Download

احمد ندیم قاسمی


مضامین

خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے وہ فصل گل ، جسے اندیشہ زوال نہ ہو   یہاں جو پھول کھلے ، وہ کھلا رہے صدیوں یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو   یہاں جو سبزہ اْگے ، وہ ہمیشہ سبز رہے اور ایسا سبز ، کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو   گھنی گھٹا...


قرآن مجید کے متعلق مجھے یہ واقعہ کبھی نہیں بھولے گا کہ ایک گاؤں میں ایک نوجوان کسی الزام میں پکڑا گیا۔ معاملے سے تھانے کو مطلع کرنے کی بجائے گاؤں کے ناموس کے نام پر معززین کی ایک پنچایت کے سامنے پیش کیا گیا تھا،----- پنچایت نے یہ اعلان کیا کہ اگر ...


غربت اور نا آسودہ خواہشات کی کوکھ سے جنم لینے والی ایسی داستان جو ہمارے معاشرے میں مختلف ناموں ، مختلف شکلوں اورمختلف طریقوں سے ہر جگہ موجود ہے             اْس کے قدموں کی آواز بالکل غیر متوازن تھی، مگر اْس کے عدم توازن میں بھی بڑا توازن تھا۔ آ...


جب منڈیروں پر پھدکتی ہوئی چڑیاں ایک دم بھرر سے فضا میں ابھرا جاتیں اور کھرلیوں کے قریب گٹھڑیاں بنے ہوئے بچھڑے اپنے لمبے لمبے کانوں کے آخری سرے ملا کر محرابیں سی بنا لیتے تو جھکی ہوئی دیواروں کے سائے میں بیٹھے ہوئے کسان مسکراتے اور خشک تمباکو کو ہت...


لالہ تیج بھان انسپکٹر نے دفتر آبکاری میں ملتان کے چُنے ہوئے مخبروں سے میرا تعارف کرایا اور جب وہ زرد چہروں اور میلی آنکھوں کی اس قطار کے آخر میں پہنچے تو بولے: ‘‘یہ خادو ہے’’۔ سب مخبر متعارف ہونے کے بعد باہر چلے گئے اور اب ہمارے سامنے صرف خادو ...


برسوں سے میاں سیف الحق کا معمول تھا کہ ‘‘الصلوٰۃ خیر من النوم’’ کی آواز پر جاگتے اور نیلا رومال کندھے پر رکھ کر مسجد کی راہ لیتے اور ابھی صبح کی کلی پوری طرح چٹک نہ پاتی کہ صندل کی تسبیح پر استغفار کا ورد کرتے ہوئے گھر واپس آتے۔ تازہ اخبار کی آمد ...


‘‘اور پھر شاہزادی نے تنگ آکر ہیرا چاٹ لیا’’۔ چھپر تلے کچھ دیر تک خاموشی رہی۔ زینو بچے کو گود میں لیے دودھ پلا رہی تھی۔ اس نے اوڑھنی کے نیچے ہی بچے کو دائیں سے بائیں گھمایا اور بولی: ‘‘رُک کیوں گئے؟ پھر کیا ہوا؟’’وریام زور سے ہنسا۔ ‘‘مزا آگیا کہ...


            محلے کی بڑی گلی کے موڑ پر تین چار تانگے ہر وقت موجود رہتے ہیں ،مگر اس روز میں موڑ پر آیا تو وہاں ایک بھی تانگہ نہیں تھا مجھے خاصی دور بھی جانا تھا اور جلد ی بھی پہنچنا تھا اس لیے تانگے کا انتظار کرنے لگا ۔تانگے تو بہت سے گزرے مگر سب لگ...


  خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پر اترے  وہ فصلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو    یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے برسوں  یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو    یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے  اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو  ...


باپ کی محبت کی لازوال کہانی ہے کوئی ‘‘قاسمی’’ جو ان‘‘ بابانوروں’’ کی کہانی لکھے جنہوں نے ‘‘لال مسجد’’ کی کوکھ سے جنم لیا یا ان کی جو دن رات بم دھماکوں کی اوٹ سے پیدا ہو رہے ہیں۔ ‘‘کہاں چلے بابا نور؟’’ ایک بچے نے پوچھا۔ ‘‘بس بھئی۔ یہی ذرا ڈاک...


  جی چاہتا ہے فلک پہ جاؤں سورج کو غروب سے بچاؤں   بس میرا جو چلے گردشوں پر دن کو بھی نہ چاند کو بجھاؤں   میں چھوڑ کے سیدھے راستوں کو بھٹکی ہوئی نیکیاں کماؤں   میں شب کے مسافروں کی خاطر مشعل نہ ملے تو گھر جلاؤں  ...


  دنیا ہے ایک دشت تو گلزار آپؐ ہیں اس تیرگی میں مطلعٔ انوار آپؐ ہیں   یہ بھی ہے سچ کہ آپؐ کی گفتار ہے جمیل یہ بھی ہے حق کہ صاحبِ کردار آپؐ ہیں   ہو لاکھ آفتاب قیامت کی دھوپ تیز میرے لیے تو سایۂ دیوار آپؐ ہیں   مجھ کو ...