Male

اظہار الحق


مضامین

صور جب پھونکا گیا تو میں ہڑ بڑا کر اُٹھا۔ سر کے اوپر بہت بڑا شگاف تھا۔ باہر نکل کر دیکھا تو لاکھوں قبروں سے انسان باہر نکل رہے تھے۔ مرد’ عورتیں’ بوڑھے’ بچے، جوان سب نے ایک ہی سمت میں چلنا شروع کر دیا۔ سورج جیسے سوا نیزے پر تھا۔ گرمی اور ایسی گرمی ...


کیا گھبرو جوان تھا! اور کیا بھر پور’ طوفانی جوانی تھی۔ غلطیوں اور حماقتوں سے لبا لب بھری ہوئی۔ کبھی گھر والوں سے کج بحثی! کبھی دوست احباب سے جھڑپیں’ اقربا سے ناراضگیاں! غصہ ناک پر دھرا ہوا۔ زبان تیز اور نوکیلی جیسے بچھو کا ڈنک! پھر وہ مرحلہ آ گیا ...


زمانہ خاک کر دیتا ہے،جسموں کو مٹّی کر کے مٹّی میں ملا دیتا ہے لیکن کبھی کبھی ہانپنے بھی لگ جاتا ہے۔ غالبؔ نے کہا تھا:   مارا زمانے نے اسداللہ خاں تمہیں لیکن اسد اللہ خان کہاں مرا. ڈیڑھ صدی سے زیادہ عرصہ بیت چکا۔ آج بھی اس کا دیوان سب سے زیادہ فر...