Male

مظفر وارثی


مضامین

جَل رہا ہے مْحمّد کی دہلیز پر ، دل کو طاقِ حرم کی ضرورت نہیں میرے آقا کے مجھ پر ہیں اتنے کرم اب کسی کے کرم کی ضرورت نہیں ہر طلوعِ سحر جن کے سائے تلے، جن کی آہٹ سے نبضِ دو عالم چلے اْن کے قدموں سے لگ کر ہوں بیٹھا ہوا مجھ کو جاہ و حشم کی ضرورت نہ...


میں تیرا فقیر ملنگ خدا مجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا خوشبو کی طرح ہر چند رہوں تری مٹھی میں ہی بند رہوں تری یاد سے بہرہ مند رہوں گم تجھ میں تری سوگند رہوں ترا نور ،ترا آہنگ خدا مجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا تو دن میں ہے، تو رات میں ہے ہر پھول میں ہے ...


میں تیرا فقیر ملنگ خدا مجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا خوشبو کی طرح ہر چند رہوں تری مٹھی میں ہی بند رہوں تری یاد سے بہرہ مند رہوں گم تجھ میں تری سوگند رہوں دم دم تو میرے سنگ خدا مجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا تو دن میں ہے تو رات میں ہے ہر پھول میں ہے ہر ...


  جنرل ضیا الحق نے بزورِ شمشیر ملکی نظامِ سیاست و حکومت کو اسلامیانے کی کوششیں شروع کیں تو  مظفر وارثی نے کہا کہ   ظلمت کو گھٹا کہنے سے خطرہ نہیں جاتا دیوار سے طوفان کو روکا نہیں جاتا   فرمان سے پیڑوں پہ کبھی پھل نہیں آتے ت...


  میری جدائیوں سے وہ مل کر نہیں گیا  اُس کے بغیر میں بھی کوئی مر نہیں گیا    دنیا میں گھوم پھر کے بھی ایسے لگا مجھے  جیسے میں اپنی ذات سے باہر نہیں گیا    کیا خوب ہیں ہماری ترقی پسندیاں  زینے بنا لیے کوئی اوپر نہیں گیا  ...


  لا نبی بعدی خود میرے نبی نے یہ بات بتا دی ، لا نبی بعدی ہر زمانہ سن لے یہ نوائے ہادی ، لانبی بعدی   لمحہ لمحہ اْن کا طاق میں ہوا جگمگانے والا آخری شریعت کوئی آنے والی اور نہ لانے والا   لہجہء خدا میں آپ نے صدا دی ، لانبی ...


  تیرا بندہ تری توصیف و ثنا کرتا ہے  میرا ہر سانس ترا شکر ادا کرتا ہے    تیرے آگے مری جھکتی ہوئی پیشانی سے  میری ہر صبح کا آغاز ہوا کرتا ہے    رحمتیں دیتی ہیں آواز گنہ گاروں کو  یہ کرشمہ بھی ترا عفو کیا کرتا ہے    رزق...


  سب کچھ ترے اشارے پر ہو سکتا ہے طوفاں زدہ ، کنارے پر ہو سکتا ہے   چاند اتر سکتا ہے کٹیاؤں میں بھی مٹی کا حق تارے پر ہو سکتا ہے   چمنستاں بن سکتی ہے جنگل کی آگ کھلتا پھول ، شرارے پر ہو سکتا ہے   گر سکتے ہیں ٹوٹ کے دھر...


  نہ چل سکا اگر میں تیرے دین پر تو اور راستہ کہاں سے لاؤں گا  کہوں گا کس کا بندہ اپنے آپ کو میں دوسرا خدا کہاں سے لاؤں گا    نہ میں نکل سکوں تری حدود سے نہ کر سکوں جدا عدم وجود سے  ہر ایک شے ہے جب فنا کی منتظر میں عرصہ بقا کہاں سے ل...


  بادل کو شبنم کیا سمجھے سورج کو شرارہ کیا جانے  رحمان و رحیم ہے وہ کتنا ، انساں بیچارہ کیا جانے    سب روشنیوں کا خالق وہ ہر مغرب وہ ہر مشرق وہ  اس کے انوار کی وسعت کو ایک صبح کا تارہ کیا جانے    جو اس سے محبت کرتا ہے اس کی عب...


  آنکھ اٹھے تیرے لیے، کھلتے ہیں لب تیرے لیے میرا جینا میرا مرنا میرے رب تیرے لیے   دائرہ تیری رضا پرکار میری زندگی ہر تمنا، ہر ارادہ، ہر طلب تیرے لیے    مسجدِ الفاظ میں بھی دے رہا ہوں میں اذاں میرا فن، میرا ہنر، میرا ادب تی...


  زمیں کے لوگ ہوں یا اہلِ عالمِ بالا ہر اک زباں پہ ہے سبحان ربی الاعلیٰ   ترے قلم کی گواہی مرقّعِ عالم فضائیں آئنہ ہیں، دل ہو دیکھنے والا   دیے حسین خد و خال تو نے مٹی کو ترے جمال کے سانچوں نے آدمی ڈھالا   تھماتی مہر ...