ثقافتی امتیازات اور ہمارا مروجہ مذہبی مزاج

مصنف : پروفیسر محسن عثمانی ندوی

سلسلہ : فکرونظر

شمارہ : فروری 2005

فروعی امور کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینا اور ہر بات میں کسی فتویٰ کی کتاب کا حوالہ دینا اور کج بحثی میں مبتلا ہونا زوال آمادہ قوموں کی خاص پہچان ہے۔ یہ اسلام کے سیلِ رواں پر بند باندھنے کے مترادف ہے۔یہ دین کی وہ نام نہاد خدمت ہے جس سے بڑھ کر کوئی اور مضرت نہیں ہو سکتی اور اسی قماش کے لوگوں کے لیے اقبال کا مصرعہ ہے ‘‘دین ملا فی سبیل اللہ فساد۔’’

            مسجدیں اسلامی مرکز کے طور پر امریکہ میں استعمال ہوتی ہیں۔ یہ کمیونٹی سنٹر ہیں جن میں لیکچر ہال بھی ہوتے ہیں اور لائبر یری بھی اور ان میں عارضی اقامت گاہیں بھی ہیں۔ یہ وہ پاور ہاؤس ہے جس سے مسلمان گھروں میں ایمان کی حرارت پھیلتی ہے اور اخلاق و کردار کا نور تقسیم ہوتا ہے۔امریکہ کی یہ مسجدیں ہندوستان کی عام مسجدوں سے کسی قدر مختلف ہیں ۔ان مساجد میں خواتین بھی نماز میں شریک ہوتی ہیں۔ سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں۔ ایک بڑی مسجد میں نماز جمعہ کے ختم ہونے کے بعد میں نے نظر ڈالی تو مسجد کی پانچ چھ صفوں میں بمشکل چار پانچ آدمی سر پر ٹوپی پہنے ہوئے نظر آئے۔ ٹوپی پہننے والوں کو برہنہ سر نماز پڑھنے والوں پر کوئی اعتراض نہ تھا کیونکہ انہیں مذہب اور ثقافت کا فرق معلوم تھا۔

            ان مساجد سے گہری وابستگی رکھنے والے افریقی اور امریکی مسلمان بھی ہیں اور برصغیر یا مڈل ایسٹ سے آنے والے مسلمان بھی ہیں، لیکن ان دونوں کے درمیان اس فرق کا احساس بھی پایا جاتا ہے کہ اول الذکر مسلمان نسلی امتیاز کو ختم کرنے اور عیسائیت اور اسلام یا یہودیت اور اسلام کے درمیان تعلقات کے مسئلے سے برصغیر، مشرق وسطیٰ اور بوسنیا کے حالات سے زیادہ گہری دلچسپی لیتے ہیں۔مسلمانوں کے ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک گونہ ذوقی فاصلہ پایا جاتا ہے۔افریقی امریکی بلیک مسلمان یہ محسوس کرتے ہیں کہ دوسرے ملکوں کے تارکین وطن مسلمان انہیں ادنیٰ درجہ کا مسلمان سمجھتے ہیں، محض اس بنا پر کہ عربی زبان کی ثقافت سے ان کا رشتہ کمزور ہے اور قرآن و حدیث روانی کے ساتھ نہیں پڑھ سکتے۔ پشتینی مسلمانوں کی اس ذہنیت کو سمجھنے کے لیے یہ واقعہ کافی ہے کہ ہندوستان کی ایک درسگاہ کے بزرگ مفتی نے سفر میں ایک ایسی مسجد میں میرے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی جو افریقی امریکی بلیک مسلمانوں کے زیر انتظام تھی۔ جمعہ کے دونوں خطبے انگریزی زبان میں ہوئے۔ بلیک نو مسلم خطیب کے لیے قرآن کی آیات اور احادیث کے تلفظ میں مشکل پیش آرہی تھی۔ وہ بزرگ خطبہ کے دوران اپنی کتاب کا مطالعہ کرتے رہے اور جمعہ کی نماز کے بعد انہوں نے اپنی نماز دہرائی۔ میرے لیے ان کا یہ طرز ِ عمل سوہانِ روح تھا اور مجھے ان کے طرزِ عمل پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا پڑا۔ بجائے اس کے کہ وہ ایک نو مسلم کے اسلام کی قدر کرتے، انہوں نے افتراق بین المسلمین کا نمونہ پیش کیا۔

            یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ اسلام کی تاریخ میں گروہ بندی اور مسلکی اختلاف کی اصل وجہ نئی قوموں کا اسلام میں داخل ہونا ہے، کیونکہ ہر قوم اپنی خصوصیات اور ذہنی پس منظر کے ساتھ دین میں داخل ہوتی ہے۔ آئندہ بھی یورپ اور ایشیا کی بعض قومیں دینِ اسلام میں داخل ہو سکتی ہیں اور ان ہی سے شجر اسلام بار آور ہوگا ۔ موجودہ مسلم ممالک میں وہ توانائی اور طاقت نہیں کہ نہضتِ اسلام کا بوجھ ان کے شانوں پر رکھا جاسکے۔ نئی زندہ قوموں کے دائرہ اسلام میں استقبال کے لیے ذہن و فکر کے بے پناہ کشادگی اور قلب کی غیر معمولی وسعت درکار ہے۔فروعی امور کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینا اور ہر بات میں کسی فتویٰ کی کتاب کا حوالہ دینا اور کج بحثی میں مبتلا ہونا زوال آمادہ قوموں کی خاص پہچان ہے۔ یہ اسلام کے سیلِ رواں پر بند باندھنے کے مترادف ہے۔یہ دین کی وہ نام نہاد خدمت ہے جس سے بڑھ کر کوئی اور مضرت نہیں ہو سکتی اور اسی قماش کے لوگوں کے لیے اقبال کا مصرعہ ہے‘‘دین ملا فی سبیل اللہ فساد۔’’مثال کے طور پر امریکہ اور یورپ میں جمعہ کے دن خواتین چھوٹے بچوں کے ساتھ مسجدوں میں آتی ہیں۔ اتوار کے دن مسجدوں کے اسلامی پروگرام میں ساتر لباس میں شریک ہوتی ہیں۔ ان شریک ہونے والیوں میں بہت سی نو مسلم خواتین بھی ہوتی ہیں۔ ان ملکوں میں اسلامی تشخص کی حفاظت اور بچوں کی تربیت اور دینی ماحول سازی کے لیے یہ ایک ضروری کام ہے،لیکن کوئی روایتی قسم کا عالم اگرروکنے کی کوشش کرے تو یہ بد بختی اور نادانی کی بات ہوگی اور عقل و حکمت سے تہی دامنی کی پہچان ہوگی اور یہ طرز عمل نو مسلم خواتین کو اسلامی سوسائٹی میں ضم ہونے اور غیر مسلم خواتین کو اسلام میں داخلہ سے روک دے گا۔

            اسی طرح سے مسلمان اپنے مذہبی اختلافات کو جتنا زیادہ ظاہر کریں گے، اتنا ہی زیادہ وہ ان غیر مسلموں کو نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا کریں گے جو اسلام سے قریب ہو رہے ہیں اور اسلام قبول کرنے کے خواہش مندہیں۔ اس اندیشہ فردا کا ذکر زبان قلم پر اس لیے آیا ہے کہ بہت سے مسلمان جو اسلامی ملکوں سے آکر امریکہ میں بسے ہیں، وہ اختلافات کی آلائشوں کا انبار امریکہ میں اسلام کے بڑھتے ہوئے قدم کو روک سکتا ہے۔مستقبل میں اسلامی انقلاب کا رونما ہونا اور مسلمانوں کا پھر سے قوت حاصل کر لینا نئی قوموں کے اسلام میں داخلہ پر منحصر ہے۔ ا س کے لیے خردہ گیری سے بچنے کی عادت درکار ہے۔ اس کے لیے ذہن کی آفاقیت، قلب کی وہ بے کراں وسعت مطلوب ہے جو مہمانِ عزیز کا خوش دلی کے ساتھ استقبال کرے اور فروعی چیزوں پر مشتعل نہ ہو۔ یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ اسلام کا Modernityیعنی جدت سے کوئی اصولی ٹکراؤ نہیں ہے۔ اس بارے میں سنی علما کو اپنے حلقہ میں اور شیعی عوام میں جن شخصیتوں مرجع التقلید کی حیثیت حاصل ہے، صحیح رہنمائی کرنی چاہیے۔ مثال کے طور پر امریکہ میں عورتیں نمازِ جمعہ میں آتی ہیں اور پردہ کے پیچھے خطبہ سنتی ہیں، لیکن چونکہ وہ خطیب کو دیکھ نہیں سکتی ہیں، اس لیے ان کا مطالبہ تھا کہ ان کے لیے محدود دائرہ کا ٹیلی ویژن لگادیا جائے تاکہ عورتیں نہ صرف خطبہ سن سکیں، بلکہ خطیب کو بھی دیکھ سکیں۔ بعض مجتہد علما نے اس سے اختلاف کیا،لیکن مرجع التقلید کا فتویٰ یہ تھا کہ مذہبی مقصد کے لیے محدود سرکٹ ٹیلی ویژن کی اجازت ہے۔ ہندوستان کے لیے یہ مطالبہ حیرت انگیز ہوگا لیکن امریکہ میں جہاں بہت چھوٹے پروگراموں کے لیے محدود سرکٹ کے ٹیلی ویژن کا عام رواج ہے اور جہاں جمعہ کی نماز میں عورتیں شریک ہوتی ہیں، یہ مطالبہ بہت فطری نوعیت کا ہے۔ عصر جدید میں ان عصری ایجادات کے استعمال کے لیے ذہن و فکر کو لچک دار بنانا ہوگا ۔ یہ کہنا کہ اس سے خطبہ جمعہ کا تعبدی پہلو اور خشوع متاثر ہوتا ہے، صرف روایتی مزاج و عادت کا اظہار ہے۔ لاس اینجلس کی شیعہ برادری کی مسجد اہل بیت میں توعورتیں مخلوط اجتماعات کو خطاب بھی کرتی ہیں۔ ان معاملات میں جہاں مسلمانوں کی اصلا ح کی ضرورت ہو، وہاں حکمت اختیار کرنی ہوگی اور احکام دین اور مروجہ کلچر کے فرق کو بھی ملحوظ رکھنا ہوگا بشکریہ تعمیر حیات۔ ( لکھنو)