فراہی مکتبہ فکر کا نظریہ اتمام حجت ۔۔چند بنیادی سوالات

مصنف : پروفیسر محمد مشتاق

سلسلہ : فکرونظر

شمارہ : نومبر 2020

‘‘اتمامِ حجت’’ کے اس نظریے کے ابتدائی خد و خال مولانا حمید الدین فراہی کے ہاں ملتے ہیں اور پھر مولانا امین احسن اصلاحی نے اس پر بنا کرتے ہوئے ''تدبرقرآن'' میں قرآن کریم کی کئی آیات کو رسول اللہ ﷺ کے اولین اور براہ راست مخاطبین کے ساتھ مخصوص کردیا۔ تاہم انھوں نے چند مخصوص احکام کے سوا اس نظریے کو دیگر احکام پر منطبق نہیں کیا۔ مثال کے طور پر مولانا اصلاحی نے ارتداد کی سزا کو اسی طرح ہر دور کے مرتدین کے لیے مانا ہے جیسے عموماً فقہائے اسلام مانتے آئے ہیں لیکن غامدی صاحب نے اتمامِ حجت کے نظریے پر بنا کرتے ہوئے ارتداد کی سزا کو ان لوگوں کے ساتھ مخصوص کردیا جنھوں نے رسول اللہ ﷺ کی جانب سے اتمامِ حجت کے بعد ارتداد کی راہ اختیار کی۔ نہ صرف ارتداد، بلکہ اتمامِ حجت کے اطلاق کو انھوں نے پوری شریعت پر پھیلا دیا، یہاں تک کہ مسلمانوں مرد کے مشرک عورت سے نکاح، یا مسلمان عورت کے کتابی مرد سے نکاح کے عدم جواز تک اور مسلمان اور غیر مسلم کے درمیان میراث کے عدم جواز کو بھی انھوں نے اتمامِ حجت کے نظریے کی بنیاد پر رسول اللہ ﷺ کے براہ راست مخاطبین تک محدود کردیا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ غامدی صاحب کی فکر میں اتمامِ حجت کے اس نظریے کی وسعت میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ چنانچہ پہلے وہ اس کے قائل تھے کہ کسی کو غیر مسلم تو قرار دیا جاسکتا ہے لیکن کافر صرف انھی کو کہا جاسکتا ہے جن پر رسول نے خود اتمامِ حجت کیا ہو۔ تاہم نائن الیون کے بعد کی دنیا میں وہ اس کے قائل ہوگئے ہیں کہ جو شخص خود کو مسلمان کہتا ہو اسے غیرمسلم بھی نہیں قرار دیا جاسکتا خواہ اس کے عقائد قطعی طور پر اسلام کے مسلمہ عقائد سے متناقض ہوں۔
ہم یہاں پہلے اتمامِ حجت کے اس نظریے کی، جسے فراہی مکتبِ فکر اور بالخصوص غامدی صاحب کا حلقہ ایک مسلمہ قانون اور معیار کے طور پر پیش کرتا ہے، بالکل سادہ ترین صورت پیش کریں گے اور پھر دکھائیں گے کہ کیسے یہ سادہ ترین صورت باقی نہیں رہ سکی اور مختلف مواقع پر اٹھنے والے سوالات کی وجہ سے اس میں مسلسل تبدیلیاں کرنی
 پڑی ہیں اور وہ نظریہ جو پہلے دو اور دو چار کی طرح سادہ حقیقت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، کیسے پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتا گیا اور آخر میں محض ایک خیال بن کر رہ گیا۔
اپنی سادہ ترین شکل میں اس ''قانون''کا تصور کچھ اس طرح دیا گیا تھا:
''اللہ کے جو پیغمبر بھی اس دنیا میں آئے، قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت الی اللہ اور انذار و بشارت کے لیے آئے۔ سورہ بقرہ کی آیت کان الناس امۃ واحدۃ فبعث اللہ النبیین مبشرین و منذرین میں یہی بات بیان ہوئی ہے۔ ان نبیوں میں سے اللہ تعالیٰ نے جنھیں رسالت کے منصب پر فائز کیا، ان کے بارے میں البتہ قرآن بتاتا ہے کہ وہ اس انذار کو اپنی قوموں پر شہادت کے مقام تک پہنچادینے کے لیے بھی مامور تھے۔ قرآن کی اصطلاح میں اس کے معنی یہ ہیں کہ حق لوگوں پر اس طرح واضح کردیا جائے کہ اس کے بعد کسی شخص کے لیے اس سے انحراف کی گنجایش نہ ہو: لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل۔''(میزان، 2001ء ایڈیشن، ص 184)
مزید کہا گیا کہ اس اتمامِ حجت کے بعد رسول اپنے مخالفین سے برائت کا اظہار کرتا ہے اور اس جگہ سے ہجرت کرتا ہے جس کے بعد اس کے مکذبین کا استیصال کیا جاتا ہے اور رسول اور اس کے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ دنیوی غلبہ عطا کردیتا ہے۔
یہ بات مولانا اصلاحی نے بھی تدبر قرآن میں مختلف پیرایوں میں کہی ہے۔ غامدی صاحب نے بھی البیان، میزان اور دیگر کتب اور آڈیو وڈیو لیکچرز میں اس بات کو کئی اسالیب میں دہرایا ہے، جیسے رسول کے جانے کے بعد قوم سے امان اٹھ جاتی ہے، ان پر ساف و حاصب کا عذاب آجاتا ہے، وغیرہ۔
اس نظریے کی بنیاد میں ایک مفروضہ یہ شامل ہے کہ نبی اور رسول میں فرق ہوتا ہے اور وہ فرق اتمامِ حجت ہی کے پہلو سے ہے۔ چنانچہ پہلا سوال اس نظریے پر اسی پہلو سے اٹھایا جانا چاہیے۔
کیا نبی بھی اتمامِ حجت کرتے ہیں؟
غامدی صاحب صراحتاً اس سوال کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔ چنانچہ ''قانونِ دعوت ''میں لکھتے ہیں:‘‘نبیوں کا انذار و بشارت تو کسی وضاحت کا تقاضا نہیں کرتا، لیکن رسولوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انذار و بشارت کے ساتھ وہ شہادت کی جس ذمہ داری کے لیے مامور ہوتے ہیں، اس کے تقاضے سے ان کی دعوت کے چند مراحل اور ان مراحل کے چند لازمی نتائج ہیں جو انھی کے ساتھ خاص ہیں۔ یہ دعوت کی کسی دوسری صورت سے متعلق نہیں ہیں۔ ’’ (میزان، ص 185)
یہ اقتباس بار بار پڑھیے تاکہ اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ وہ نبی اور رسول میں کس طرح فرق کررہے ہیں؟ وہ قطعی الدلالہ الفاظ میں تصریح کر رہے ہیں کہ رسول کا کام نبی سے اس طرح زیادہ ہوتا ہے کہ انذار و بشارت کے علاوہ وہ شہادت کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں اور یہ کہ شہادت کے فریضے سے مراد یہ ہے کہ وہ اس مفہوم میں اتمام حجت کرتے ہیں کہ مخالفین کے پاس نہ ماننے کے لیے کوئی گنجایش باقی نہیں رہتی۔ یہ بھی دیکھ لیجیے کہ وہ اس کے لیے سورۃ النساء کی اس آیت سے استدلال کرتے ہیں: رسلاً مبشرین و منذرین لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل۔ ساتھ ہی وہ قطعی الدلالہ الفاظ میں تصریح کرتے ہیں کہ رسول کی دعوت کے جو مراحل ہیں وہ رسول کی دعوت کے ساتھ ہی خاص ہیں اور یہ کہ رسول کا معاملہ نبی کے معاملے سے مختلف ہوتا ہے، بلکہ یہ بھی تصریح کرتے ہیں کہ رسول کی دعوت کے مراحل ''دعوت کی کسی دوسری صورت سے متعلق نہیں ہیں۔''
یہاں دیکھنے کی پہلی بات یہ ہے کہ کیا یہ آیت یہ بتا رہی ہے کہ دنیا میں ان لوگوں کے پاس حجت باقی نہیں رہتی یا آخرت کے دن کی بات ہورہی ہے کہ اس دن یہ اللہ کے سامنے کوئی حجت پیش نہیں کرسکیں گے؟ آیت کا سیاق و سباق آخرت کے دن کی شہادت ہے اور احادیث سے بھی اسی کی تصدیق ہوتی ہے۔
مزید یہ کہ یہ آیت ٍیہ بات صرف ان ''رسل'' کے متعلق نہیں کہہ رہی جن کے مخاطبین پر دنیا میں ہی اللہ کا عذاب آیا، بلکہ ان ''انبیاء'' کے متعلق بھی یہی بات کہہ رہی ہے جن کے مخاطبین پر ان کی زندگی میں عذاب نہیں آیا (یعنی جن پر مولانا اصلاحی و جناب غامدی کے الفاظ میں ''اتمامِ حجت'' نہیں ہوا)۔ اس بات کی وضاحت کے لیے اس آیت سے ذرا پیچھے جانا پڑے گا:
انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح و النبیین من بعدہ۔ و اوحینا الی ابراھیم و اسمٰعیل و اسحٰق و یعقوب و الاسباط و عیسیٰ و ایوب و یونس و ھٰرون و سلیمٰن۔ و آتینا داود زبورا۔ و رسلاً قد قصصنٰھم علیک من قبل و رسلاً لم نقصصھم علیک۔ و کلم اللہ موسیٰ تکلیما۔ رسلاً مبشرین و منذرین لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل۔ و کان اللہ عزیزاً حکیماً۔
ان آیات میں ایک تو یہ دیکھیے کہ ابتدا میں النبیین کا ذکر ہے اور پھر بعدمیں رسل کا، اور صاف ظاہر ہے کہ یہ الفاظ ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوئے ہیں؛ یعنی دونوں الفاظ کا اطلاق ان تمام نفوس قدسیہ پر کیا گیا ہے جن کے نام یہاں لیے گئے ہیں۔ پھر یہ بھی دیکھیے کہ ان مذکورہ پیغمبروں میں کئی ایسے ہیں جن کی زندگی میں ہی ان کے مخاطبین پر مولانا اصلاحی اور جناب غامدی کے مزعومہ اتمامِ حجت کے بعد عذاب نہیں آٰیا، نہ ہی ان کو اپنے مخالفین پر دنیوی غلبہ حاصل ہوا۔ پھر کیسے اس آیت کے ایک ٹکڑے ''لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل'' سے اتمامِ حجت کا یہ نظریہ کشید کیا جاسکتا ہے جس پر ان کے پورے علم کلام کی عمارت کھڑی ہے؟
غامدی صاحب قانون ِ دعوت میں آگے رسول کی دعوت کے وہ مراحل بتاتے ہیں جو بقول ان کے صرف رسول کی دعوت میں ہوتے ہیں اور نبی سمیت کسی اور کی دعوت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ مراحل درج ذیل ہیں: انذار، انذار ِعام، اتمامِ حجت ،برائت و ہجرت اور جزاوسزا۔ باقی مراحل کو فی الحال نظرانداز کرکے ہم آخری مرحلے پر آتے ہیں۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں:‘‘یہ آخری مرحلہ ہے۔ اس میں آسمان کی عدالت زمین پر قائم ہوتی ہے، خدا کی دینونت کا ظہور ہوتا ہے اور پیغمبر کی قوم کے لیے ایک قیامتِ صغریٰ برپا ہوجاتی ہے۔ ''(میزان، ص 194)
آگے لکھتے ہیں کہ جب رسول کے ساتھ معتد بہ تعداد میں ساتھی ہوں اور دار الہجرت بھی میسر ہو تو پھر اللہ تعالیٰ ان کے اور مخالفین کے درمیان معرکہ برپا کروادیتا ہے اور پھر جنگ کے ذریعے مخالفین کااستیصال کردیتا ہے۔ استدلال میں وہ یہ آیات پیش کرتے ہیں:
ان الذین یحآدون اللہ و رسولہ اولٰئک فی الاذلین۔ کتب اللہ لاغلبن انا و رسلی۔ ان اللہ قوی عزیز۔ (سورۃ المجادلۃ)
آگے استخلاف کی آیت کو بھی وہ اسی سے متعلق قرار دیتے ہیں۔ دوسرے مقام پر وہ سورۃ التوبہ کی آیات کا بھی یہی محل بتاتے ہیں۔اس تصور پر ہی ''سیاسی اسلام'' کے خلاف ان کا ڈسکورس قائم ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: برہان میں ان کا مضمون ''تاویل کی غلطی ''۔
اس تصور پر کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں اتمامِ حجت کا یہ سادہ نظریہ مسلسل کئی پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتا ہے اور اس میں کئی تاویل کرنی پڑتی ہیں۔
پہلی تاویل: کیا مخالفین کے عذاب سے قبل رسول قتل کیے جاسکتے ہیں یا انھیں قدرتی موت آسکتی ہے؟
اتمامِ حجت کے اس نظریے پر ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا مخالفین کی سزا سے قبل رسول کے قتل یا وفات پاجانے کا امکان ہے؟ یہ سوال اس لیے اٹھتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے قتل یا مخالفین کو سزا سے قبل ان کی وفات کا امکان تو قرآن نے مکی سورتوں میں بھی ذکر کیا گیاہے اور سورۃ آل عمران میں غزوہ احد پر بحث کے ضمن میں بھی۔ چنانچہ سورۃ یونس میں ارشاد ہوا:
و اما نرینک بعض الذی نعدھم او نتوفینک فالینا مرجعھم ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔اسی طرح سورۃ الرعد میں فرمایا:و ان ما نرینک بعض الذی نعدھم او نتوفینک فانما علیک البلاغ و علینا الحساب۔اس سے زیادہ تصریح سورۃ الزخرف میں کی گئی ہے:
فاما نذھبن بک فانا منھم منتقمون۔ او نرینک الذی وعدنٰھم فانا علیھم مقتدرون۔پھر سورۃ آل عمران میں فرمایا:
و ما محمد الا رسول۔ قد خلت من قبلہ الرسل۔ افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم۔ و من ینقلب علی عقبیہ فلن یضر اللہ شیئا۔ و سیجزی اللہ الشٰکرین۔ (یہ بات اہم ہے کہ اس سے ایک آیت بعد اسی سلسلہ بیان میں رسول کی جگہ نبیوں کا ذکر آیا ہے اور کسی فرق کا اشارہ تک نہیں دیا گیا: و کاین من نبی قٰتل معہ ربیون کثیر۔ فما وھنوا لما اصابھم فی سبیل اللہ و ما ضعفوا و مااستکانوا۔ واللہ یحب الصٰبرین۔)
اس کے جواب میں یہ تاویل پیش کی جاتی ہے کہ یہ محض مکذبین کے مفروضہ امکان پر بات ہورہی ہے۔
دوسری تاویل: کیا رسول کو قتل کیا جاسکتا ہے؟ 
پھر جب ایسی آیات پیش کی جاتی ہیں جن میں ''رسولوں'' کے قتل کا ذکر ہے (جیسے سورۃ المائدۃ کی آیت ہے: لقد اخذنا میثاق بنی اسرآئیل و ارسلنا الیھم رسلا۔ کلما جآئھم رسول بما لا تھوی انفسھم فریقاً کذبوا و فریقاً یقتلون)، تو جواب یہ دیا جاتا ہے کہ: اس طرح کی آیات میں ''رسول'' سے مراد نبی ہیں ، اصطلاحی معنوں میں رسول نہیں۔ 
دل چسپ بات یہ ہوتی ہے کہ جب مسیح علیہ السلام کے قتل یا مصلوبیت کی نفی کی آیت آتی ہے تو لہک کر کہتے ہیں، دیکھیں یہاں رسول کا لفظ آیا ہے: و قولھم انا قتلنا المسیح عیسی بن مریم رسول اللہ۔ ٹھیک ہے لیکن وہ اوپر والی آیت میں بھی تو رسول اور رسل کے الفاظ ہی آئے تھے۔ 
تیسری تاویل: رسولوں کی تکذیب کے باوجود بنی اسرائیل کو دنیا سے کیوں مٹا نہیں دیا گیا؟ 
بنی اسرائیل نے جتنے سنگین جرائم کیے اتنے شاید ہی کسی نے کیے ہوں۔ ذرا سورۃ النسآء کی آیات 153-161 میں ان کی فردِ قراردادِ جرم تو ملاحظہ کریں۔ جب یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اتنے سنگین جرائم کے باوجود ان کا استیصال کیوں نہیں کیا گیا تو ایک اور تاویل اختیار کی جاتی ہے کہ اگر قوم توحید پر قائم رہی ہو تو اس کا استیصال نہیں کیا جاتا۔ اب پہلے تو وہ قطعی الدلالہ آیت پیش کیجیے جس میں اس قانون سے یہ استثنا دی گئی ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ قرآن شاہد ہے کہ بنی اسرائیل میں لوگوں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں بچھڑے کی عبادت بھی کی اور انھیں اس کی سزا بھی دی گئی اور بعد میں بنی اسرائیل کی تاریخ بھی شاہد ہے، بائبل بھی گواہی دیتا ہے کہ کئی بار بنی اسرائیل شرک میں مبتلا ہوئے؛ بلکہ یہود کا عام طور پر یہ ماننا ہے کہ بابل جلاوطنی کے بعد ہی کہیں جاکر، یعنی موسیٰ علیہ السلام سے لگ بھگ ایک ہزار سال بعد ، بنی اسرائیل توحید پر مطمئن ہوئے ورنہ اس سے قبل تو موقع ملتے ہی بت پرستی اور شرک میں مبتلا ہوجاتے تھے۔ 
اگر اس کے جواب میں یہ کہا جائے کہ سب تو شرک میں مبتلا نہیں ہوتے تھے بلکہ کچھ توحید پر قائم بھی رہتے تھے تو سوچیے کہ توحید پر قائم لوگ تو ہر معاشرے میں، یہاں تک کہ مشرکینِ عرب میں رسول اللہ ﷺ سے قبل فترت کے عہد میں بھی پائے جاتے تھے۔ پھر یہ بھی تو دیکھیے کہ دو دفعہ تو قرآن شاہد ہے کہ بنی اسرائیل نے بڑا فساد کیا ہے اور انھیں دونوں دفعہ سخت ترین سزا دی گئی ہے۔ اگر مولانا اصلاحی کی تاویل مانی جائے تو پہلی دفع کی سزا وہ تھی جب بخت نصر کو ان پر مسلط کیا گیا اور دوسری دفعہ وہ تھی جب رومیوں نے ان کا ہیکل تباہ کردیا۔ دونوں دفعہ سیکڑوں، بلکہ ہزاروں لوگ تہہ تیغ کیے گئے اور ان سے زیادہ تعداد میں غلام بنائے گئے۔ جلاوطنی کی سزا اس کے علاوہ۔
مشرکینِ عرب کی سزا کے متعلق بھی مولانا اصلاحی اور جناب غامدی کا موقف یہ ہے کہ انھیں رسول کے ساتھیوں کی تلواروں کے ذریعے سزا دی گئی۔ میرا سوال یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے توحید ماننے والوں کو وہی سزا دی گئی جو عرب کے مشرکین کو دی گئی تو پھر توحید کی بنا پر استثنا کی کیا حیثیت رہی؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ مشرکینِ عرب کو تو سزا رسول کے ساتھیوں کی تلوار سے ملی، بنی اسرائیل کو عراقی و رومی بت پرستوں کی تلوار سے۔ ایک جگہ رسول اور اس کے ساتھیوں کا غلبہ ہوا۔ دوسری جگہ دونوں دفعہ مشرکین اور بت پرستوں کا۔ پھر کیسے دونوں کو ایک ہی معاملہ سمجھا جاسکتا ہے؟ 
آگے بڑھیے اور اس سوال پر غور کریں کہ اگر بنی اسرائیل کو دو دفعہ فساد کی سزا اس اتمامِ حجت کے ''قانون'' کے تحت ملی تو کیا دونوں دفعہ رسول کی دعوت میں وہ مراحل اسی طرح آئے جو غامدی صاحب ذکر کرتے ہیں: انذار، انذار عام، اتمامِ حجت، ہجرت و برائت اور جزا وسزا؟ یہ بھی دیکھیے کہ اگر یہ اسی اتمامِ حجت کے ''قانون'' کا معاملہ تھا تو یہاں تو سزا بخت نصر اور روم کی افواج نے دی جو یقیناً اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہی بنی اسرائیل پر مسلط کی گئیں لیکن وہ رسول اور اس کے ساتھی تو نہیں تھے! پھر اگرچہ دوسرے فساد کو آپ سیدنا مسیح علیہ السلام کی تکذیب کا نتیجہ قرار دے کر اتمامِ حجت کے قانون میں سمو دیتے ہیں لیکن پہلی دفعہ میں نہیں بتاتے کہ کون سے ''رسول'' تھے جن کی تکذیب پر ان پر بخت نصر کا عذاب مسلط کیا گیا؟ اسی طرح دونوں صورتوں میں رسول اور اس کے ساتھیوں کو غلبہ نہیں ملا جو آپ کے اس اتمامِ حجت کے ''قانون'' کا لازمی نتیجہ ہے۔
چوتھی تاویل: کیا سیدنا مسیح علیہ السلام اور ان کے حواریوں کو دنیوی غلبہ ملا؟
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ دنیوی غلبہ تو سیدنا مسیح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو بھی نہیں ملا تھا۔ غامدی صاحب کا حلقہ یہ کہتاہے کہ نصرانیوں کو یہودیوں پر غلبہ مل گیا۔ جواباً عرض ہے کہ قرآن نے سورۃ آل ِ عمران میں ''نصرانیوں'' کے ''یہودیوں'' پر غلبے کی بات نہیں کی بلکہ ''الذین کفروا'' پر ''الذین اتبعوک'' کے غلبے کی بات کی ہے۔اگر صرف کسی کے خود کو مسیح کے پیرو کہنے سے وہ اس بشارت کا مصداق بن سکتا ہے تو پھر اس آیت کے متعلق کیا کہیں گے جس میں ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں: فمن تبعنی فانہ منی۔ اس میں تو پھر سب بنی اسرائیل و بنی اسماعیل، یہود، نصاری بلکہ مشرکین تک کو شامل سمجھنا چاہیے۔اور اسی آل عمران میں یہ آیت بھی دیکھیے: ان اولی الناس بابراھیم للذین اتبعوہ و ھذا النبی و الذین آمنوا۔بہرحال اگر نصرانیوں کے یہودپر غلبے کی تاویل بھی مان لی جائے تو یہ غلبہ تو چوتھی صدی عیسوی میں کہیں جاکر ملا جب رومی بادشاہ مسیحی بن گیا ورنہ تب تک تو روم میں مسیحی اور یہودی دونوں کا برا حال تھا (اس کے بعد صرف یہودیوں کا برا حال رہا یا ان مسیحیوں کا، جنھوں نے سرکاری مذہب کے خلاف مسیحی مذہب کی کوئی اور شکل اختیار کی) اور بہر صورت ''رسول'' نے تو یہ غلبہ ہوتے نہیں دیکھا۔یقیناً قرآن نے سورۃ الصف میں مسیح علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کے ان کا کفر کرنے والوں پر غلبے کی بات کی ہے لیکن کیا یہاں واقعی غلبے سے مراد سیاسی غلبہ ہے یا اس سے مراد دلیل اور حجت کا غلبہ ہے؟ کیا حواریین کے سیاسی غلبے کے لیے تاریخ سے ثبوت ملتا ہے؟ یا اس کے لیے تاریخ کا انکار کریں؟
یہ سوال بھی قابلِ غور ہے کہ کیا یہود کی تاقیامت سزا کی وجہ اتمامِ حجت ہے؟ قرآن نے سورۃ آل عمران میں مسیح علیہ السلام کے ''متبعین ''(نہ کہ نصاری) کے ان کے منکرین پر تاقیامت غلبے کا اعلان کیا ہے لیکن کیا یہ غلبہ سیاسی غلبہ ہے؟ اور کیا اس کی وجہ اتمامِ حجت کا ''قانون ''ہے؟ سورۃ الاعراف میں بھی قیامت تک کی سزا کا ذکر ہے لیکن یہ ذکر نہیں کیا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمھارے باپ دادا پر مسیح علیہ السلام نے اتمامِ حجت کیا تھا۔ اگر مسیح علیہ السلام نے یہود پر اتمام ِ حجت کیا اور اس ''قانون'' کے تحت ان کے مخاطبین کو سزا ملی بھی تو ان سزا یافتہ یہود کی اولاد پر کس نے اور کب اتمامِ حجت کیا کہ وہ تاقیامت سزا بھگتتے رہیں؟
پانچویں تاویل: رسول اللہ ﷺ کے مکذبین پر ہجرت کے فوراً بعد عذاب کیوں نہیں آیا؟ 
جب یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مکذبین کو ہجرت کے بعد بھی گیارہ سال تک ''استیصال'' کی سزا کیوں نہیں ملی تو وہ جو اتمامِ حجت کا ''سادہ ترین قانون'' تھا جس کے مطابق ادھر رسول نے ہجرت کی اور ادھر اس کی قوم کو سزا مل گئی (نوح علیہ السلام کشتی میں آگئے اور طوفان آگیا) کی مزید تاویل شروع ہوجاتی ہے تاکہ آیات و احادیث اور سیرت و تاریخ کو اس ''قانون'' کے سانچے میں فٹ کیا جاسکے۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ مولانا اصلاحی کی اختیار کردہ تاویل کے مطابق جب قوم ِ ثمود نے اونٹنی ہلاک کی اور انھیں تین دن کی مہلت ملی تو اس مہلت میں ہی انھوں نے صالح علیہ السلام کے قتل کی بعینہ وہی سازش کی جو قریش نے رسول اللہ ﷺ کے قتل کے لیے کی لیکن عجیب بات یہ ہے کہ پہلی صورت میں قومِ ثمود فوراً ہی ہلاک کردی گئی اور دوسری صورت میں قریش کو گیارہ سال کا وقفہ ملا۔ 
چھٹی تاویل: کیا رسول اللہ ﷺ کا مشن صرف جزیرہ عرب تک محدود تھا؟ 
اب جب بات رسول اللہ ﷺ کی رسالت تک آگئی ہے تو اس سوال پر بھی غور کریں کہ کیا رسول اللہ ﷺ کے اتمامِ حجت کا مشن صرف جزیرہ عرب تک تھا؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ آپ کو زندگی میں غلبہ صرف جزیرہ عرب کی حد تک ہی ملا۔ نیز یہ غلبہ بھی عارضی تھا اور آپ کی وفات کے ساتھ ہی عرب میں ارتداد کی لہر پھیل گئی جس پر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ہی قابو پاسکے تھے اور مولانا اصلاحی کی اختیار کردہ تاویل کے مطابق سورۃ التوبہ کی آیت فان تابوا و اقاموا الصلوۃ و آتوا الزکوۃ فخلوا سبیلھم اور رسول اللہ ﷺ کے فرمان امرت ان اقاتل الناس کا عملاً نفاذ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ارتداد کی جنگ کے موقع پر ہی کیا۔ پس جب جزیرہ عرب میں بھی رسول اللہ ﷺ کا غلبہ آپ کے بعد ہی مستحکم ہوا تو وہ اتمامِ حجت کے بعد رسول کے غلبے کی بات کیا ہوئی؟ 
ساتویں تاویل: روم و فارس پر رسول اللہ ﷺ نے کیسے اتمامِ حجت کیا؟ 
اس کے بعد روم و فارس کے خلاف صحابہ کرام کی جنگوں کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قیصر و کسری اور دیگر اقوام پر بھی اتمامِ حجت کیا گیا؟ اگر ہاں تو کیسے؟ اور اگر نہیں تو پھر ان کے خلاف صحابہ کرام کی جنگوں کو اتمامِ حجت کے ''قانون'' میں کیسے فٹ کیا جاسکتا ہے؟ ان جنگوں کو اتمامِ حجت کے ''قانون'' میں فٹ کرنے کے لیے یا تو ''اتمامِ حجت''کے قانون کو MOULD کرنا پڑتا ہے یا تاریخ کو REWRITE کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ پھر اگر صحابہ کرام کو بحیثیتِ مجموعی وہ منصبِ شہادت و اتمامِ حجت ملا جو رسول اللہ ﷺ کو اکیلے ملا تھا تو کیا یہ مقام صرف خلافتِ راشدہ تک تھا یا اس کا سلسلہ آخری صحابی کی وفات تک، یا کم از کم آخری صحابی خلیفہ(سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ) تک جاری رہا؟ 
اتمامِ حجت کے نظریے پر ایک آخری سوال 
کیا اللہ تعالیٰ کے عذاب اور ''اتمامِ حجت'' کے اس مزعومہ تصور کے درمیان کوئی CAUSAL LINK (رابطہ سببیہ) ہے؟ بہ ایں طور کہ ''رسول ''کی جانب سے اتمام ِ حجت نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کا عذاب بھی نہ ہو اور ''رسول'' کی جانب سے اتمامِ حجت ہو تو اللہ تعالیٰ کا عذاب بھی لازماً اور فوراً ہی آئے؟ کیا قرآن میں مذکور تمام معذب قوموں پر عذاب اسی نوعیت کا آیا؟ (بالخصوص بنی اسرائیل کے دوفسادوں اور ان کی سزا پر غور کریں۔) اور کیا اسی طرح ''اتمامِ حجت'' اور ''رسول اور اس کے ساتھیوں کے مادی غلبے'' اور ''استخلاف'' کا بھی آپس میں رابطہ سببیہ ہے؟ (مسیح علیہ السلام کے ساتھ کیوں یہ استخلاف کا وعدہ نہیں کیا گیا)کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ: 
ذرا سی بات تھی اندیشہ عجم نے اسے
بڑھادیا ہے فقط زیبِ داستاں کے لیے!