جماعت اسلامی کے لیے چند تجاویز

مصنف : سہیل بلخی

سلسلہ : فکرونظر

شمارہ : ستمبر 2018

فکر و نظر
جماعت اسلامی کے لیے چند تجاویز
انتخاب ، سہیل بلخی

                                                                                                                          

سوشل میڈیا پرایک درد مند پاکستانی ڈاکٹر نے جماعت اسلامی کو کچھ تجاویز پیش کی ہیں۔ انہیں مختصر طور پر پیش کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔اس سے اتفاق کرنا لازمی نہیں ۔
1۔ فکری معاملات
گذشتہ 40 برسوں سے سید مودودی کا اصل کارنامہ یعنی دین کی دعوت کو اپنے دور کے جدید تقاضوں اور خالص عقلی لحاظ سے پیش کرنے کا عمل رْک گیا ہے۔جماعت اسلامی کو آج کے پاکستان کے مطابق یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اب یہاں نظریات کی سیاست نہیں ہوتی بلکہ مفادات کی سیاست ہوتی ہے۔ اب اسلام یا سوشلزم اور اسلام یا سرمایہ داری نظام کا جھگڑا ختم ہوچکا ہے بلکہ اب یہاں اچھے کردار اور برے کردار کا جھگڑا ہے۔ یہ ملک %95 مسلمانوں کا ملک ہے، لہٰذا یہاں اسلام نافذ کرنے کا نعرہ لگانا پوری دنیا میں اپنے ساتھ اسلام کا بھی مذاق اڑانا ہے۔ یہاں اسلام کی تعلیمات کے مطابق اچھے کردار کا نعرہ لگانا چاہیئے، یہی اسلام کے نفاذ کا بھی تقاضا ہے۔
پاکستان میں اسلام پر کٹ مرنے والوں کی کمی نہیں ہے لیکن اس کی تعلیمات پر عمل کرنے والوں کی کمی ہے۔ لہٰذا دعوتی و انتخابی عمل میں اسلام کا نہیں بلکہ اسلام کے مطابق کردار بنانے کا نعرہ لگانا ہی اصل اسلام ہے۔
فکر کی کمزوری کے حوالے سے ایک اور بات بہت اہم ہے کہ جسطرح نماز کا مقصد ذہن میں موجود نہ ہو تو نماز اپنے فوائد نہیں دے سکتی ہے اور ایک میکینکل عمل سے آگے نہیں بڑھ پاتی ہے اسی طرح اقامتِ دین سمیت اسلام کی تمام تعلیمات کا معاملہ بھی ہے۔ میرا تاثر یہ ہے کہ جماعت میں افرادِ کار کی ایک بہت بڑی تعداد اس بات سے ناواقف ہے کہ وہ اقامتِ دین کی جدوجہد کیوں کر رہے ہیں یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دین کو قائم کرنے کا حکم کیوں دیا ہے؟ اگر اقامتِ دین کا مقصد ذہنوں میں موجود نہیں ہوگا تو یہ جدوجہد بھی اپنی روح سے خالی ہوکر ختم ہوجائے گی۔
2۔ مذہبی جماعتوں سے تعلق
ایک عرصے سے یہ بات دیکھنے میں آرہی ہے کہ جماعت اسلامی عام مذہبی جماعتوں کی طرح بنتی جارہی ہے۔ خود علمِ دین سے دور ہوکر دینی معاملات میں سارا تکیہ مذہبی پارٹیوں پر کرلیا گیا ہے۔ مذہبی پارٹیوں کی دیکھا دیکھی ہمارا بہت زیادہ زور ظاہری وضع قطع یعنی لباس، ٹوپی اور داڑھی پر چلا گیا ہے جبکہ ہمارے شروع کے اکابرین کے نزدیک دینی نقطہ نگاہ سے ان چیزوں کی اہمیت نہیں تھی۔ ہمارے اکابرین کا وضع قطع کمتر کردار رکھنے والے سکہ بند مولویوں کی طرح کا ہونے کے بجائے اعلیٰ کردار مگر جدید تراش خراش رکھنے والے شخص کا ہونا چاہیئے۔ آپ مذہبی پارٹیوں سے ضرور دوستانہ رویہ رکھیں، انکے پروگراموں میں جائیں، انہیں اپنے یہاں بلائیں اور ان سے انتخابی ایڈجسٹمنٹ بھی کریں مگر دینی اور سیاسی معاملات میں ان سے دور رہیں اور انکی طرح سکہ بند رویہ اختیار نہ کریں۔ انکے ساتھ انتخابی ایڈجسٹمنٹ کو دینی رنگ نہ دیں۔ آپکی طاقت کردار، عدل و انصاف اور اصول پرستی ہے جس سے وہ محروم ہیں۔ جبکہ انکی طاقت فرقہ بندی اور فتویٰ بازی ہے جو اسلام کے لحاظ سے سخت گناہ ہے لہذا مذہبی لحاظ سے ان سے جتنا دور رہیں گے اتنا ہی دینی اور سیاسی لحاظ سے کامیاب رہیں گے۔
3۔ تنظیمی معاملات
تنظیمی معاملات میں سب سے پہلے کارکن کی پالیسی اختیار کرنا پڑے گی۔ کارکن ہے تو جماعت ہے۔ پھر کارکنوں کے باہمی تعلقات کا معاملہ ہے۔ اس سلسلے میں کارکنوں کی صلاحیتوں کی قدر کرنے کا جذبہ عام کرنا ہوگا۔ اکابرین کا بنیادی کام الیکشن لڑنا نہیں ہے بلکہ مربوط ٹیم بنانا ہے، مربوط ٹیم بن گئی تو الیکشن خود بخود جیت جائیں گے۔ مربوط ٹیم کے لئے کارکن کی صلاحیت کی قدر کرنے کا جذبہ عام کرنا ہوگا۔تنظیم سے متعلق ایک بہت ہی اہم نکتہ اپنے کارکنوں کی تعداد بڑھانا ہے۔اس بات کو ایک معمولی عقل والا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ نعرے کی اہمیت ،نعرہ لگانے والے گروہ کی مضبوطی سے بنتی ہے۔ ایک چھوٹا گروہ جتنے اچھے نعرے بھی لگاتا رہے اس کی کوئی نہیں سنے گا۔ تاہم ایک کم اہمیت کا نعرہ کوئی بڑا گروہ لگادے تو وہ نعرہ ہِٹ ہوجائے گا۔ اس لئے نئے نعرے ایجاد کرنے کے بجائے یہ طے کریں کہ حلقے میں جیت کے لئے کتنے مستقل کارکن چاہیئے۔ اس کام کے لئے جب تک اوپر سے توجہ نہیں ہوگی تب تک نیچے سے یہ کام نہیں ہوگا۔
4۔ کارکن سازی
نئے کارکنوں کا اضافہ کرنا ایک کٹھن اور صبر آزما کام ہے تاہم اسکے علاوہ آگے بڑھنے اور کامیابی حاصل کرنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ اگر آبادی کے لحاظ سے کم سے کم ایک فیصد مستقل کارکن نہ ہوں تو جماعت اسلامی کبھی بھی انتخاب نہیں جیت سکتی ہے۔ کارکن سازی کے کام کے لئے جو چیزیں اہم ہیں ان میں اسکی ضرورت کو سب سے زیادہ اہمیت دینا، ایک باکردار، بااخلاق دوستانہ تنظیمی ماحول پیدا کرنا، موجودہ کارکنوں کو فعال کرنا، انہیں قرآن اور دین سے مزید قریب کرنا اور انکے کردار کی تربیت کرنا وغیرہ شامل ہے۔ اسطرح کا تنظیمی ماحول پیدا کرنا اور بیان کردہ امور کو انجام دینے کے لئے لیڈرشپ کا وژنری ہونا اور اس لحاظ سے ٹارگٹ اوری اینٹڈ ہونا اَزحد ضروری ہے۔ 
5۔ تربیت کا فقدان
اس وقت تربیت کے نام کی کوئی چیز کہیں نظر نہیں آتی ہے۔ اس عنوان سے جو واحد چیز نظر آتی ہے وہ فکری انتشار ہے۔ ہر شخص سنی سنائی بات پر اپنا ذہن بنا رہا ہے۔ پڑھنے اور غور وفکر کرنے کا کلچر ختم ہوچکا ہے۔ کہیں انتخاب یا انقلاب کی بحث ہورہی ہے اور کہیں بڑی سیاسی پارٹیوں کی زبان بولی جارہی ہے۔ ہمارے لوگ اس بات کے بارے میں کلئیر نہیں ہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں اور کیسے چاہتے ہیں۔ 
6۔ سیاسی پالیسی
انتخابی ایڈجسٹمنٹ ایک نارمل سیاسی عمل ہے مگر پارٹیوں کا اتحاد ایک نرالی شئے ہے۔ پارٹیوں کے اتحاد کے نتیجے میں پارٹی کی حالت ایک ایسے شخص کی سی ہوجاتی ہے جس کے گلے میں ہڈی پھنسی ہوئی ہو کہ نہ اسے نگل سکتا ہے اور نہ ہی اْگل سکتا ہے۔ پارٹیوں کا اتحاد تنظیم کی دعوت و فکر کے لئے تباہ کن عمل ہے کیونکہ اتحاد کی صورت میں ہر اتحادی پارٹی کو دوسری پارٹی کی برائی اپنے سر لینی ہوتی ہے۔کسی سیاسی پارٹی میں کسی دوسری پارٹی کے ساتھ اتحاد کی بات کرنے کا سب سے پہلا فطری مطلب یہ ہے کہ وہ پارٹی اپنے بَل بوتے پر، پرفارم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ لہٰذا جب پارٹی دوسری پارٹی سے اتحاد کی بات کرے تو اسکے لیڈروں کو اپنے کارکنوں کے سامنے اپنی ناکامی کا اعتراف کرنا چاہیئے اور اس پر بہت زیادہ ڈیبیٹ ہونا چاہیئے کہ آخر پارٹی ناکام کیوں ہوئی ہے اور وہ وقت کب آئیگا جب پارٹی اپنے بل بوتے پر کچھ کرنے کے قابل ہوگی اور اتحاد کے وینٹی لیٹر کی ضرورت باقی نہیں بچے گی۔پارٹیوں کا اتحاد سیاسی جماعتوں کے لئے وقتی موت ہے۔ یہ اس وقت ہونا چاہیئے جب سیاسی پارٹی قومہ میں چلی گئی ہو۔ 
جماعت اسلامی کے لئے مذہبی پارٹیوں سے اتحاد سید مودودی کے دئیے گئے وژن سے روگردانی اور اسے مسترد کرنا بھی ہے۔ سید مودودی کی دعوت سب سے زیادہ مذہبی پارٹیوں کو متاثر کرتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ سید مودودی کی سب سے زیادہ مخالفت مذہب پرستوں نے کی اور ان پر کفر کے کئی فتوے لگائے۔ قصہ مختصر یہ کہ مذہب پرستوں سے اتحاد جماعت کی انقلابی دعوت سے انحراف ہے۔
7۔ اسٹیبلشمنٹ فیکٹر
پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ پاکستان میں اسٹبلشمنٹ سیاست میں پوری طرح موجود ہے۔ تاہم جماعت اسلامی کے سامنے سوال صرف یہ ہے کہ آپ الیکشن جیت کر اسے درست کرنا چاہتے ہیں یا الیکشن سے پہلے اسے درست کرنا چاہتے ہیں ؟ اگر الیکشن جیت کر اسے درست کرنا چاہتے ہیں تو فوکس اسٹیبلشمنٹ کے بجائے مخالف سیاسی پارٹیوں پر کریں پھر الیکشن میں کامیابی حاصل کریں اور پھر اس معاملے کو بتدریج حل کریں۔ 
8۔ سیاسی شعور
موجودہ الیکشن میں %90 جماعت والے حکومتی پارٹی کے بجائے اپوزیشن پارٹی کے خلاف بات کرتے ہوئے پائے گئے۔ الیکشن کا یہ اصول ہے کہ یا تو حکومتی پارٹی سے انتخابی اتحاد کریں یا پھر اسے چیلنج کریں۔ اگر آپ یہ دونوں کام نہیں کرتے تو آپ کے ایک الگ جماعت ہونے میں کیا منطق ہے؟ الیکشن وہ پارٹی جیتتی ہے جو
حکومتی پارٹی کو جتنا زور سے چیلنج کرتی ہے۔ 
بار بار پالیسی شفٹ بھی سیاسی جماعتوں کے لئے خطرناک ہے۔ یہ بھی ایک عجیب و غریب مظاہرہ دیکھنے میں آتا ہے کہ 50 سالوں میں صرف دو بار جماعت نے اپنے اصل نشان سے الیکشن لڑا ہے۔ الیکشن نشان پارٹی کی بہت بڑی علامت بن جاتا ہے۔ بار بار پالیسی بدلنا اور مختلف نشان سے الیکشن لڑنا سیاسی ناپختگی کو ظاہر کرتا ہے۔ 
انتخابات میں بار بار مذہب کو استعمال کرنا بہت گری ہوئی حرکت ہے۔ قوانین کے لحاظ سے دنیا کے سب سے زیادہ اسلامی ملک کے انتخابات میں بار بار مذہب کا نام لینا مذہب کی بھی توہین ہے اور پوری دنیا میں مذہب کا تمسخر اڑانا بھی ہے اور یہ ظاہر کرنا بھی ہے کہ آپکے پاس عوام کو دینے کے لئے جذباتی نعروں کے سوا کچھ نہیں ہے۔ وہ سیاسی پارٹی جو انتخابات میں غیرضروری طور پر مذہب کو استعمال کرے وہ جلد تنہائی کا شکار ہوجاتی ہے۔**
*

 

نیکی کا گناہ
ہمارے مذہبی طبقے کو جو ایک چیز غامدی صاحب سے سیکھنی چاہیے وہ ہے شایستگی کے ساتھ اختلاف ۔اور اختلاف کے باوجود مخالف کی نیت میں سچائی کا اعتراف ۔ اپنے مخالفین کے شخصی محاسن اور ذاتی اوصاف کی قدر کریں جیسے اپنے حلقہ فکر کی کرتے ہیں ۔اور ان کی اصلاح کے جذبے سے تنقید کریں نہ کہ ان کی ذات کی تنقیص کے لیے ۔ غامدی صاحب اپنے تمام اختلافات کے باوجود کہتے ہیں مجھے اسامہ بن لادن کے ایمان پر رشک آتا ہے ، ملاں عمر کا جذبہ انہیں ہمارا گل سر سبدبنا دیتا ہے، سید احمد شہید کی ہمت و جذبہ قابل ستائش تھا ،افغانوں کی جواں مردی کا اعتراف ہے، چیچنیاکے مجاہدین ایک جذبے کے ساتھ لڑتے رہے ۔اسی طرح جنرل محمد ضیا الحق صاحب مرحوم کی وفات پر لکھے گئے مضمون کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ صدر صاحب کی اسلام نافذ کرنے کے پالیسی سے شدید اختلاف کیا، آگے لکھا کہ ان کی زندگی میں تنقیدات بھی کیں لیکن ان کے شخصی پامردگی اور جرأت قابل دید تھی۔ روس کی یلغار کے خلاف کھڑے رہنے کی ہمت بھی تھی لیکن ان کا طریقہ کار درست نھیں تھا۔ہمارے علما سمجھتے ہیں کہ کسی سے اختلاف کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جب تک اس کی ذات، نیت ،پس پردہ نہاں مقاصد اور شخصیت کی کردار کشی نہ کی جائے تب تک اختلاف پورا نھیں ہوتا۔ان مذہبی لوگوں کو سوچنا چاہیے جس دیانت داری کو یہ عیب بنا کر مصنوعی ارتعاش پیدا کررہے ہیں، یہ سماج اس رویے کی وجہ سے اب دین سے بیزار ہو رہا ہے ۔میں غیر جانب داری سے غامدی صاحب کا جب یہ رویے دیکھتا ہوں تو مجھے اس پر رشک محسوس ہوتا ہے.اختلاف کے باوجود مخالفین کے نیت اور جذبے کی تعریف۔اختلاف کے باوجود مخالفین کی ہمت کی قدر اور حونصلے کا اعتراف۔یہ ان کے رویے کی نیکی ہے, اس سے سبق حاصل کر کے سیکھنا چاہیے لیکن بعض اہل علم اپنا وقت اس نیکی کو گناہ باور کروانے میں صرف کر رہے ہیں .انہیں اپنے رویے پر سوچنا چاہیے۔ (حسن الیاس)

محمد حسن الیاس