اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات

مصنف : ارشاد احمد حقانی

سلسلہ : فکرونظر

شمارہ : جنوری 2009

فتوے نہیں ٹھنڈے دل سے غور کریں

ڈاکٹر خالد مسعود کو اگرچہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سر براہی سے فارغ کیا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود پس منظر ، پیش منظر اور ممکنہ منظر کے ادراک لیے اس کالم کی اپنی ایک اہمیت ہے اسی لیے اسے شائع کیا جا رہا ہے۔

            جنوری 1983 میں وقت کے صدر جنرل ضیاء نے اس بات کا جائزہ لینے کے لیے کہ پاکستان میں ان کا شروع کردہ اسلامائیزیشن کا عمل کس رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے اسلام آباد میں ایک بہت بڑا اجلاس بلایا جس میں ان تمام عدالتوں اور اداروں اور افراد کوشر کت کی دعوت دی گئی جن کا اس عمل میں کوئی کردار تھا۔ اس وقت اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین جسٹس ڈاکٹر تنزیل الرحمان تھے۔ جنرل ضیا نے اس وقت کے انتہائی اہم حکومتی رکن غلام اسحاق خان کو بھی مدعو کیا تھا۔ ان کے پاس عہدہ تو شاید وزیر خزانہ ہی کا تھا لیکن وہ اس وقت حکومت کے برین ٹرسٹ میں ایک اہم مقام کے حامل تھے۔ فیڈرل شریعت کورٹ کے ججوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔جنرل ضیاء الحق نے اس اجلاس میں دو تین صحافیوں کو بھی شرکت کی دعوت دی تھی۔ جناب صلاح الدین شہید اور راقم بھی مدعوئین میں شامل تھے۔ جب پاکستان میں نفاذ اسلام کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تو بعض شرکا کے نزدیک پراگرس تسلی بخش نہیں تھی جبکہ بعض دوسروں کے نزدیک یہ عمل خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہا تھا۔ جسٹس تنزیل الرحمان پہلے گروپ میں شامل تھے انہوں نے وہاں اعتراض اٹھایا کہ ‘‘جنرل صاحب! میں نے آپ کے اس وعدے پر یہ ذمہ داری اٹھائی تھی کہ آپ سفارشات بنا کر بھیجتے رہیں اور میں ان پر عمل کرتا رہوں گا لیکن آپ نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا۔ ہماری سفارشات طاق نسیاں پر رکھ دی جاتی ہیں او رمیں اس صورتحال سے خوش نہیں ہوں۔’’ اس موضوع پر جنرل صاحب اور جسٹس صاحب میں اچھی خاصی دوستانہ جھڑپ بھی ہوئی جس پر تنگ آکر جنرل ضیاالحق نے کہا کہ‘‘ جسٹس صاحب! میں آپ کو (ہنستے ہوئے انہوں نے کہا) بچہ سقہ کی طرح تین دن کی حکومت دے دیتا ہوں آپ مجھے اپنی سفارشات پر عمل کر کے دکھا دیں۔’’ جسٹس صاحب نے اس طنزیہ پیشکش کا کچھ برا مانا تو جناب غلام اسحاق خان نے مداخلت کی او رکہا ‘‘جج صاحب! آپ کو اپنے مینڈیٹ کا پتا ہونا چاہیے آپ کا مینڈیٹ یہ ہے کہ آپ ملکی قوانین میں تبدیلی کے لیے سفارشات پیش کریں گے۔ ان پر عمل کرنا یا کرانا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ آپ صدر صاحب سے جو مطالبہ کررہے ہیں وہ آپ کے منصب کا حصہ نہیں ہے۔’’ غلام اسحاق خان کی طرف سے اس طرح snub کیے جانے پر ظاہر ہے کہ جسٹس صاحب رنجیدہ ہوئے اور پھر انہوں نے اس طویل اجلاس کی کارروائی میں کوئی خاص دلچسپی نہ لی اور مجلس ختم ہو گئی۔

            یہ واقعہ مجھے موجودہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹرخالد مسعود کی یہ شکایت پڑھ کر یا د آیا ہے کہ ہم نے حکومت کو عمل کرنے کے لیے اب تک 84 رپورٹیں پیش کی ہیں جو اہم سفارشات پر مشتمل ہیں لیکن کسی حکومت نے کونسل کی سفارشات کو درخوراعتنا نہیں سمجھا اور نہ ان کی بنیاد پر قانون سازی کے لیے قومی اسمبلی میں بحث کی ضرورت محسوس کی گئی ہے ۔ پھر انہوں نے کہا ‘‘مقام مسرت ہے گزشتہ دنوں صدر مملکت سے ملاقات میں جب اس طرف ان کی توجہ مبذول کرائی گئی تو انہوں نے پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر بابر اعوان کی سربراہی میں کونسل کی رپورٹوں کے جائزے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کونسل کے تمام اراکین نے صدر مملکت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اب بہت جلد کونسل کی سفارشات کو بحث کے لیے پیش کیا جا سکے گا۔ یہ کمیٹی ڈاکٹر خالد مسعود اور ان کے ساتھیوں کو کس قدر مطمئن کر سکے گی اس کا اندازہ جلد ہی ہو جائے گا۔ مجھے اندیشہ ہے کہ ڈاکٹر خالد مسعود کو بھی اپنے پیشرو ڈاکٹر تنزیل الرحمان کی طرح شکایت ہی کرنی پڑے گی۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے حالیہ اجلاس میں جو سفارشات پیش کی ہیں ان پر علما اور ان کی تنظیموں کا منفی ردعمل حسب توقع سامنے آچکا ہے اور انہوں نے کونسل کی اکثر و بیشتر سفارشات کو شر یعت کے منافی اور صدیوں کے ا جماع امت کو نظر انداز کرنے کی کوشش قرار دیا ہے اور ان سفارشات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جن علمائے کرام کا رد عمل ابھی سامنے نہیں آیا وہ بھی اس ردعمل ہی کی طرح ہو گا جیساکہ آج علمائے کرام کا ردعمل رہا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب 1964 میں صدر ایوب نے عائلی قوانین کا ایک نیا مسودہ پیش کیا تھا تو علما کا ردعمل ویسا ہی تھا جیسا کہ آج ہے لیکن یہ عائلی قوانین علما کے تمام تر فتووں کے باوجود کوئی حکمران تبدیل نہیں کرسکا۔اس وقت بھی صدر ایوب کے اقدامات کو شریعت کے منافی قرار دیا گیا تھا اور بڑے عرصے تک ڈاکٹر اسرار احمد سمیت بہت سے علمائے کرام ان عائلی قوانین کو منسوخ کرنے کی وکالت کرتے رہے تھے لیکن اب ایک عرصے سے اس محاذ پر خاموشی ہے۔ موجودہ اسلامی نظریاتی کونسل نے کیا سفارشات پیش کی ہیں؟ ملاحظہ فرمائیے:

1 ۔ شوہر کو طلاق کا مطالبہ کرنے والی بیوی کو نوے روز کے اندر طلاق دینے کا قانونی پابند کیا جائے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں مقررہ مدت کے بعد نکاح فسخ قرار پائے گا۔ کونسل نے نکاح نامے کی طرح طلاق نامہ بھی تجویز کیا ہے اور حکومت سے کہا ہے کہ نکاح کی طرح طلاق کی بھی رجسٹریشن کی جائے اور بیوی پابند ہو گی کہ مہر اور نان نفقہ کے علاوہ اگر کوئی اموال یا املاک شوہر نے اسے دے رکھی ہیں اور اس موقع پر وہ انہیں واپس لینا چاہتا ہے تو عورت یا تو مال واپس کر دے اور دوسری صورت میں تنازعے کے فیصلے کے لیے عدالت سے رجوع کرے۔

2 ۔ کونسل نے یہ بھی تجویز کیا ہے کہ خاوند شادی کے وقت ( پہلی شادی کی صورت میں) اپنے تمام اثاثہ جات کی تفصیل لکھ کر دے اور اگر وہ دوسری شادی کر رہا ہے تو اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے بارے میں بھی مکمل تفصیلات نکاح نامے میں درج کرے۔

3۔ کونسل نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ جب شوہر پہلی دفعہ اپنی بیوی کو طلاق دے تواس کو ریکارڈ کر لیا جائے اور پھر جب وہ دوسری اور تیسری مرتبہ طلاق دے تو اس پر شادی ختم ہو جائے گی اور طلاق واقع ہو جائے گی۔

4 ۔ کونسل نے یہ بھی تجویز کیا ہے کہ موجودہ نکاح نامے میں ایک دفعہ کا اضافہ کیا جائے جس کے مطابق خاوند واضح طور پر اپنی بیوی کو طلاق کا حق دینے کا اعلان کرے اور موجودہ مبہم صورت حال کو واضح کر دیا جائے۔

5۔ کمیٹی نے یہ سفارش بھی کی ہے کہ عورت کو حج پر جانے کے لیے محرم کے ساتھ موجودہونے کی شرط ختم کر دی جائے اور عورت اپنی مرضی سے سفر کر سکے۔ کونسل نے یہ واضح کیا ہے کہ یہ پاکستان کی قانونی پوزیشن ہے کہ عورت جہاں چاہے اکیلے آجا سکتی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ سعودی حکومت کا اپنا قانون ہے جس میں ہم مداخلت نہیں کر سکتے ۔ اس پر میں تجویز کروں گا کہ حکومت پاکستان سعودی عرب کی حکومت کو اطلاع دے دے کہ ہمارے ملک میں آئین کے مطابق عورتوں کو ہر جگہ اکیلے سفر کرنے کی آزادی ہے اور سعودی حکومت ہمارے قانون کا احترام کرتے ہوئے پاکستانی خواتین عازمین حج کو محرم کی پابندی سے مستثنی کردے۔ جس ملک میں عورتیں پڑھنے کے لیے سمندر پار یونیورسٹیوں میں اکیلی جا رہی ہیں وہاں سفر حج کے لیے محرم کی پابندی کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ اگر بقول قاضی حسین احمد یہ پابندی عورتوں کی حفاظت کے لیے رکھی گئی ہے تو آخر کیا وجہ ہے کہ انہیں ملک سے باہر پڑھنے جانے کے لیے بھی محرم کی ضرورت نہ ہو حالانکہ ان ممالک میں جاتے ہوئے ا سے زیادہ تحفظ کی ضرورت ہے۔

6 ۔ کونسل یہ قانون بھی پاس کرانا چاہتی ہے کہ صاحب حیثیت لوگوں کو اپنے غریب اعزہ کی کفالت کرنے کا قانوناً پابند بنایا جائے۔

7 ۔ رویت ہلال وغیرہ کے حوالے سے بھی کونسل کی سفارشات معقول اور لائق غور ہیں۔

            کونسل کی سفارشات کے خلاف جن علما نے احتجاج کیا ہے میں دل سے ان کا احترام کرتا ہوں ۔ مجھے یہ بھی پتا ہے کہ وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے لیکن میری دانست میں کونسل کی تمام سفارشات شریعت اسلامی کی روح کی ہرگز منافی نہیں ہیں اور ان پر اعتراض کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ حکومت ان سفارشات کو قبول کرے یا نہ کرے اور ان پر عمل ہو سکے یا نہ ہو سکے اس سے ان سفارشات کی اصابت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آج کی حکومت انہیں قبول نہیں کرے گی تو چند سال بعد کوئی نہ کوئی حکومت ضرور ایسا کرے گی۔ میری علمائے کرام سے مودبانہ درخواست ہے کہ وہ گھڑی کی سوئیوں کو الٹا گھمانے کی کوشش نہ کریں بلکہ وقت کے تقاضوں کو سمجھیں ۔ بدقسمتی سے ہر جگہ مذہبی رہنماؤں کا عمل آؤٹ آف ڈیٹ ہے۔ ہندستان کا شاہ بانو کیس اس کی ایک اور مثال ہے۔ ہندستان کی ایک اعلی عدالت نے قرار دیا کہ جب تک مسلمان مطلقہ عورت دوسری شادی نہ کر لے پہلے خاوند کو اپنی حیثیت کے مطابق نان نفقہ دینے کا پابند کیا جائے لیکن ہندستانی علما نے اس شرط کے خلاف زبردست تحریک چلائی اور اس فیصلہ کو خلاف شریعت قرار دیا۔ اس پر راجیو گاندھی نے پارلیمنٹ سے منظور کرا کے مسلمان مطلقہ عورتوں کی دوسری شادی تک نان نفقہ دینے کی تجویز ختم کرا دی حالانکہ اس میں عدالت دونوں فریقوں کو دیکھ کر ہی کوئی فیصلہ سنا سکتی تھی اور یقینا وہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہوتا۔ اگر عورت مالدار ہوتی تو اسے نان نفقے کی ضرورت نہ پڑتی اور اگر تنگدست ہوتی تو اسے اس فیصلے کے تحت سہارا مل جاتا اور وہ اپنے معاش کے لیے کوئی محنت مزدوری اور کام وغیرہ کرنے پر مجبور نہ ہوتی۔

            دنیا بڑی تیزی سے بدل رہی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی مسلمان تعلیم یافتہ خواتین بھی اپنے معاملات اور حقوق پر از سر نو غور کر رہی ہیں۔ مغربی ممالک میں مقیم مسلمان خواتین بہت آگے جا چکی ہیں جن کو یقینا ہمارے جنوب ایشیائی ممالک کے علمائے کرام درست خیال نہیں کرتے لیکن میں مغربی ممالک میں مقیم مسلمان خواتین کی اکثر و بیشتر تجاویز کو جو وہ ایک غیر مسلمان معاشرے میں اپنے حقوق اور مقام کے لیے کر رہی ہیں تحسین کی نظر سے دیکھتا ہوں۔ کاش ہمارے علمائے کرام بھی نئے حالات کے تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ جب ڈھاکہ کی ایک عدالت نے فیصلہ دیا کہ مسلمان عدالتوں کی موجودگی میں علما کو پرائیویٹ فتوے دینے کا اختیار نہیں ہے تو اس پر شور مچا لیکن عدالت کی بات قائم رہی۔ اس وقت اس پر محدود عمل ہو رہا ہے لیکن جلد ہی عدالت کے بیان کردہ اصول کو تسلیم کر لیا جائے گا۔ میں اپنے محترم علمائے کرام سے درخواست کروں گا کہ وہ فتوے لگانے کی بجائے ٹھنڈے دل سے اور گہرائی میں جا کر نئی تجاویز پر غور کریں۔ شریعت میں ایک حکم ہوتا ہے اور ایک اس کی علت اگر علت کو سمجھ لیا جائے تو حکم تبدیل کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہوتی۔ میں کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود کو یہ سفارشات پیش کرنے پر خراج تحسین ادا کرتا ہوں۔ وہ ہمارے محترم رفیق کار محمود شام صاحب کے بڑے بھائی ہیں اور اس وقت ان پاکستانی اسکالرز میں شامل ہیں جو اقبال کے پیغام کی روح کو سمجھتے ہیں ۔ اسلامی نظریاتی کونسل میں ردو بدل کر کے ‘‘مستند’’ علما کو شامل کرنے کا جو مطالبہ کیا گیا ہے میرے نزدیک وہ غیر ضروری ہے اور موجودہ کونسل کو اپنی ٹرم پوری کرنی چاہیے۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ۔ 18 نومبر 2008 ۔ لاہور )