا اس طرح کا اور کوئی عیب۔ کیا ایسی بد ہیئتی کی اصلاح کی جا سکتی ہے؟

قاضی عیاضؒ (م ۵۴۴ ھ) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کو جس طرح بھی پیدا کیا ہو اس کے لیے اپنے اعضا میں کوئی کمی یا تبدیلی کرنا جائز نہیں:‘‘جس شخص کے بدن میں کوئی انگلی یا کوئی دوسرا عضو زائد ہو، اس کے لیے اسے کاٹنا یا علیحدہ کرنا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی ہے۔’’

یہی بات ابو جعفر طبری (م ۳۱۰ ھ) نے زائد یا لمبے دانت کے سلسلے میں کہی ہے۔

یہ حضرات ان کاموں کو اس صورت میں ناجائز کہتے ہیں جب انھیں محض بدہیئتی کو دور کرنے کے لیے انجام دیا جائے۔ البتہ اگر ان کی وجہ سے معمول کے کاموں میں رکاوٹ آ رہی ہو، مثلاً زائد لمبے دانت کی وجہ سے کھانے میں دشواری ہوتی ہو، یا زائد انگلی سے کوئی جسمانی اذیت لاحق ہوتی ہو تو ان کے نزدیک انگلی کو کٹوایا اور دانت کو نکلوایا جا سکتا ہے۔ طبری فرماتے ہیں:‘‘اس سے وہ صورت مستثنیٰ ہے جس سے ضرر اور تکلیف لاحق ہوتی ہو، مثلاً کسی عورت کے منہ میں زائد یا لمبا دانت ہو جس سے وہ صحیح طریقے سے کھانا نہ کھا پاتی ہو یا زائد انگلی جس سے اسے اذیت یا تکلیف ہوتی ہو تو اس کے لیے انگلی کٹوانا اور دانت اکھڑوانا جائز ہے۔ اس آخری معاملے میں مرد عورت کے مثل ہے۔’’

فقہ حنفی میں یہ شرط نہیں لگائی گئی ہے، البتہ کہا گیا ہے کہ یہ کام اسی وقت کروایا جائے جب اس کی وجہ سے جان کا خطرہ ہو:‘‘اگر کوئی شخص اپنی زائد انگلی یا کوئی دوسرا عضو کٹوانا چاہے تو نصیرؒ فرماتے ہیں کہ اگر اس سے ہلاکت کا اندیشہ ہو تو نہ کرے اور اگر غالب گمان یہ ہو کہ اس سے ہلاک نہیں ہو گا تو اسے کٹوا سکتا ہے۔’’

ہمارے خیال میں کسی بدہیئتی کے ازالہ کے لیے محض جسمانی اذیت اور دشواری ہی کی شرط نہ ہو، بلکہ ذہنی اور نفسیاتی اذیت کو بھی اسی درجے میں رکھا جانا چاہیے۔ چونکہ بدہیئتی عام قانون فطرت کے خلاف ہوتی ہے، اس لیے انسان دوسرے انسانوں کے مقابلے میں خفت اور سبکی محسوس کرتا ہے۔ اس سے اسے جو ذہنی اور نفسیاتی اذیت محسوس ہوتی ہے، وہ جسمانی اذیت سے کم نہیں ہوتی۔ اس لیے اسے اس کے ازالے اور اصلاح کی اجازت دی جانی چاہیے۔

عام قانون فطرت کے خلاف پائی جانے والی بد ہیئتی ایک بیماری ہے اور شریعت نے بیماری کا علاج کرنے کی نہ صرف اجازت، بلکہ اس کا حکم دیا ہے۔

۲۔ کسی حادثہ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بدہیئتی

یہ بھی ممکن ہے کہ بدہیئتی پیدایشی نہ ہو، بلکہ کسی حادثہ کے نتیجے میں ظاہر ہوئی ہو۔ مثلاً کسی ایکسیڈنٹ میں آدمی کی ناک ٹوٹ گئی یا کان کٹ گیا یا گھر میں آگ لگ گئی جس سے اس کی جلد جھلس گئی، یا کسی نے گولی مار دی جس سے بدن کے کسی حصے کا گوشت اڑ گیا ، یا اس طرح کی کوئی دوسری صورت ہو۔ اس میں آدمی کے بدن میں عیب پہلے نہیں ہوتا، بلکہ حادثاتی طور پر بعد میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس طرح کے کسی عیب کے ‘بیماری’ میں شمار کیے جانے میں کوئی شبہ نہیں، اس لیے اس کے علاج کی اجازت ہو گی۔

غزوۂ خندق کے موقع پر دشمنوں کی جانب سے حضرت سعد بن معاذؓ کو ایک تیر آ کر لگا، جس سے ان کے بازو کی ایک رگ زخمی ہو گئی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد نبوی میں خیمہ لگوایا اور ان کے علاج معالجہ میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔

صحابی رسول حضرت عرفجہ بن اسدؓ کی ناک عہد جاہلیت میں ہونے والی جنگ کلاب میں کٹ گئی تھی۔ انھوں نے اس کی جگہ چاندی کی ناک لگوا لی تھی۔ کچھ عرصہ کے بعد جب اس میں بد بو پیدا ہو گئی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں سونے کی ناک بنوانے کا مشورہ دیا تھا۔

غزوۂ بدر میں حضرت رافع بن مالک کو ایک تیر آ کر لگا جس سے ان کی آنکھ زخمی ہو گئی۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا لعاب دہن لگا دیا اور میرے لیے دعا کی، اس کی برکت سے مجھے اس آنکھ میں ذرا بھی تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔

غزوۂ احد میں ایک نازک موقع پر جو صحابۂ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لیے سینہ سپر ہو گئے تھے اور انھوں نے اپنے جسموں کو آپؐ کے لیے ڈھال بنا دیا تھا، ان میں حضرت قتادہ بن النعمان بھی تھے۔ انھیں ایک تیر آ کر لگا جس سے ان کی آنکھ باہر آ گئی۔ انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول، میری آنکھ ٹھیک ہو جانے کی دعا کیجیے۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہو تو صبر کرو، اس کے بدلے میں تمھیں جنت ملے گی اور چاہو تو میں تمھارے حق میں اللہ سے دعا کروں کہ وہ ٹھیک ہو جائے۔ انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول: جنت بہترین بدلہ اور گراں قدر عطیۂ الٰہی ہے، لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ عورتیں مجھے کانا کہیں گی۔ آپ میرے لیے جنت کی بھی دعا فرمائیے اور آنکھ ٹھیک ہو جانے کی بھی۔ حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ ‘‘اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دونوں چیزوں کی دعا کی اور میری آنکھ ٹھیک ہو گئی۔’’

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی حادثہ کے نتیجے میں کوئی عیب پیدا ہو جائے تو اس کے معاملے میں جسمانی اذیت کی طرح ذہنی اور نفسیاتی اذیت کا بھی لحاظ کیا جائے گا۔ چنانچہ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کے چیچک کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد اس کے چہرے پر چیچک کے داغ نمایاں ہو گئے ہوں، چہرہ پر کوئی گہرا زخم لگا، جس کے ٹھیک ہو جانے کے بعد بھی نشانات باقی رہ گئے ہوں ، کسی بدمعاش نے چہرے پر تیزاب پھینک دیا، جس کی وجہ سے وہ جھلس کر بدنما ہو گیا ہو، کینسر کی وجہ سے کسی خاتون کا پستان کاٹ کر نکال دیا گیا ہو، ان تمام صورتوں میں مذکورہ بدہیئتی کو دور کرنے کے لیے پلاسٹک سرجری کی اجازت ہو گی۔

۳۔ بعض جسمانی ہیئتوں کی تبدیلی

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی تخلیق اس طرح کی ہے کہ سب کو ایک شکل و صورت نہیں عطا کی۔ کسی کو کالا بنایا ہے تو کسی کو گورا، کسی کو موٹا بنایا ہے تو کسی کو دبلا، کسی کی ناک اٹھی ہوئی ہے تو کسی کی پچکی ہوئی، کسی کی ٹھوڑی ابھری ہوئی ہے تو کسی دھنسی ہوئی، کسی کے کولہے بھاری بھرکم ہیں تو کسی کے دبلے، کسی کا سینہ زیادہ چوڑا ہے تو کسی کا کم۔ عموماً یہ معمولی فرق اعضا کے مفوّضہ افعال کی انجام دہی میں بالکل حارج نہیں ہوتے اور انھیں عام قانون فطرت کے خلاف بھی نہیں تصور کیا جاتا۔ البتہ ان میں سے بعض ہیئتوں کو پسندیدہ خیال کیا جاتا اور انھیں خوبصورتی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور بعض ہیئتوں کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ پلاسٹک سرجری کے ذریعے مذکورہ ہیئتوں میں تبدیلی کی جا سکتی ہے اور اپنے جسم کو من چاہی ہیئت میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی تکنیک سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے اوراس نے ایک زبردست منافع بخش کاروبار کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی شریعت اس رجحان کو کس نظر سے دیکھتی ہے اور اس کے بارے میں کیا حکم لگاتی ہے؟

انسان کا جسم اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اللہ نے اعضائے انسانی سے مختلف منفعتیں وابستہ کر رکھی ہیں اور انھیں مخصوص کاموں میں لگا دیا ہے۔ قرآن کریم میں مختلف اعضا مثلاً آنکھ، کان، زبان، ہونٹ، ہاتھ، پیر، دل، دماغ وغیرہ کا تذکرہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی حیثیت سے کیا گیا ہے اور انسانوں کو تلقین کی گئی ہے کہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور صرف اسی کی عبادت کریں جس نے انھیں ان بیش بہا نعمتوں سے نوازا ہے۔ اگر وہ اس کی ناشکری کریں گے اور شرک میں مبتلا ہوں گے تو روز قیامت ان سے باز پرس کی جائے گی۔

اس سے یہ تصور ابھرتا ہے کہ انسان اپنے اعضائے جسم کا مالک نہیں ہے کہ ان میں جس طرح چاہے تصرف کرے، بلکہ اسے صرف انھیں ان کے مفوّضہ کاموں میں استعمال کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس کے برخلاف جو لوگ اپنے اعضائے جسم کی ہیئتوں میں من مانی تبدیلیاں لانے کے لیے پلاسٹک سرجری کراتے یا کرانا چاہتے ہیں، گویا وہ خود کو اپنے جسم و جان کا مالک و مختار تصورکرتے ہیں اور اپنا یہ حق سمجھتے ہیں کہ انھیں اپنی جن پسندیدہ ہیئتوں میں ڈھالنا چاہیں ڈھال لیں۔ یہ تصور صحیح اسلامی تصور کے مغایر ہے، اس لیے شرعی نقطۂ نظر سے اسے جائز نہیں قرار دیا جا سکتا۔

اس سے صرف ایک صورت مستثنیٰ ہے اور وہ یہ کہ کسی عضو کی کوئی ہیئت عام قانون فطرت کے خلاف ہو یا اس سے اس کے مفوّضہ کاموں کی انجام دہی میں دشواری یا رکاوٹ آ رہی ہو۔ مثلاً کسی شخص کے دانت بہت زیادہ باہر کی طرف نکلے ہوئے ہوں، جس سے منہ ٹھیک طریقے سے بند نہ ہوتا ہو، یا کھانا صحیح طریقے سے چبایا نہ جاتا ہو، یا چہرہ بدنما معلوم ہوتا ہو۔ اس کا شمار بیماری میں ہو گا اور پلاسٹک سرجری کے ذریعے اس کی درستگی کی اجازت ہو گی۔

۴۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ظاہر ہونے والی ہیئتیں

انسان اپنی زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ وہ ایک مختصر اور نحیف جسم لے کر پیدا ہوتا ہے۔ پرورش و پرداخت کے نتیجے میں اس کے اعضا کا حجم بڑھتا ہے۔ ان میں طاقت اور چستی پیدا ہوتی ہے، یہاں تک کہ جوانی میں وہ ہر پہلو سے مکمل ہو جاتے ہیں۔ پھر ان کا انحطاط شروع ہوتا ہے۔ آہستہ آہستہ ان کی طاقت کم ہوتی جاتی ہے اور چستی کی جگہ ڈھیلا پن بڑھنے لگتا ہے، یہاں تک کہ بڑھاپے میں وہ کمزوری اور بے بسی کی اسی حالت کو پہنچ جاتا ہے، جس سے اپنے بچپن میں دوچار تھا۔ یہ قانون فطرت ہے جس سے ہر انسان کا سابقہ پیش آتا ہے۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر ان مراحل حیات کا تذکرہ آیا ہے۔

عمر بڑھنے کے ساتھ انسانی اعضا کی ہیئتوں میں ہونے والی تبدیلیاں فطری ہیں۔ ان تبدیلیوں کو روکنے یا ان اعضا کی ہیئتوں کو من پسند ہیئتوں میں بدلوانے کی کوشش کرنا فطرت سے بغاوت کے مترادف ہے۔ یہ اللہ کی خلقت میں تبدیلی ہے جسے شیطانی تحریک کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ اس بنا پر خواتین کا بڑھاپے کے نتیجے میں پستان میں پیدا ہونے والے ڈھیلے پن یا ہاتھوں اور چہرہ پر ظاہر ہونے والی جھریوں کو دور کرنے کے لیے پلاسٹک سرجی کرانا اسلامی شریعت کی رو سے جائز نہ ہو گا۔ البتہ اگر کسی شدید بیماری کی وجہ سے جوانی میں یہ عوارض ظاہر ہو گئے ہوں اور دواؤں سے انھیں دور نہ کیا جا سکتا ہو، ان کے ازالہ کی واحد صورت پلاسٹک سرجری ہو تو اس صورت میں اس تکنیک سے فائدہ اٹھا کر ان عوارض کو دور کرنے کی اجازت ہو گی۔

۵۔ کم عمر یا خوبصورت نظر آنے کے لیے پلاسٹک سرجری کرانا

انسان کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ وہ خوبصورت دکھائی دے اور اس کا ظاہر دوسرے انسانوں کی نگاہ میں بھلا معلوم ہو۔ اس کے لیے وہ مختلف تدابیر اختیار کرتا ہے۔ شریعت نے نہ صرف اس کا اعتبار کیا ہے، بلکہ اس کو پسندیدہ قرار دیا ہے اور انسانوں کو زیب و زینت اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: یٰـبَنِیْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ. (الاعراف ۷: ۳۱)

‘‘اے بنی آدم، ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ رہو۔’’

ایک موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام کو غرور و تکبر کے برے انجام سے ڈراتے ہوئے فرمایا کہ وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو۔ یہ سن کر ایک شخص نے دریافت کیا کہ آدمی کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو، اس کا جوتا اچھا ہو (کیا اس کا شمار بھی تکبر میں ہو گا؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ان اللّٰہ جمیل ویحب الجمال، الکبر بطر الحق وغمط الناس. (صحیح مسلم)

‘‘اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ (ظاہری زیب و زینت اختیار کرنا تکبر نہیں) تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرایا جائے اور دوسروں کو حقیر سمجھا جائے۔’’

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس کے بال پراگندہ اور بکھرے ہوئے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: ‘‘کیا یہ شخص کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس سے اپنے بالوں کو درست کر لے۔’’ اسی طرح آپؐ نے ایک شخص کو میلے کچیلے کپڑوں میں دیکھا تو فرمایا: ‘‘کیا اسے کوئی چیز نہیں ملتی جس سے اپنے کپڑے دھو لے؟’’

لیکن خوبصورتی اختیار کرنے کی تدابیر کو شریعت نے حدود کا پابند بنایا ہے۔ اس کے نزدیک حسن و جمال میں اضافہ کے لیے خارجی تدابیر کی جا سکتی ہیں، لیکن جسم کے اعضا یا ان کی ہیئتوں میں کوئی تبدیلی کرانا جائز نہیں ہے۔ احادیث میں ایسی کئی چیزوں سے صراحت کے ساتھ روکا گیا ہے جو صدر اسلام میں عربوں کے درمیان حسن و جمال میں اضافہ کے لیے رائج اور معروف تھیں۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الواشمات الموتشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغیرات. (سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)

‘‘اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے ان عورتوں پر جو (جسموں پر) گودتی ہیں اور گودواتی ہیں اور بھووں کے بال اکھیڑتی ہیں اور خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان فاصلہ پیدا کرتی ہیں۔ یہ عورتیں (اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں) تبدیلی کرنے والی ہیں۔’’

محدثین نے صراحت کی ہے کہ یہ کام عرب میں عورتیں حسن میں اضافہ کے لیے انجام دیتی تھیں۔ ان کے ذریعے بڑی عمر کی عورتیں جو ان عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔ چند تصریحات ملاحظہ ہوں:

امام نوویؒ (۶۷۶ھ) نے لکھا ہے:

‘‘فلج کے معنی ہیں ثنایا اور رباعیات نامی دانتوں کے درمیان فاصلہ ہونا۔ متفلجات سے مراد و ہ عورتیں ہیں جو ان دانتوں کو گھس کر ان کے درمیان فاصلہ پیدا کرتی ہیں۔ یہ کام بوڑھی اور بڑی عمر کی عورتیں کرتی تھیں، تاکہ وہ کم عمر دکھائی دیں اور ان کے دانت خوب صورت لگیں۔ دانتوں کے درمیان معمولی فاصلہ فطری طور پر چھوٹی بچیوں میں ہوتا ہے۔ جب عورت بوڑھی ہو جاتی ہے، اس کی عمر زیادہ ہو جاتی ہے اور اس کے دانتوں میں یہ فاصلہ باقی نہیں رہتا تو وہ انھیں ریتی سے گِھستی ہے، تاکہ ان کے درمیان کچھ فاصلہ پیدا ہو جائے، وہ خوبصورت دکھائی دینے لگے اور دوسرے اسے دیکھ کر کم عمر سمجھیں۔’’

حافظ ابن حجرؒ (م ۸۵۲ ھ) فرماتے ہیں:

‘‘متفلجات سے مراد وہ عورتیں ہیں جو ثنایا اور رباعیات نامی دانتوں کے درمیان فاصلہ پیدا کرتی تھیں۔ عورت اس کو حسن کی علامت سمجھتی تھی۔ یہ کام وہ عورت کرتی تھی جس کے دانت ملے ہوئے ہوتے تھے، تاکہ ان کے درمیان کچھ فاصلہ ہو جائے۔ بسا اوقات بڑی عمر کی عورت کرتی تھی، تاکہ دوسرے اسے دیکھ کر کم عمر سمجھیں، کیونکہ کم عمر عورت کے دانت اکثر الگ الگ اور چمک دار ہوتے ہیں۔ بڑی ہونے پر اس کے دانتوں میں یہ خاصیت باقی نہیں رہتی۔’’

مذکورہ بالا حدیث میں ‘المتلفجات’ کے ساتھ ‘للحسن’ بھی مذکور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ افعال اس صورت میں مذموم ہیں جب انھیں حسن میں اضافہ کے مقصد سے انجام دیا جائے، لیکن اگر ان کا سبب کوئی دوسرا ہو تو ان کی ممانعت نہ ہو گی۔

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے یہی تشریح مروی ہے۔ فرماتے ہیں:

لعنت الواصلۃ والمستوصلۃ والنامصۃ والمتنمصۃ والواشمۃ والمستوشمۃ من غیر داء. (سنن ابی داؤد)

‘‘بالوں میں بال جوڑنے والی، بھووں کے بال اکھیڑنے والی اور اکھڑوانے والی، جسم پر گودنے والی اور گودوانے والی پر لعنت کی گئی ہے، اس صورت میں جب یہ کام بغیر کسی مرض کے انجام دیے جائیں۔’’

محدثین نے بھی صراحت کی ہے کہ یہ کام اسی صورت میں مذموم ہیں جب انھیں حسن میں اضافہ کے لیے انجام دیا جائے۔ علاج معالجہ کے مقصد سے ان کی انجام دہی میں کوئی حرج نہیں ہے۔

حافظ ابن حجرؒ نے لکھا ہے:

‘‘حدیث کے الفاظ ہیں: ‘المتلفجات للحسن’ اس سے یہ بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ قابل مذمت وہ عورت ہے جو اس کام کو حسن میں اضافہ کے مقصد سے کرے، لیکن اگر اسے اس کی ضرورت کسی اور مقصد سے، مثلاً علاج کے لیے پیش آئے تو اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے۔’’

علامہ عینیؒ (م ۸۵۵ ھ) فرماتے ہیں:

‘‘للحسن میں لام علت کا ہے۔ (یعنی مذمت اس صورت میں ہے جب اسے حسن میں اضافہ کے لیے کیا جائے۔) اس سے وہ صورت مستثنیٰ ہے جس میں وہ کام علاج معالجہ یا اس جیسی کسی اور ضرورت سے انجام دیا جائے۔’’

شریعت میں یہ کام کیوں ممنوع قرار دیے گئے ہیں؟ علما نے اس کی بھی وضاحت کی ہے۔ قرطبیؒ (م ۶۷۱ ھ) فرماتے ہیں:

‘‘سبب نہی کے سلسلے میں متعدد اقوال ہیں۔ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ اس سے اس وجہ سے روکا گیا ہے، کیونکہ یہ دھوکا (تدلیس) کے قبیل سے ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی خلقت میں تبدیلی ہے۔ یہ قول حضرت ابن مسعودؓ سے مروی ہے۔ یہ زیادہ صحیح ہے۔ اس میں اول الذکر قول بھی شامل ہے۔’’

امام نووی ؒ نے لکھا ہے:

‘‘مذکورہ احادیث میں اس فعل کو حرام قرار دیا گیا ہے، اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی خلقت میں تبدیلی ہے۔ ‘تدلیس’ (دھوکا) ہے، تزویر (فریب) ہے۔’’

مذکورہ بالا حدیث میں ‘المتنمصات’ (بھووں کے بال اکھیڑنے والی عورتوں) پر بھی لعنت کی گئی ہے۔ یہ ممانعت بھی اسی صورت میں ہے جب یہ کام محض فیشن اور اضافۂ حسن کے مقصد سے کیا جائے، لیکن اگر عورت کے چہرے پر غیر ضروری بال اگ آئیں تو وہ انھیں زینت اختیار کرنے کے مقصد سے اکھیڑ سکتی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک عورت نے حضرت عائشہؓ سے دریافت کیا: اے ام المومنین، میرے چہرے پر کچھ بال اگ آئے ہیں۔ کیا میں اپنے شوہر کے لیے زینت اختیار کرنے کے مقصد سے انھیں اکھیڑ سکتی ہوں؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: اس تکلیف دہ چیز کو اپنے جسم سے الگ کر دو۔’’

فقہائے کرام نے بھی صراحت کی ہے کہ اگر عورت کے چہرے پر غیر طبعی طور سے بال اگ آئیں تو وہ انھیں بلا کراہت صاف کر سکتی ہے۔

علامہ ابن عابدین حنفیؒ (م ۱۲۵۲ ھ) فرماتے ہیں:

‘‘بال اکھیڑنے کی ممانعت اس پر محمول ہے کہ عورت اس کام کو غیروں کے لیے زینت اختیار کرنے کے مقصد سے انجام دے، ورنہ اگر اس کے چہرے پر کچھ بال ہوں جن سے اس کے شوہر کو تنفر ہوتا ہو، تو ان کے ازالہ کو ممنوع قرار دینا صحیح نہیں۔ اس لیے کہ عورتوں کا زینت اختیار کرنا مطلوب ہے... چہرے کے بالوں کو صاف کرنا حرام ہے، لیکن اگر عورت کے چہرے پر داڑھی یا مونچھ اگ آئے تو اسے صاف کرانا ممنوع نہیں، بلکہ مستحب ہے۔’’

مالکیہ نے بھی صراحت کی ہے کہ جن (غیر ضروری) بالوں کو صاف کرنے میں عورت کا حسن ہو انھیں صاف کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ اگر عورت کو داڑھی اگ آئے تو وہ اسے صاف کرے گی اور جن بالوں کو باقی رکھنے میں اس کا حسن ہے، انھیں باقی رکھے گی۔ شوافع کہتے ہیں کہ اگر شوہر عورت کو جسم کے غیر ضروری بال صاف کرنے کا حکم دے تو اس کے لیے ایسا کرنا واجب ہے۔’’

علامہ ابن قدامہ حنبلی (م ۶۲۰ ھ) نے لکھا ہے: ‘‘امام ابو عبداللہ (احمد بن حنبل) سے چہرے کے بال صاف کرانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا: عورتوں کے لیے ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ مردوں کے لیے مکروہ ہے۔’’

اس تفصیل سے یہ واضح ہوا کہ کم عمر لگنے یا حسن و جمال میں اضافہ کے مقصد سے پلاسٹک سرجری کرانا اسلامی شریعت کے نقطۂ نظر سے جائز نہیں ہے۔ حسن و جمال کا ایک اوسط معیار ہے۔ کوئی عورت اس معیار سے اپنے آپ کو فروتر پائے اور اس کی بدصورتی و بدہیئتی نمایاں ہو تو وہ اوسط معیار تک پہنچنے کے لیے پلاسٹک سرجری کرا سکتی ہے۔ لیکن حسن و جمال کے اعلیٰ اور اپنے پسندیدہ معیار تک پہنچنے کے لیے پلاسٹک سرجری کرانا شریعت کی نگاہ میں مطلوب و مستحب نہیں ہے۔

۶۔ شناخت چھپانے کے لیے پلاسٹک سرجری کرانا

بسا اوقات انسان کو کسی وجہ سے حکمرانوں کے مظالم کا شکار ہونے کا شدید اندیشہ رہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ان کی گرفت میں نہ آئے، ورنہ وہ اسے ناقابل برداشت اذیتوں سے دوچار کریں گے۔ کیا ایسی صورت میں اسے اپنی شناخت چھپانے کے لیے پلاسٹک سرجری کرانے کی اجازت ہو گی؟ اسلامی شریعت کی مجموعی تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں جھوٹ، مکر و فریب اور دھوکا دہی کو ناپسندیدہ کاموں میں شمار کیا گیا ہے اور ان سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اسلام کا عمومی مزاج یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ کوئی بھی فرد اسی طرح دکھائی دے جس طرح و ہ حقیقت میں ہے۔ بہروپیا بننا اور سوانگ بھرنا اس کے نزدیک پسندیدہ نہیں ہے۔ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول، میری ایک سوکن ہے۔ کیا میرے اوپر گناہ ہو گا، اگر میں اس کے سامنے یہ اظہار کروں کہ میرے شوہر نے مجھے فلاں فلاں چیزیں دی ہیں، حالانکہ حقیقت میں اس نے وہ چیزیں نہ دی ہوں؟ آپؐ نے فرمایا:

المتشبع بما لم کلابس ثوبی زور. (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

‘‘جسے کوئی چیز حاصل نہ ہو اور وہ اس کے حاصل ہونے کا اظہار کرے ، وہ اس شخص کی طرح ہے جو جھوٹ و فریب کے کپڑے پہنے ہو۔’’

اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ آدمی حق پر ثابت قدم رہے اور اس راہ میں جو کچھ آلام و مصائب آئیں انھیں خندہ پیشانی سے برداشت کرے۔ اس پر وہ بارگاہ الٰہی میں اجر و ثواب کا مستحق ہو گا۔ شریعت نے اس کی بھی اجازت دی ہے کہ اگر تکالیف اس کے لیے ناقابل برداشت ہوں تو وہ خلاف حقیقت بات زبان پر لا سکتا ہے۔ (آل عمران ۳: ۲۸، النحل ۱۶: ۱۰۶) شریعت اس کی بھی اجازت دیتی ہے کہ ظلم و تعدی سے بچنے کے لیے وہ راہ فرار اختیار کر سکتا اور کہیں چھپ سکتا ہے۔ صلح حدیبیہ کے بعد حضرت ابو بصیرؓ اور مکہ میں رہنے والے دیگر متعدد مسلمانوں نے اہل مکہ کی گرفت سے بچنے کے لیے ایک مقام پر پناہ لے لی تھی، لیکن شناخت چھپانے کے لیے پلاسٹک سرجری کروانے میں متعدد اسباب نہی جمع ہیں۔ اس میں تزویر (فریب)، تدلیس (دھوکا) کے ساتھ اللہ کی خلقت میں تبدیلی بھی ہے، اس لیے اسے جائز نہیں قرار دیا جا سکتا۔

خلاصۂ بحث

گزشتہ صفحات میں کی گئی پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ پلاسٹک سرجری کی وہ تمام صورتیں جائز ہیں، جو علاج معالجہ کے قبیل سے ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر صورتیں (مثلاً کم عمر دکھائی دینے، حسن و جمال میں اضافہ کرنے یا شناخت چھپانے کے مقصد سے پلاسٹک سرجری کرانا) جائز نہیں ہیں۔

(بشکریہ سہ ماہی‘‘تحقیقات اسلامی’’ علی گڑھ ، جون ۲۰۰۹ء)

٭٭٭