وطن اور ریاست

مصنف : ذیشان ہاشم

سلسلہ : فکرونظر

شمارہ : اکتوبر 2020

وطن سے محبت اور ریاست سے محبت میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔وطن سے مراد وہ دھرتی ہے جس کے آغوش میں ہم پلتے اور جواں ہوتے ہیں ۔ وطن معصوم بے ریا مخلص اور پاک ہوتا ہے۔ پوری دنیا کا ادب اور لوک ورثہ وطن سے محبت کے نغمے گا رہا ہے ۔ریاست ایک سیاسی ادارہ ہے جس میں طاقت کا ارتکاز اور اس کی فطرت میں جبر پایا جاتا ہے ۔ ریاست ہمیشہ طاقت کی بولی بولتی ہے ’ جبر زبردستی دھونس دھوکہ اور شہریوں کو محکوم رکھنے کی خواہش اس کی فطرت ہے ۔سیاسیات کا سارا علم اسی ایک سوال کے گرد گھومتا ہے کہ ریاست کے اس بے قابو ہاتھی پر کیسے مہار ڈالی جائے کہ یہ شہریوں کو کچلنے کے بجائے شہریوں کے مفادات میں کام کرے؟ پوری انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جیسے ہی شہریت کی لگام ریاست پر ڈھیلی ہوئی ہے اس نے شہری آزادیوں کو ہی کچلا ہے اور پیوستہ مفادات (Vested Interests) کا تحفظ کیا ہے ۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ وطن سے محبت ایک صاف و شفاف دل کے لئے لازم ہے ۔اسی طرح سیانے کہہ گئے ہیں کہ ریاست کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھو ۔ ریاست سے وفاداری ایسے ہے جیسے کسی دور میں غلام آقا کی وفاداری کرتے تھے جو ان غلاموں کا ہی استحصال کرتے تھے ۔ جب شہری ریاست کے وفادار نہ بنیں بلکہ ریاست شہریوں کی خدمت گزار بنے تب خیر ہے ۔ہمیں اپنے وطن پاکستان سے محبت ہے مگر اس کے جغرافیہ میں قائم ریاست نام کے اس سیاسی ادارے کو ہم اب تک کی تاریخ کی رو سے فاشسٹ سمجھتے ہیں جس نے شہری آزادیوں کو کچلا ہے اور عوام کی آرزؤں اور وسائل کا استحصال کیا ہے ۔ یہ ایک ایسا بے لگام ہاتھی بن چکا ہے جو جس طرف بھی جاتا ہے شہریوں کو ہی کچلتا ہے ۔ ہم نے اس پر شہری حق انتخاب اور لبرل اقدار سے لگام ڈالنی ہے یہی حب الوطنی کا اصل تقاضا ہے آج کا یوم آزادی دراصل اس جذبے سے منایا جانا چاہئے کہ ہم نے وطن عزیز کو فاشزم کے ہر رنگ و روپ سے آزاد کرانا ہے، شہریوں کو کسی بھی طاقت کی اور کسی بھی قسم کی بالادستی سے آزادی دلانی ہے اور شہریوں کی شخصی آزادیوں کو اس فاشزم سے آزاد کرانا ہے ۔