Author

نامعلوم


مضامین

  یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسباں اس کے  یہ چمن تمہارا ہے تم ہو نغمہ خواں اس کے    اس چمن کے پھولوں پر رنگ و آب تم سے ہے اس زمیں کاہر ذرہ آفتاب تم سے ہے   یہ فضا تمہاری ہے بحر و بر تمہارے ہیں کہکشاں کے یہ جادے تمہارے ہیں  ...


  اے خدا جب بھی تیرا آسمان دیکھتا ہوں اس میں بسا اک جہاں دیکھتا ہوں   نہ جانے کتنے ہی جہانوں کی سیر کرتا ہوں کھول کر جب تیرا قرآن دیکھتا ہوں   تیرے احسان کتنے ہیں بندوں پہ تیرے جب بھی سورہ رحمان دیکھتا ہوں   تو تو کہت...


            پاکستان کا موجودہ آئین چودہ اگست انیس سو تہتر کو نافد کیاگیا تھا تاہم ابتدائی پانچ برسوں میں اس میں سات ترامیم کردی گئیں۔             ذوالفقار علی بھٹو واحد وزیراعظم تھے جنہوں نے اپنے اقتدار کے دوران آئین میں سات ترامیم کیں۔ان کے بع...


  ملا جب سے خط پیارے کہ چھٹی آ رہے ہو تم میرے خوابوں پہ صبح و شام یکسر چھا رہے ہو تم   جب آؤ گے وہ دن میرے لئے دن عید کا ہو گا عجب منظر میرے دلبر تیری دید کا ہو گا   بہت وزنی سے دو اک بیگ پیارے ہاتھ میں ہوں گے اٹیچی کیس دس ...


قدیم و جدید فلسفہ، سائنس، معاشیات، سیاسیات وغیرہ پر اچھی خاصی ایک لائبریری میں دماغ میں اتار چکا۔۔۔ جب آنکھ کھول کر قرآن کو پڑھا تو بخدا یوں محسوس ہوا کہ جو کچھ پڑھا تھا، سب ہیچ تھا۔ علم کی جڑ اب ہاتھ آئی ہے۔ اور دنیا کے بڑے بڑے مفکرین اب مجھے بچے...


  موت کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں تب کہیں جا کر سکوں تھوڑا سا پا جاتی ہے ماں   فکر میں بچوں کی کچھ اس طرح گھل جاتی ہے ماں نوجواں ہوتے ہوئے بھی بوڑھی نظر آتی ہے ماں   اوڑھتی ہے خود تو غربتوں کا بوسیدہ کفن چاہتوں کا ...


جو شخص اللہ کے تقسیم کردہ رزق پر قناعت کرے گا وہ غنی اور بے نیاز رہے گا اور جو کوئی دوسرے کے مال و متاع کی طرف آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھے گا وہ تنگ دست اور بھوکا مرے گا۔ جو شخص دوسروں کو بے عزت کرنے کے لیے ان کے پردے چاک کرتا ہے، خود اس کے گھر...


  اے خدا جب بھی تیرا آسمان دیکھتا ہوں اس میں بسا اک جہاں دیکھتا ہوں   نہ جانے کتنے ہی جہانوں کی سیر کرتا ہوں کھول کر جب تیرا قرآن دیکھتا ہوں   احسان کتنے ہیں بندوں پہ تیرے جب بھی سورہ رحمان دیکھتا ہوں   تو تو کہتا ہے ...


  ہم نے لیا ہے جب بھی کسی راہزن کا نام چہرے اتر اتر گئے کچھ رہنماؤں کے    اُگلے گا آفتاب کچھ ایسی بلا کی دھوپ رہ جائیں گے زمین پر کچھ داغ چھاؤں کے   زندہ تھے جن کی سرد ہواؤں سے ہم قتیل اب زیرِ آب ہیں وہ جزیرے وفاؤں کے


  دبائے پھرتے ہو جنگل میں خشک چنگاری الاؤ بن کے یہ بھڑکی اگر تو کیا ہوگا   ہے آج اس کی گواہی پہ فیصلہ سچ کا اُسے عزیز ہوا اپنا سر تو کیا ہوگا   تمام عمر چلے ہیں تمہاری یاد کے ساتھ اکیلے کرنا پڑے گا سفر تو کیا ہوگا   ب...


خزاں چمن سے چلی بھی گئی تو کیا ہوگا پھر اک فریب بہاراں کا سلسلہ ہوگا   تجھے خبر ہے نسیم بہار کیا ہوگا گلوں کی آگ میں کل باغ جل رہا ہوگا   ابھی شروعِ سفر ہے ابھی کہاں منزل نگاہِ شوق نے دھوکا کوئی دیا ہوگا   فرازِ دار سے ابھرے صدا تو ...


سڈنی ایلنگٹن کی کتاب ‘‘ریلیجن ان ایسٹرن یورپ’’ سے ماخوذ…… ایک سچی داستان جو ایک طرف اگر ان مصائب کو بیان کرتی ہے’ جس سے یوگوسلاوی مسلمانوں کو گزرنا پڑا تھا’ تو دوسری طرف ایک مردِ مؤمن کے جذبۂ سرفروشی کو بیان کرتی ہے۔ چھوٹی سی عمارت کے بھدے سے ک...