غیبت اور غیر ضروری بات

مصنف : جاوید چودھری

سلسلہ : منتخب کالم

شمارہ : مئی 2013

            افلا طون اپنے استاد سقراط کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا آپ کا نوکر بازار میں کھڑے ہو کر آپ کے بارے میں ہرزہ سرائی کر رہا تھا’ سقراط نے مسکرا کر پوچھا ‘‘وہ کیا کہہ رہا تھا’’ افلاطون نے جذباتی لہجے میں جواب دیا ‘‘ آپ کے بارے میں کہہ رہا تھا- ’’سقراط نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کروایا اور کہا ‘‘ آپ یہ بات سنانے سے پہلے اسے تین کی کسوٹی پر رکھو’ اس کا تجزیہ کرو اور اس کے بعد فیصلہ کرو کیا تمہیں یہ بات مجھے بتانی چاہیے’’ افلاطون نے عرض کیا ‘‘ یا استاد تین کی کسوٹی کیا ہے’’ سقراط بولا ‘‘ کیا تمہیں یقین ہے تم مجھے جو بات بتانے لگے ہو یہ بات سو فیصد سچ ہے’’ افلاطون نے فوراً انکار میں سر ہلا دیا’ سقراط نے ہنس کر کہا ‘‘ پھر یہ بات بتانے کا تمہیں اور مجھے کیا فائدہ ہوگا’’ افلاطون خاموشی سے سقراط کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا’ سقراط نے کہا ‘‘ یہ پہلی کسوٹی تھی’ ہم اب دوسری کسوٹی کی طرف آتے ہیں’ ‘‘مجھے تم جوبات بتانے لگے ہو کیا یہ اچھی بات ہے’’ افلاطون نے انکار میں سر ہلا کر جواب دیا ‘‘ جی نہیں یہ بری بات ہے’’ سقراط نے مسکرا کر کہا ‘‘ کیا تم یہ سمجھتے ہو تمہیں اپنے استاد کو بری بات بتانی چاہیے’’ افلاطون نے انکار میں سر ہلا دیا’ سقراط بولا ‘‘گویا یہ بات دوسری کسوٹی پر بھی پورا نہیں اترتی’’ افلاطون خاموش رہا’ سقراط نے ذرا سا رک کر کہا ‘‘ اور آخری کسوٹی’ یہ بتاؤ وہ بات جو تم مجھے بتانے لگے ہو کیا یہ میرے لیے فائدہ مند ہے’’ افلاطون نے انکار میں سر ہلایا اور عرض کیا ‘‘ یا استاد یہ بات ہر گز ہرگز آپ کے لیے فائدہ مند نہیں’’ سقراط نے ہنس کر کہا ‘‘ اگر یہ بات میرے لیے فائدہ مند نہیں تو پھر اس کے بتانے کی کیا ضرورت ہے’’ افلاطون پریشان ہو کر دائیں بائیں دیکھنے لگا۔

            سقراط نے گفتگو کے یہ تین اصول آج سے چوبیس سو سال قبل وضع کر دیے تھے’ سقراط کے تمام شاگرد اس پر عمل کرتے تھے’ وہ گفتگو سے قبل بات کو تین کسوٹیوں پر پرکھتے تھے’ کیا یہ بات سو فیصد درست ہے’ کیا یہ بات اچھی ہے اور کیا یہ بات سننے والوں کے لیے مفید ہے’ اگر وہ بات تینوں کسوٹیوں پر پوری اترتی تھی تو وہ بے دھڑک بات کر دیتے تھے اور اگر وہ کسی کسوٹی پر پوری نہ اترتی یا پھر اس میں کوئی ایک عنصر کم ہوتا تو وہ خاموش ہو جاتے تھے ۔

            میں نے مغرب میں زیادہ تر لوگوں کو اس اصول پر کاربند دیکھا۔ ٹیورن اٹلی کا ایک خوبصورت شہر ہے’ یہ شہر سوئٹزر لینڈ کی سرحد پر واقع ہے اور یہ اپنی اچھی ہمسائیگی کی وجہ سے بہت خوبصورت’ پرامن اور صحت افزاء شہر ہے۔ یہ دو ہزار سال پرانا شہر ہے’ شہر کے درمیان سے دریائے پو گزرتا ہے’ یہ دریا شہر کے حسن میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔ ٹیورن انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کا ٹریننگ سینٹر ہے۔ مجھے 2009ء میں اس سینٹر میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن میں چھوٹا سا کورس کرنے کا موقع ملا’ میں نے وہاں سے کچھ اور سیکھا یا نہیں سیکھا یہ الگ بات ہے لیکن مجھے سقراط کا یہ فارمولا سیکھنے کا موقع ضرور ملا۔ ہمارے تمام اساتذہ اطالوی تھے’ کورس کی انچارج درمیانی عمر کی خاتون تھی۔ کورس کو آرڈی نیٹر بیس بائیس سال کی نوجوان لڑکی تھی اور مرکزی استاد ہماری عمر کا جوان فلپ تھا۔ یہ بے اتنہا مستعد اور ماہر لوگ تھے۔ میرے گروپ میں آٹھ لوگ تھے’ ان میں مصر کی درمیانی عمر کی ایک خاتون بھی شامل تھی۔ یہ خاتون لاابالی’ غیر ذمے دار بلکہ تھوڑی سی بدتمیز بھی تھی۔ یہ عموماً گروپ کو چھوڑ کر کیفے ٹیریا چلی جاتی یا پھر سینٹرکے پب میں بیٹھ جاتی تھی۔ ایک دن فلپ نے مجھ سے پوچھا ‘‘ آپ کا گروپ کیسا چل رہا ہے’’ میں نے پاکستانی روایات کے مطابق گروپ کے لوگوں کی غیبت شروع کر دی۔ میرا سب سے بڑا ہدف مصری خاتون تھا۔ فلپ خاموشی سے سنتا رہا۔ میں نے پیٹ بھر کر غیبت کی اور اس کے بعد سرشاری کے عالم میں فلپ کو دیکھنے لگا۔ فلپ نے میری غیبت پر کسی قسم کا تبصرہ کیے بغیر مجھ سے پوچھا ‘‘ کیا آپ نے اپنی ریسرچ مکمل کر لی’’ میں نے ہاں میں سر ہلایا اور اس کے بعد اسے بتانا شروع کر دیا میرے گروپ کے کس لڑکے اور کس لڑکی نے انٹرنیٹ کی کس کس سائیٹ سے مواد چوری کیا ہے۔ فلپ اس پر بھی خاموش رہا۔ میں سچ بول بول کر تھک گیا تو اس نے مجھے بتایا ہمارے سینٹرمیں وائی فائی کی سہولت بھی موجود ہے اگر آپ کو اس کا پاس ورڈ درکار ہو تو آپ مہربانی کر کے ریسپشن سے لے لیں اور وہ اس کے ساتھ ہی وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔ مجھے اس کا رویہ بہت برا لگا’ مجھے محسوس ہوا اس نے مجھے ریسپانس نہ دے کر میری توہین کی ہے ۔ میں بے عزتی کے احساس میں جلنے لگا لیکن پھر مجھے اچانک محسوس ہوا فلپ سقراط کے تین اصولوں کا وارث ہے۔ اس نے دیکھا میری بات کی سچائی مشکوک ہے’ یہ بات بری ہے اور اس بات کا اسے کوئی فائدہ نہیں چنانچہ اس نے اس میں کسی قسم کا انٹرسٹ ظاہر نہیں کیا۔ہاں البتہ وہ مروت یا اخلاقیات کی وجہ سے میری بات سنتا رہا۔ میں نے جرمنی میں ایک بار ایک جرمن صحافی کو ہٹلر کے لطائف سنانا شروع کر دیے’ میں جوں جوں لطائف سناتا گیا وہ ہنسنے یا قہقہہ لگانے کے بجائے سنجیدہ ہوتا گیا۔ میں شرمندہ ہو گیا اور میں نے اس سے پوچھا ‘‘ تم میرے لطائف سے لطف اندوز نہیں ہو رہے’’۔ اس نے سنجیدگی سے جواب دیا’ یہ جھوٹے لطائف ہیں’ ہٹلر ایسا نہیں تھا۔ دوسرا ہٹلر کی باتیں دنیا کے بے شمار لوگوں کو تکلیف دیتی ہیں’ میں انھیں اچھا نہیں سمجھتا ۔اور تیسرا یہ فضول اور بے معنی چیزیں ہیں’ ہم ان سے زیادہ اچھی گفتگو کر سکتے ہیں۔ چلو آؤ موسم کی بات کرتے ہیں’ جرمنی میں اس سال سردیاں بہت دیر سے آ رہی ہیں۔ میری شرمندگی میں اضافہ ہو گیا۔ میں نے ایک بار امریکا میں ایک جاپانی سے ناگاساکی کے ایٹمی سانحے کے بارے میں پوچھا’ اس نے غور سے میری طرف دیکھا اور سنجیدگی سے بولا‘ ہم جاپانی 1945ء کے واقعے کو برا خواب سمجھتے ہیں چنانچہ ہم اس کا عموماً ذکر نہیں کرتے’ آپ مجھ سے اچھی باتیں پوچھو’ آج کل ٹوکیو میں چیری بلاسم کا سیزن ہے۔ہمارے شہر میں چیری کے پھول کھلے ہوئے ہیں اور میں ان پھولوں پر جان دیتا ہوں’ میں نے اس سے کہا ‘‘ تم اس ذکر سے خائف ہو’ اس نے فوراً جواب دیا ‘‘ نہیں’ ہم بہادر قوم ہیں’ ہم نے دو’ دو ایٹم بم سہے ہیں’ آپ پوری دنیا میں جاپان کے بعد کوئی دوسرا ملک بتاؤ جس نے ایٹم بم کی تباہی سہی ہو مگر ہم اس کے باوجود صرف پندرہ برسوں میں اپنے قدموں پر کھڑے ہو گئے تھے لیکن ہم جاپانی سمجھتے ہیں ہمیں لوگوں کو اپنے دکھ سنا کر ان کا موڈ خراب نہیں کرنا چاہیے’ ہمیں بے فائدہ باتوں میں بھی اپنا وقت برباد نہیں کرنا چاہیے’’ میں نے اس سے پوچھا ‘‘ کیا تم امریکا کو اس کا ذمے دار نہیں سمجھتے’ کیا جاپانی امریکا سے نفرت نہیں کرتے’’ اس نے ہنس کر جواب دیا ‘‘ میرے بھائی ہماری نفرت دوسری جنگ عظیم کے ساتھ ہی ختم ہو گئی تھی’ ہم اگر اس نفرت کو ‘‘ کیری’’ کرتے تو ہم آج بھی ناگاساکی اور ہیرو شیما کے ملبے پر بیٹھ کر گریہ و زاری کر رہے ہوتے۔ انسان کو محبت ہی سے فرصت نہیں ملتی کہ یہ نفرت بھی شروع کر دے’ ہم بے فائدہ یا فضول چیزوں میں نہیں الجھتے’’ میری شرمندگی بڑھ گئی۔

            یہ میری زندگی کے چند واقعات ہیں جب کہ میں نے درجنوں مرتبہ یورپ’ امریکا اور مشرق بعید کے لوگوں کو سقراط کے تینوں اصولوں پر عمل کرتے دیکھا’ یہ غیبت’ چغل خوری اور منفی باتوں سے ہمیشہ پرہیز کرتے ہیں جب کہ ہم میں یہ تینوں بری عادتیں موجود ہیں۔ ہم ہر بات کو تبلیغ سمجھ کر پھیلاتے ہیں اور ہرگز ہرگز یہ نہیں سوچتے کیا یہ بات سچ بھی ہے’ ہم یہ بھی نہیں دیکھتے یہ بات اچھی ہے اور ہم یہ بھی اندازہ نہیں کرتے ہمیں یا سننے والے کو اس کا کوئی فائدہ پہنچ رہا ہے؟ ہم بات کو کسوٹی کے تین اصولوں پر پرکھے بغیر اسے پھیلاتے چلے جاتے ہیں اور ایک لمحے کے لیے نہیں سوچتے ہماری اس حرکت سے کتنے لوگوں کو تکلیف پہنچ رہی ہو گی۔ آپ کو یقین نہ آئے تو آپ آج کے ایس ایم ایس دیکھ لیجیے’ آپ کو ہر دوسرا ایس ایم ایس جھوٹا’ برا اور بے فائدہ ملے گا۔ آپ کبھی اپنی گفتگو ریکارڈ کر کے سن لیں’ آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے آپ کی زیادہ تر باتیں سنی سنائی’ بری اور بے فائدہ ہیں۔ ان باتوں سے سننے والے کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا’ ان سے اس کی پریشانی میں اضافہ ہوتاہے اور یہ باتیں خلاف حقیقت یا غلط بھی ہیں۔ ہمارے اس رویے نے پورے معاشرے کو بیمار کر رکھا ہے’ ہم اگر بات کرتے ہوئے اس بات کو سقراط کے تین اصولوں پر پرکھ لیں تو ہمارے معاشرے کی اینگزائیٹی میں پچاس فیصد کمی آ سکتی ہے۔ ہم اور ہمارے اردگرد موجود لوگ سکھی رہ سکتے ہیں’ ورنہ دوسری صورت میں ہم بری باتوں کے کیچڑ میں دفن ہو جائیں گے اور بری خبروں کے چنگل میں بری خبر بن کر رہ جائیں گے۔ (بشکریہ روزنامہ ایکسپریس)

٭٭٭