رسائل و مسائل

مصنف : ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

سلسلہ : یسئلون

شمارہ : ستمبر 2013

جواب : آج کل مسجدوں میں جس طرح محراب بنائے جاتے ہیں، اس کا رواج صدرِ اول میں نہیں تھا۔ چنانچہ مسجد نبوی میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور میں محراب نہیں تھا۔ سب سے پہلے اس کی تعمیر حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ۹۱ھ میں کی، جب وہ اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کی طرف سے مدینہ کے گورنر تھے۔

محرابِ مسجد میں امام کے کھڑے ہونے کے سلسلے میں فقہا کا اختلاف ہے۔ شوافع ، مالکیہ (مشہور قول کے مطابق) اور بعض حنفیہ کا قول ہے کہ فرض نماز کے لئے امام کا محراب میں کھڑا ہونا جائز ہے۔ حنابلہ اور بعض احناف اسے مکروہ قرار دیتے ہیں۔ جبکہ بعض فقہائے احناف کہتے ہیں کہ امام کو محراب ہی میں کھڑا ہونا چاہئے، محراب کے علاوہ اس کا اور کہیں کھڑا ہونا مکروہ ہے۔ امام احمد سے ایک قول یہ مروی ہے کہ امام کا محراب میں کھڑا ہونا مستحب ہے۔

امام ابوحنیفہ کے شاگرد امام محمد نے الجامع الصغیر میں امام کے محراب میں کھڑے ہونے کو مکروہ لکھا ہے۔ انھوں نے اس مسئلے کی کوئی تفصیل نہیں بیان کی ہے، اسی لئے بعد کے فقہا میں اس کی تفصیلات میں اختلاف ہوگیا ہے۔ جو حضرات اسے مکروہ قرار دیتے ہیں وہ اس کے مختلف اسباب بیان کرتے ہیں۔ مثلاً بعض حضرات کہتے ہیں کہ محراب میں رہنے سے امام مقتدیوں سے الگ تھلگ سا ہوجاتا ہے، نیز اس میں اہل کتاب کے عمل سے بھی مشابہت پائی جاتی ہے۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس صورت میں مسجد میں دائیں اوربائیں جانب رہنے والے مقتدی امام کے حال سے واقف نہیں رہ پاتے۔ گویا اگر امام محراب میں رہتے ہوئے مقتدیوں سے الگ تھلگ نہ معلوم دے اور مقتدی اس کے حال سے واقف رہیں تو محراب میں کھڑے ہوکر امامت کرنے میں کوئی کراہت نہیں ہے-97 اس موضوع پر تفصیل کے لئے ملاحظہ کیجئے الموسوعہ الفقہیہ الکویت، بہ عنوان ‘محراب’

(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)

جواب : تخلیقِ انسانی کا عمل کس طرح انجام پاتا ہے اس کی طرف قرآن کریم کی ایک آیت میں یوں اشارہ کیاگیا ہے: انَّا خَلَقنَا الاِنسَانَ مِن نّْطفَۃ اَمشَاج۔ (الدھر:۲)

‘‘ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا ہے’’۔

یہ مخلوط نطفہ مرد کے مادہ منویہ (Sperm) اور عورت کے بیضہ (Ovum) کے اتصال سے ترکیب پاتا ہے۔ دونوں کا اتصال رحم (Uterus) کے بالائی دونوں سروں پر پائے جانے والے ٹیوب جسے فلوپین ٹیوب کہتے ہیں میں ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں عمل بارآوری (Fertilization) انجام پاتا ہے۔ پھر یہ بارآور بیضہ رحم میں داخل ہوتا ہے، جہاں جنین کی شکل میں اس کی نشوونما ہوتی ہے-97 بسااوقات جنسی اعضاء میں سے کسی عضو میں کوئی نقص ہوتا ہے جس کی بنا پر مرد کے مادہ منویہ اور عورت کے بیضہ کا اتصال و امتزاج نہیں ہوپاتا، مثلاً مرد کے مادہ منویہ کو خصیوں سے عضو تناسل تک لانے والی رگیں مسدود ہوگئی ہوں، یا عورت کے خصیہ الرحم سے کسی سبب سے بیضہ کا اخراج نہ ہوپا رہا ہو، یا فلوپین ٹیوب پیدائشی طور پر موجود نہ ہوں یا کسی مرض کے سبب مسدود ہوگئے ہوں۔ اس صورت میں مرد کا مادہ منویہ اور عورت کا بیضہ حاصل کرکے دونوں کو ایک ٹیسٹ ٹیوب میں بارآور کیا جاتاہے، پھر ایک متعین مدت کے بعد اس مخلوط نطفہ کو عورت کے رحم میں منتقل کردیاجاتا ہے۔ اگر فطری طریقے سے استقرارِ حمل نہ ہوپا رہا ہو تو ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی تکنیک اختیار کی جاسکتی ہے، بشرطیکہ شوہر کے نطفے اور بیوی کے بیضے کے اختلاط و امتزاج سے بارآوری کا عمل انجام دیاجائے۔

جدید میڈیکل سائنس نے اس تکنیک کو بہت ترقی دی ہے۔ مثلاً اگر شوہر کا مادہ منویہ ناکارہ ہو تو کسی دوسرے کا مادہ منویہ حاصل کرلیا جاتا ہے، اس کے لئے ‘اسپرم بینک’ قائم ہوگئے ہیں۔ اگر بیوی کے خصیہ الرحم سے بیضہ خارج نہ ہورہا ہو تو دوسری عورت سے بیضہ حاصل کیاجاتا ہے۔ اگر بیوی کے رحم میں کسی خرابی کی بنا پر اس میں استقرار حمل اور جنین کی پرورش ممکن نہ ہوتو کسی دوسری عورت کا رحم اس کام کے لئے کرایہ پر لے لیاجاتاہے۔ اس چیز نے عالمی سطح پر ایک منافع بخش انڈسٹری کی شکل اختیار کرلی ہے۔اسلامی شریعت کی رو’ سے یہ تمام صورتیں ناجائزہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: لَا یَحِلّْ لامریٍ یْو مِنْ بِاللّٰہِ وَالیَومِ الآخِرِ اَن یَّسقِیَ مَاوْہْ زَرعَ غَیرِہ (ابوداود: ۸۵۱۲)

‘‘کسی شخص کے لئے، جو اللہ اور روزآخرت پر ایمان رکھتا ہو، جائز نہیں کہ اپنے پانی (مادہ تولید) سے کسی دوسرے کے کھیت (یعنی غیر عورت) کو سیراب کرے’’۔

خلاصہ یہ کہ ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے عمل بار آوری کی صرف وہ صورت جائز ہے جس میں شوہر کے نطفے اور بیوی کے بیضے کو استعمال کیاگیا ہو۔

(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)

سوال:مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی سے ‘اسلامی خاندان’ کے نام سے ایک مجموعہ مقالات شائع کیا گیا ہے۔ اس کے صفحہ ۵۲ پر یہ حدیث درج ہے:

‘‘حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا جو آپ کو اچھی لگی۔ آپ اسی وقت زوجہ مطہرہ حضرت سودہ کے پاس تشریف لائے۔ وہ اس وقت خوشبو تیار کر رہی تھیں اور ان کے پاس دوسری خواتین بیٹھی ہوئی تھیں۔ آپ نے تنہائی حاصل کی اور اپنی ضرورت پوری کی، پھر فرمایا: ‘‘جو شخص کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو بھلی لگے، اسے چاہئے کہ اپنی بیوی کے پاس جائے، کیونکہ اس کے پاس وہی ہے جو اس کے پاس ہے’’۔

اس حدیث کو پڑھ کر میں سخت پریشانی اورالجھن میں پڑگیا ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نعوذ باللہ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر محرم عورت پر نگاہ ڈالی اور اتنی دیر تک ڈالی کہ وہ ان کو اچھی لگی۔ کیا واقعی پیغمبر غیر محرم عورت پر نگاہ جماتے تھے؟کیا واقعی پیغمبر کی شان یہ ہے کہ وہ غیر محرم عورتوں کو دیکھے اور دوسروں کو بھی دیکھنے کی ترغیب دے اور کہے کہ اگر کوئی عورت تم دیکھو اور وہ بھلی لگے تو فوراً اپنی بیوی کے پاس جاؤ۔ اگر کوئی مرد کنوارا یا بغیر بیوی کے (رنڈوا) ہوتو وہ کہاں جائے؟ اس حدیث سے یہ مطلب بھی نکالاجاسکتا ہے کہ اس وقت عورتیں بے پردہ رہتی تھیں یا ہوسکتا ہے کہ یہ احکامِ پردہ سے پہلے کا واقعہ ہو۔ میری اس الجھن کو رفع فرمائیں، عنایت ہوگی۔

جواب : جو حدیث اوپر بیان کی گئی ہے ، اس کا حوالہ ‘اسلامی خاندان’ میں مشکوٰۃ المصابیح کا دیا گیا ہے۔ مشکوٰۃ میں اسے سنن دارمی کے حوالے سے نقل کیاگیا ہے۔ دارمی کے علاوہ یہ بیہقی کی شعب الایمان میں بھی مروی ہے۔ اسی مضمون کی ایک حدیث حضرت جابر سے مروی ہے، البتہ اس میں اْم المومنین حضرت زینب کا نام آیا ہے۔ اس کی تخریج مسلم، ابوداؤد ، بیہقی اور احمد نے کی ہے۔ اس سے ملتا جلتا مضمون ایک اور حدیث میں آیا ہے، جو حضرت ابوکبشہ الانماری سے مروی ہے اور اس کی روایت احمد اور طبرانی نے (الاوسط میں) کی ہے اور ہیثمی نے مجمع الزوائد میں بھی اسے نقل کیا ہے۔ علامہ محمد ناصرالدین البانی نے اس حدیث کو سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ میں جگہ دی ہے اور اس کے تمام طرق نقل کرکے ان پر بحث کی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح ہے-97درایت کے اعتبار سے بھی اس حدیث میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ اس پر کوئی اشکال یا شبہ وارد ہو، بلکہ اس سے چند اہم نکات کا استنباط ہوتا ہے:

(۱) اس حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت نمایاں ہوتی ہے۔ آپ اپنی رسالت و نبوت کے باوصف دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان تھے۔ آپ نے دوسرے انسانوں کی طرح شادی شدہ زندگی گزاری۔ آپ دوسرے انسانوں کی طرح بازاروں میں چلتے پھرتے، کھاتے پیتے اور دیگر انسانی ضروریات پوری کرتے تھے۔ دوسرے انسانوں کی طرح آپ پر بشری جذبات طاری ہوتے تھے اورآپ جواز کی حدودمیں رہتے ہوئے ان کی تکمیل فرمایا کرتے تھے۔

 (۲) کسی غیر محرم عورت پر کسی مرد کی نظر پڑجائے تو شریعت کی تعلیم یہ ہے کہ وہ فوراً اپنی نظریں پھیر لے۔ ایک موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو مخاطب کرکے فرمایا:‘‘اے علی! (کسی غیر محرم عورت پر) ایک بارنظر پڑ جائے تو دوبارہ نہ دیکھو ، اس لئے کہ پہلی نظر تو معاف ہے، لیکن دوسری مرتبہ دیکھنے کا تمھیں حق نہیں ’’۔(ترمذی: ۷۷۷۲)

حضرت جریر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : اگر کسی غیر محرم عورت پر اچانک نگاہ پڑجائے تو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا : اپنی نگاہ پھیر لو’’۔ (مسلم: ۲۱۵۹)

زیرِ بحث حدیث سے بھی اتنی ہی بات معلوم ہوتی ہے۔ جس بات کا حدیث سے اظہار نہ ہوتا ہے اسے ہم اپنی طرف سے فرض کرلیں، پھر اس پر اعتراض جڑدیں، یہ کوئی درست اور معقول رویہ نہیں ہے۔ نعوذ باللہ اس حدیث میں کہاں یہ بات آئی ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غیرمحرم عورت پر دیر تک نظر ڈالی، یا یہ کہ آپ غیر محرم عورتوں پر نگاہ جماتے تھے۔ کوئی چیز دل کو بھلی لگ جائے اس کے لئے اسے بار بار دیکھنا، ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا یا گھورنا ضروری نہیں ہے، یہ ایک بار دیکھنے سے بھی ہوسکتا ہے۔

 (۳) اس حدیث میں غیرمحرم عورتوں کو دیکھنے کی ترغیب نہیں دی گئی ہے، بلکہ اگر کبھی کسی غیر محرم عورت پر نگاہ پڑجائے اور اس کے نتیجے میں دل میں نفسانی خواہش پیدا ہو تو اس کا علاج بتایا گیا ہے۔

جنس (Sex) کے تعلق سے اسلام کا نقطہ نظر اعتدال اور توازن پر مبنی ہے۔ وہ نہ تو جنسی خواہش کو کچلنے کی ترغیب دیتا ہے اور نہ اسے بے مہار چھوڑ دیتا ہے کہ بغیر حدود وقیود کے جس طرح بھی کوئی شخص چاہے، اس کی تکمیل کرلے، بلکہ اسلام جنسی خواہش کی تکمیل کا جائز طریقہ اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے اور اس کے لئے ہر ممکن سہولیات فراہم کرتا ہے۔ حضرت ابوکبشہ سے مروی حدیث کے آخر میں ہے کہ آں حضرت نے صحابہ کرام کو مخاطب کرکے فرمایا: فاِنَّہ’ مِن اَمَاثِلِ اَعمَالِکْم اِتیَانْ الحَلَالِ۔ (احمد۱۸۰۵۷)

‘‘تمھارے بہترین اعمال میں سے یہ ہے کہ تم (جنسی خواہش پوری کرنے کا) جائز طریقہ اختیار کرو’’۔

(۴) کوئی شخص کنوارا یابغیر بیوی کے (رنڈوا) ہوتو اسے چاہئے کہ وہ اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کے لئے نکاح کرے۔ اسلام نہیں چاہتا کہ کوئی بالغ مرد بغیر بیوی کے اور کوئی بالغ عورت بغیر شوہر کے رہے۔ وہ سرپرستوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنے ماتحتوں کے نکاح کا جلد از جلد انتظام کریں۔ اس کے باوجود جو لوگ سماج میں غیر شادی شدہ ہوں اور کسی وجہ سے ان کا نکاح نہ ہوپایا ہو انہیں اسلام اپنے جنسی جذبات پر قابو رکھنے کی مختلف تدابیر بتاتا ہے۔ مثلاً ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا: مَنِ استَطَاعَ مِنکْمْ البَایَ فَلیَتَزَوّج فاِنَّہ’ اَغَضّْ لِلبَصَرِ وَاَحصَنْ لِلفَرجِ وَمَن لَّم یَستَطِع فَعَلَیہِ بِالصَّوم فاِنَّہ’ لہ’ وجاء۔ (بخاری: ۱۹۰۵)

‘‘تم میں سے جو شخص نکاح کی استطاعت رکھتا ہو اسے نکاح کرلینا چاہئے، اْس لئے کہ یہ نگاہ کی پاکیزگی اور شرم گاہ کی حفاظت کا بہترین طریقہ ہے۔ اور جو شخص اس پر قادر نہ ہو وہ روزہ رکھے۔ اس سے اس کی جنسی خواہش کنٹرول میں رہے گی’’۔

(۵) عہد نبوی کے متعدد واقعات اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں بعض خواتین اپنے چہرے بھی ڈھکے رکھتی تھیں اور بعض اپنے چہرے کھلے رکھتی تھیں۔ اس لئے زیر بحث حدیث کو احکام پردہ کے نزول سے پہلے کا ماننا ضروری نہیں۔

(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)

سوال : میرے تین لڑکے اور تین لڑکیاں ہیں، سب کی شادی ہوچکی ہے۔ بڑا لڑکا اور اس کی فیملی میرے ساتھ رہتی ہے۔ باقی دولڑکے اپنا الگ الگ مکان بنواکر رہ رہے ہیں۔ میں نے انھیں الگ نہیں کیا ہے، بلکہ وہ اپنی مرضی سے الگ رہ رہے ہیں۔ میں ریٹائرڈ پنشنر ہوں۔ میرے ساتھ میری اہلیہ بھی ہیں۔بڑا لڑکا ہی ہمارے تمام اخراجات برداشت کرتا ہے۔ میری اہلیہ چار پانچ سال سے بیمار چل رہی ہیں۔ بڑا لڑکا اور اس کی بیوی بچے دیکھ بھال کرتے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہنے کی امید ہے۔ دونوں لڑکے کبھی کبھی صرف دیکھنے آجاتے ہیں، بس۔میرے دو کشادہ مکان ہیں۔ میں نے مکان کا تہائی حصہ اپنی بڑی بہو کے نام وصیت رجسٹرڈ کردیا ہے۔ میں اپنے بڑے لڑکے کی مزید مدد کرناچاہتا ہوں۔ کیا حقِ خدمت کے طور پر میں یہ وصیت کرسکتا ہوں کہ جب سے میرے دوسرے لڑکے الگ ہوئے ہیں اس وقت سے میرے انتقال تک وہ میرے بڑے لڑکے کوبیس ہزار روپے سالانہ کے حساب سے دے کر ہی وہ مکان تقسیم کریں اور اپنا حصہ لیں-97براہ کرم درج بالا مسئلے میں رہ نمائی فرمائیں، عین نوازش ہوگی۔

جواب : مکان، زمین جائداد اور دیگر مملوکہ چیزوں کی تقسیم وتملیک کے سلسلے میں تین اصطلاحات مستعمل ہیں: ہبہ، وصیت اور وراثت۔ ہبہ یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی میں اپنی کسی چیز کا دوسرے کو بلاعوض مالک بنا دے۔ اور اگر وہ اپنی موت کے بعد ملکیت منتقل کرے، مثلاً کہے کہ میرے مرنے کے بعد میری فلاں جائداد فلاں شخص کی ہوگی تو یہ وصیت ہے اس تقسیم وتملیک کا اختیار صاحب مال کو حاصل رہتا ہے۔ تیسری صورت وراثت کی ہے، یعنی کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کی جائداد کس طرح تقسیم ہوگی، یہ اللہ تعالیٰ نے طے کردیا ہے۔ہبہ میں آدمی کوقانونی لحاظ سے اختیار ہوتا ہے کہ وہ جس کو چاہے اور جس قدر چاہے دے دے، اس لیے کہ مال اس کا ہے اور اپنے مال میں تصرف کرنے کا اسے پورا اختیار ہے۔ وہ اس میں سے جتنا چاہے صدقہ وخیرات کرسکتا ہے، یا اپنے کسی ایسے رشتے دار کو ، جو مستحقینِ وراثت میں سے نہ ہو، دے سکتا ہے، یااپنے کسی وارث کو بھی مالک بناسکتا ہے۔ یہ قانونی اعتبار سے ہے، ورنہ اخلاق کا تقاضا ہے کہ وہ بلاکسی شدید ضرورت کے کسی مستحق و راثت کو اپنے مال سے محروم کرنے کی کوشش نہ کرے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اپنا مال، مکان، زمین جائداد وغیرہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرناچاہے تو اگرچہ اسے قانونی حق حاصل ہے کہ کسی کو کم دے کسی کو زیادہ، لیکن اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ سب کے درمیان برابر برابر تقسیم کرے۔ ایک حدیث حضرت نعمان بن بشیر سے مروی ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد انھیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول، میں نے اپنے اس بیٹے کو فلاں چیز ہبہ کردی ہے، آپ گواہ رہئے۔ آپ نے دریافت کیا: کیا تم نے یہ چیز اپنے تمام بیٹوں کو دی ہے۔ انھوں نے جواب دیا: نہیں۔ تب آپؐ نے ارشاد فرمایا: میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔ اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف سے کام لو’’۔ (بخاری: ، مسلم: ) وصیت کے بارے میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ کسی مستحقِ وراثت کے لئے وصیت نہیں کی جاسکتی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اِنَّ اللّٰہَ قَد اَعطیٰ کْلَّ ذِی حَقِ حَقَّہ’، فَلَاوَصِیۃَّ لِوَارِثِِ(ابوداود:۲۸۷۰)

‘‘اللہ نے ہر مستحقِ وراثت کا حق بتا دیا ہے، اس لئے کسی وارث کے حق میں وصیت نہ کی جائے’’۔اسی طرح کسی کے حق میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت نہیں کی جاسکتی۔ (بخاری:۲۷۴۴) آپ نے اپنی بڑی بہو کے حق میں اپنے مکان کے ایک تہائی حصے کی وصیت کردی ہے۔ آپ کا یہ وصیت کرنا صحیح ہے، لیکن اپنے بڑے لڑکے کے حق میں آپ جو وصیت کرناچاہتے ہیں وہ صحیح نہیں ہے۔آپ کے بیٹے بہو آپ کی اور اپنی ماں کی جو بھی خدمت کر رہے ہیں، وہ اپنا فرض سمجھتے ہوئے کر رہے ہیں۔ انھیں ایسا کرنا ہی چاہئے۔ قرآن وحدیث میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی بہت تاکید آئی ہے اور ان کے حقوق کی پامالی کو بڑے گناہوں میں شمار کیاگیا ہے۔ اس پر نہ وہ آپ سے حقِ خدمت کے طالب ہوں گے اور نہ آپ کو اس کی فکر کرنی چاہئے۔ لیکن اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے بڑے بیٹے کثیر العیال یا تنگ حال ہیں اور باقی دونوں بیٹے فارغ البال ہیں تو آپ اپنی جائداد میں سے حسب ضرورت اپنے بڑے بیٹے کو اپنی زندگی میں ہبہ کرسکتے ہیں۔ اس کا آپ کو قانونی طور پر حق حاصل ہے۔

(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)