Download

محسن نقوی


مضامین

کوئی نئی چوٹ پِھر سے کھاؤ! اداس لوگو کہا تھا کِس نے، کہ مسکراؤ! اْداس لوگو   گْزر رہی ہیں گلی سے، پھر ماتمی ہوائیں کِواڑ کھولو ، دئیے بْجھاؤ! اْداس لوگو   جو رات مقتل میں بال کھولے اْتر رہی تھی وہ رات کیسی رہی ، سناؤ! اْداس لوگو   ک...


  اے عالمِ نجوم و جواہر کے کِردگار ! اے کارسازِ دہر و خداوندِ بحر و بر اِدراک و آگہی کے لیے منزلِ مراد بہرِ مسافرانِ جنوں ، حاصلِ سفر ! یہ برگ و بار و شاخ و شجر ، تیری آیتیں تیری نشانیاں ہیں یہ گلزار و دشت و در یہ چاندنی ہے تیرے تبسم کا آ...


اے شہر علم و عالمِ اسرارِ خشک و تر تو بادشاہِ دیں ہے۔۔ تو سلطانِ بحر و بر ادراک و آگہی کی ضمانت ترا کرم۔۔! ایقان و اعتقاد کا حاصل تری نظر تیرے حروف نطقِ الٰہی کا معجزہ! تیری حدیث سچ سے زیادہ ہے معتبر قرآں تری کتاب، شریعت ترا لباس...


  اتنی مدت بعد ملے ہو کن سوچوں میں گم پھرتے ہو   اتنے خائف کیوں رہتے ہو؟ ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو   تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو؟   کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے رات گئے تک کیوں جاگے ہو؟   میں دریا...


  وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے وہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلے   سب کے ہونٹوں پہ مرے بعد ہیں باتیں میری  میرے دشمن مرے لفظوں کے بھکاری نکلے   ایک جنازہ اٹھا مقتل سے عجب شان کے ساتھ جیسے سج کر کسی فاتح کی سواری نکلے...


  الہام کی رم جھم کہیں بخشش کی گھٹا ہے یہ دل کا نگر ہے کہ مدینے کی فضا ہے   سانسوں میں مہکتی ہیں مناجات کی کلیاں کلیوں کے کٹوروں پہ تیرا نام لکھا ہے   آیات کی جھرمٹ میں تیرے نام کی مسند لفظوں کی انگوٹھی میں نگینہ سا جڑا ہے ...


  محبتوں میں اذّیت شناس کتنی تھیں! بچھڑتے وقت وہ آنکھیں اْداس کتنی تھیں!   فلک سے جن میں اْترتے ہیں قافلے غم کے مری طرح وہ شبیں اْس کو راس کتنی تھیں   غلاف جن کی لحد پر چڑھائے جاتے ہیں وہ ہستیاں بھی کبھی بے لباس کتنی تھیں؟ ...


  کبھی جو چھڑ گئی یاد رفتگاں محسن بکھر گئی ہیں نگاہیں کہاں کہاں محسن   ہوا نے راکھ اڑائی تو دل کو یاد آیا کہ جل بجھیں مرے خوابوں کی بستیاں محسن   کچھ ایسے گھر بھی ملے جن میں گھونگٹوں عوض ہوئی ہیں دفن دوپٹوں میں لڑکیاں محسن ...


آج کے دن کی روشن گواہی میں ہم  دیدہ دل کی بے انت شاہی میں ہم  زیرِ دامانِ تقدیسِ لوح و قلم  اپنے خوابوں ، خیالوں کی جاگیر کو  فکر کے موقلم سے تراشی ہوئی  اپنی شفاف سوچوں کی تصویر کو  اپنے بے حرف ہاتھوں کی تحریر کو ، اپنی تقدیر کو  یوں سنبھا...


  پیاس بخشی ہے تو پھر اجر بھی کھل کر دینا ابر مانگے مری دھرتی تو سمندر دینا اپنی اوقات سے بڑھنا مجھے گم کر دے گا مجھ کو سایہ بھی مرے قد کے برابر دینا یہ سخاوت مرے شجرے میں لکھی ہے پہلے اپنے دشمن کو دعائیں تہِ خنجر دینا...! دیک...