شعر و ادب


مضامین

سرگودھا کے درویش منش شاعر مولوی اسلم کا پچھلے سال انتقال ہو گیا۔ مولوی صاحب پڑھنے لکھنے سے واقف نہ تھے شعر بے ساختہ اور انقلابی کہتے۔ ان کے چند اشعار۔ میں جب بھی بات کرتا ہوں وہ مجھ کو ٹوک دیتا ہے مرا بیٹا ہی مجھ کو معتبر ہونے نہیں دیتا ٭٭٭ ت...


٭سیلف میڈ لوگوں کا المیہ٭ روشنی مزاجوں کا کیا عجب مقدر ہے زندگی کے رستے میں’ بچھنے والے کانٹوں کو راہ سے ہٹانے میں’ ایک ایک تنکے سے’ آشیاں بنانے میں خُوشبوئیں پکڑنے میں’ گُلستاں سجانے میں عُمر کاٹ دیتے ہیں عمر کاٹ دیتے ہیں اور اپنے حصے ک...


  (1) یہ بچہ کس کا بچہ ہے یہ بچہ کالا کالا سا   یہ کالا سا مٹیالا سا یہ بچہ بھوکا بھوکا سا   یہ بچہ سوکھا سوکھا سا یہ بچہ کس کا بچہ ہے   یہ بچہ کیسا بچہ ہے جو ریت پہ تنہا بیٹھا ہے   نا اس کے پیٹ میں روٹی ہ...


  خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھیے احوال کہ آگ لینے کو جائیں، پیمبری ہو جائے   جبکہ اس شعر کا مصرع ثانی یوں مشہور ہے۔ کہ آگ لینے کو جائیں، پیمبری مل جائے اس شعر کے خالق ’نواب امین الدولہ مہر’ ہیں۔   ایک اور شعر عموماً ایسے سنا...


میرے بچو ، اگر تم مجھے بڑھاپے کے حال میں دیکھو  اکھڑی اکھڑی چال میں دیکھو  مشکل ماہ و سال میں دیکھو  دیکھو صبر کا دامن تھامے رکھنا  کڑوا ہے یہ گھونٹ پر چکھنا  اُف ‘‘نہ کہنا ، غصے کا اظہار نہ کرنا’’  میرے دل پر وار نہ کرنا  ٭٭٭٭٭ ہاتھ گر می...


            محلے کی بڑی گلی کے موڑ پر تین چار تانگے ہر وقت موجود رہتے ہیں ،مگر اس روز میں موڑ پر آیا تو وہاں ایک بھی تانگہ نہیں تھا مجھے خاصی دور بھی جانا تھا اور جلد ی بھی پہنچنا تھا اس لیے تانگے کا انتظار کرنے لگا ۔تانگے تو بہت سے گزرے مگر سب لگ...


  ہر کوئی آکھے میری، میری، نہ میری نہ تیری ہْو   ڈْھونگی قبر تے سوڑی سامی،  نالے رات اندھیری ہْو   اگلا انت کسے نہ معلوم،  پٹ پٹ رہی گھنیری ہْو   پیر سنبھل کے دھرنا باہْو، مت کر بہیں دلیری ہْو


اے عشق کہیں لے چل  اے عشق کہیں لے چل، اس پاپ کی بستی سے  نفرت گہِ عالم سے، لعنت گہِ ہستی سے  ان نفس پرستوں سے، اِس نفس پرستی سے  دْور اور کہیں لے چل  اے عشق کہیں لے چل  بے رحم زمانے کو، اب چھوڑ رہے ہیں ہم  بے درد عزیزوں سے، منہ موڑ ...


  مجھ سے بچھڑ نہ جائے میرا سایہ ، ماں  میں کچھ اور بھی ہو جاؤں گا تنہا ، ماں    جب تک تیری گود میں تھا ، میں راجہ تھا  اب میں ہوں اور میرے ہاتھ میں کاسہ ماں    اس کی لاش ملی تھی گندے نالے سے  جس کا رستہ دیکھ رہی تھی بیوہ ما...


  تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیے اے ارض وطن  جو ترے عارضِ بے رنگ کو گلنار کریں    کتنی آہوں سے کلیجہ ترا ٹھنڈا ہو گا  کتنے آنسو ترے صحراؤں کو گلزار کریں    تیرے ایوانوں میں پُرزے ہوئے پیماں کتنے  کتنے وعدے جو نہ آسودہ اقرار ہوئے...


  خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پر اترے  وہ فصلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو    یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے برسوں  یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو    یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے  اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو  ...


ایک عربی نظم کا آزاد ترجمہ، از بابر خان              میری ماں نے ہمیشہ حقیقت بیان کی ہو، ایسا بھی نہیں۔آٹھ مرتبہ تو اس نے مجھ سے ضرور جھوٹ بولا……یہ قصہ مری ولادت سے شروع ہوتا ہے ……میں اکلوتا بیٹا تھا اور غربت بہت تھی۔اتنا کھانا نہیں ہوتا تھا جو...