Javed ch

جاوید چودھری


مضامین

قدرتی ڈھال جاوید چودھری تمہیں رزق تمہارے کمزوروں کی وجہ سے دیا جاتا ہے اصلاح و ددعوت بس پہاڑی علاقے سے گزر رہی تھی‘ اچانک بجلی چمکی‘ بس کے قریب آئی اور واپس چلی گئی۔ بس آگے بڑھتی رہی‘ آدھ گھنٹے بعد بجلی دوبارہ آئی‘ بس کے پچھلے حصے کی طر...


  اصلاح و دعوت مصائب کی حکمت جاوید چودھری آپ اگر زندگی بھر اللہ تعالیٰ پر مضبوط ایمان رکھنا چاہتے ہیں ‘آپ اللہ تعالیٰ کے کرم‘ مہربانی اور رحم کو محسوس کرنا چاہتے ہیں اور آپ اس کی مصلحتوں کو سمجھنا چاہتے ہیں تو میرا مشورہ ہے آپ اس واقعے کو ...


سچی کہانی دی بیسٹ روڈ ٹومکہ جاوید چودھری وہ نائب قاصد تھا‘ پوسٹل سروس کے چیئرمین کے دفتر میں اس کی ڈیوٹی تھی۔ وہ صاحب کی فائلیں ڈی جی کے آفس لے کر جاتا تھا فائلیں وہاں سے اکاؤنٹس برانچ جاتی تھیں اور پھران فائلوں کو واپس چیئرمین آفس لانا بھی ا...


منتخب کالم پاکستانیوں کے لیے چند سنہری سبق جاوید چودھری                                                                                              آپ اگر پاکستانی ہیں اور آپ اور آپ کا خاندان اگر اس ملک میں رہنا چاہتا ہے تو *آپ کو یہ چند سبق...


آرش درم بخش کے والدین ایران سے تعلق رکھتے تھے، ایران میں انقلاب شروع ہوا تو یہ لوگ فرانس بھاگ آئے، آرش 25 جولائی 1979 کو پیرس میں پیدا ہوا، یہ پیدائشی فرنچ تھا، ہجرت یا نقل مکانی بے شمار نفسیاتی، سماجی اور تہذیبی مسائل لے کر آتی ہے، آرش درم بھی بچ...


دنیا میں کچھ لوگ ہوا میں رسہ باندھ کر اس کے اوپر چلتے ہیں۔ یہ لوگ انگریزی میں ‘‘ٹائیٹ روپ واکر’’ کہلاتے ہیں اور یہ پوری دنیا میں ہوتے ہیں۔ آپ نے بھی زندگی میں کبھی نہ کبھی ان کا تماشا ضرور دیکھا ہوگا۔ یہ لوگ صدیوں سے ان ٹائیٹ روپس پر چلتے آ رہے ہی...


وکٹر اٹلی کے شہر میلان سے تعلق رکھتا ہے’ گارمنٹس فیکٹریوں کو کپڑا سپلائی کرتا ہے’ عمر 62 سال ہے اور یہ مضافات میں چھوٹے سے گاؤں میں رہتا ہے۔ وکٹر دو ماہ شدید بیمار رہا’ اسے بخار بھی تھا’ نزلہ بھی’ زکام بھی اور اس کے جسم میں بھی درد ہوتا تھا لیکن ی...


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دلچسپ تھا۔ پرچے میں دس سوال تھے، نو سوال میڈیکل سائنس طبی سہولتوں اور مریضوں کی نگہداشت سے تعلق رکھتے تھے جبکہ آخری سوال نرسنگ سکول کی سویپر کے بارے میں تھا۔ ایگزامینرز نے زیر تربیت فی میل اور میل نرسوں سے پ...


    حافظ محمد شبیر 22 مئی 2020ء کو کراچی میں حادثے کا شکار ہونے والی بدقسمت فلائیٹ کے مسافر تھے’ موت کتنی ظالم اور چالاک ہوتی ہے حافظ صاحب اس حقیقت کی کلاسیکل مثال ہیں۔یہ سال بھر سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن وقت مقررہ انہیں کھینچ کھانچ کر فلائی...