Amjad islam amjad

امجد اسلام امجدؔ

1944


مضامین

اے ربِ ملائک و جن و بشر ، میں حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں خدمت میں تری شرمندہ نظر ، میں حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں جو تیری ثنا کے لائق ہو ، اک حرف بھی ایسا پاس نہیں کیا تابِ سخن ، کیا عرضِ ہنر ، میں حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں قطرے کی نگاہِ حیراں پر دریا...


٭سیلف میڈ لوگوں کا المیہ٭ روشنی مزاجوں کا کیا عجب مقدر ہے زندگی کے رستے میں’ بچھنے والے کانٹوں کو راہ سے ہٹانے میں’ ایک ایک تنکے سے’ آشیاں بنانے میں خُوشبوئیں پکڑنے میں’ گُلستاں سجانے میں عُمر کاٹ دیتے ہیں عمر کاٹ دیتے ہیں اور اپنے حصے ک...


  میرے احساس کے دریا میں روانی تجھ سے  اے گل جان مرے ہونے کی نشانی تجھ سے   موسم گل بھی ترا ، فصل خزاں بھی تیری میری آواز کے صحراؤں میں پانی تجھ سے    تجھ سے ہی میری تمناؤں نے وسعت پائی آنکھ کے رنگ ، سماعت کے معانی تجھ سے ...


  ٭ ہم لوگ نہ تھے ایسے  ٭ ہیں جیسے نظر آتے  ٭ اے وقت گواہی دے  ٭ ہم لوگ نہ تھے ایسے  ٭ یہ شہر نہ تھا ایسا  ٭ یہ روگ نہ تھے ایسے  ٭ دیوار نہ تھے رستے  ٭ زندان نہ تھی بستی  ٭ آزار نہ تھے رشتے  ٭ خلجان نہ تھی ہستی  ٭ ...


  ہمیں معلوم ہے اِک دن گزرتے وقت کی دیمک ہمیں بھی چاٹ جائے گی کہ یہ اس کا وظیفہ ہے یہ روشن دِن جو نکلا ہے یہ آخر شام بھی ہوگا وہ مہلت جو ملی ہم کو وہ کیسے بے ثمرنکلے وضاحت کون سنتا ہے تلافی کس سے مانگیں ہم ہمارے سر پہ اپنے ...


  بنتے ہیں ہر سوال کے پیکر، نئے نئے  کھلتے ہیں پھول ذہن میں اکثر، نئے نئے    کس نے سیاہ رات کو تارے عطا کیے  پھر ان میں رکھ دیے کئی چکر، نئے نئے    کرتا ہے کون پھول کو خوشبو سے ہم کنار رکھتا ہے کون آنکھ میں منظر، نئے نئے  ...


  میرے احساس کے دریا میں روانی تجھ سے  اے گل جان میرے ہونے کی نشانی تجھ سے   موسم گل بھی ترا ، فصل خزاں بھی تیری میری آواز کے صحراؤں میں پانی تجھ سے    تجھ ہی سے میری تمناؤں نے وسعت پائی آنکھ کے رنگ ، سماعت کے معنی تجھ سے  ...


  اگر کبھی میر ی یاد آئے گریز کرتی ہوا کی لہروں پہ ہاتھ رکھنا   میں خوشبوؤں میں تمہیں ملوں گا مجھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنا   میں اوس قطروں کے آئنوں میں تمہیں ملوں گا اگر ستاروں میں’ اوس قطروں میں’ خوشبوؤں میں’ نہ پاؤ ...