انسان کا لا شعور اور اللہ کا احساس

مصنف : محمد رضوا ن خالد چودھری

سلسلہ : فکرونظر

شمارہ : اکتوبر 2020

 اگر اللہ انسانوں کا خالِق ہے تو انسان کے لاشعور میں سب سے پہلا احساس اللہ کا ہی ہونا چاہیے، پھر ایسا کیوں نہیں ہے۔ 
پہلے دوسرے اور آخری احساس سے زیادہ اہمیت اہم ترین احساس کی ہے، دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے جب آپ بے یار و مددگار ہوں، کوئی آسرا کوئی مدد نظر نہ آتی ہو تو آپکا لاشعور اُس مُشکل ترین وقت میں کسے پُکارتا ہے۔ آپ خود کو تو چھوڑیے آپ تو الحمدُللہ اُسی خالِق و مالک کے ماننے والے ہیں جِس کا میں ماننے والا ہوں، کبھی موقع ملے تو بسترِ مرگ پر پڑے کسی متشدد دہریے سے پُوچھ لیجیے وہ کیا سوچ رہا ہے۔ ویسے میں یہ تجربہ کر چُکا ہوں، میری ایک نو مُسلم دوست کی ایتھیسٹ والدہ کی اوپن ہرٹ سرجری تھی، جب اُنکی صحت اچھی تھی اُن کا مُجھ سے بیشتر مکالمہ ہی اس نُکتے کے گرد گھومتا تھا کہ کیسے مذہب انسانوں کے لیے افیون کا کام کرتا ہے۔ چُونکہ اُنکی بیٹی نے میرے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا تو وہ ویسے بھی مُجھ پر سخت برہم رہتی تھیں۔ میرا غصہ اللہ پر نکالا کرتیں۔ اسی سال مارچ میں اُنکی سرجری سے ایک دن پہلے میں اُنکے لیے پھُول لے کر گیا تو بولیں تُم تو خُدا کے ماننے والے ہو مہربانی کر کے اُسے بتا دو کہ مجھے ابھی کئی اچھے کام کرنے ہیں۔ بعض لوگوں کے لیے تو مجھے جو کرنا ہے میرے علاوہ کوئی نہیں کرے گا جسکے باعث اُنکی بقیہ زندگی بُری گزرے گی۔ میں نے اُسے کہا ہاتھ اُٹھاؤ وہ تُمہاری شہ رگ سے بھی قریب ہے، مجھے بیچ میں کیوں ڈالتی ہو اُسے خود بتاؤ ویسے بھی اُسے واسطے کی بجائے دل دیکھنا ہوتا ہے۔ یہ کہہ کر میں نے اُسکے ہاتھ پکڑ کر ویسے کر دیے جیسے ہم دعا مانگتے ہوئے کرتے ہیں اور اُسے کہا وہ سُن رہا ہے، کہو اُسے۔ اللہ گواہ ہے اُس نے روتے ہوئے کافی دیر اللہ سے دعا کی۔ اسکی سرجری کے بعد کرونا آ گیا اور میں ابھی اُس سے ملنے نہیں جا سکا لیکن اُسکی بیٹی نے مجھے فون پر بتایا ہے کہ سرجری کامیاب ہونے کے بعد سے وہ یُو ٹیوب پر ایک نومُسلم پروفیسر خاتون کی وڈیوز دیکھتی ہیں اور مختلف مذاھب کے تصور خدا پر ریسرچ بھی کر رہی ہیں۔ اپنی بیٹی سے اسلام سے متعلق سوال بھی کرتی ہیں۔ 
کرونا ایپی سوڈ کے بعد کسی وقت اُن سے ملنے جاؤں گا تاکہ باقاعدہ اسلام کی دعوت دوں، لیکن جو میں کہنا چاہتا تھا وہ یہ ہے کہ اللہ نے تو اپنا احساس ہمارے لاشعور میں بہت گہرا اور واضح رکھا تھا لیکن ہمارا شعور ہماری ذاتی ضروریات، تجربات اور ترجیہات سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ عام حالات میں ہمیں ہر سمت اپنے علاوہ کُچھ نظر ہی نہیں آتا لیکن اگر ہم ہم عبادات کی مخصوص فریکوئینسی یا مخصوص کلموں کی متواتر ادائیگی سے اپنے آپ سے فُرصت پانے میں کامیاب ہو جائیں تو ہمارے لاشعور سے جو سب سے پہلا احساس اُبھر کر سامنے آئے گا وہ اللہ کا ہی ہو گا۔ جو لوگ عبادات کے عادی نہیں ہوتے وہ بھی کسی مُشکل میں گھِر جائیں یا اُنکی زندگی پر بن آئے تو اُنکا پہلا لاشعوری احساس اپنے خالِق سے متعلق ہو گا۔ آپ کا کبھی کسی سخت گرم چیز کو ہاتھ ضرور لگا ہو گا، آپ کو جلن بعد میں ہوتی ہے یعنی شعور کو بعد میں پتہ چلتا ہے لیکن آپ ایک لاشعوری احساس کے تحت آپ کا ہاتھ تیزی سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ اسے ریفلیکس ایکشن کہتے ہیں۔ بیماری یا شدید مُشکل میں جب آپ بے یار و مددگار یا تنہا محسوس کرتے ہیں تو اللہ کا احساس آنا بھی ایسا ہی ریفلیکس ایکشن ہے۔ گویا اللہ کا احساس ہمارے لاشعور میں تو بدرجہ اتم موجود ہوتا ہی ہے لیکن ہم اپنے مادی تجربات اور جسمانی خواہشات کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اپنے شعور کو اتنا کثیف اور گدلا کر لیتے ہیں کہ اپنے لاشعور میں جھانکنے کے قابل ہی نہیں رہتے۔ 
مُرغی کے لاشعور میں یہ علم موجود ہوتا ہے کہ اُسے ایک مخصوص وقت انڈوں پر بیٹھنا ہے لیکن اسکا شعور اس علم سے خالی ہوتا ہے، ورنہ وہ ہر وقت انڈوں پر بیٹھی رہتی ۔جیسے ہی ایک مخصوص وقت سے پیدا ہونے والی کوئی کیفیت اُسکے لاشعور کے احساس کو کلِک کرتی ہے وہ انڈوں پر بیٹھ جاتی ہے تاکہ ان سے بچے نکالے۔ انسانوں کو بھی اپنے لاشعور میں جھانکنے کے لیے ایک مخصوص کیفیت چاہیے ہوتی ہے، قدرت بھی مُشکل یا بیماری کی صورت میں یہ کیفیت
 پیدا کر دیتی ہے ہم خود بھی عبادات سے اپنے لاشعور کو کلِک کر سکتے ہیں۔اسی لیے بزرگ کہتے ہیں کہ آپ سے برائیاں اور گُناہ ہوتے بھی رہتے ہوں تب بھی نماز روزے کی ادائیگی کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ ان کے دوران کسی وقت وہ لمحہ آ سکتا ہے جِس لمحے میں ہمارے اپنے لاشعور میں جھانکنے کے چانسِز زیادہ ہوتے ہیں۔