سوال ، جواب

مصنف : ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

سلسلہ : یسئلون

شمارہ : دسمبر 2010

سوال: زید کی شادی ۲۷، ۲۸ سال پہلے ہوئی تھی۔ زوجین نے پرمسرت ازدواجی زندگی گزاری۔ ان کے درمیان کسی طرح کی ناچاقی یا ناخوش گواری نہیں تھی۔ اس عرصے میں ان کی پانچ اولادیں ہوئیں، جو بحمد اللہ اب جوان ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی بیٹی کی شادی بھی ہو چکی ہے۔ زید کی بیوی نے گزشتہ دس سال سے اس کے کمرے میں سونا چھوڑ دیا ہے۔ وہ اپنے جوان بچوں کے ساتھ الگ کمرے میں سوتی ہے اور شوہر دوسرے کمرے میں اکیلا سوتا ہے۔ زید اسے بار بار اللہ اور رسولؐ کا واسطہ دے کر اس کا فرض منصبی یاد دلاتا ہے اور اسے اپنے کمرے میں سلانا چاہتا ہے۔ مگر وہ کہہ دیتی ہے کہ بچے اب بڑے ہو گئے ہیں۔ وہ کیا سوچیں گے؟ پھر انھیں اکیلے الگ کمرے میں رکھنا مناسب نہیں۔ ان کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ زید عمر کے اس مرحلے میں پہنچ چکا ہے، جہاں وہ چاہتا ہے کہ اس کی بیوی زیادہ اوقات اس کے ساتھ رہے۔ شادی صرف جنسی تعلق قائم کرنے کے لیے تو نہیں کی جاتی۔ اس کی بیوی بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے، لیکن عملاً وہ شوہر کے حقوق ادا کرنے سے غفلت برتتی اور جوان اولاد کی دیکھ بھال کو ترجیح دیتی ہے۔ اب وہ صرف اپنے بچوں کی ماں بن کر رہ گئی ہے۔ اس صورت حال میں درج ذیل امور جواب طلب ہیں:

۱۔ کیا زید اور اس کی بیوی کے درمیان زن و شوہر کی حیثیت باقی ہے؟ یا ختم ہو گئی ہے؟

۲۔ بیوی کا رویہ کہیں شوہر سے خلع حاصل کرنے کے زمرے میں تو نہیں آتا؟

۳۔ کیا دونوں ایک مکان میں رہ سکتے ہیں اور بلاکراہت ایک دوسرے سے بات چیت کر سکتے ہیں؟

میں سمجھتا ہوں کہ ازدواجی تعلقات کا مطلب ہی یہ ہے کہ عام حالات میں بیوی ہمیشہ رات اپنے شوہر کے ساتھ گزارے۔ الاّ یہ کہ کوئی شرعی مجبوری آڑے آ گئی ہو۔

جواب: مرد اور عورت ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوتے ہیں، لیکن نکاح کے دو بول کہتے ہی ان کے درمیان انتہائی قریبی تعلق استوار ہو جاتا ہے۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے سے محبت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ یک جان دو قالب بن جاتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے:لم نر للمتاحبین مثل النکاح. (ابن ماجہ: ۱۸۴۷)‘‘نکاح کے ذریعے زوجین میں جیسی محبت پیدا ہو جاتی ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ دو افراد کے درمیان ویسی محبت کسی اور ذریعے سے پیدا ہوتی ہو۔’’

ازدواجی زندگی کا ثمرہ جب بچے کی ولادت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے تو عورت کی توجہ بٹ جاتی ہے۔ اس کی محبت کا ایک اور حق دار وجود میں آ جاتا ہے۔ پہلے وہ اپنی تمام تر محبتیں اپنے شوہر پر نچھاور کرتی تھی اور اس کے تمام اوقات اور پوری توجہات اپنے شوہر کے لیے وقف تھیں، اب اس کا بچہ بھی اس کی نگاہ التفات کو اپنی طرف منعطف کر لیتا ہے اور اس کا خاصا وقت اس کی پرورش و پرداخت میں صرف ہونے لگتا ہے۔ بچہ اور بڑا ہوتا ہے تو ماں باپ دونوں مل کر اس کی پرورش اور تعلیم و تربیت پر دھیان دیتے ہیں اور زندگی کی دوڑ میں شریک ہونے کے لیے اس کی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتے ہیں۔ بچوں کی عمر کے کس مرحلے میں ان کے ساتھ کیسا معاملہ کیا جائے؟ قرآن و حدیث میں اس کے اشارے ملتے ہیں۔ مثلاً ایک حدیث میں ہے کہ جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو انھیں الگ سلایا جائے۔ (مسند احمد ۲/ ۱۸۰) اس سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بستر ماں باپ کے بستر سے بھی الگ ہونے چاہییں۔ سورۂ نور میں، جہاں حجاب سے متعلق مختلف احکام دیے گئے ہیں، وہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قریب البلوغ بچوں کو مخصوص اوقات میں ماں باپ کے کمروں میں بغیر اجازت لیے نہیں داخل ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:‘‘اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، لازم ہے کہ تمھارے لونڈی غلام اور تمھارے وہ بچے جو ابھی عقل کی حد کو نہیں پہنچے ہیں، تین اوقات میں اجازت لے کر تمھارے پاس آیا کریں۔ صبح کی نمازسے پہلے اور دوپہر کو جب کہ تم کپڑے اتار کر رکھ دیتے ہو اور عشاء کی نماز کے بعد۔ یہ تین وقت تمھارے لیے پردے کے وقت ہیں۔’’(النور: ۵۸)

آگے بالغ بچوں کو بھی ایسا ہی کرنے کا حکم دیا گیا ہے: ‘‘ اور جب تمھارے بچے عقل کی حد کو پہنچ جائیں تو چاہیے کہ اسی طرح اجازت لے کر آیا کریں جس طرح ان کے بڑے اجازت لیتے رہے ہیں۔’’(النور: ۵۹)

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے جب بڑے ہو جائیں تو پردے کے احکام ان سے بھی اسی طرح متعلق ہو جاتے ہیں جس طرح بڑوں سے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف متعدد ایسی آیات اور احادیث ہیں، جن سے زوجین کے ایک کمرے میں رات گزارنے کا اشارہ ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَالّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ فَعِظُوْھُنَّ وَاھْجُرُوْھُنَّ فِی الْمَضَاجِع. (النساء: ۳۴)

‘‘اور جن عورتوں سے تمھیں سرکشی کا اندیشہ ہو انھیں سمجھاؤ، خواب گاہوں میں ان سے علیحدہ رہو۔’’

‘مضاجع’ کا ترجمہ بستر بھی کیا گیا ہے اور خواب گاہ بھی۔ اس کی تشریح اس حدیث سے ہوتی ہے: ولا تہجر الا فی البیت. (ابو داؤد: ۲۱۴۲)

‘‘اور (بیوی سے) مت علیحدگی اختیار کرو مگر خواب گاہ میں۔’’

بیوی کی سرکشی اور نافرمانی کی صورت میں اس کی تادیب و اصلاح کے لیے بستر میں، یا خواب گاہ میں اس سے علیحدہ رہنے کو کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عام حالات میں زوجین کا ساتھ رہنا پسندیدہ اور مطلوب ہے۔

اوپر کے خط میں سائل نے بیوی کے جس رویے کی شکایت کی ہے، اس کا تعلق نام نہاد مشرقی تہذیب سے ہے۔ عموماً بچے کچھ بڑے اور باشعور ہو جاتے ہیں تو عورتیں ان کی موجودگی میں اپنے شوہروں کے کمروں میں رہنے سے شرماتی اور اسے ناپسند کرتی ہیں۔ اس کے بجائے بچوں کی ایسی دینی اور اخلاقی تربیت کرنی چاہیے کہ وہ اس عمل کو اجنبی اور غیر اخلاقی نہ سمجھیں۔ ویسے بھی ازدواجی تعلق صرف جنسی عمل کا نام نہیں ہے۔ بہت سے معاملات و مسائل روز مرہ کی زندگی میں ایسے ہوتے ہیں، جن پر بچوں کی غیر موجودگی میں زوجین کا تنہائی میں گفتگو کرنا زیادہ مناسب ہوتا ہے۔ بیوی کے فرائض میں سے ہے کہ وہ شوہر کو گھر میں سکون فراہم کرے اور جائز امور میں اس کی نافرمانی نہ کرے۔ اللہ کے رسولؐ سے کسی نے دریافت کیا کہ سب سے اچھی عورت کون ہے؟ فرمایا: التی تسرہ اذا نظر وتطیعہ اذا امر ولا تخالفہ فی نفسہا ولا مالہا بما بکرہ.

‘‘وہ عورت جس کا شوہر اس کی طرف دیکھے تو خوش ہو جائے، وہ اسے کسی چیز کا حکم دے تو اس پر عمل کرے اور اپنی ذات کے بارے میں، اس مال کے بارے میں جو اس کی تحویل میں ہے شوہر کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہ کرے۔’’

اس معاملے میں زوجین کو افراط و تفریط سے بچنا چاہیے۔ نہ انھیں اپنے باشعور بچوں کے سامنے کھلے عام ایسی ‘حرکتیں’ کرنی چاہییں، جن کا شمار بے حیائی میں ہوتا ہو اور نہ ایک دوسرے سے بے تعلق ہو جانا چاہیے کہ دوسرا فریق اسے اپنی حق تلفی شمار کرنے لگے۔ رہیں وہ باتیں، جن کا تذکرہ خط کے آخر میں کیا گیا ہے، وہ جاہلانہ باتیں ہیں۔ بیوی کے کچھ عرصہ شوہر سے الگ دوسرے کمرے میں رہنے سے نہ تو ازدواجی حیثیت ختم ہو جاتی ہے نہ یہ عمل خلع حاصل کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق پہچاننے چاہییں اور ان کی ادائیگی کے لیے شرح صدر کے ساتھ خود کو آمادہ کرنا چاہیے۔

(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)

جواب: کسی حدیث کی صحت یا عدم صحت جانچنے کے لیے محدثین کرام نے مختلف اصول وضع کیے ہیں۔ ان کا تعلق روایت سے بھی ہے اور درایت سے بھی۔ مثلاً سند حدیث میں کسی راوی کا نام چھوٹ گیا ہو یا کسی راوی کا حافظہ کمزور ہو یا اس نے ضبط الفاظ میں تساہل سے کام لیا ہو یا اس کا اخلاق و کردار مشتبہ ہو یا وہ اپنی روز مرہ کی زندگی میں جھوٹ بولتا ہو تو اس کی روایت کو ضعیف کی اقسام میں شمار کیا گیا ہے۔ اسی طرح روایتوں کی داخلی شہادتوں سے بھی انھیں پرکھا گیا ہے۔ مثلاً کسی روایت میں لفظی یا معنوی رکاکت پائی جائے، وہ حکمت و اخلاق کی عام قدروں کے منافی ہو، حس و مشاہدہ اور عقل عام کے خلاف ہو، اس میں حماقت یا مسخرہ پن کی کوئی بات کہی گئی ہو، اس کا مضمون عریانیت یا بے شرمی کی کسی بات پر مشتمل ہو وغیرہ تو اس کا ضعیف و موضوع ہونا یقینی ہے۔حرمت سود کی شناعت بیان کرنے والی جو حدیث اوپر سوال میں نقل کی گئی ہے، اس کا موضوع ہونا کس اعتبار سے ہے؟ اس کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ انداز سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس پر نقد درایت کے پہلو سے ہے۔ لیکن اس بنیاد پر اسے موضوع قرار دینا درست نہیں۔ ماں کی عزت و احترام انسانی فطرت میں داخل ہے۔ تما م مذاہب میں اس پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ تقدس کا رشتہ استوار ہوتا ہے، زنا و بدکاری تو دور کی بات ہے، کوئی سلیم الفطرت انسان اپنی ماں کی طرف بری نظر سے دیکھ بھی نہیں سکتا۔ سود کے انسانی سماج پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کا شکار ہونے والوں کی زندگیاں برباد ہوتی ہیں اور سودی کاروبار کرنے والوں کے اخلاق و کردار پر خراب اثر پڑتا ہے۔ اس کی خباثت و شناعت واضح کرنے کے لیے اسے ‘‘ماں کے ساتھ زنا’’ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اس میں عریانیت یا ناشائستگی کی کوئی ایسی بات نہیں، جس کی بنا پر اس کو موضوع قرار دیا جائے۔ ایک زمانے میں منکرین حدیث نے یہ وتیرہ بنا لیا تھا کہ جو حدیث بھی کسی وجہ سے انھیں اچھی نہ لگے، اسے بلا تکلف موضوع قرار دے دیتے تھے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اپنی مایہ ناز تصنیف ‘‘سنت کی آئینی حیثیت’’ میں ان کا زبردست تعاقب کیا ہے اوران کے نام نہاد دعووں کا ابطال کیا ہے، جن لوگوں کے ذہنوں میں ایسے اشکالات پیدا ہوتے ہیں، جن کی ایک مثال اوپر درج سوال میں پیش کی گئی ہے، انھیں اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔

(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)

جواب: انگوٹھی کا استعمال زمانۂ قدیم سے ہوتا رہا ہے۔ سونے، چاندی اور دیگر دھاتوں کی انگوٹھیاں بنائی اور پہنی جاتی رہی ہیں۔ شرعی طور سے انگوٹھی پہننا مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے جائز ہے۔ ہاں سونا (Gold) امت محمدیہ کے مردوں کے لیے حرام ہے۔ اس لیے سونے کی انگوٹھی پہننا ان کے لیے جائز نہیں۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: احل الذہب والحریر لاناث امتی وحرم علی ذکورہا. (نسائی: ۵۱۴۸)

‘‘سونا اور ریشم میری امت کی عورتوں کے لیے حلال اور مردوں کے لیے حرام ہے۔’’

بعض احادیث میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحت سے مردوں کو سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع کیا ہے۔ (بخاری: ۵۸۶۳، ۵۸۶۴، مسلم: ۲۰۶۶)احادیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی تھی، جس سے آپؐ مہر کا کام لیا کرتے تھے۔ اس پر ‘‘محمدرسول اللہ’’ کندہ تھا۔ یہ انگوٹھی آپؐ کے وصال کے بعد خلیفۂ اول حضرت ابوبکرؓ، پھر خلیفۂ دوم حضرت عمرؓ، پھر خلیفۂ سوم حضرت عثمانؓ کے پاس رہی اور یہ حضرات اسے پہنتے رہے۔ حضرت عثمانؓ کے زمانے میں کہیں غائب ہو گئی۔ (بخاری: ۵۸۶۶، مسلم ۲۰۹۱)

انگوٹھی کا نگینہ اسی دھات سے بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً چاندی کی انگوٹھی کا نگینہ بھی چاندی کا ہو، اور دوسری دھات کا بھی ہو سکتا ہے۔ چنانچہ عقیق، یاقوت اور دیگر قیمتی حجریات بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو انگوٹھی بنوائی تھی، صحیح بخاری میں مذکور ہے کہ اس کا نگینہ بھی چاندی کا تھا۔ (۵۸۷۰) لیکن صحیح مسلم میں روایت کے الفاظ یہ ہیں ‘کان خاتم رسول اللّّّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من ورق وکان فصہ حبشیاً’ (۲۰۹۴) ‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ حبشہ کا بنا ہوا تھا’’۔ اس سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ وہ چاندی کے علاوہ کسی اور دھات کا تھا۔ جہاں تک حجریات کی تاثیر کا معاملہ ہے تو طب کی کتابوں میں اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ مختلف حجریات کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھیں اپنے پاس رکھنے، گردن میں لٹکانے یا کسی اور طرح سے اس کے خارجی استعمال سے جسم انسانی پر فلاں فلاں اثرات پڑتے ہیں۔ اس کا تعلق عقیدہ سے نہیں، بلکہ تجربے سے ہے۔ اگر کسی پتھر کا خارجی استعمال طبی اعتبار سے فائدہ مند ثابت ہوتو اسے انگوٹھی کا نگینہ بنا لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔لیکن اس کے ساتھ کوئی مافوق الفطرت اثرات وابستہ کرلینا غیر اسلامی ہے۔

(بشکریہ ماہنامہ ‘‘زندگی نو’’ نئی دہلی، فروری 2010ء)

(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)

ج: کار فنانسنگ کے لیے بنک دونوں طریقے اختیار کررہے ہیں ۔سود کا طریقہ بھی اختیار کیا جا رہا ہے اور بعض بینک اس معاملے میں کرائے کا طریقہ بھی اختیار کرتے ہیں ۔ دونوں کے حکم بھی الگ الگ ہیں اور دونوں کی نوعیت بھی الگ الگ ہے۔ لیکن بہرحال جہاں سود کا معاملہ ہو رہا ہو وہاں سے آپ قرض لے تو سکتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ قرض لینے میں آپ سود دیتے ہیں ، سود کھاتے نہیں ہیں اور سود کھانے کو اللہ نے ممنوع قرار دیا ہے ،۔جو لوگ ان کے سٹاف کا حصہ بن کر کام کر رہے ہیں ان کی ملازمت کے بارے میں میں ہمیشہ سے کہتا ہوں کہ ایک ناپسندیدہ چیز ہے اور ایک اچھے مسلمان کو بہرحال اس سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ وہ ایک گناہ میں ان کا معاون بنتا ہے ۔

(جاوید احمد غامدی)