سوال ، جواب

مصنف : ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

سلسلہ : یسئلون

شمارہ : جون 2010

سوال: میں کئی سالوں سے پریشان ہوں۔ میری اہلیہ عرصہ سے بیمار ہیں۔ خود میں بھی مختلف امراض میں مبتلا ہوں۔ مسجد جانا دشوار ہوتا ہے۔ وہ دن میرے لیے بڑا مبارک ہوتا ہے ، جس میں میری پنج وقتہ نمازیں مسجد میں ادا ہوتی ہیں۔ میرا بڑا لڑکا سروس میں ہے۔ ایک لڑکی کی شادی ہو گئی ہے، لیکن دو لڑکیاں، جو قبول صورت اور عصری تعلیم یافتہ ہیں، ان کی عمریں بھی زیادہ ہو رہی ہیں، لیکن اب تک ان کی شادی نہیں ہو پائی۔ کہیں حتمی طور پر نسبت طے ہو جاتی ہے، لیکن پھر یک لخت منسوخ ہو جاتی ہے۔ ایسے مواقع پر مجھے بہت ڈراؤنے خواب نظر آتے ہیں، جیسے سانپ، زہریلے کیڑے مکوڑے، موذی جانور، بول و براز میں گھرے ہونا وغیرہ۔ ایک موقعے پر حمام کی دیواروں پر انسانی پاخانہ دیکھا گیا۔ اس حمام میں صرف ایک دروازہ ہے۔ ایک اور موقعے پر سوکھے گوشت کا ٹکڑا چھت سے گرتا ہوا دیکھا گیا، جبکہ چھت آ رسی سی کی ہے۔ ان تمام باتوں کو ہم لوگ نظر انداز کرتے رہے۔ بعض حضرات کے مشوروں پر کثرت استغفار اور اسمائے حسنیٰ کا ورد کیا، مگر صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔آپ سے گزارش ہے کہ اپنی دعاؤں میں شامل رکھیں اور اپنے مشوروں سے نوازیں۔

جواب: آپ نے اپنے جن حالات کا تذکرہ کیا ہے، وہ باعث تشویش ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کو صبر کی قوت اور حالات سے نمٹنے کی صلاحیت عطا فرمائے اور آئندہ ان میں بہتری فرمائے۔ آپ کے حالات پر بہ حیثیت مجموعی غور کرنے سے میری سمجھ میں جو باتیں آئی ہیں، انھیں ذیل میں تحریر کر رہا ہوں۔ ممکن ہے ان میں کچھ کام کی باتیں آ گئی ہوں۔

آپ کی اہلیہ محترمہ عرصے سے بیمار ہیں۔ آپ خود مختلف امراض کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے خواہش کے باوجود آپ کے لیے پنج وقتہ نمازوں کے لیے مسجد جانا دشوار ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ آپ کی دو لڑکیوں کی ، شادی کی عمر کو پہنچ جانے اور تعلیم یافتہ اور قبول صورت ہونے کے باوجود، شادی نہیں ہو پا رہی ہے۔ ان چیزوں نے آپ کو شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ آپ کی یہ پریشانی جسمانی سے سے زیادہ ذہنی ہے۔ جوں جوں دن گزر رہے ہیں آپ کی پریشانی، ذہنی الجھن اور تفکرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں ایک مومن صادق کا شیوہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ صبر کرے۔

اس دنیا میں اللہ تعالیٰ مختلف انسانوں کے لیے مختلف حالات پیدا کر کے انھیں آزماتا ہے۔ کسی کی آزمائش خوش حالی، صحت مندی، مال و دولت کی فراوانی، عیش و عشرت کے وسائل اور دیگر تنعمات کے ذریعے ہوتی ہے تو کسی کو فقر و فاقہ، بیماری، تجارت میں خسارہ اور ذرائع معاش کی تنگی وغیرہ میں مبتلا کر کے آزمایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَ نَبْلُوْکُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَےْرِ فِتْنَۃً وَ اِلَےْنَا تُرْجَعُوْنَ. (الانبیاء : ۳۵)

‘‘ اور ہم اچھے اور برے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کر رہے ہیں۔ آخر کار تمھیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے۔’’

اللہ تعالیٰ نے اپنے ان نیک بندوں کا تذکرہ بڑے تعریفی و تحسینی کلمات سے کیا ہے جو کسی مصیبت کا شکار ہوتے تو اس پر جزع و فزع نہیں کرتے، بلکہ صبر کا دامن تھامے رہتے ہیں: وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَ.الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اﷲُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَالصّٰبِرِیْنَ عَلٰی مَآ اَصَابَہُمْ. (الحج: ۳۴۔ ۳۵۔)

‘‘اور بشارت دے دو عاجزانہ روش اختیار کرنے والوں کو، جن کا حال یہ ہے کہ اللہ کا ذکر سنتے ہیں تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں، جو مصیبت بھی ان پر آتی ہے اس پر صبر کرتے ہیں۔’’

سورۂ بقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِط وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ. الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْآ اِنَّا ِﷲِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ. اُولٰٓئِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُوْنَ. (البقرہ: ۱۵۵۔ ۱۵۷)

‘‘اور ہم ضرور تمھیں خوف وخطر، فاقہ کشی، جان ومال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمھاری آزمائش کریں گے۔ ان حالات میں جو لوگ صبر کریں او رجب کوئی مصیبت پڑے تو کہیں کہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔ انھیں خوش خبری دے دو۔ ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی۔ اس کی رحمت ان پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رو ہیں۔’’

سورۂ تغابن میں ہے: مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ اِلَّا بِاِذْنِ اﷲِط وَمَنْ یُّؤْمِنْم بِاﷲِ یِہْدِ قَلْبَہٗ. (التغابن : ۱۱)

‘‘کوئی مصیبت کبھی نہیں آتی، مگر اللہ کے اذن ہی سے آتی ہے۔ جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہو اللہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے۔’’

صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:

‘‘ اس سے مراد وہ شخص ہے جو کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو اس پر راضی بہ رضا رہتا ہے اور جانتا ہے کہ وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔’’ (صحیح بخاری، کتاب التفسیر)

مصائب اور آزمائشوں پر صبر کرنا اور جزع و فزع نہ کرنا بڑی عزیمت کا کام ہے۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا: وَاصْبِرْ عَلٰی مَآ اَصَابَکَط اِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ. (لقمان: ۱۷)

‘‘اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کر۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کی بڑی تاکید کی گئی ہے۔’’

قرآن نے حضرت ایوب علیہ السلام کی حیات طیبہ صبر کی اعلیٰ ترین مثال کی حیثیت سے پیش کی ہے۔ وہ ایک شدید مرض میں مبتلا ہوئے، یہاں تک کہ ان کے متعلقین نے ان سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ مگر انھوں نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ اس موضوع پر احادیث بھی کثرت سے موجود ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مومن کسی بھی آزمائش سے دو چار ہوتا ہے اور کسی بھی مصیبت اور پریشانی کا شکا رہوتا ہے تو یہ چیزیں اس کے گناہوں کے لیے کفارہ بن جاتی ہیں اور اگر وہ صبر کرے تو جنت کا مستحق بن جاتا ہے۔ اس موقع پر صرف ایک حدیث نقل کی جاتی ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا ہے:

عجبت للمسلم، اذا اصابہ خیر حمد و شکر واذا اصابتہ مصیبۃ احتسب وصبر، المسلم یوجر فی کل شیء. (مسند احمد ۱/ ۱۷۷)

‘‘مسلمان کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ اسے کوئی خیر حاصل ہوتا ہے تو وہ اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد اور شکر کرتا ہے اور کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اور صبر کرتا ہے۔ اس طرح وہ ہر حال میں اجر کا مستحق ہوتا ہے۔’’

اپنی بیماری، اپنی اہلیہ کی بیماری، وقت پر بچیوں کی شادی نہ ہو پانا اور دیگر اعذار اور پریشانیاں، یہ سب آزمائش کی مختلف شکلیں ہیں۔ ان پر راضی بہ رضا رہنا اور صبر کرنا ایک سچے مومن سے مطلوب و محمود ہے۔ صبر کی تلقین کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو پریشانی درپیش ہے، اس سے نجات پانے کی کوشش نہ کی جائے۔ آدمی اگر کسی بیماری میں مبتلا ہے تو اس کا علاج معالجہ لازم ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے اس کا حکم دیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: یا عباد اللّٰہ تداووا، فان اللّٰہ لم یضع داء الا وضع لہ دواء الا داء واحد الہرم. (جامع ترمذی: ۲۰۳۸)

‘‘ اے اللہ کے بندو، علاج کراؤ، اس لیے کہ اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں رکھی ہے، جس کی کوئی دوا نہ رکھی ہو، سوائے ایک بیماری کے اور وہ ہے بڑھاپا۔’’

یہی حال دیگر پریشانیوں کا ہے کہ انھیں دور کرنے اور ان سے نجات پانے کی کوشش کرنے کو شریعت میں مطلوب قرار دیا گیا ہے۔ وقت پر بچیوں کی شادی نہ ہو پا رہی ہوتو والدین کی پریشانی فطری ہے۔ اس پریشانی کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کیجیے۔ اپنے خونی رشتہ داروں، سسرالی رشتہ دراوں، بڑی بیٹی کے سسرالی رشتہ داروں، اگر بیٹے کی شادی ہو گئی ہے تو اس کے سسرالی رشتہ داروں کاروباری متعلقین، تحریکی احباب اور دیگر وابستگان سے رابطہ کیجیے۔ ان سے عرض مدعا کیجیے۔ تحریکی اخبارات میں ضرورت رشتہ کے اشتہار کو بھی ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ امید ہے اس طرح کوئی نہ کوئی رشتہ ضرور مل جائے گا۔

شادی ایک ایسا سماجی عمل ہے، جو بہت سی پیچیدگیاں رکھتا ہے۔ مختلف اسباب اس کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ایک سبب ‘معیار کی برقراری’ ہے۔ لڑکیاں جس سماجی معیار کے گھرانے کی ہوں ، خواہش ہوتی ہے کہ ان کی شادی بھی اسی سماجی معیار کے گھرانوں میں ہو۔ پھر اگر وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہوں تو ان کی شادی کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکے سے کرانے کی خواہش ہوتی ہے۔ عام حالات میں ایسا ہی کرنا چاہیے۔ لیکن اگر کسی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو پا رہا ہو تو معیار مطلوب سے کم پر Compromise کر لینا دانش مندی کا تقاضا ہے۔ میں ایسے متعدد خاندانوں کو جانتا ہوں جن میں لڑکیوں کی شادیاں ان سے کم پڑھے لکھے لڑکوں سے ہوئیں، مگر وہ خوش گوار زندگی گزار رہے ہیں۔

آپ نے جن ڈراؤنے خوابوں کا تذکرہ کیا ہے، مجھے لگتا ہے کہ ان کا تعلق آپ کی ذہنی پریشانی سے ہے۔ عموماً صحت زیادہ گر گئی ہو، اور اعصاب کمزور ہوں تو ایسے خواب نظر آتے ہیں۔ آدمی دیگر پریشانیوں میں مبتلا ہو تو اس کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ بچیوں کی نسبتیں طے ہوئیں، مگر کسی وجہ سے اچانک ٹوٹ گئیں تو اس موقع پر ذہنی پریشانی اور الجھن شدید ہوتی ہے۔ بیماری بھی لاحق ہو تو احساس کی شدت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر ڈراؤنے خواب نظر آتے ہیں۔ نسبتوں کے ٹوٹنے کو کسی اور چیز پر محمول کرنا مناسب نہیں معلوم ہوتا۔ جس طرح لڑکی کو شادی سے قبل لڑکے کے بارے میں ہر طرح کی تحقیقات کرنے کا حق حاصل ہے، اسی طرح لڑکے والے بھی تمام معلومات حاصل کرنا ضروری سمجھتے ہیں او رانھیں بھی اس کا حق دینا چاہیے۔ شادی سے قبل نسبت ٹوٹ جانا زیادہ بہتر ہے اس کے مقابلے میں کہ شادی ہو جائے اور بعد میں لڑکی سسرال میں اذیتوں سے دو چار ہو۔

باتھ روم کی دیواروں پر غلاظت کا لگا ہونا یا کمرے میں اوپر سے سوکھے گوشت کا ٹکڑا گرنا، اگر اس طرح کے واقعات پے در پے پیش آئیں تب تشویش ہونی چاہیے اور ذہن دوسری طرف جانا چاہیے، لیکن اگر کئی سالوں میں ایک دو بار ایسا ہو گیا ہو تو اس کی کوئی معقول توجیہ کر لینی چاہیے۔ باتھ روم کی دیوار پر ممکن ہے روشن دان سے کبھی کسی گندگی کی چھینٹیں آ گئی ہوں، گوشت کا سوکھا ٹکڑا ممکن ہے کوئی چڑیا لائی ہو اور چھت کے پنکھے پر رکھ دیا ہو، بعد میں وہ وہاں سے نیچے گرا ہو۔ یہ بات میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ہماری زندگی میں آئے دن ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں، جن کی ہم بروقت کوئی توجیہ نہیں کر پاتے، لیکن وہ معمول کے واقعات ہوتے ہیں۔ ہمارا ذہن چونکہ دوسری طرف کام کر رہا ہوتا ہے، اس لیے ہم ان کی کوئی مناسب توجیہ کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔

ان حالات میں میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ دعاؤں کا التزام کیجیے۔ آپ کا ذہن اس طرف جا رہا ہے کہ کوئی آپ کے خلاف جادو ٹونا کر رہا ہے۔ میں اس امکان کو بالکلیہ رد نہیں کرتا، لیکن میرے نزدیک یہ امکان کم سے کم ہے۔ سحر کے اثرات ہوں تو بھی دعاؤں کے ذریعہ ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اپنے اطمینان کے لیے چاہیں تو کسی ‘عامل’ سے مدد لے لیں۔ لیکن ساتھ ہی خود بھی زیادہ سے زیادہ دعاؤں کا اہتمام کیجیے۔ نماز تہجد کی پابندی کیجیے، رات کی تنہائی میں اللہ تعالیٰ بندے سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ عاجزی و فروتنی کے ساتھ بار گاہِ الٰہی میں اپنے تمام مسائل کے حل کے لیے دعا کیجیے۔ اللہ تعالیٰ ضرور سنے گا۔

(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)

سوال: یہاں کی ایک دینی تنظیم کا ایک جگہ معمولی تعمیر شدہ دفتر تھا۔ دینی ذہن رکھنے والے ایک بلڈر نے پیش کش کی کہ وہ اپنے والد محترم کے ایصال ثواب کے لیے اپنے خرچ سے تنظیم کی عالی شان عمارت تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ تنظیم کے ذمہ داروں نے ان کی یہ پیش کش قبول کر لی اور اعتماد کی فضا میں اپنی زمین اور تعمیرہ شدہ معمولی عمارت ان کے حوالے کر دی، جسے توڑ کر اس زمین پر از سر نو بلڈنگ کی تعمیر کا کام ہونے لگا۔ ساری باتیں زبانی ہوئیں، کوئی تحریری معاہدہ نہیں کیا گیا۔ تعمیر کے دوران ہی بلڈر نے بعض سیاسی و معاشی مصلحتوں کا حوالہ دے کر تنظیم کے ذمہ داروں سے ایک مشترکہ ایگریمنٹ پر دستخط کروا لیے۔ جس کی رو سے نئی تعمیر شدہ عمارت کی دو منزلیں تنظیم کی اور دو منزلیں بلڈر کی قرار پائیں۔ بلڈر نے اس موقع پر تنظیم کے ذمہ داروں کو اعتماد میں لیتے ہوئے صراحت سے کہا کہ یہ محض بعض قانونی ضوابط کی خانہ پری ہے۔ ورنہ پوری عمارت اصلاً تنظیم کی ملکیت ہو گی۔ لیکن عمارت کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اسے انھوں نے تنظیم کے حوالے نہیں کیا، بلکہ اس کی اوپری دو منزلیں اپنے قبضے میں رکھتے ہوئے اس میں اپنا ذاتی دفتر قائم کر لیا۔ نیز اس میں ایک دینی پروجیکٹ شروع کر دیا۔ تنظیم کے ذمہ داروں نے انھیں سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ وہ پوری عمارت کی ملکیت تنظیم کی تسلیم کرتے ہوئے اسے تنظیم کے حوالے کر دیں، مگر انھوں نے انکار کر دیا۔ مجبوراً تنظیم کے ذمہ داروں نے ان کے سامنے چار تجاویز رکھی ہیں: وہ غیر مشروط طور پر نئی تعمیر شدہ عمارت کو تنظیم کے حوالے کر دیں، اگر وہ اس کا کچھ حصہ کسی مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو تنظیم کے ذمہ داروں سے اس کی باضابطہ اجازت لیں۔ وہ بلڈنگ پر صرف شدہ رقم تنظیم سے لے کر پوری عمارت تنظیم کے حوالے کر دیں یا آخری چارۂ کار کے طور پر زمین کی رقم تنظیم کو لوٹا دیں۔

اس پس منظر میں آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ مندرجہ ذیل امور پر فتویٰ دے کر ہماری رہنمائی فرمائیں:

۱۔ تنظیم کے ذمہ داروں کو اعتماد میں لے کر اور اس کا غلط فائدہ اٹھا کر نئی تعمیر شدہ عمارت کی دو مزلیں اپنے نام رجسٹرڈ کروا لینا اور اس پر اپنا دعویٰ کرنا کیا دھوکا نہیں ہے؟ شریعت میں دھوکا دینے والے کے لیے کیا وعید آئی ہے؟

۲۔ بلڈر کبھی عمارت کے نصف حصے پر اپنا دعویٰ کرتے ہیں اور کبھی پوری عمارت پر تنظیم کی ملکیت تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن اس کی حوالگی کے لیے مختلف شرائط عائد کرتے ہیں۔ حوالگی کے لیے شرائط کی فہرست دینا شریعت کی رو سے کیا حیثیت رکھتا ہے؟

۳۔ کسی کی عمارت پر بہ زور قبضہ جمائے رکھنا کیا شریعت کی رو سے صحیح ہے؟

۴۔ بلڈر قانونی پیپرز کا حوالہ دے کر عمارت کی دو منزلہ پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔ کیا وہ غاصب اور ظالم نہیں ہیں۔ کیا غاصب و ظالم کے دباؤ میں آ کر اس کی کوئی تجویز قبول کر لینا صحیح ہے؟ کیا یہ ظلم کا ساتھ دینا نہیں ہوا؟

۵۔ تنظیم کے ذمہ داروں کے لیے کیا یہ رویہ صحیح ہے؟ وہ حکمت کے ساتھ ظلم کا مقابلہ کریں یا مذکورہ بلڈر سے رقم لے کر معاملہ رفع دفع کر لیں؟

جواب: سب سے پہلے تو میں یہ عرض کر دوں کہ میں کوئی رجسٹرڈ/ سند یافتہ مفتی نہیں ہوں، اس لیے میرے اس جواب کی حیثیت فتوے کی نہیں ہے۔ میں محض اسلامیات کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوں۔ صورت مسئلہ کا جو جواب روح دین اور احکام شریعت کی روشنی میں میری سمجھ میں آیا ہے اسے ذیل میں تحریر کر رہا ہوں:

۱۔ دینی تنظیم اور مقامی بلڈر نے باہمی اعتماد کی فضا میں تنظیم کی عمارت کی از سر نو تعمیر کا آغاز کیا۔ مگر کچھ عرصہ کے بعد باہمی اعتماد کے شفاف آئینہ میں لکیر پڑ گئی۔ فریقین کو غور کرنا چاہیے کہ ان سے غلطی کہاں ہوئی؟ بلڈر نے یہ کام ان کے بقول اپنے مرحوم والد کے ایصال ثواب کے لیے کیا تھا۔ ان کا یہ کام بڑا مبارک ہے۔ بچوں کے لیے یہ بڑی سعادت کی بات ہے کہ وہ اپنے والد کے انتقال کے بعد صدقۂ جاریہ کا کوئی ایسا کام کر دیں جس کا ثواب ان کو برابر پہنچتا رہے۔ حدیث میں اس کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ لیکن بعد میں انھوں نے جو رویہ اختیار کیا، انھیں سوچنا چاہیے کہ اگر ان کے والد مرحوم زندہ ہوتے تو کیا وہ خود ایسا رویہ اختیار کرتے؟ یا اپنے صاحب زادگان کو یہ رویہ اختیار کرتے ہوئے دیکھتے تو کیا وہ خوش ہوتے؟ کسی تنظیم سے وابستگی اجتماعیت کی روح کوپروان چڑھاتی ہے۔ اس میں اجتماعی مفاد پر انفرادی مفاد کو قربان کرنا پڑتا ہے۔ صدقۂ جاریہ کے نام پر کوئی ایسا کام کرنا یا ایسا رویہ اختیار کرنا جس سے اس مرحوم شخصیت کی روح کو، جس کے ایصال ثواب کے لیے وہ کام انجام دیا گیا ہے، تکلیف پہنچے۔ میں اسے کوئی کار خیر نہیں سمجھتا۔ تنظیم کی غلطی یہ ہے کہ اسے ابتدا ہی سے تمام معاملات تحریری شکل میں طے کرنے چاہییں تھے۔ اگر ایسا کیا جاتا تو بعد میں رونما ہونے والے اختلافات کو خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکتا تھا۔ عموماً دینی حلقوں میں اس معاملے میں کوتاہی پائی جاتی ہے۔ شروع میں معاملات اعتماد کی فضا میں زبانی طے کیے جاتے ہیں، بعد میں اختلاف ہونے کی صورت میں فریقین کے بیانات میں تضاد ہوتا ہے او رمعاملہ الجھ کر رہ جاتا ہے۔ قرآن کریم کی سب سے طویل آیت (البقرہ: ۲۸۲) جسے آیت مداینہ کہا جاتا ہے، اس میں قرض کے لین دین کے معاملے کو ضبط تحریر میں لانے کا تاکیدی حکم دیا گیا ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ایک ایسے سماج، جہاں لکھنا جاننے والوں کی تعداد اتنی کم تھی کہ انھیں انگلیوں پر گنا جا سکتا تھا، معاملات کو ضبط تحریر میں لانے کا اتنا تاکیدی حکم کیوں دیا گیا؟

۲۔ آپ نے لکھا ہے کہ بلڈر تعمیر شدہ عمارت کی بالائی دو منزلوں میں سے ایک میں دینی پروجیکٹ چلا رہے ہیں۔ یہ بڑا مبارک کام ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے فروغ دے اور اس کے ذریعے گم کردہ راہ انسانوں کو ہدایت کی توفیق عطا فرمائے۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے معاملات میں شفافیت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ آپ نے لکھا ہے کہ ابتدا میں انھوں نے اپنے والد مرحوم کے ایصال ثواب کی خاطر اپنے خرچ پر تنظیم کے لیے عمارت تعمیر کرنے کی پیش کش کی، مگر بعد میں انھوں نے تنظیم کے ذمہ داروں کو دھوکے میں رکھ کر ایک مشترکہ ایگریمنٹ کرا لیا اور اب وہ کبھی تعمیر شدہ عمارت کی مشترکہ ملکیت کی بات کہتے ہیں، کبھی تنظیم کی ملکیت تو تسلیم کرتے ہیں، مگر تنظیم کو اس کی حوالگی کے لیے مختلف شرائط عائد کرتے ہیں۔ یہ رویہ قرآن کا پیغام عام کرنے کے مشن کے علمبردار کسی شخص کو زیب نہیں دیتا۔ آدمی کی زبان ہر وقت قرآن کے ذکر اور پیغام کی تبلیغ میں منہمک ہو، لیکن اس کا کردار قرآن کی تعلیمات کی دھجیاں اڑاتا ہو، یہ رویہ کسی حقیقی اور با شعور مسلمان کا نہیں ہو سکتا۔ لیکن افسوس کہ ایسے کردار کے لوگ پائے جاتے ہیں او رآج ہی نہیں، ہر دور میں پائے جاتے رہے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کی پیش گوئی فرمائی تھی: ‘‘کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو قرآن پڑھیں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جس طرح تیر شکار کے اندر سے ہو کر باہر نکل جاتا ہے۔ ’’ (بخاری، ۳۳۴۴، و دیگر مقامات)

احادیث میں دھوکے کی شدید الفاظ میں مذمت آئی ہے۔ ایک موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘جو ہمیں دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں۔’’ (مسلم، ۱۰۱) ایک حدیث میں آپ کا ارشاد نقل کیا گیا ہے: ‘‘دھوکا دہی کا انجام جہنم ہے۔’’ (بخاری، کتاب البیوع، باب النجش) ہم میں سے ہر شخص کو ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہیے کہ چند روزہ زندگی میں وہ دوسرے کو دھکا دے کر کچھ مال حاصل کر سکتا یا کسی جائیداد پر قابض ہو سکتا ہے مگر میدان حشر میں بارگاہِ رب العزت کے رو برو جب اس کے اعضا اس کے خلاف گواہی دیں گے تو وہاں اس کے لیے حسرت و ندامت ہو گی اور اس وقت کی ندامت اس کے کچھ کام نہ آئے گی۔

۳۔ آپ نے لکھا ہے کہ تنازع کو حل کرنے کے لیے تنظیم کے ذمے داروں نے بلڈر کے سامنے چار تجاویز رکھی ہیں:

(الف) وہ غیر مشروط طور پر بلڈنگ تنظیم کے حوالے کر دیں۔

(ب) بلڈنگ پر تنظیم کی ملکیت تسلیم کرتے ہوئے اپنا پروجیکٹ چلانے کے لیے ذمہ داران تنظیم سے تحریری اجازت لیں۔

(ج) بلڈنگ پر صرف شدہ رقم تنظیم سے لے کر بلڈنگ اس کے حوالے کر دیں۔

(د) زمین کی رقم تنظیم کو لوٹا دیں۔

ایسا اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو چوتھی تجویز سے اتفاق نہیں۔ آپ کا خیال ہے کہ بلڈر نے دھوکا دے کر عمارت کی دو منزلیں اپنے نام رجسٹرڈ کروا لی ہیں، وہ غاصب اور ظالم ہیں، زمین کی رقم لے کر پوری عمارت کو ان کے حوالے کر دینا ظلم کا ساتھ دینا ہے۔ اس لیے ان سے رقم لے کر معاملے کو ختم کرنے کے بجائے حکمت کے ساتھ آخر دم تک ظلم کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

میں سمجھتا ہوں کہ ذمہ داران تنظیم نے مذکورہ تجاویز پیش کر کے کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ اگر ابتدائی دو تجاویز فریق مخالف کے نزدیک اس کے ظلم و جبر اور دھاندلی کی بنا پر درخور اعتنا نہیں ہیں تو آخری دو تجاویز میں سے کسی ایک پر باہم متفق ہو کر معاملہ حل کیا جا سکتا ہے۔ ذمہ داران مصالح تنظیم کو پیش نظر رکھ کر جس تجویز کو اس کے حق میں بہتر سمجھیں، اختیار کر لیں۔ صلح حدیبیہ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اس موقع پر کفار قریش کی طرف سے جو شرائط پیش کی گئی تھیں، وہ سراسر ظالمانہ اور ایک طرفہ تھیں۔ اسی بنا پر بہت سے جلیل القدر صحابہ ان پر کسی طرح رضا مند نہ ہوتے تھے۔ مگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قبول کرنے میں مصلحت سمجھی تو انھی پر معاہدہ کر لیا۔ ہجرت مدینہ کے موقع پر حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ہجرت کی اور مشرکین کو چیلنج کیا کہ جو شخص بھی اپنی بیوی کو بیوہ اور بچوں کو یتیم بنانا چاہتا ہے، وہ مجھے روک کر دیکھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خفیہ طور پر چھپ چھپا کر ہجرت فرمائی۔ حضرت عمرؓ کا عمل بھی صحیح تھا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بھی غلط نہ تھا۔ بلکہ آپ کے اس اسوہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر موقع پر عزیمت، جرأت اور جواں مردی کا مظاہرہ کرنا مطلوب نہیں ہے۔ بلکہ بسا اوقات بہ ظاہر دب کر معاملات سلجھا لینا ہی حکمت و مصلحت کا تقاضا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں چوتھی تجویز کے حق میں ہوں۔ میرا کہنا بس یہ ہے کہ تیسری اور چوتھی دونوں تجویزیں قابل اختیار ہیں۔ ذمہ داران تنظیم رفقا کے مشورے سے اور مصالح تنظیم کو پیش نظر رکھ کر کسی کو بھی قبول کر سکتے ہیں۔ البتہ میرے نزدیک تنظیم کی قانونی پوزیشن کمزور ہے۔ مشترکہ ایگریمنٹ پر ذمہ دار تنظیم نے بھی دستخط کیے ہیں۔ اگر فریق مخالف کی نیت میں فتور تھا اور اس نے غلط بیانی اور فریب دہی کے ساتھ اس ایگریمنٹ پر دستخط کروائے ہیں تو اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ وہ روز قیامت اس سے نمٹ لے گا۔ لیکن دنیا میں معاملات کا فیصلہ نیت پر نہیں، بلکہ ظاہر اعمال پر ہوتا ہے۔

ہر مسلمان کو یہ حقیقت ہر لمحہ پیش نظر رکھنی چاہیے کہ دنیوی زندگی چند روزہ ہے۔ یہاں وہ جو کچھ اچھا یا برا کام کرے گا، اس کا انعام یا انجام آخرت میں پائے گا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ‘‘جس شخص نے کسی کی ایک بالشت زمین پر ناحق قبضہ کیا، اللہ تعالیٰ روز قیامت اس طرح کی سات زمینوں کا طوق اس کی گردن میں ڈال دے گا۔’’ (بخاری: ۳۱۹۸، مسلم: ۱۶۱۰)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

(بشکریہ ماہنامہ ‘‘زندگی نو’’ نئی دہلی، نومبر 2009ء)

(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)