اللہ سے محبت 

مصنف : محمد رضوان خالد چوھدری

سلسلہ : اصلاح و دعوت

شمارہ : نومبر 2020

للہ کو جاننے والے لوگ۔ رضوان خالد
اللہ کی محبت میں ڈُوب جانے کے لیے کیا یہ وجہ اکیلی کافی نہیں کہ آپ اپنے ماضی اور حال کی بے اعتدالیوں پر جیسے ہی اظہارِ ندامت کرتے ہیں عین اُسی لمحے، مُستقبل سے متعلق آپکی نیک نیّت کا اکرام کرتے ہُوئے وہ آپکی غلطیوں کو ایسے نظرانداز کر دیتا ہے جیسے وہ تھی ہی نہیں۔ حالانکہ اُس لمحے بھی وہ یہ علم رکھتا ہے کہ مُستقبل میں آپ کیسی کیسی عظیم کوتاہیوں کے مُرتکب ہو سکتے ہیں۔ گویا وہ اپنے علم کو بھی آپ کی نیک نیّت کے آڑے نہیں آنے دیتا۔ 
میرے اور آپ کے عزیز و اقارِب اور دُنیا والے جنہیں ہم عملاً اللہ سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں، کیا ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا ہے جو ہمیں ہمارے ماضی کے حوالے سے الگ کر کے دیکھتا ہو؟ اپنے اردگِرد نظر دوڑا لیجیے، ساری کائنات چھان لیجیے، آپ کو اتنی اہمیّت دینے والا آپ ساری کائنات میں کوئی ایک بھی نہیں پائیں گے جو آپ کے ارادوں کو تولتے ہُوئے دوسرے پلڑے میں آپکی ماضی کی کارکردگی نہ رکھتا ہو۔ جبکہ اللہ نہ صرف ایسا کرتا ہے بلکہ وہ آپکی نیت تولتے ہُوئے مُستقبل میں ممکنہ طور پر آپ سے سرزد ہو جانے والی غلطیوں سے متعلق اپنے علم کو بھی آپ کی آج کی نیک نیت کو تولتے وقت خاطر میں نہیں لاتا۔ کیا آپ سے اُس کی یہ محبت بے مثال نہیں؟دُکھ بس اس بات کا ہے کہ اللہ کی ہم سے محبت یکطرفہ ہے، یہ محبت دو طرفہ ہوتی تو ہم اپنے ارادوں کو ایسی بے مثال اہمیّت دینے والے کی محبت میں ڈُوبے ملا کرتے۔ 
ہم اُس کی محبت سے واقف ہوتے تو ہر روز گُزرے روز کی اپنی کارکردگی پر ندامت کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ ہر آنے والے دن کے ٹائم ٹیبل کو نیک ارادوں سے بھر دیا کرتے۔ اللہ کی محبت میں ڈُوبے لوگ اپنی حیثیت اور طاقت سے بڑے نیک ارادے کرتے وقت بُخل سے کام بس اس لیے نہیں لیتے کہ ایک تو وہ یقین رکھتے ہیں کہ اُنکی طاقت میں کمی بیشی کرنا بھی اللہ کی قُدرت سے باہر کی چیز ہرگِز نہیں، دوسرے وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ جو اللہ اُنکے مُستقبل سے متعلق اپنے علم کے باوجود اُن کے نیک لیکن خام ارادوں پر خوشی کا اظہار کر رہا ہے کائنات کے سبھی وسائل بھی اُسی کے تابع ہیں۔ اللہ کو جاننے والے لوگ جانتے ہیں کہ اپنے ماضی پر اظہارِ ندامت کرنے کے بعد نیک ارادہ کرتے ہی وہ کوشش کی سیڑھی کے پہلے دو زینے تو چڑھ ہی چُکے ہیں، کوشش کے اگلے سفر میں بطور زادِ زادِ راہ اللہ کی خوشنودی ہی کافی ہے۔ بے شک انسانوں کے لیے وہی کُچھ ہے جس کے لیے وہ کوشش کریں۔ عام کوشش اور محبت میں ڈوبی کوشش کا فرق جاننے والے لوگ کبھی کسی گاوں میں گنّے کے رس سے گُڑ بننے کا عمل ضرور دیکھیں۔ گُڑ بنانے والا کسان آگ پر پک پک کر گاڑھے ہو چُکے گنّے کے سیاہ رس میں جیسے ہی رنگ کاٹ ڈالتا ہے شیرے کی سیاہی ایک لمحے میں چھٹ جاتی ہے، جسے الگ کرنے کے بعد وہ پیچھے بچے گاڑھے شیرے کو ٹھنڈا کر کے خوش رنگ گُڑ کی پیڑیاں بنا لیتا ہے۔ اس بات کو سادہ الفاظ میں بیان کروں تو اللہ کو جاننے والے لوگ اپنے اخلاص اور اللہ کی محبت کی طاقت کی بدولت اپنے ارادوں کی تکمیل کے لیے لازم وسائل کی کمی کے مسئلے سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ 
بے نیازی اللہ کی صفت ہے لیکن سچی محبت کرنے والے اپنے محبوب کا کُچھ رنگ حاصل نہ کریں یہ ممکن ہی نہیں۔
اللہ کی محبت۔ابن عبداللہ
کسی شخص نے جنت میں جانے کے بعد اپنی دنیاوی زندگی کی ویڈیو دیکھنے کی فرمائش کی،اس کی فرمائش پوری کر دی گئی۔اس نے اپنی تمام زندگی کو ایک لمبے راستے کی صورت میں دیکھا جو کہیں کہیں تو بہت ہموار اور آسان تھا لیکن کئی جگہوں پر انتہائی دشوار گزار ہو جاتا تھا۔اسے بتایا گیا کہ ہموار راستہ اسکی زندگی کے اچھے اور خوشگوار وقتوں کو ظاہر کرتا ہے جبکہ دشوار گزار راستہ اسکی زندگی کے مشکل دنوں کو ظاہر کرتا ہے۔اس نے غور سے دیکھا تو اسے احساس ہوا کہ اس راستے پر قدموں کے نشان بھی تھے جیسے دو لوگ ساتھ ساتھ چلتے رہے ہوں۔اس نے مزید غور کیا تو اس پر انکشاف ہوا کہ اچھے وقتوں میں یعنی آسان راستے پر تو قدموں کے نشان دو افراد کو ظاہر کرتے ہیں لیکن ہر دشوار جگہ پر قدموں کے نشان صرف کسی ایک کے رہ گئے جیسے دوسرا شخص مشکل راستے پر ساتھ چھوڑ گیا ہو۔اس نے فوراً سوال کیا،اے خدا! یہ دو لوگ کون ہیں؟
اسے بتایا گیا کہ اسکی ساری زندگی کے دوران ہر لمحہ خدا کی رحمت اس کے ساتھ رہی، گویا خدا اس کی ساری زندگی اس کے ساتھ چلتا رہا۔تو اس نے جھٹ سے شکوہ کیا،تو اے خدا! تو نے مشکل وقتوں میں میرا ساتھ کیوں چھوڑ دیا؟دیکھ تو سہی، دشوار راستوں پہ قدموں کے نشان چار سے محض دو رہ گئے۔وہ رو دیا،میرے مالک! تو نے مجھے اکیلا کیوں چھوڑ دیا؟تب اس کا خالق و مالک مسکرا دیا۔اور اس سے مخاطب ہوا،'' نادان!دشوار راستوں پہ قدموں کے یہ نشان تیرے نہیں، بلکہ میرے ہیں۔میں نے تجھے تنہا نہیں چھوڑا، بلکہ جب جب تیری زندگی میں مشکل وقت آیا، میں نے تجھے اپنی گود میں اٹھا لیا اور تیری بجائے میں اکیلا اس راستے سے گزرا ''
زبان کا تہذیب پر اثر۔آفاق احمد
کوئی مصیبت اچانک آجائے یا کوئی چیز گُم ہوجائے تو ہم کیا پڑھتے ہیں؟انا للہ و انا الیہ رٰجعون ۔اور یہی معاملہ جب انگریزوں کے دیس میں ہو یا انگریزی زبان کے تاثر میں ہمارے ملک کے باشندوں کی زبان سے ہو تو کیا نکلتا ہے؟oh shit
کوئی بات ناپسندیدہ ہوجائے، دل خراب کرنے والی ہو تو کیا کہنا چاہیے؟الحمدُ للہ علٰی کل حالاور انگریزی تہذیب کے تابع کیا کہا جاتا ہے؟
Oh Shit
اس کا لفظی مطلب کیا ہے؟زیادہ تر لوگ مطلب جانتے ہونگے۔
کیمبرج ڈکشنری سے دیکھتے ہیں:
the solid waste that is released from the bowels of a person or animal
یہ دو مواقع لکھ دیے۔ اسکے علاوہ بھی یہ لفظ انگریزی زبان میں بارہا استعمال ہوتا ہے۔
قدرت ہمیں جو سکھا رہی ہے وہ یکسوئی کا سبق ہے، مجتمع ہونے کا درس ہے، انتشار سے بچنا سکھا رہی ہے۔مصیبت میں بھی اللہ کی طرف متوجہ، تکلیف میں بھی اللہ کی طرف متوجہ، بُری اور ناپسندیدہ چیز دیکھنے پر بھی اللہ پاک کا شُکر۔جبکہ دوسری طرف توجہ کس طرف ہے؟غلاظت کی طرف، گندگی کی طرف، نجاست کی طرف۔ انسان کی زبان انسان کی سوچ کی عکاس ہوا کرتی ہے، انسان کے الفاظ اُس کے اندر کی تصویر ہوا کرتے ہیں۔ہر خوشی غمی کے موقع پر مسنون الفاظ کہنے کی عادت ڈالیں، ساتھ مطلب بھی کچھ کچھ معلوم ہو، دیکھیے کیا لُطف آتا ہے، کیا خوب یکسوئی حاصل ہوتی ہے۔
موت ہی اصل حقیقت ہے ۔شہزاد سرفراز 
دنیا کی مشہور فیشن ڈیزائنر اور مصنف ''کرسڈا روڈریگز'' نے کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد اپنے انتقال سے پہلے یہ تحریر لکھی ہے۔
1۔ میرے پاس اپنے گیراج میں دنیا کی سب سے مہنگی برانڈ کار ہے لیکن اب میں وہیل چیئر پر سفر کرتی ہوں۔
2 میرا گھر ہر طرح کے ڈیزائنر کپڑوں، جوتوں اور قیمتی سامان سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن میرا جسم اسپتال کی فراہم کردہ ایک چھوٹی سی چادر میں لپیٹا ہوا ہے۔
 3. بینک میں کافی رقم ہے۔ لیکن اب اس رقم سے مجھے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔
 4. میرا گھر محل کی طرح ہے لیکن میں اسپتال میں ڈبل سائز کے بستر میں پڑی ہوں۔
 5. میں ایک فائیو اسٹار ہوٹل سے دوسرے فائیو اسٹار ہوٹل میں جاسکتی ہوں۔ لیکن اب میں اسپتال میں ایک لیب سے دوسری لیب میں جاتے ہوئے وقت گزارتی ہوں۔
 6. میں نے سینکڑوں لوگوں کو آٹوگراف دیے۔ آج ڈاکٹر کا نوٹ میرا آٹوگراف
 ہے۔
 7 میرے بالوں کو سجانے کے لئے میرے پاس سات بیوٹیشنز تھیں - آج میرے سر پر ایک بال تک نہیں ہے۔
8 نجی جیٹ پر، میں جہاں چاہتی ہوں اڑ سکتی ہوں لیکن اب مجھے اسپتال کے برآمدے میں جانے کے لئے دو افراد کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
 9.اگرچہ بہت سارے کھانوں کی مقدار موجود ہے، لیکن میری خوراک دن میں دو گولیوں اور رات کو نمکین پانی کے چندقطرے ہیں۔
یہ گھر، یہ کار، یہ جیٹ، یہ فرنیچر، بہت سارے بینک اکاؤنٹس، اتنی ساکھ اور شہرت، ان میں سے کوئی بھی میرے کام کا نہیں ہے۔ اس میں سے کوئی بھی چیز مجھے کوئی راحت نہیں دے سکتی۔
بہت سارے لوگوں کو راحت پہنچانا اور ان کے چہروں پہ مسکراہٹ بکھیرنا ہی اصل زندگی ہے۔ '' اور موت کے سوا کوئی حقیقت نہیں ہے۔
روزمرہ کے واقعات اور اللہ کا گرینڈ پلان ۔عظیم الرحمان عثمانی
آج سے کوئی دس برس قبل میرا واسطہ کچھ ایسے افراد سے ہوا جو علم میں مجھ سے کہیں زیادہ تھے۔انہوں نے اپنے استدلال اور جاذب طرز گفتگو سے میرے ذہن میں طرح طرح کے شکوک پیدا کردیئے۔ وقت کے ساتھ ان تمام اشکالات کا جواب مجھے کتاب اللہ سے حاصل ہوا مگر پھر بھی کبھی ایسا وقت آجاتا تھا جب ذہن زچ ہوجاتا اور ہمت ٹوٹنے لگتی۔وجود خدا سے متعلق ان ہی دنوں ایسے ہی ایک سوال نے میرے ذہن کو بری طرح جکڑ لیا۔اسی سوال کو ایک رات سوچتے ہوئے میں اپنے روزمرہ کے راستے سے گزر رہا تھا۔دل اس اشکال سے شدید مضطرب تھا اور آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔اچانک مجھے کچھ فاصلے پر ایک پتھر پر سے روشنی نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ ایک لمحے کو میں اپنا اضطراب بھولا اور متجسس ہو کر اس روشنی کی طرف لپکا تو معلوم ہوا کہ ایک پتھر پر ایک 'سی ڈی' الٹی رکھی ہوئی ہے۔اس کا چمکیلا حصہ اوپر کی جانب ہے جس پر اسٹریٹ لیمپ کی روشنی پڑ کر منعکس ہو رہی تھی۔میں نے 'سی ڈی' اٹھائی تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہ کسی اسلامی لیکچر کی ریکارڈنگ تھی۔گھر جاکر اسے سنا تو اس میں موجود باتوں سے اپنے اس اشکال کا جواب حاصل ہوگیا اور دل کو قرار آگیا۔
 کوئی سال بھر پہلے میری طبیعت بگڑنے لگی۔ڈاکٹر کے پاس ٹیسٹ کروائے تو سب نارمل آئے لیکن ذہن اور جسم دونوں جیسے نیم مفلوج سے رہنے لگے۔دو بار ایسا ہوا کہ کسی دوست نے مجھے باہر چلتے دیکھا تو فون کرکے خیریت دریافت کی کہ آپ بہت بیمار لگ رہے ہیں۔جو ان دنوں چہرہ دیکھتا وہ فکرمند ہو کر میری خیریت دریافت کرتا۔ڈاکٹرز مجھ سے پوچھتے کہ کیا تمھیں کوئی اسٹریس لاحق ہے؟ کوئی پریشانی ہے؟ میں انہیں بتاتا کہ ہرگز نہیں بلکہ میں تو اپنے رب کی نعمتوں سے الحمدللہ سرشار ہوں اور اتنا پرسکون ہوں کہ خود ہی حیرت ہوتی ہے الحمدللہ۔ مجھے طرح طرح کے وٹامنز دیئے جانے لگے لیکن طبیعت نے نہ سنبھلنا تھا تو نہ سنبھلی۔اللہ پاک سے دعا گو رہا۔ایک روز اچانک میرا نیا موبائل شدید گرم ہوگیا۔اتنا گرم جیسے اس میں ابھی آگ لگ جائے گی اسے بند کیا اور کچھ دیر بعد دوبارہ چلایا تو ٹھیک ہوگیا۔پھر چند روز بعد یہی ماجرا ہوا اور موبائل دوبارہ گرم ہو کر انگارہ بن گیا۔ مجھے لگا کہ میرا یہ نیا 'موبائل ناکارہ ہونے والا ہے۔آخری کوشش کے طور پر میں نے اس کی گہری جانچ کی تو معلوم ہوا کہ کچھ ایسی 'ایپلی کیشنز' اس میں انسٹال ہوگئی ہیں جو نہ صرف موبائل کی کارکردگی پر شدید بوجھ ڈال رہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے 'کونفلکٹ' یعنی ٹکرا بھی رہی ہیں۔میں نے فوری طور پر انہیں ہٹایا تو موبائل واپس ٹھیک ہوگیا اور اس کے بعد آج تک بالکل ٹھیک ہے۔میں نے حسب عادت اس واقعہ پر غور کیا کہ کہیں ا س میں میرے لئے رب کی جانب سے کوئی پیغام تو نہیں؟ 
احساس ہوا کہ یہی معاملہ میرے اپنے ذہن کے ساتھ بھی ہورہا ہے۔ان دنوں میں دو مخالف مکاتب فکر کی اصولی بحث کو بیک وقت تقابلی انداز میں پڑھ رہا تھا۔ساتھ ہی دونوں کے نمائندہ استادوں سے گفتگو بھی کررہا تھا۔اصول الفقہ کو اس سے قبل میں نے نہیں پڑھا تھا اور اب اچانک میں دو مخالف نقطہ نظر کے انتہائی'ایڈوانس کانسپٹس' کو اپنے ذہن پر زبردستی لاد رہا تھا ، جس سے میرے ذہن کی 'ہارڈ ڈسک' کریش ہورہی تھی۔جیسے ہی بات سمجھ آئی تو ڈاکٹر کو بتایا۔اس نے مثالیں دے کر ثابت کیا کہ یہی اصل جڑ ہے۔چانچہ کچھ عرصہ کیلئے میں نے ہر طرح کی تحقیق ترک کرکے ذہن کو ہنسنے بولنے والی تفریحات میں مصروف کرلیا۔کچھ ہفتوں تک فیس بک سے بھی واجبی سا تعلق رکھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ طبیعت الحمدللہ پوری طرح سے سنبھل گئی۔
 ایسے ان گنت واقعات ہیں جو طوالت کے سبب نہیں درج کررہامگر دوستو ان واقعات کو آپ کے گوش گزار کرنے کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ مومن کی زندگی میں 'انہونی' یا 'حسن اتفاق' نام کی کوئی شے نہیں ہوتی۔وہ اس حقیقت کی معرفت پاچکا ہوتا ہے کہ زندگی کے خارج و باطن میں ہونے والی ہر واردات، ہر حادثہ، ہر واقعہ دراصل قادر المطلق کے 'گرینڈ پلان' ہی کا ایک چھوٹا سا جزو ہے۔اس کا ہونا یا تو خالص 'امر الہی' کا ظہور ہے یا پھر 'اذن خداوندی' کا تقاضا۔سادہ الفاظ میں ہمارے اردگرد ہونے والے واقعات کے ذریعے رب العزت ہمیں مختلف پیغامات منتقل کرتے ہیں۔اگر ہم روزمرہ کے ان واقعات میں غور و فکر کرکے منشاء خداوندی کھوجنے اور دیکھنے کی صلاحیت حاصل کرلیں تو پھر یہ پیغامات کبھی ہماری الجھنوں کا حل ثابت ہوتے ہیں، کبھی ہماری بداعمالی پر سرزنش کا کام کرتے ہیں، کبھی کسی غلط روش پر تنبیہہ کرتے ہیں اور کبھی ہماری تحقیق میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔یوں تو قرآن حکیم کے طالبعلم کو جابجا کتاب اللہ میں اسکی ترغیب ملتی ہے مگر سورہ یوسف تو مانیئے اسی ترغیب کا شاہکار معلوم ہوتی ہے۔جس میں یوسف علیہ السلام کی زندگی کا ایک ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے جن کی مجموعی حکمت جب یوسف علیہ السلام پر سورہ کے آخر میں آشکار ہوتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ تمام بظاہر غیر متعلق واقعات درحقیقت تسبیح کے دانوں کی طرح ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے تھے اور جن سب نے مل کر انہیں اس منزل تک پہنچایا ہے جو مطلوب تھی وہ بے اختیار پکار اٹھتے ہیں کہ ‘‘واقعہ یہ ہے کہ میرا رب غیر محسوس تدبیروں سے اپنی مشیت پوری کرتا ہے، بے شک و ہ علیم اور حکیم ہے۔اے میرے رب، تو نے مجھے حکومت بخشی اور مجھ کو باتوں کی تہ تک پہنچنا سکھایا زمین و آسمان کے بنانے والے، تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا سرپرست ہے، میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجام کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا''۔
٭٭٭ 

عظیم الرحمان عثمانی