خفیہ ایجنسیاں اور عالمی سیاست

مصنف : عبدالرشید ارشد

سلسلہ : فکرونظر

شمارہ : فروری 2009

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خفیہ فوجی ایجنسی ISI آج کل اپنے پرایوں کے تابڑتوڑ حملوں کی زد میں ہے۔ کوئی دن نہیں گزرتا، جب کوئی پھلجھڑی نہ چھوڑی گئی ہو۔ آئی ایس آئی کا وزارتِ داخلہ کے ماتحت ہوجانا، اُلٹے پاؤں اُس کی واپسی ہو یا طالبان کے ساتھ ‘‘محبت کی پینگیں’’ یا اس سے بھی آگے عالمی سطح پر ہونے والی ہرطرح کی دہشت گردی ہو، آئی ایس آئی کا نام سرفہرست ہے۔ طالبان سے ‘رشتہ’ اور عالمی دہشت گردی کے تمام تر شواہد امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ہر ذمہ دار کے بریف کیس میں ہرلمحہ موجود رہتے ہیں جو موقع بہ موقع عالمی پریس کو فراہم کردیے جاتے ہیں۔

امریکہ جس ‘شدومد’ سے آئی ایس آئی اور دہشت گردی کا رشتہ جوڑ رہا ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ مستقبل میں گلی محلے میں بچوں، بڑوں کی باہم لڑائیوں میں بھی آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کے شواہد امریکہ اور اس کے اتحادی فراہم کردیا کریں گے اور مبینہ طور پر امریکہ چونکہ سپرپاور ہے، اس لیے مستند ہے اُن کا فرمایا ہوا۔ ‘ماتحت’ حکمرانوں کو ماننے بلکہ ایمان لاتے ہی بنتی ہے۔ یہی وہ رویہ ہے جو پاکستان کے عوام ایک عرصہ سے دیکھتے چلے آرہے ہیں!

امریکہ CIA ہو، بھارتی RAW ہو، صہیونی MOSAD ہو یا افغانی KHAD ہو یہ ‘عالمی امن’ کے چار ستون ہیں اور اِن کا وجود نہ ہوتا تو دنیا آج جس ‘سُکھ اورسکون’ کا سانس لے رہی ہے، ممکن نہ ہوتا۔ پاکستان کے اندر ہونے والی دہشت گردی اگر ‘کم’ ہے تو اس کا سارا‘ کریڈٹ’ انہی چار ایجنسیوں کو جاتاہے۔ امریکہ، بھارت، اسرائیل اور افغانستان کا کم از کم یہی موقف ہے۔ ان کی ایجنسیاں پوتر پانی سے دھلی دھلائی ہیں۔ حالانکہ امرواقعہ یہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ مؤثر نیٹ ورک اگر ہے تو وہ سی آئی اے، ایف بی آئی اور موساد کا ہے۔ دوسرے ممالک کی بھی ہوں گی، KGB بھی ہے مگر شاید ان سے کم۔ پوچھا جا سکتا ہے کہ عالمی سطح کا یہ نیٹ ورک ہے کس لیے؟ یہ صرف اور صرف اس لیے فعال ہے کہ دوسرے ممالک میں ہرقیمت پر انتشار پیدا کرکے، اسے کمزور کر کے، امریکی مفادات کی تکمیل کی جائے۔ ہم محض الزام نہیں دیتے، تہمت نہیں لگاتے، بطور دستاویزی شہادت ایک خط کا متن کویت کے مجلہ الدعوۃ کے شکریہ کے ساتھ پیش کرتے ہیں:

منجانب: رچرڈ بی مچل (CIA ، امریکہ بنام: سربراہ خفیہ سروس، CIA مصر

‘‘آپ کے پاس ہمارے نمائندوں اور کارندوں کی بھیجی ہوئی جو معلومات جمع ہوچکی ہیں، مصری اور اسرائیلی انٹیلی جنس کی جو رپورٹیں ہمیں ملی ہیں، اُن سے پتہ چلتا ہے کہ مصر اور اسرائیل کے مابین جو سمجھوتہ ہونے والا ہے، اس کے راستے میں مزاحم ہونے والی قوت حقیقت میں اسلامی تنظیمیں ہیں۔ ان تنظیموں میں سرفہرست ‘اخوان المسلمین’ ہے جو مختلف شکلوں میں عرب ممالک کے علاوہ یورپ اور امریکہ میں بھی کام کر رہی ہیں۔ اسرائیلی محکمہ جاسوسی نے سفارش کی ہے کہ معاہدہ پر دستخطوں سے پہلے اس پر کاری ضرب لگائی جائے…… اس سفارش پر مصری وزیراعظم نے جزوی عمل کر کے جماعۃ الھجرۃ والتکفیر پر ضرب لگائی تھی۔ ان سب باتوں کے پیش نظر اخوان سے نبٹنے کے لیے متبادل حل کے طور پر مندرجہ ذیل ذرائع اختیار کرنے کی تجویز پیش کرتے ہیں:

(الف) مکمل خاتمے کے بجائے جزوی خاتمے پر اکتفا کیا جائے اور صرف اُن رہنما شخصیتوں کو ختم کیا جائے جو دوسرے ذرائع سے، جن کا ہم آگے ذکر کرنے والے ہیں، قابو میں نہ آئیں، ہم اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ ان شخصیات کا خاتمہ ایسے طریقوں سے کیا جائے جو بالکل طبیعی اور فطری ہوں’’۔ (مثلاً جنرل ضیاء الحق کے سی ۱۳۰، اور ایئرچیف مصحف میر کے فوکر کا کریش، یا اِخوان کے مرشد عام حسن البنا کا قتل وغیرہ)

(ب) جن بڑی شخصیات سے چھٹکارا حاصل کرنے کا فیصلہ کیا جائے، اُن کے سلسلے میں ہم مندرجہ ذیل اقدامات کی سفارش کرتے ہیں:

(i) جن لوگوں کو بڑے بڑے منصب دے کر ورغلایا جاسکتا ہے، اُن کو بے ضرر قسم کے بڑے بڑے اسلامی منصوبوں میں بڑے منصب دے کر اُن کی قوت کو وہیں نچوڑ دیا جائے۔

(ii) ان کی قیادتوں کو آپس میں شکوک و شبہات سے باہم ٹکرایا جائے۔ اختلافات کا بیج بو کر خلیج وسیع سے وسیع تر کی جائے تاکہ وہ باہمی سرپھٹول سے تعمیری کام نہ کرسکیں۔

(iii) مذہبی فروعی اختلافات کی خلیج کو وسیع کیا جائے۔ ‘مذہبی رسوم و رواج’ کو خوب ہوا دیں تاکہ ساری صلاحیتیں اس میں کھپتی رہیں۔

(iv) نوجوانوں کی توجہ اسلامی تعلیمات کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ ایک رو ہے جس کا مقابلہ ضروری ہے۔ خاص طور پر لڑکیاں اسلامی لباس کا التزام کر رہی ہیں۔ اس کا مقابلہ ذرائع نشر واشاعت، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اور جوابی ‘ثقافتی’ سرگرمیوں کے ذریعے ضروری ہے’’۔

دستخط رچرڈ بی مچل

امریکی CIA کے ذمہ دار کا ہدایت نامہ آپ نے پڑھ لیا، اس میں مصر کی جگہ پاکستان پڑھ لیجیے اور ذرا توجہ سے ایک بار پھر پڑھ لیں اور پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی، دینی سیاسی جماعتوں کی تقسیم در تقسیم، باہمی چشمک، قبائل میں موجود شیعہ سنی فسادات کے محرکات کو سمجھنے میں آپ کو کوئی دقت نہ ہوگی۔ کیا یہ ISI کر رہی ہے؟

امریکی میڈیا میں ISI اور پاکستانی طالبان کے خلاف تسلسل کے ساتھ جو کچھ شائع ہو رہا ہے جو ‘حقائق’ دنیا کے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں، القاعدہ رہنماؤں کی جو ویڈیو ریکارڈنگ آئے دن سامنے لائی جارہی ہے، یہ سب کچھ CIA ، FBI اور MOSAD کی فیکٹریوں میں تیار ہوتی ہیں۔ میڈیا مکمل طور پر صیہونیت کے قبضہ میں ہے۔ ملاحظہ فرمایئے امریکی اخبار نویسوں کی مجلس میں ایک امریکی ایڈیٹر جان سہونش کا اظہارِ خیال:

‘‘امریکہ میں ‘خودمختار میڈیا’ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی اپنی دیانت دارانہ رائے کا اظہار نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی کرے گا تو وہ شائع نہ ہوگی۔ مجھے ہرہفتہ ۲۵ ڈالر صرف اس لیے ملتے ہیں کہ میں اپنے اخبار میں اپنی دیانت دارانہ رائے کا اظہار نہ کروں۔ آپ سب کا یہی حال ہے۔ اگر میں اپنے پرچے میں اس کی اجازت دے دوں تو ۲۴ گھنٹے کے اندر اندر میری ملازمت ختم ہوجائے گی۔ ایسا بے وقوف آدمی بہت جلد سڑکوں پر دوسرا کام تلاش کرتا نظر آئے گا۔ نیویارک کے جرنلسٹ کا فرض ہے کہ وہ جھوٹ بولے، جھوٹ لکھے، خبروں کو مسخ کرے، بدزبانی کرے، قارونوں (یہودیوں) کی چاپلوسی کرے اور اپنی قوم و ملک کو روٹی کی خاطر بیچ کر غلام بن کر رہے۔ ہم پس منظر میں رہنے والے اُمرا کے غلام ہیں۔ ہمارا ہنر، ہماری زندگی اور ہماری اہلیت ان لوگوں کی پراپرٹی ہے اور ہم ذہنی طوائفیں ہیں۔ (بحوالہ ‘سونے کے مالک’)

بظاہر مذکورہ اقتباس من گھڑت محسوس ہوتا ہے کہ آج امریکی میڈیا پر ہر طرف سے انگلیاں اٹھ رہی ہیں، امریکی اخبارات و جرائد نت نئی پھلجھڑیاں اور شوشے چھوڑ رہے ہیں۔ نت نئے ‘حقائق’ سامنے لائے جاتے ہیں، الزامات لگتے ہیں، تردیدیں ہوتی ہیں لیکن اس کی تہہ میں کیا ہے؟ اس کے پیچھے نادیدہ ہاتھ کون سا ہے؟ خود اُنہی کی زبانی سنیے: یہودی پروٹوکولز کی زبانی، جو پس پردہ رہ کر یہ کھیل کھیل رہے ہیں؟

‘‘مذکورہ طرز کے طریقہ ہائے کار جو عوام کی نگاہوں سے اوجھل ہوں گے مگر جو یقینی ہیں، حکومت کے حق میں رائے عامہ کو منظم اور مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مقامِ شکر ہے کہ وقتاً فوقتاً ضرورت کے مطابق یہی طریقے حکومت کی خاص پالیسیوں پر عوام میں ہیجان انگیزی یا سکینت پیدا کرنے کا موجب بنتے ہیں۔ یہ ابھی سچ، ابھی جھوٹ، چھاپنے کی ضرورت پیدا کرتے ہیں’’۔ (Protocols 12:15)

‘‘تیسرے درجے میں اپنے صحافتی حلقوں میں ہم ایسے آزمائشی شوشے چھوڑتے رہیں گے بشرطیکہ ہم اس کی ضرورت محسوس کریں اور پھر اپنے نیم سرکاری اخبارات و رسائل کے ذریعے پوری شدت کے ساتھ ان کی تردید کریں’’۔ (Protocols 12:16)

‘‘ہم کسی شخص کو صحافت کے پیشہ میں آنے کی اجازت ہی اس وقت دیں گے جب ہمارے ریکارڈ میں اس کی دُکھتی رگ اور کمزوریاں ہوں گی کہ ان زخموں کو ہم جب چاہیں چھیل دیں گے لہٰذا جب تک راز راز رہے گا، ملک میں صحافی عزت و وقار سے رہے گا’’۔ (ایضاً، ص ۱۲:۱۹)

مذکورہ چاروں اقتباسات کو یکجا کر کے آپ پڑھیں گے تو امریکہ و یورپ کے آزاد پریس کی حقیقت جاننے میں آپ کو کوئی اُلجھن محسوس نہ ہوگی۔ امریکی یورپی پریس آئے دن جو تحقیقاتی کالم، جو سروے رپورٹیں اور جو الزامات خصوصاً مسلم دنیا بشمول پاکستان پر بڑے شدومد کے ساتھ شائع کرتے ہیں، اُن کی اصلیت کی تہہ تک پہنچنا بھی مشکل نہ رہے گا۔ یہ رپورٹیں اور ہر طرح کے الزامات کہ پاکستان کی ISI فلاں دھماکے کی خالق ہے، فلاں قضیے کی ‘ماں’ ہے۔ قبائلی علاقوں سے مُلّاعمر ، اسامہ بن لادن اور القاعدہ کی قیادت کا ہیڈکوارٹر ہے یا اسی نوع کے دیگر الزامات اسی نادیدہ قوت کے تخلیق کردہ ہیں۔ اسامہ بن لادن، ایمن ظواہری وغیرہ کی طرف سے جاری ہونے والی ویڈیو اور پینٹاگون کی ‘تصدیق’ یہ اصل میں CIA اور موساد کے مشترکہ ہدایت کار تخلیق کرتے ہیں اور انہی کا میڈیا اسے گلوبل ولیج کے منہ میں ڈالتا ہے۔

امریکی صدر اور اس کی اسٹیبلشمنٹ صہیونی ہاتھوں میں کھیلنے پر بوجوہ مجبور ہے۔ اسرائیل کی سرپرستی اور اسرائیل کے سرمایہ کے زور پر امریکی پالیسیاں بنتی ہیں۔ اسرائیل امریکہ و یورپ کو کٹھ پتلیوں کی طرح نچاتا ہے، ملاحظہ کیجیے:

‘‘میں نے کچھ عرصہ قبل جو کچھ لکھا تھا کہ امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کے دورۂ مشرقِ وسطیٰ سے اس سوال کی وضاحت ہوجائے گی کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کون کنٹرول کرتا ہے؟ امریکہ کے منتخب عوامی نمائندے یا پھر اسرائیل اور امریکہ میں موجود یہودیوں کی مضبوط مؤثر لابی؟ جواب ہمیں مل چکا ہے کہ اسرائیل ہی امریکہ اور اس کی خارجہ پالیسی کو کنٹرول کرتا ہے’’۔ (Charli Raize, "The End of Amercia's Prestigue)

‘‘مسٹر پاول کی کمزوری، ان کی اعصابی ناتوانی اور ان کی بزدلی اسرائیل و فلسطین کے درمیان ایک ایسی جنگ شروع کرنے کا سبب بن سکتی ہے جو ہمارے اندازوں سے کہیں زیادہ خوفناک ہوگی۔ مسٹر پاول، صدر بش اور اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون کے ہاتھوں امریکہ کی ساکھ اور اعتبار کا جنازہ اُٹھ چکا ہے۔ اب یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ اسرائیل ہی اس خطے میں امریکہ کی خارجہ پالیسی کو کنٹرول کرتا ہے۔ امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ اسرائیل کے نغمے الاپتا ہے’’۔ (Robert Fisk, The Independent, London)

گلوبل ولیج میں جاری یورپی جارحیت کس کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہے؟ اُوپر کے دونوں اقتباسات اس پر روشنی ڈال رہے ہیں۔ اس جارحیت کے اسباب و وسائل اور صہیونی قوت پس پردہ رتبے فراہم کرتی ہے۔ اس کے لیے منصوبہ بندی کرتی ہے اور پھر اس منصوبہ بندی کو عالمی سطح پر امریکی سی آئی اے، ایف بی آئی اور اسرائیلی موساد بروئے کار لاتی ہے۔ ان تینوں کو موقع کی مناسبت سے جہاں مقامی یا نزدیکی دوسری ایجنسیوں کی ضرورت پڑتی ہے، ان کو اپنے منصوبوں کی تکمیل کے لیے ساتھ ملا لیتی ہیں۔ مثلاً بھارت، پاکستان کا ازلی دشمن ہے، نیا افغانستان پاکستان کا دشمن ہے۔ CIA اور MOSAD اس دشمنی سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اُنہیں استعمال کر رہی ہیں کہ پاکستان کے حوالے سے ان چاروں کے مقاصد مشترک ہیں۔ اسلام کے خلاف الکفر ملۃ واحدۃ کا عملی ثبوت آج کھلی آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔

CIA ، FBI ، MOSAD ، RAW اور KHAD پاکستان میں اپنے زرخرید ایجنٹوں کے ذریعے دہشت گردی کر کے طالبان اور القاعدہ کے کھاتے میں ڈال کر اُنھیں بدنام کرتے ہیں۔ یہودی کنٹرول میں میڈیا اُونچے سروں میں اس کا راگ الاپتا ہے جسے عقل کے اندھے تسلیم کرلیتے ہیں۔

فاعتبروا یااُولی الابصار!

(بشکریہ ،ماہنامہ محدث،لاہور، اگست ۲۰۰۸ء)